>> BACK


اس روشن کتاب زجاجۃ المصابیح کے حواشی میں مؤلف علام علیہ الرحمہ نے جو قیمتی مباحث جمع کئے ہیں اور اس پر جو تعلیقات ہیں دل و دماغ کومعطرکرتی ہیں اور اس میں انشراح ہی انشراح ہوتا ہے کہ نظام اسلام کی ہر بات میں جمال و کمال‘ حلاوت و شیرینی ہے‘ دین کا ہر حکم فطرت کے مطابق ہے۔
زجاجۃ المصابیح کی خصوصیات
حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ نے ’’زجاجۃ المصابیح‘‘ میں فقہ حنفی کی احادیث شریفہ کو جمع فرمایا ہے ‘ جلدچہارم و پنجم اور جلد اول میں کتاب العلم ختم تک مشکوٰۃ و زجاجۃ دونوں کتابوںمیں احادیث شریفہ تھوڑے سے فرق کے ساتھ تقریباً یکساں ہیں‘ مابقی تین جلدوں میں احادیث جو مسائل و احکام سے متعلق ہیں تقریباً الگ الگ ہیں۔
مشکوٰۃ المصابیح میں حضرت خطیب تبریزی رحمۃ اللہ علیہ نے ہر باب کی احادیث شریفہ کو تین فصلوں میں تقسیم کیا ہے‘ پہلی فصل میں صحیح بخاری وصحیح مسلم کی احادیث ‘ فصل دوم میں صحاح ستہ میں سے مابقی چار(۴) کتب اوردیگرکتب حدیث کی احادیث شریفہ اور تیسری فصل میں صحاح ستہ اوراسکے علاوہ دیگر کتابوں کی احادیث شریفہ کو جمع کیا ہے اور صاحب زجاجۃ حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ نے مشکوٰۃ کے مطابق باب اور اس کا عنوان قائم کیا مگر اس میں فصلیں نہیں بنائیں بلکہ باب کی جملہ احادیث شریفہ‘ فصول قائم کئے بغیر ایک ساتھ بیان کردی ہے لیکن خاص بات یہ ہیکہ (۱)حضرت محدث دکن نے ہر باب کے آغا زمیںعنوان سے زیادہ مناسبت رکھنے والی احادیث شریفہ پہلے ذکرکی ہے ۔

(۲) اکثر ابواب کے شروع میں امام بخاری کے اسلوب کے مطابق مضمون کی مناسبت سے قرآن مجید کی کوئی آیت کریمہ ذکر فرمائی پھر مسلسل احادیث مبارکہ نقل فرمائیں۔
(۳) بعض مقامات میں ضعیف کی تقویت کے لئے کوئی متابع یا شاہد ذکر کی ہے اور منقطع یا مرسل کے لئے متصل حدیث ذکر فرمائی ہے۔
(۴) اور اس کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ آپ نے احادیث شریفہ پر حسب ضرورت حواشی ترتیب دئے ہیںاور یہ حواشی ایک سو سے زائد کتابوں سے ماخوذ ہیں‘ حواشی میں آپ نے حنفی استنباط کوواضح کیا ‘وجوہ ترجیحی بیان کئے اور مسائل کی حکمتوں کو بھی ظاہر فرمایا اور جگہ جگہ معرفت کے حقائق و دقائق اور تزکیہ نفس اور اصلاحی و تربیتی پہلو پر گفتگو کی ہے جس کو پڑھنے سے انسان معرفت کے دریا میں غوطہ زن ہوجاتا ہے‘ کہیں کہیں حاشیہ دو دو صفحہ سے بھی بڑھ جاتا ہے اور کہیں کہیں حسب ضرورت مفردات کی لغوی تحقیق فرمائی ہے۔
(۵) حدیث شریف میں آئے ہوئے تاریخی مقامات اور احادیث شریفہ میں مذکور مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کا تعین فرمایا ‘ یہ گراں قد رمعلومات آفرین حواشی علم کی ایک ایسی دنیا ہے جہاں نور ہی نور ہے۔

(۶)۔فقہ حنفی ایک ناپیداکنار سمندرہے ،حضرت محدث دکن علیہ الرحمۃنے اس بحر ذخار سے انمول موتی چن لئے ہیں، مسائل میں کئی اقوال مذکور ہوتے ہیں آپ نے قول مفتی بہ کی نشاندہی ‘تائید اور توثیق کی ہے۔
ذخائر حدیث میں چھان بین کرکے مفتی بہ قول کے موافق حدیث شریف ذکر فرمائی ،او راس حدیث پاک پر ہونے والے ہرطرح کے اعتراض کو دفع کردیا ،اسی وجہ سے اکثراحادیث کے آخرمیں تنقیدرواۃ مذکورہے۔
(۷)فقہ حنفی پراعتراضات کے مدلل جواب ،احادیث کی صحیح تعبیرکے بعدحنفی مسلک کی وضاحت اورحسب ضرورت احادیث سے اورحنفی کتابوں کے حوالے سے حاشیہ پرمسائل کا اندراج کیا ہے۔
اجمالی طورپربطورنمونہ چندروایات کی طرف اشارہ کیا جارہاہے۔
رفع یدین
محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ نے زجاجۃ المصابیح میں رفع یدین سے متعلق سترہ (۱۷) روایات درج فرمائی ہیں جو فقہ حنفی کی تائید کرتی ہیں ۔ اس سے متعلق آپ نے صحیح مسلم‘ جامع ترمذی‘ سنن نسائی‘ سنن ابو داؤد‘ مسند امام اعظم ابو حنیفہ‘ مصنف ابن ابی شیبہ‘ مؤطا امام محمد‘ کتاب الاٰثار‘ طحاوی‘ ابن عدی بیہقی وغیرہ کی کتب حدیث سے روایات نقل فرمائی کہ نماز میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین نہیں ہے۔
واضح رہے کہ دیگر احادیث شریفہ میں جو رفع یدین کا ذکر آیا ہے وہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق میں منسوخ ہے جبکہ امام شافعی اور امام احمد رحمھما اللہ تعالیٰ رفع یدین کی روایات سے استدلال کرتے ہوئے اس کے مسنون ہونے کے قائل ہیں ۔
رفع یدین اورصحابہ‘ تابعین واکابرین امت کا عمل
نماز میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین نہ کرنے پر حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ نے صحابہ کرام وتابعین عظام اوراکابر امت کا عمل نقل کیا ہے‘ ذیل میں ان صحابہ کرام و تابعین عظام کے اسماء مبارکہ ذکر کئے جاتے ہیں :
(۱)حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ (۲)حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ (۳)حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ (۴)حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (۵)حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ (۶)حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ( ۷)حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ
امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ ،حضرت عبدالعزیز بن حکیم رضی اللہ عنہ ،حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ ،حضرت سفیان ثوری رضی اللہ عنہ ،حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ ،حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ ،حضرت علی رضی اللہ عنہ کے شاگرد حضرت عاصم بن کلیب جرمی رضی اللہ عنہ
قرأت خلف الامام
حنفی مذہب کے مطابق مقتدی کو خواہ جہری نماز ہو کہ سری ‘امام کے پیچھے قرأت نہیں کرنی چاہئے۔ حضرت محدث دکن علیہ الرحمۃ نے قرأت خلف الامام کے اس فقہی موقف کے بارے میں متعدد کتب حدیث سے تقریباً (۴۹)احادیث ذکر فرمائی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام کی قرأت ہی مقتدی کی قرأت ہے‘ امام کی اقتداء میں مقتدی کا قرأت کرنا درست نہیں۔ آپ نے علامہ بدرالدین عینی علیہ الرحمۃ کے حوالے سے رقم فرمایا اَسّی (۸۰) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے قرأت خلف الامام کی ممانعت منقول ہے۔ (زجاجۃ المصابیح ،ج۱ ص۲۴۲)
امام کے پیچھے قراء ت کرنے کی ممانعت والی احادیث شریفہ صحیح مسلم ‘جامع ترمذی ‘سنن ابو داؤد‘ سنن نسائی‘ سنن ابن ماجہ‘ مسند امام احمد‘ مؤطا امام مالک‘ امام محمد‘ مستدرک علی الصحیحین‘ مصنف عبدالرزاق‘ طحاوی‘ معجم طبرانی اوسط‘ مصنف ابن ابی شیبہ‘ سنن دار قطنی‘ ابن عساکر‘ بیہقی‘ مسند عبد بن حمید‘ صحیح ابن حبان‘ ابن عدی ‘ سنن سعید بن منصور‘ ابن جریر‘ ابن حاتم‘ ابوالشیخ‘ ابن مردویہ او دیگر کتب حدیث شریف میں موجود ہیں۔
آہستہ آمین کہنا
نمازمیں آمین آہستہ کہنے کے متعلق حضرت علیہ الرحمۃ نے زجاجہ شریف میں پانچ (۵)روایات ذکرفرمائی ہیں ،آپ نے جامع ترمذی ‘سنن ابو داؤد‘ مستدرک للحاکم‘ مسند ابو یعلی‘معجم طبرانی‘سنن دار قطنی‘ مسند امام احمد‘ طحاوی‘ مؤطا امام محمد اورتہذیب الآثار وغیرہ کے حوالہ سے احادیث شریفہ کو ذکر فرمایااورحضرت ابو وائل سے حدیث نقل فرمائی کہ حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی آمین جہر سے نہیں کہتے تھے۔
حضرت محدث دکن علیہ الرحمہ نے فقہی مسائل کے حدیثی دلائل پر ہی اکتفا نہیں فرمایا ہے بلکہ عقائد و معمولات اہل سنت کے بھی احادیث شریفہ سے دلائل دئے ہیں۔ چنانچہ زجاجۃ المصابیح جلد چہارم‘ باب بدء الخلق و ذکر الانبیاء علیھم الصلوٰۃ والسلام ‘ ص ۳۸۸ پر مشکوٰۃ کے طرز پر ایک حدیث شریف نقل فرمائی جس میں ضمناً حضور علیہ السلام سے وسیلہ لینے کا ذکر تھا۔ آپ نے اس روایت کے فوراً بعد توسل کے جواز سے متعلق واضح اور صریح درج ذیل حدیث شریف متعدد کتب حدیث شریف کے حوالوں سے ذکر فرمادی۔
امام ترمذی حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک نابینا صاحب نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: آپ میرے لئے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالی مجھے عافیت عطافرمائے آپ نے فرمایا اگر تم چاہوتو میں دعاکردیتا ہوں اور اگر چاہو تو تم صبر کرلو یہ تمہارے لئے بہترہے ، انہوں نے عرض کیا آپ دعافرمائیں تو وہ کہتے ہیںکہ آپ نے ان کو حکم دیا کہ وہ وضوکریں اوراچھی طرح وضوء کرکے یہ دعاکریں : اللہم انی اسئلک واتوجہ الیک بنبیک محمد نبی الرحمۃ انی توجہت بک الی ربی فی حاجتی ہذی لتقضی اللہم فشفعہ فی ۔ اے اللہ میں تجھ سے مانگتاہوں اور تیرے حضور تیرے نبی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نبی رحمت کے وسیلے سے مانگتا ہوں ۔یارسول اللہ میں آپ کے وسیلے سے میرے رب کے حضور اپنی اس ضرورت کے لئے حاضر ہوں تا کہ میری یہ ضرورت پوری ہو، اے اللہ حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے مجھے بہرہ مند فرما۔(ہذاحدیث حسن صحیح غریب )
اس حدیث شریف کونقل کرنے کے بعدمزیدمحدث دکن علیہ الرحمۃ حوالہ جات وتخریجات ذکرتے ہیںکہ امام نسائی ، امام ابن ماجہ او رامام طبرانی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے اور اس کے شروع میںایک قصہ بیان فرمایاہے ، امام ابن خزیمہ نے اپنی کتاب ’’ صحیح ‘’ میں اور امام حاکم نے بھی روایت کیا ہے او رفرمایا ہے کہ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے او رامام بیہقی نے بھی حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا او راس حدیث کو صحیح قراردیا ہے ، اور امام نسائی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں(ترجمہ) ایک نابیناصحابی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میںحاضرہوئے او رعرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ سے دعافرمائیں کہ وہ میرے لئے میری بینائی عطا کردے، آپ نے فرمایا: کیا میں تمہارے حق میں دعا کروں ؟ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری بینائی کا جانا میرے لئے گراں ہوگیا ہے آپ نے فرمایا تو تم جاؤ او روضوکر و پھر دو رکعت نماز اداکرو، اس کے بعد دعاء کرو! اللہم انی اسئلک واتوجہ الیک بنبیک محمد نبی الرحمۃیامحمد انی توجہت الی ربی بک ان تکشف لی عن بصری اللہم شفعہ فیّ وشفعنی فی نفسی۔‘‘ اے اللہ میں تجھ سے مانگتاہوں ، اور تیری جناب میںتیرے نبی حضرت محمد نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا وسیلہ لیکر حاضرہوں ، اے (سیدنا) محمد صلی اللہ علیہ وسلم میںاپنے رب کی جناب میں آپ کا وسیلہ لے کر متوجہ ہوں کہ آپ میری بینائی عطاکردیں ،اے اللہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش سے مجھے سرفراز فرما، وہ شخص جب واپس ہواتو اس حالت میںواپس ہوا کہ اللہ تعالی نے اس کو بینائی عطا کردی ۔