بیعت

عرب میں دستور تھا کہ جب کوئی شخص کسی چیز کو کسی کے ہاتھ بیچتا ہے تو پہلے اس چیز کی قیمت مقرر کی جاتی ہے۔ اس کے بعد بیچنے والا کہتا ہے کہ میں نے اس قیمت پر اس چیز کو بیچا اور خریدنے والا کہتا ہے کہ میں نے اسے خرید لیا ہے۔ اس کے بعد ایک دوسرے کے ہاتھ پرہاتھ رکھتا ہے۔یہ علامت اس بات کی تھی کہ طرفین سے معاہدہ ہوا اور یہ معاہدہ اور وعدہ مکمل ہوگیا اور طرفین سے کوئی وعدہ خلافی نہ کرے گا۔ نہ بائع چیز دینے سے انکار کرے گا اور نہ مشتری قیمت ادا کرنے سے ، یہ عام دستور تھا کہ جس وعدہ کو مستحکم کرنا منظور ہوتا تو ہاتھ میں ہاتھ ملاکر وہ وعدہ کیا کرتے تھے ۔ جیسا کہ اس حدیث شریف سے ظاہر ہے عدۃ المومن کأخذ الکف یعنی مسلمان کا وعدہ ہاتھ میں ہاتھ ملانے سے کم نہیں۔ اس لئے بیع میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا کہ طرفین سے جو وعدہ خرید و فروخت ہوا ہے وہ ضرور پورا کیا جائے گا۔ اسی ہاتھ میں ہاتھ ملانے کا نام ’’بیعت ‘‘ہے ۔ چنانچہ لسان العرب میں لکھا ہے البیعۃ الصفقۃ علی ایجاب البیع اور صفقہکے معنی منتہی الارب میں لکھا ہے یک باردست زدن دربیع۔ غرضیکہ لفظ بیعت عرب میں بیع و شری کے موقع میں مستعمل تھا۔اسی بنا پر حق تعالیٰ بیعت اسلامی میں بھی یہی طریقہ اختیار فرمایا۔ اس آیت شریف سے صرف اسی قدر معلوم ہوا کہ مسلمان بیعت کیا کرتے تھے۔ یعنی کسی چیز کو بیچتے اور ہاتھ میں ہاتھ ملاکر اس کو موکد کرتے تھے۔ مگر یہ نہیں معلوم ہوا کہ بائع کون ہے اور مشتری کون اور کس چیز کو بیچے تھے سو اس کا ذکر دوسری آیت میں ہے جو ارشاد ہے۔ ان اللہ اشتری من المؤمنین أنفسہم وأموالہم بأن لہم الجنۃ یعنی خدا نے مسلمانوں کی جان و مال کو جنت کے بدلے خریدلیا۔
اس سے ظاہر ہے کہ مسلمان بائع ہیں اور خدائے تعالیٰ مشتری اور ان کی جان و مال مبیع اور جنت قیمت ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے تمام احکامِ الٰہی مسلمانوں کو پہونچادیئے اور یہ بھی معلوم کرادیا گیا کہ اگر تم یہ سب کام کرو گے تو خدائے تعالیٰ تمہیں جنت دے گا تو مسلمانوں نے بصدق دل اس کو قبول کرلیا۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہماری ذاتوں میں اور مالوں میں جو تصرف خدائے تعالیٰ نے کیا ہے کہ فلاں کام اپنے اعضاء سے کرو اور فلاں مت کرو۔ اور مال فلاں اُمور میں خرچو اور فلاں میں مت خرچو سب ہمیں قبول ہے ہم یہ نہ کہیں گے کہ ہمارے مال میں یہ تصرف کیوں کیا جاتا ہے کہ اس میں سے ایک حصہ خدا کی راہ میں دیں یا اسراف نہ کریں۔ اور ہمارے نفوس میں یہ تصرف کیوں کیا جاتا ہے کہ اپنی خواہشوں کو روکیں اور مثلاً حسد و بغض وغیرہ سے احتراز کریں۔ غرضکہ حق تعالیٰ نے جتنے خواہشات و صفات آدمی میں پیدا کئے سب میں اپنا تصرف جاری فرمایا۔ مثلاً فلاں قسم کی بات کرو فلاں قسم کی بات نہ کرو۔ اسی طرح دیکھنے سننے کھانے پینے وغیرہ اُمور طبعیہ میں ایک ایک حد مقرر کردی اور حکم دیا کہ انھیں اُمور میں ان کو استعمال کریں جن کی اجازت ہے۔ اسی طرح کل خواہشوں سے متعلق احکامت شرعیہ مقرر کئے اور نیز جتنے صفات پیدا کئے مثلاً سخاوت ، شجاعت ، دوستی ، دشمنی وغیرہ سب میں ایک ایک حد مقرر کردی۔ مثلاً دوستی رکھو تو خدا کے واسطے اور دشمنی رکھو تو خدا کے واسطے۔ علی ہذا القیاس کل اُمور طبعیہ کا حال یہی ہے کہ مطلق العنانی کے ساتھ مسلمان کوئی کام نہیں کرسکتا۔ ہر کام میں جو طریقہ بتایا گیا اسی طریقہ پر وہ کام کرنا چاہئے جس کا مطلب یہ ہوا کہ اب نہ ان کے نفوس ان کے ہیں نہ ان کے اموال۔ بلکہ وہ سب ان کے پاس امانت ہیں جس طرح امانتی چیزوں کو آدمی خود مختاری سے اپنی خواہشوں میں استعمال نہیں کرسکتا بلکہ انہی کاموں میں استعمال کرسکتا ہے جن کی اجازت مالک نے دی ہو اسی طرح مسلمان ہاتھوں سے مثلاً کام لیں تو وہی جن کی اجازت  ہے۔ پاؤں سے کام لے کر کہیں جائیں تو وہیں جہاں جانے کی اجازت ہے، آنکھوں سے کام لینا چاہیں تو وہی چیزیں دیکھیں جن کے دیکھنے کی اجازت ہے۔ کانوں سے سننا چاہیں تو وہی باتیں سنیں جن کے سننے کی اجازت ہے۔ خیال سے کام لینا چاہیں تو وہی خیال کریں جو منع نہیں۔ جان دینا چاہیں تو اسی موقع میں جہاں جان دینے کی اجازت ہے۔
الحاصل ان احکامات کے مقرر کرنے سے ثابت ہوگیا کہ جان و مال سب خدا کی ملک ہیں۔ ہمارے اختیارمیں صرف بطور امانت دیئے گئے ہیں نہ جان پر ہمارا خود مختارانہ تصرف رہا نہ اعضاء پر نہ مال پر۔ جب ان باتوں کو مسلمانوں نے قبول کرلیا تو گویا یہ کہہ دیا کہ ہم نے اپنا جان و مال جنت کے معاوضہ میں خدا کے ہاتھ بیچ دیا ہے۔ اس کے جواب میں خدائے تعالیٰ فرماتا ہے ان اللّٰہ اشتری من المؤمنین أنفسہم وأموالہم بأن لہم الجنۃ یعنی   تم     نے اگر جان و مال کو بیچ دیا تو ہم نے بھی بمعاوضہ جنت خرید لیا۔ اس سے ظاہر ہے کہ مسلمان بائع ہیں۔ اور خدائے تعالیٰ مشتری۔ اور جان و مال مبیع ہیں اور جنت ان کی قیمت ۔جب یہ قرار طرفین سے ہوچکا تو حسب عادت صفقہ اور بیعت یعنی ہاتھ میں ہاتھ ملانے کی ضرورت ہوئی تاکہ بیع و شراء پوری اور حتمی وعدہ ہوجائے۔ اب مسلمان تو صفقہ کے لئے ہاتھ بڑھا سکتے ہیں مگر خدائے تعالیٰ کی شان نہیں کہ اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ پر رکھے۔ اس لئے ارشاد ہوا کہ نبی ا کے ہاتھ کو ہمارا ہاتھ سمجھ لو۔ اور ان کی بیعت کو ہماری بیعت۔ چنانچہ ارشاد ہے ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللّٰہ یعنی اے نبی ا جو لوگ ظاہراً  آپ کے ہاتھ میں ہاتھ ملاتے ہیں وہ آپ کا ہاتھ نہیں ہمارا ہاتھ ہے۔ یداللّٰہ فوق أیدیہم کیونکہ پیشتر ہی سے مبیع اور اس کی قیمت کا تصفیہ ہوچکا ہے۔ اب اگر کوئی اس بیعت کو توڑ دے اور اپنی جان و مال میں اپنی ذاتی خواہش اور خود مختارانہ تصرف کرنے لگے اور یہ بھول جائے کہ وہ بطور امانت ہمارے پاس ہیں تو اس کا نقصان اسی کو ہوگا کہ ہم بھی قیمت یعنی جنت نہ دیں گے۔ کما قال، فمن نکث فانما ینکث علی نفسہ اور جو شخص اس وعدہ کو جو ہاتھ میں ہاتھ دے کر کیا تھا جس سے تکمیل بیع ہوچکی تھی پورا کرے تو ہم اس کو اجر عظیم دیں گے کما قال اللہ تعالیٰ، ومن أوفی بما عاھد علیہ اللّٰہ فسیؤتیہ أجرا عظیما۔

 

 

Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights reserved