آیت موصوفہ سے معلوم ہوا کہ آنحضرت خدائے تعالی کی طرف سے بیعت کرنے والوں کے ہاتھ میں ہاتھ ملاتے تھے اور آپ کا ہاتھ خدائے تعالیٰ کا ہاتھ سمجھا جاتا تھا اور یہ مقصود تھا کہ خدائے تعالیٰ وعدہ کرتا ہے کہ تم نے اپنے جان و مال کو خدا کے ہاتھ بیچ دیا تو خدائے تعالیٰ بھی ان کی قیمت ادا کرے گا یعنی جنت دے گا۔ ظاہراً اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت کے ساتھ بیعت خاص ہوگی کیونکہ یبایعونک کا خطاب خاص حضور اسے ہے اور یہ شرف کہ آپ ا کا ہاتھ خدائے تعالیٰ کا ہاتھ ہے حضور اکرم ا ہی کے لئے زیبا ہے مگر جب خلفائے راشدین نے بھی بیعت لی اور اس سے بھی یہی مقصود تھا کہ اہل اسلام معاہدہ پر قائم رہیں۔ اور خدائے تعالیٰ کی طرف سے خلفائے کرام وعدہ کرکے اس بیع و شراء کو مستحکم کریں تو اس سے معلوم ہوا کہ یداللّٰہ فوق أیدیہم وہاں بھی صادق ہے اس لئے کہ یہ بیع و شراء کوئی نئی نہیں۔ بیع وہی جان و مال ہیں۔ اور قیمت وہی جنت کیونکہ ان حضرات کا مقصود اس بیعت سے یہی تھا کہ مسلمان خدا اور رسول کی اطاعت کریں۔ پھر جب دنیادار بادشاہ بھی بیعت لینے لگے اور اس سے ان کا مقصود اسی قدر تھا کہ ہم کو مستقل بادشاہ مانو اور ہماری اطاعت کرو۔ خواہ موافق شریعت حکم دیں یا مخالف ورنہ ہم تمہیں قتل کرڈالیں گے تو یہ بیعت وہ نہ رہی جس میں جان و مال کے معاوضہ میں جنت تھی۔ اس وجہ سے یہاں یداللّٰہ فوق أیدیہم صادق نہیں آسکتا چونکہ وہ بیعت جو سنت نبوی تھی اس زمانہ میں فوت ہونے لگی تو بزرگان دین نے اس بیعت کا طریقہ جاری کردیا۔ اور اپنے مریدوں کو تلقین کی کہ اپنی جان و مال خدا کے ہاتھ بیچ دو۔ یعنی احکام الہٰی کی تعمیل کرو تو تمہیں خدائے تعالیٰ جنت دے گا۔ جب انھوں نے قبول کرکے بیعت کی یعنی ہاتھ میں ہاتھ ملایا اور ان حضرات نے بھی خدا کی طرف سے ہاتھ میں ہاتھ ملایا تو وہ اصلی بیعت پوری ہوگئی۔ اب اگر کوئی بیعت کے وقت ان اُمور کا لحاظ نہ رکھے اور وہ غرض جس کے لئے بیعت موضوع تھی فوت ہوجائے تو وہ بیعت بھی مثل بیعت سلاطین ہوجائے گی جس کو دین سے کوئی تعلق نہیں اس سے ظاہر ہے کہ اگر کوئی پیر جی اپنے مریدوں کو احکام شرع شریف ادا کرنے سے روکیں یا توجہ نہ دلائیں اور تلقین کریں کہ نماز روزہ حج و زکوٰۃ جو قرآن و حدیث و فقہ میں مذکور ہیں کوئی چیز نہیں بلکہ ان کا مطلب ہی کچھ اور ہے اور ظاہر شریعت بیکار چیز ہے تو اس بیعت کو ہمارے نبی کریم سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے دین سے کوئی علاقہ نہیں اس لئے مسلمانوں کو مشائخین کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے وقت یہ خیال کرنا ضرور ہے کہ ہم نے اپنی جان و مال کو خدائے تعالیٰ کے ہاتھ بیچ دیا ہے اور پیر صاحب بھی یہی تعلیم و تلقین کریں کہ اب تمہیں ضرور ہے کہ ہر کام میں اپنی خواہشوں کو چھوڑ کر خدا اور رسول کی مرضی کے مطابق کام کیا کرو۔
’’روض الریاحین‘‘ میں امام یافعیؒ نے لکھا ہے کہ عبدالواحد بن زیدؒ کہتے ہیں کہ ہم ایک روز اپنی مجلس میں بیٹھے ہوئے تیاری جہاد میں مشغول تھے ایک شخص نے یہ آیت پڑھی ان اللّٰہ اشتری من المؤمنین أنفسہم وأموالہم بأن لہم الجنۃ ایک جوان لڑکا جس کی عمر ۱۵ سال کی ہوگی اُٹھا اور کہا کہ اے عبدالواحد کیا اللہ تعالیٰ نے ہماری جان و مال کو جنت کے عوض میں خرید لیا۔ میں نے کہا ہاں۔ کہا میں آپ کو گواہ رکھتا ہوں کہ میں نے اپنی جان و مال کو جنت کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بیچ دیا۔ میں نے کہا تلوار کی دھار بہت سخت ہوتی ہے اور تم لڑکے ہو شاید صبر نہ کرسکو گے کہا کیا اب میں اس بیع کو چھوڑ سکتا ہوں یہ ہرگز نہ ہوگا۔ غرض اس لڑکے نے تمام مال جو اس کی میراث میں ملا تھا خیرات کرکے آمادۂ سفر ہوگیا۔ جس روز ہم لوگ جہاد کے لئے نکلے وہ بھی گھوڑے پر سوار اور مسلح ہوکر ہمارے ساتھ ہو لیا۔ راستہ میں اس کی یہ حالت تھی کہ دن کو روزہ رکھتا اور رات کو نماز پڑھتا اور ہماری حفاظت بھی کرتا۔ جب ہم دارالروم میں پہونچے اور دشمن کا لشکر نمودار ہوا ، اس لڑکے نے لشکر کفار پر حملہ کرکے نو آدمیوں کو قتل کیا اور خود بھی شہید ہوگیا۔ حالتِ نزع میں جب ہم اس کے نزدیک پہونچے تو دیکھا کہ مارے خوشی کے اس کی ہنسی تھم نہیں سکتی تھی۔ چنانچہ اسی حالت میں اس کا انتقال ہوگیا انا للّٰہ وانا الیہ راجعون سچی بیعت یہ تھی جس طرح صحابہ اپنی جان و مال سے اپنا تصرف اٹھا لیتے تھے ان بزرگوار نے بھی ایسا ہی کیا بیعت یعنی بک جانا اور اس کے لوازم پورے کرنا ایک سخت کام ہے اور اگر لوازم پورے نہ کئے جائیں یعنی انہی خواہشوں کے مطابق کام کرنے لگیں تو بیعت ٹوٹ جائے گی اولیاء اللہ کو درجہ ولایت و تقرب الہٰی اس وجہ سے حاصل ہوا اور ہوتا ہے کہ بیعت کو انھوں نے پوری کی۔ اور کرتے رہتے ہیں۔ الحاصل خالد رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ پیر کامل یعنی خلیفہ و جانشین رسول اللہﷺ کے ہاتھ جب بیعت کی وہ خدا کے ہاتھ پر بیعت ہوچکی۔ اس کے بعد اگر حمیت اور غیرت شجاعت وغیرہ سے اپنے نفسانی خواہش کے مطابق کام لیا جائے تو وہ بیعت توٹ جاتی ہے اور جب بیعت ٹوٹ گئی تو قیمت یعنی جنت کا استحقاق باقی نہیں رہتا اور عمر بھی کی جانفشانیاں اکارت ہوتی ہیں۔ اس لئے اس ذلت پر صبر کرنا ان پر آسان ہوگیا ورنہ ممکن نہیں کہ فاتحِ عراق و شام ہزاروں ہم چشموں کے مجمع میں کھڑے رہ کر اظہار کردیں۔ اور ایک ضعیف آدمی ان کے گلے میں رسی ڈالکر کھینچے اور ٹوپی سر سے اتارلے اور وہ دم نہ ماریں۔ یہ صرف اسلام کی برکات ہیں جو نفسانی خواہشوں کو پامال کرکے مہذب بنادیتا ہے۔
یہاں ایک بات اور معلوم ہوئی کہ حق تعالیٰ نے جو صحابہؓ کے حالات کی خبر دی ہے والذین معہ أشداء علی الکفار رحماء بینہم یعنی صحابہ کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں رحم دل۔ اس سے اس کیفیت کا مشاہدہ بھی ہوگیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو اسراف کی سزا دی وہ بھی بجا تھی کیونکہ ان کو یہ کہنے کی مجال ہی نہ تھی کہ ہم اپنے مال کے مختار ہیں اس لئے کہ وہ جانتے تھے کہ وہ اب اپنا مال رہا ہی نہیں وہ تو جنت کے معاوضہ میں بک گیا۔ جس کو خدا کی جانب سے خلیفۂ برحق نے مول لیا اسی وجہ سے انھوں نے قبول بھی کرلیا۔ اس سے ظاہر ہے کہ پیرِ کامل کو اپنے مرید کے مال میں تصرف کرنے کا حق ہے جیسا کہ بعضے اولیاء اللہ سے مروی ہے مگر یہ نہیں کہ خود غرضی سے تصرف کرے۔ اسی وجہ سے حضرت عمرؓ نے ان کا مال بیت المال میں داخل کردیا۔ جس سے حضرت عمرؓ کو کوئی ذاتی فائدہ مقصود نہ تھا۔
حضرت خالد بن ولیدؓ نے جو اس ذلت کی حالت میں کہا کہ حضرت عمرؓ کے ہوتے فتنہ کا کیا احتمال ہے۔ اس سے عقلاً اندازہ کرسکتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کا انتظام پوری سلطنت میں کس قدر ہوگا۔ کیونکہ یہ اس وقت کہہ رہے ہیں کہ فتنہ پیدا ہونے کا ظن غالب ہوگیا تھا کیونکہ ایسے شخص کو ذلیل کرنا جس کو موافق و مخالف نے بڑی بڑی سلطنت کا فاتح تسلیم کرلیا تھا اور اس مقام میں کہہ رہے ہیں جو مدینہ منورہ سے صدہا کوس پر واقع ہے۔ یہاں یہ امر غور طلب ہے کہ حضرت خالدؓ کو کیونکر معلوم ہوا کہ حضرت عمرؓ کی خلافت میں فتنہ کا احتمال نہیں۔ حالانکہ ناسخ التواریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ کو لوگ فظا غلیظ القلب کہتے تھے اور وہ عام ناراضی کا سبب ہوتا ہے جس کا ثبوت خود قرآن شریف سے ملتا ہے کہ حق تعالیٰ نے نبی ﷺ کی شان میں فرمایا ولوکنت فظا غلیظ القلب لانفضوا من حولک یعنی اگر آپ سخت گو اور سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے پاس سے بھاگ جاتے۔ پھر آپ کے کام بھی ایسے ہوتے تھے جو دل شکنی کے اسباب ہیں۔ چنانچہ واقعات مذکورہ سے ظاہر ہے پھر حضرت خالدؓ نے جو کہا اسی کے موافق ظہور میں بھی آیا۔ اس لئے کہ آپ کے پورے زمانہ خلافت میں کوئی فتنہ پیدا نہیں ہوا۔ حالانکہ آپ کے زمانہ میں کُل وہ بہادران اسلام موجود تھے جنھوں نے عرب ، عراق، شام ، مصر وغیرہ کو فتح کیا اور بعد کی خلافتوں میں ان میں کے اکثر حضرات معرکوں میں شہید ہوگئے اور بعضے انتقال کرگئے۔ باوجود اس کے ان خلافتوں میں بہت سے فتنے پیدا ہوئے۔ ان تمام اُمور پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خالدؓ نے یہ خیال کیا کہ اپنا دل جس میں خوف و ہراس کا گزر ہی نہیں۔ حضرت عمرؓ کے نام سے گھبراتا ہے اور ہیبت و رعب اس قدر طاری ہوتا ہے کہ بات کرنی مشکل ہوجاتی ہے تو اس سے وہ سمجھ گئے کہ اس میں حضرت عمرؓ کے فعل کو کوئی دخل نہیں یہ صرف ہیبت حق ہے۔
ہیبت حق است ایں از خلق نیست
ہیبت ایں مرد صاحب دلق نیست
اس پر انھوں نے قیاس کیا کہ آپ کی خلافت میں ممکن نہیں کہ کوئی فتنہ پرداز سر اٹھا سکے۔ یہ بات تو قرآن شریف سے بھی ثابت ہے جو حق تعالیٰ فرماتا ہے وما رمیت اذ رمیت ولکن اللّٰہ رمیٰ یعنی جب اے نبی ا تم نے بدرکی لڑائی میں ایک مٹھی کنکریاں کفار پر پھینک ماریں وہ تم نے نہیں پھینکا ، اللہ نے پھینکا۔ یقینا ہر چند کنکریوں کو پھینکنا آنحضرت ا کا فعل تھا مگر حق تعالیٰ وہ فعل اپنی طرف منسوب فرماتا ہے اور اس کی تصدیق بھی اسی طرح ہوگئی کہ ایک مٹھی کنکریاں تمام لشکر کفار کی آنکھوں میں لگیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت ا کا فعل برائے نام تھا ، دراصل وہ فعل الہٰی تھا۔ اسی طرح حضرت عمرؓ کے افعال ہی سمجھے جاتے تھے۔ کیونکہ باوجود اس تذلیل و توہین کے شجاعان عرب میں سے کسی نے آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھا۔ کیا وہ تاثیر بندوں کے فعل میں ہوسکتی ہے، یہ اللہ کے ہی فعل کی شان ہے کہ سب کو مقہور اور مسخر بنادے کیوں نہ ہو حضرت عمرؓ نبی کریم ﷺ کے خلیفہ جانشین اور ظل اللہ تھے۔ اسی وجہ سے ان کو اس قسم کے حکم کرنے میں تامل نہیں ہوتا تھا۔ (اقتباس!مقاصد الاسلام حصۂ دہم ص۵۰ تا ۶۱ ، مجلس اشاعت العلوم جامعہ نظامیہ حیدرآباد)
|