حقارت ایک ذلیل حرکت

حضرت محدث دکن علیہ الرحمۃ والرضوان معاشرہ میں پھیلی ہوئی ایک ذلیل حرکت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت حسن بصری اور حضرت شیخ ابو علی محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہما کے واقعات ذکر فرماتے ہیں:

        حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ ایک دن مغرب کی نماز کے وقت حبیب عجمی رحمۃ اللہ علیہ کے عبادت خانہ میں جب کہ وہ تکبیر اولی کہہ کر نیت باندھ چکے تھے آئے اور الحمد کی ح کو ھ سے اداء کررہے ہیں ۔ سونچا کہ ان کے پیچھے نماز جائز نہیں ، کیونکہ یہ کلام مجید غلط پڑھتے ہیں ! اپنی نماز علیحدہ اداء کی ۔ اسی رات خواب میں حق سبحانہ تعالی کو دیکھ کر عرض کیا : اے پروردگار عالم ! آپ کی خوشنودی کس چیز میں ہے ؟ خطاب ہوا : اے حسن تونے ہماری مرضی ورضاپائی تھی مگر اس کا مرتبہ نہ جانا ۔ عرض کیا : بارِالٰہا ! وہ کیا معاملہ تھا ؟ ارشاد ہوا کہ : حبیب کے پیچھے نماز تیری ساری نمازوں سے افضل واعلی تھی ، تُو عبادت کی درستی کے خیال میں رہا اور نیت کی درستی کا خیال نہ کیا ۔ زبان کی درستی اور دل کی درستی میں بہت بڑا فرق ہے ۔