>> BACK


یہ ایک روز روشن کی طرح واضح حقیقت ہے کہ تمام ائمہ کرام و محدثین عظام عقائد و اصول میں متفق ہیں البتہ ان کے مابین فروعی مسائل کا اختلاف اجتہاد کی بنیاد پر ہے‘ ہر امام کے پاس اپنے مسلک کی تائید و موافقت میں دلائل موجود ہیں اور ائمہ اربعہ کے تمام متبعین ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں‘ کوئی کسی پر زبان طعن دراز نہیں کرتا لیکن بعض گوشوں سے فقہ حنفی پر اعتراض کیا جارہا ہے کہ فقہ حنفی کی بنیاد صرف رائے اور قیاس ہے اور بعضوںنے تو یہاں تک کہہ دیا کہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے پاس صحیح حدیث نہیں ہے۔ ایسے وقت حدیث پاک کے انسائیکلوپیڈیا کی ضرورت تھی جس میں فقہ حنفی کے دلائل یکجا ہوں جس کے ذریعہ فروعی مسائل کے مستدلات اور ترجیحی وجوہ معلوم کئے جاسکیں۔

زجاجۃ المصابیح کی اہمیت وضرورت
مشکوٰۃ المصابیح کی تالیف اس مقصد سے کی گئی تھی کہ کسی عنوان کے متعلق احادیث شریفہ بآسانی نظر آجائیں ‘ اس سے ایک مسئلہ کے لئے ساری کتابوںکے ابواب دیکھنا ہر ایک کے لئے دشوار امر ہے‘ اس لئے صاحب مشکوٰۃ نے استفادہ کی سہولت کی خاطر صحاح ستہ کے علاوہ دیگر کتب حدیث سے احادیث شریفہ کو جمع کیا‘ چونکہ ہر مؤلف کا نظریہ کتاب کی تالیف میں اثرانداز ہوتا ہے ان کا فقہی مسلک کتاب کے مضامین میں جھلکتا ہے جبکہ صاحب مشکوٰۃ شافعی تھے‘ اس لئے اختلافی مقامات میں انہوں نے وہی احادیث شریفہ درج کی ہیں جن سے حضرات شافعیہ استدلال کرتے ہیں‘ چنانچہ ہر زمانے میں یہ ضرور ت بڑی شدت کے ساتھ محسوس کی گئی کہ مشکوٰۃ کے طرز پر ایک کتاب ایسی ہو جس میں فقہ حنفی کے دلائل جمع ہوں‘ مشکوٰۃ کی تالیف کے بعد سات سو برس سے یہ قرض جو علمائے احناف پر تھا اس کو حضرت محدث دکن علیہ الرحمۃ نے ادا فرمایا۔
چنانچہ آپ نے تائید غیبی و فیضان نبوی سے فن حدیث میں مشکوٰۃ المصابیح کے طرز پر ایک مایہ ناز کتاب بنام زجاجۃ المصابیح پانچ ضخیم جلدوں میں تحریر فرمائی اور اس کتاب میں آپ نے ان احادیث و آثار کو جمع فرمایا جن پر فقہ حنفی کی بنیاد ہے۔ دیگر ائمہ کے فقہی نقطۂ نظر کا احترام و تقدس ملحوظ رکھتے ہوئے آپ نے فقہ حنفی کے جملہ مسائل کو خواہ عبادات سے متعلق ہوں یا معاملات سے آیات کریمہ و احادیث شریفہ کے دلائل سے مدلل فرمایا۔

فقہائے کرام نے قرآن کریم و حدیث شریف سے مسائل کا استنباط کیا اور محدثین عظام نے ان احادیث کو اپنی کتابوں میں جمع فرمایا‘ گذشتہ صدیوں میں عام مسلمان فقہاء کی بات پر اعتماد کرتے ہوئے عمل کرتے رہے لیکن آہستہ آہستہ زمانہ کے تقاضے بدلنے لگے‘ اس سائنٹفک دور میں یہ فکر پیدا ہوئی کہ ہر بات دلیل اور حوالہ کے ذریعہ بیان کی جائے‘ صرف مسئلہ بیان کردینا کافی نہ رہا بلکہ یہ بتلانا ضروری سمجھاجانے لگا کہ یہ مسئلہ کونسی آیت کریمہ اور کونسی حدیث شریف سے ثابت ہے۔ یہ صرف عوام کی ہی ضرورت نہ تھی بلکہ علماء بھی اس کے خواستگار و خواہشمند تھے کہ احادیث شریفہ کا ایک ایسا مجموعہ ترتیب دیا جائے جس میں فقہ حنفی کی تائید کرنے والی احادیث شریفہ جمع ہوں۔ حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ کی نبض شناس شخصیت نے اس ضرورت کو محسوس کیا‘ آپ کی پُر بصیرت نگاہ ‘ دور اندیش فکر‘ محدثانہ استعداد‘ فقیہانہ قابلیت اس ضرورت کی تکمیل میں کارفرما رہی۔ حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ نے زجاجۃ المصابیح کی تالیف فرمائی ‘ اس میں فقہ حنفی کی مؤید احادیث شریفہ کو جمع فرمایا اور ایک علمی خلاء کو پُر فرمایا‘ ایک شدید ترین ضرورت کی تکمیل فرمائی‘ نہ صرف حنفی حضرات بلکہ پوری امت مسلمہ پر احسان فرمایا۔

زجاجۃ المصابیح علم حدیث کا ایک روشن مینارہ ہے‘ اور احادیث نبویہ کے ذخیرہ میں قابل قدر اضافہ ہے اور خصوصاً احناف کے لئے یہ کتاب دلیل راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
حضرت محدث دکن علیہ الرحمۃ نے زجاجۃ المصابیح کے مضامین کتاب اور باب کے عنوان کے تحت ذکر فرمائے‘ پانچ جلدیں جملہ (۲۹) کتابوں (مثلاً ‘ کتاب الطھارۃ اور کتاب الصلوٰۃ وغیرہ) اور ۳۲۷ ‘ابواب پر مشتمل ہے۔
’’زجاجۃ المصابیح ‘‘ میں مشکوٰۃ المصابیح کی طرح علوم حدیث کے مختلف مضامین عقائد‘ احکام‘ آداب اور مناقب وغیرہ کو جمع کیا گیا ہے اور صحاح ستہ کے علاوہ مسندامام اعظم ابوحنیفہ، موطا امام مالک و موطا امام محمد ‘ مسند امام احمد،مستدرک علی الصحین ، سنن دارمی‘معجم طبرانی وسنن دار قطنی وسنن بیہقی وشعب الایمان للبیہقی و مصنف ابن ابی شیبہ و شرح معانی الآثار مصنف عبدالرزاق ،ابن عساکر،مسندعبدبن حمید،صحیح ابن حبان ،ابن عدی ،تہذیب الآثار،سنن سعیدبن منصوروغیرہ متعدد کتب حدیث شریف سے جمع فرمایاجو چراغوں کی طرح روشن ہیں‘ جن کی روشنی اس زجاجۃ المصابیح سے نکھررہی ہے اور یہ احادیث مقدسہ کا حسین گلدستہ ہے جس سے دماغ ایمان معطر ہوجاتا ہے۔

زجاجۃ المصابیح پانچ جلدوں پر مشتمل ہے یہ احادیث شریفہ کا ایک گراں قدر ، بیش بہاذخیرہ ہے ،پہلی جلد کتاب الایمان سے کتاب الصوم تک ہے اس میں ’’۲۵۶۴‘‘ احادیث شریفہ ہیں، دوسری جلد کتاب فضائل القرآن سے شروع ہوکرکتاب العتق باب فی النذور پر ختم ہوتی ہے جس میں ’’۱۲۵۵‘‘احادیث شریفہ ہیں، تیسری جلد کتاب القصاص سے شروع ہوتی ہے اور کتا ب الرؤیا پر ختم ہوتی ہے اس میں ’’۱۱۷۰‘‘ احادیث شریفہ ہیں، چوتھی جلد کا آغاز کتاب الآداب سے ہوتا ہے او راختتام کتاب الفتن باب بدء الخلق پر ہوتا ہے جس کے احادیث شریفہ کی تعداد ’’ ۱۰۹۳‘‘ ہے، پانچویں جلد کی ابتداء باب فضائل سید المرسلین سے ہے اور یہ جلد باب ثواب ہذہ الامۃ پر مکمل ہوتی ہے اس میں ’’۵۵۲‘‘ احادیث شریفہ ہیں ،پانچ جلدوں میں وارد جملہ احادیث شریفہ کم وبیش ۶۶۳۴ہیں۔
زجاجۃ المصابیح فن حدیث کا ایسا کارنامہ ہے ، جس کی اہمیت وضرورت روزافزوں مزیدعیاں وآشکار ہورہی ہے، علماء دین ومشائخ طریقت کے ساتھ بالواسطہ عوام الناس بھی اس مقدس کتاب سے استفادہ کرتی ہے او رمسائل شریعت کو بہتر طریقہ سے سمجھنے کیلئے اس کو مشعل راہ بناتی ہے)۔

مشکوٰۃ میں ایک مسئلہ کے متعلق احادیث تین فصلوں میں منتشر تھیں ‘ حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ نے ہر مسئلہ کے متعلقہ احادیث کو بلا لحاظ فصل یکجا کیا ہے جس کی وجہ سے قاری کو تسلسل کے ساتھ احادیث شریفہ پڑھنے کا موقع ہوتا ہے اور تمام احادیث شریفہ یکجا مل جاتی ہیں۔
مثلاً صاحب مشکوٰۃ نے کتاب الاطعمۃ میں سب سے پہلے بسم اللہ پڑھنے اور کھانے کے دوران آداب سے متعلق حدیث لائی اور صاحب زجاجۃ نے سب سے پہلی حدیث کھانے کے لئے بیٹھنے سے پہلے کے آداب جیسے ’’ہاتھ دھونا‘‘ سے متعلق حدیث شریف ذکر کی ہے اور یہی روایت صاحب مشکوٰۃ نے دوسری فصل میں بیان کی ہے کیونکہ صاحب مشکوٰۃ کے پیش نظر بیان احادیث میں بخاری و مسلم و دیگر کتب کی ترتیب ہے اور صاحب زجاجۃ کے پیش نظر مسائل کی ترتیب ہے‘ اس لئے زجاجۃ المصابیح کی ترتیب میں انتہائی معقولیت اور سہولت نظر آتی ہے‘ نیز وہ ترتیب مسائل سیکھنے اور سمجھنے کے لئے مفید ہے۔