>> BACK

زجاجہ کی نسبت صاحب زجاجہ کا بیان:
صاحبو!اگرآپ دین کی حقیقت معلوم کرناچاہتے ہوتو’’زجاجۃ المصابیح ‘‘کا مطالعہ کرو‘پھراس پرعمل کرکے دیندارکہے جانے کے لائق بنو،تمام’’زجاجۃ المصابیح ‘‘ کوپڑھنے کے بعدآپ کا علم الیقین ‘عین الیقین کوپہنچ جائے گا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیشک خاتم النبےین ہیں کہ آپ کے بعدکسی نبی کی ضرورت نہیں ،انسان کی دنیااورآخرت درست کرنے کے لئے جس چیزکی ضرورت تھی وہ آپ کامل طورپربیان فرمادئے ہیں اوروہ سب ’’زجاجۃ المصابیح ‘‘میں آگیا ہے ۔(نورالمصابیح ج۱ص۴۳)
حضرت قبلہ کی ساری زندگی اسلامی تعلیمات کا آئینہ دار شریعت اسلامی کا نمونہ رہی‘ آپ نے اپنی تمام زندگی تقویٰ و پرہیزگاری کے ساتھ ملت کی اصلاح اور ان کی تربیت میں گزاری اور آپ کی تقریروں اور تحریروںمیں ایسی تاثیر ہے کہ وہ دل کی گہرائیوں میں اترجاتی ہیں۔ اردو زبان میں آپ کی بارہ کتابیں ہیں‘ آپ کی یہ ساری کتابیںقیمتی نصیحتوں سے پرُ بیش قیمت مواعظ سے معمور ہیں ‘ ان میں بطور خاص معاشرہ کی اصلاح‘ تہذیب نفس اور تربیت کردار اور تصوف کا لب لباب اور عقائد کا بیان ہے ‘ عربی زبان میں آپ کی عظیم تصنیف ’’زجاجۃ المصابیح‘‘ ساری دنیا میں بالخصوص جامعہ نظامیہ حیدرآباددکن کے بشمول دنیا کی بہت سی جامعات ‘ معاہد و مدارس وغیرہ میں داخل نصاب ہے۔ اس کتاب سے متعلق ہندو پاک اور عرب و عجم کے علماء کرام کے تبصرے ہیں کہ علماء احناف پر صدیوں سے جو قرض تھا حضرت محدث دکن علیہ الرحمۃ نے اس کتاب کے ذریعہ اس کو پورا اتاردیا۔ ذیل میں زجاجۃ المصابیح سے متعلق دوجلیل القدرائمہ فقہ وحدیث کے قلبی تاثرات کی عکاسی کرنے والے گراں قدرکلمات نقل کئے جاتے ہیں
تقریظ فقیہ ہرات مولانا ابو نصر محمد اعظم برنابادی ہروی دام مجدہ

از فقیر ابو نصر بخدمت مولائے جلیل صاحب
’’من الفقیر ابی نصر الی المولیٰ
النجابۃ‘ عالی النسب رفیع الحسب
الجلیل النجیب النسیب الحسیب
خلیل (مکرم) مولانا ابوالحسنات سید شاہ عبداللہ صاحب
الخلیل مولانا ابی الحسنات السید
(دام برکاتہ) اور ان تمام حضرات کی خدمت میں
شاہ عبداللہ صاحب دام برکاتہ
جو زجاجۃ کی طباعت اور نشر و اشاعت میں کوشا ں ہیں
والی سائر الساعین فی طبع الزجاجۃ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اللہ تعالیٰ
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ سب حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے آپ کے
جزاکم اللہ تعالیٰ خیر الجزاء فقد فزت
کمال عنایات سے (زجاجۃ) کے دو جلدوں کے بعد
بمارجوت بعد دراسۃ الجزئین الاولین
زجاجۃ المصابیح کی جلد سوم کے تین نسخے وصول
من وصول ثلاث نسخ من الجزء الثالث
ہوئے جو میرے لئے باعث صد مسرت و ابتہاج ہے
من افضالکم والطافکم ففرحت فرحا
اس وصولی پر مجھ جیسے قاصر و عاجز نے جس قدر اللہ تعالیٰ
بلیغا وحمدت اللہ تعالیٰ و تشکرت لکم حمد
کی حمد اور آپ کا شکر ادا ہوسکتا ہے ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ آپ پر اپنی برکات نازل
العاجزین و شکر القاصرین بارک اللہ تعالیٰ
فرمائے اور بے ساختہ یہ کلمات (زجاجۃ المصابیح کی توصیف میں) میری زبان سے نکل پڑے۔
فیکم فقلت
ہر قسم کی تعریف اس اللہ (بزرگ و برتر) کو زیبا ہے جس نے دین کے آثار کو
الحمد للہ الذی انشأ رجالا یحیون
زندہ کرنے والے افراد کو معرض وجود میں لایا اور درود و سلام ہو اس
رسوم الدین والصلاۃ والسلام علی من
ذات اقدس (صلی اللہ علیہ وسلم) پر جس نے ہر زمانے میں ہم کو مجددین کے ظہور کی خوشخبری
بشرنا بظھور المجددین للدین فی کل
سے سرفراز فرمایا اور درود و سلام ہو آپ کی آل پر جو ہدایت کرنے والے ہیں اور ہدایت یافتہ
قرن و حین و علی الہ الھادین المھتدین۔
بھیزجاجۃ کی دو جلدوں کی تدریس نے میری آنکھوں کو ٹھنڈک بخشی اور
وبعد فقد قرت عینی بدراسۃ الجزئین
اب تیسری جلدکی وصولیابی میرے وسعت قلب اور انشراح صدر کا
الأولین من زجاجۃ المصابیح ووسع قلبی و
موجب ثابت ہورہی ہے جو حقیقت میں صحیح ترین حدیثوں کا منبع ہے اور ایسا محسوس
شرح صدری بوصول الجزء الثالث من منبع
ہورہا ہے کہ مجھے ایک ایسا بحر ذخار حاصل ہوگیا جو میرے لئے بالکل کافی ہے‘
الاصاحیح فقد فزت فی بحر زاخرفی بابہ
احناف کے لئے واضح حجت ہے‘ جہالت اور تنقید کی بیماریوں کے لئے قانون ہے ‘ اور
کاف و برھان باھر للأحناف و قانون لسقام
بعض فوائد کو ناشر نے تعارف کتاب میں واضح کردئیے ہیں) سے آگاہی نظر
الجھل والقدح فی المذھب شاف لا یستقصی
غائر کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی تاآنکہ ناظر ہمہ تن گوش بن کر قلب حاضر کے ساتھ
فوائدھا الا من عمق النظر فی عوائدھا
مطالعہ کرے بشرطیکہ انصاف پیش نظر ہو‘ اللہ تعالیٰ مولف کو اور اس کتاب
وقدنبہ علیھا نبذا فی البدء ناشرھا و
کی طباعت و اشاعت میں مدد کرنے والوں کو جزاء خیر مرحمت فرمائے
وقدنبہ علیھا نبذا فی البدء ناشرھا و
احقر ابو نصر محمد اعظم برنابادی ہروی
یظہر علیھا اذا القی السمیع شھید القلب
اللہ تعالیٰ ان کی اور ان کے مشائخین کی مغفرت فرمائے۔ آمین‘‘۔
بالانصاف ناظرھا جزی اللہ تعالیٰ عنا
مولفھا و من سعی فیھا
و انا الفقیر ابو نصر محمد اعظم البرنابادی
الھروی غفر اللہ تعالیٰ لہ و لمشائخہ۔ اٰمین‘‘


تقریظ فاضل اجل مولانا عبدالفتاح ابوغُدّہ (دام فضلہ) ازشھر حلب ملک شام

ہر قسم کی تعریف اللہ بزرگ و برتر کے لئے ہے جو تمام جہانوں کے رب ہیں
الحمد للہ رب العالمین
اور اللہ تعالیٰ کا سلام اور اس کی بے شمار رحمتیں ہمار ے سردار حضرت محمد صلی اللہ
والصلاۃ والسلام علی سیدنا
علیہ وسلم اور آپ کے آل اطہار‘ اصحاب اخیار او رتابعین ابرار پر نازل ہوتی رہیں
محمد وآلہ و صحبہ والتابعین
حمد و نعت کے بعد اللہ تعالیٰ کا ایک بندۂ حقیر عبدالفتاح
اما بعد من الفقیر الیہ تعالیٰ
ابو غدہ عریضۂ ذیل‘ سید ہمام ابوالحسنات والآثار والطیبات و
عبدالفتاح ابو غدۃ الی سید
المبارکات مولانا سید عبداللہ شاہ بن مولانا السید مظفر حسین
الھمام ابی الحسنات والآثار الطیبات
حیدرآبادی مدظلہ العالی کی خدمت فیض درجت میں ارسال کرنے
المبارکات مولانا السید عبداللہ
کی عزت حاصل کرتا ہے‘ اللہ تعالیٰ آپ کا محافظ
بن مولانا السید مظفر حسین
و ناصر ہو!
الحیدرآبادی حفظہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘ بعد سلام مسنون
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!
واضح ہو کہ اللہ بزرگ و برتر نے اس سال فریضۂ حج حجۃ الاسلام کی ادائی کی توفیق عطا
وبعد فقد من اللہ تعالیٰ علی
فرماکر مجھ پر احسان
ھذا العام باداء فریضۃ الحج و
عظیم فرمایا ۔ اور اپنے فضل وکرم سے اُن منفعتوں سے
حجۃ الاسلام’ و سھل لی من
بہرہ ور ہونے کا موقع نصیب فرمایا جو اس رکن عظیم
فضلہ ان اشھد منافع ربطھا
یعنی بیت اللہ کی حاضری پر منحصر ہیں۔
سبحانہ بھذا الرکن العظیم‘
اور ان گراں قدر منفعتوں میں سے میرے لئے ایک
و کان من جملۃ تلک المنافع
منفعت یہ ہے کہ مجھے یہاں حضرتِ والا کی تصنیف
العظیمۃ أن التقیت بالجزء الاول
زجاجۃ المصابیح کی جلد اول دستیاب ہوئی۔ جس
من کتابکم ’’زجاجۃ المصابیح‘‘
کی وجہ سے میری بصر او ربصیرت دونوں روشن ہوگئے
فاستنابصری و بصیرتی
اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو اس بیش بہا نعمت سے نوازا
وشکرت اللہ تعالیٰ علی ما آتاکم
ہے‘ اس پر میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔
وسدّدکم فجزاکم اللہ عن
اللہ تعالیٰ آپ کو اس کارخیر پر اسلام اور حضرات
الاسلام والسادۃ الحنفیۃ افضل
احناف کی جانب سے جزاء خیر عطا فرمائے۔
الجزاء
الفقیر الی اللہ
وانا الفقیر الیہ تعالیٰ
عبدالفتاح ابو غدہ
عبدالفتاح ابو غدہ
خادم العلماء
خادم طلبہ العلم الشریف
بہ شہر حلب
بمدینۃ حلب الشھباء
اللہ تعالیٰ اس کی اور سارے بلاد مسلمین
حرسھا اللہ تعالیٰ ھی و سائر بلاد
کی حفاظت فرمائے۔
المسلمین
شنبہ ۱۴محرم ۱۳۷۷؁ھ
یوم السبت ۱۴!من المحرم ۱۳۷۷ھ؁
سوریہ‘ حلب‘ البیاضۃ۔
سوریہ حلب ۔ البیاضۃ