حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ
اور
تحفظ مسلک اہل سنت وجماعت
الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام علي سيد الانبياء والمرسلين واٰله و صحبه ومن تبعهم باحسان الی يوم الدين اجمعين
اما بعد ! فاعوذ بالله من الشيطان الرجيم ، بسم الله الرحمن الرحيم ، الذين يبلغون رسٰلٰتِ اللّٰه ويخشونه ولا يخشون احدا الا اللّٰه

        ترجمہ: یہ وہ مر دان خدا ہیں جو اللہ کے پیامات کو پہونچاتے ہیں اور اسی سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ (سورۃالاحزاب‘ آیت 39)

        انہی مردان خداومقربین بارگاہ میں" حقائق آگاہ ،معارف دستگاہ، عارف باللہ، شیخ الاسلام ،امام محمد انواراللہ فاروقی ،بانی جامعہ نظامیہ"  ہیں جنہیں پَروردگارعالم نے علم وفضل میں یکتائے روزگار،شریعت وطریقت میں مقتداء زمانہ بناکر دین متین کی خدمت کے لئے منتخب فرمایا ۔ آپ نے ایسے وقت مجاہدانہ اقدام فرمایا جبکہ دانایان فرنگ نے ہندوستان پر اپنا اقتدار وتسلط پائیدار بنانے کے لئے ،نہایت پر تزویر تدابیر سے اہل اسلام خصوصًا اہل ہند کو مذہب حق سے ہٹانے اور تعلیمات اسلامی سے بے خبر رکھنے کیلئے ،بعض اہل علم واہل قلم کو اپنا ہمنوا بنالیا تھا ،اس کے علاوہ بعض آزاد طبائع احکام اسلام کے خلاف اپنا زور قلم دکھارہے تھے اور عقلی دلائل کے نام سے مسائل کی غلط تاویلات بلکہ تحریفات کا سلسلہ شروع کرچکے تھے۔ یہ صورتِ حال عام مسلمانوں کے لئے نہایت مہلک وخطرناک تھی ، اس پُرآشوب ماحول میں حق کو واضح کرنا اورعام مسلمانوں کو بے راہ روی سے بچانا ضروری تھا۔ حضرت شیخ الاسلام کی حرارت دینی، احساس ملی، اور رگ فاروقی جوش زن ہوئی ۔ اور آپ نے ان تمام فرقہائے باطلہ کا کتاب و سنت کے دلائل قاطعہ وبراہین ساطعہ سے رد بلیغ فرمایا اور مسلک اہلسنت وجماعت کی حفاظت وصیانت اور عقائد صحیحہ کی تائید وحمایت فرمائی۔

(انتہٰی ملخصا مقدمہ مقاصد الاسلام حصہ اول ازمفتی محمد عبدالحمیدؒ، سابق شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ)

مسلک اہل سنت کی حمایت اورشیخ الاسلام کی دل سوزی

        باطل فرقوں کے افرادکی تعداد میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے اور ان فرقوں میں شامل ہونے والے افراددوسرے مذہب کے نہیں خود مسلمان ہیں کسی او رفرقہ کے نہیں اہل سنت وجماعت کے افراد ہیں ۔ اسی پس منظر میں حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ  اہل سنت وجماعت کے افراد کی اس بے ثباتی وعدم استقامت بیان فرمانے کے بعد عقیدہٴ صحیحہ پر استقلال اور ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہنے کی تاکید کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :

’’اسی کو دیکھ لیجئے کہ عموماً اہل اسلام باشندگان ہندو دکن اہلسنت وجماعت تھے ۔اور اسی چالیس پچاس سال کے عرصہ میں کتنے مذاہب باطلہ بن گئے؟ ان میں جتنے فرقے مختلف ناموں سے پکارے جاتے ہیں سب اہل سنت وجماعت سے نکلے ہوئے لوگ ہیں کیونکہ ان میں نہ ہندو شریک ہوئے نہ یہود ونصاریٰ، نہ شیعہ۔

 اس سے ظاہر ہے کہ جس قدر ان مذاہب باطلہ کی مردم شماری ہے، وہی تعداد ان اشخاص کی ہے، جو ہمارے مذہب سے خارج ہوگئے ہیں۔ اور روز بروز ان کی تعداد بڑھتی اور سنیوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے ،اگر ہماری کثیر التعداد قوم متوجہ ہوتی تو کیا ممکن تھا کہ یہ چھوٹے چھوٹے فرقے ہمارے عزیز و اقارب کو ہم سے چھین سکے ۔‘‘(مقاصد الاسلام، ج4، ص14)

اگر کچھ کر کے ایمان خریداہوتاتواس کے کھوجا نے کا کچھ غم ہوتا

        ایمان اورعقیدہٴ صحیحہ پرتادم زیست استقامت ہی مدار نجات ہے ، ایمان و عقیدہ کے باب میں سرموانحراف موجبِ ہلاکت وخسران ہے ، حضرت شیخ الاسلام عقیدہ کی بابت سرد مہری سے کام نہ لینے کی سخت تاکید کر تے ہوئے اس کے بُرے انجام سے متعلق اپنے دردمنددل سے اہل سنت کو صدائے حق دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :

 ’’قابل توجہ یہ بات ہے کہ جسکا اثرپڑتا ہے ہمارے سنی حضرات ہی پر پڑھتا ہے، قادیانی، نیچری وغیرہ نے الحاد کی عام دعوت دی اور تبلیغ کررہے ہیں، مگر نہ کوئی اہل یوروپ نے انکی بات مانی نہ ہندوں نے اور نہ کسی اسلامی فرقہ نے ، خدا ہماری جماعت کو سلامت رکھے ،یہی حضرات سخی کہ ہر ایک کی مراد پوری کرتے ہیں اور وقتاً فوقتاً ان کے شریک حال ہوکر انکا ایک گروہ بنادیتے ہیں عقل سے معذور ہوں تو ہوں، بے تعصب اور منصف اس درجہ کے کہ جس نے کچھ کہہ دیا، اسکو کمال غور سے دیکھیں گے اور بے علمی اور کم عقلی سے جواب نہ سوجھے تو اسی کا نام انصاف رکھیں گے کہ وہ مان لیا جائے، ادھر جاہلوں کو شکار کرنے کے ہتھکنڈے ہاتھ لگ گئے ہیں ،وہ ایسے دام بچھاتے ہیں کہ خواہ مخواہ ان میں پھنس جائیں، اگر علم ہو تو ان کی مکاریاں اور جعلسازیوں کا جواب دےسکیں، پھرعقل پر ناز ہے کہ ہم ہر چیز کو خوب سمجھتے ہیں، اگر کچھ خرچ کرکے ایمان خریدا ہوتا تو اسکے کھوجانے کا کچھ غم ہوتا! وہ تو باپ دادا کی کمائی تھی، مال میراث کی طرح بے دریغ لٹا دینی کوئی مشکل بات نہیں ،اگر ایک روپیہ کوئی دھوکہ دیکر لے جائے تو عمر بھر یاد رکھیں گے مگر کوئی پھسلا کر ایمان لے جائے تو اسکی کچھ پرواہ نہیں، اب کہیے کہ ان کو ایمان سے کیاتعلق ! پھر ایسوں کا اہل اسلام میں رہنے سے فائدہ ہی کیا بلکہ ایسے لوگوں کو توعلیحدہ ہوجانا ہی قرین مصلحت ہے: خس کم جہاں پاک۔ البتہ قابل افسوس یہ ہو گا کہ کوئی ایماندار آدمی بے ایمان ہوجائے۔ تعجب نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث شریف میں اسی طرف اشارہ فرمایا ہو کہ آخری زمانہ میں جو فتنے ہوں انکو مکروہ نہ سمجھو، بہر حال یہ دعا کرنا چاہئے کہ خدائے تعالیٰ اہل ایمان کو استقامت عطا فرمائے کہ اخیر زمانے کے فتنوں سے محفوظ رہیں۔‘‘ (مقاصد الاسلام، ج4، ص68 ، 69)۔

کثرت عبادت اورریاضتِ شاقہ کام نہ آنے کی وجہ؟

 شیخ الاسلام نے گمراہ فرقۂ خوارج سے متعلق حدیث شریف پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے :

 ’’اس حدیث سے ظاہر ہے کہ وہ شخص نہایت عابد تھا کہ کثرت صلوۃ سے پیشانی میں اسکے گٹھا پڑگیا تھا، غرض کہ ان احادیث میں تأ مل کرنے کے بعد ہر شخص معلوم کرسکتا ہے کہ باوجود کثرت عبادت اور ریاضت شاقہ کے وہ شخص اور اسکے ہم خیال جو واجب القتل اور بد ترین مخلوقات ٹہرے ، وجہ اسکی سوائے بے ادبی اور گستاخ طبعی کے اور کوئی نہ نکلے گی۔‘‘(انوار احمدی، ص293)

حمایت توحید اور دفع شرک؟

         حضرت شیخ الاسلام نے احادیث شریفہ کی روشنی میں فتنہ وہابیت اور علامات وہابیہ بیان فرمانے کے بعد رقم فرمایا ہے: 

 ’’اس میں شک نہیں کہ کوئی باطنی نکبت اس فرقہ میں ضرور ہے، جس کی وجہ سے مخبر صادق نے فرمایا کہ پھر وہ دین میں نہ آئیں گے۔ مگر بظاہر ایک وجہ یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ حمایت توحید اور دفع شرک و بدعت کے غرور میں محبوبان بارگاہ الٰہی کی نہ صرف توہین کرتے ہیں ،بلکہ مثل اصول دین کے تعلیم وتعلّم میں اسکو داخل کرتے ہیں، جس کی وجہ سے غیرت الٰہی انکو تباہ کردیتی ہے۔ ‘‘(انوار احمدی، ص324، 325)۔

        فرقہ وہابیہ کو بے ادبی سے باز آنے اور طریقہ صحابہ اختیار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام فرماتے ہیں:  

 ’’وہابیوں کو خوف کرنا چاہئے کہ باوجود یہ کہ قرآن و احادیث میں حضرت کے فضائل دیکھتے ہیں اور مسلمانوں سے سنتے ہیں مگر ان کو نظر انداز کر کے ایسے آیات و احادیث کوتلاش کرتے ہیں ؛جن میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی بظاہر کسر شان ہوتی ہے ۔ کیا یہ نماز، روزہ، اور ایسی شہادت رسالت کام آئیگی ؟

جب ہمیں ایک بڑی قوم کی نظیر مل گئی کہ یہ چیزیں کچھ کام نہیں آتیں تو ہم ان حضرات کو خیر خواہا نہ ضرور رائے دیں گے کہ یہ طرز عمل چھوڑ دیں اور صحابہ کا طرز عمل اختیار کریں۔" (مقاصد الاسلام، ج11، ص23)

توحید ورسالت کی گواہی ایمان ہے

        اسلام اور ایمان کے درمیا ن لغوی اعتبار سے فرق ہے ،اصطلاح شریعت میں دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ، "اسلام "کے لغوی معنی اطاعت وفرمانبرداری ہے ۔ جو شخص بظاہر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے ،اس سے اسلامی اعمال صادر ہوں اور منافی اسلام کوئی عمل سرزدنہ ہو؛اسکو مسلمان کہا جائیگا ۔شریعت اسکی قلبی کیفیت معلوم کرنے کا حکم نہیں دیتی۔ اور اگر کسی سے ایسا فعل یا قول صادر ہو جو بظاہر ایمان وتصدیق کے خلاف کفر پر دلالت کرتا ہے تو کفر کا حکم لگایا جائیگا ۔ چنانچہ اسلام اور ایمان سے متعلق نہایت علمی بحث فرمانے کے بعدحضرت شیخ الاسلام فرماتے ہیں :

’’ خلاصہ یہ ہے کہ کسی کو مسلمان کہنے کے لئے اس کے دل کی کیفیت معلوم ہونا ضروری نہیں ،اگر اسکی ضرورت ہوتی تو کسی کو مسلمان کہنا درست نہ ہوتا، جس سے مسلمانوں میں مناکرت بلکہ مخالفت پیدا ہوجاتی ،  اس لئے شریعت نے حکم دیا کہ جس سے اسلام کے اقوال وافعال صادر ہوں اسکو مسلمان سمجھ لو اور اس سے مخالفانہ برتاؤ نہ کرو  حق تعالیٰ فرماتا ہے: ولا تقولوا لمن القی اليکم السلٰم لست مومنا یعنی اگر کوئی تم پر سلام کرے تو یہ مت کہو! تو مومن نہیں(النساء:94)

اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی توحید ورسالت کی گواہی دے اور نماز روزہ وغیرہ ادا کرے تو اسکے جان ومال سے کوئی تعرض نہیں ۔

الغرض بقرینہ ظاہرِ حال اسلام وایمان باطنی پر حکم کیا جائیگا۔ اسی طرح اگر کفر پر قرینہ ہو تو بحسبِ ظاہر کفر کا حکم کیا جائیگا۔ چنانچہ ابن تیمیہ نے "الصارم المسلول" میں لکھا ہے : الايمان والنفاق اصله فی القلب وانما الذی يظهر من القول والفعل دليل عليه فاذا ظهر شیٔ يترتب عليه الحکم۔" شرح مقاصد: وغیرہ میں لکھا ہے کہ بعض معاصی کو شارع نے عدم تصدیق کے امارات وعلامات قرار دئے ہیں، جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض رکھنا، قرآن شریف کو نجاست میں پھینک دینا ، بت کا سجدہ کرنا وغیرہ امور۔ انتہٰی۔

        اس سے اہل اسلام سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کوئی شخص یہ قاعدہ قرار دے کہ جو امور قرآن و حدیث میں خلاف عقل ہوں ؛ان میں تاویل کرنے کی ضرورت ہے ،جسکا مطلب یہ ہوا کہ وہ نہ مانے جائیں تو ایسے عقیدہ والے کو کیا سمجھنا چاہئے۔

        "السیف المسلول" میں امام تقی الدین نے لکھا ہے کہ اجماع اس امر پر ہوگیا ہے کہ جو مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کی تنقیص شان کرے یا گالی دے اس کا قتل واجب ہے !-اور لکھا ہے کہ حضرت عمر نے صاف حکم دیا کہ جو شخص اللہ تعالی کو یا کسی نبی کو گالی دے ؛اس کوقتل کر ڈالو!۔ (مقاصدالاسلام ، ج 1،ص137‘138)

بے ادبی کا انجام اوربدمذہبوں کی کتابوں سے پرہیز

        کوئی شخص مسلمان ہونے کاد عویٰ کرے ،اس میں اسلام کی نشانیاں موجود ہوں ،نماز، روزہ وغیرہ احکام شریعت پرعمل پیرارہے، اسکے ساتھ اگرــ معاذ اللہ !ــنبی اکرم کی شان اقدس میں صراحۃً یا کنایۃً بے ادبی وگستاخی کرے تو وہ کافر سمجھا جائیگا ۔ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنا، اس سے شعار اسلام ظاہر ہونا یا عبادتیں کرنا اسکے لئے فائدہ بخش وسود مند نہیں ۔مسلمانوں کو ایسی کتابیں پڑھنے یا سننے سے پرہیز کرنا چاہئے ؛جس سے شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ سے ہدایت طلب کرنا چاہئے، چنانچہ اسی تناظر میں شیخ الاسلام بانی جامعہ نے ابن تیمیہ کی "الصارم المسلول "کی عبارتیں نقل فرماکر اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا:

’’ماحصل ان روایات کا یہ ہے کہ حق تعالیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والا واجب القتل ہے !ـاگرچہ تنقیص شان کنایۃً ہو، اگر کوئی کہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کا زہدقصداً نہ تھا، "اگر عمدہ چیزیں ملتیں تو آپ کھاتے " ایسے شخص کا بھی قتل واجب ہے۔

ان روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ ہر چند کوئی اسلام ظاہر کرے، مگر جب قرائن مذکور اسمیں پائے جائیں تو وہ کافر سمجھا جائیگا ۔اور اس کا یہ کہنا کہ میں مسلمان ہوں یا شعار اسلام اس سے ظاہر ہوں؛ کچھ مفید نہ ہوگا، یہ صرف ایک آیت کے انکار کا نتیجہ تھا کہ حق تعالی فرماتا ہے وتعزروه وتوقروه  یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم وتوقیر کرو!۔

اب خیال کیا جائے کہ جس کسی کو خدائے تعالی کی قدرت میں کلام ہو کہ وہ عادت کے سوا کچھ نہیں کرسکتا، اس قاعدہ سے کتنے آیات قرآنی کا انکار ہوا جاتا ہے ۔کل معجزات انبیاء سابق کا ، حشر ونشر کا ، جنت و دوزخ کا ،جن وملائک وغیرہ جن کا وجود قرآن شریف سے ثابت ہے ۔جب قرآن کا یہ حال ہو تو حدیث کو کون پوچھے اور جب خدا و ررسول پر تہذیبی پیرایہ میں جھوٹ کا الزام لگایا جائے تو صحابہ اور علماء امت وغیرھم کس قطار وشمار میں؟۔ پھر باوجود ان تمام انکاروں کے معلوم نہیں کہ اسلام کس چیز کا نام رکھا جاتا ہے- هدانا الله واياهم سواء السبيل ۔  (مقاصد الاسلام ‘ ج 1‘ ص 139)

ایمان کی حفاظت شیخ الاسلام کی نصیحت

        حضرت شیخ الاسلام عامۃ المسلمین کوایمان کی حفاظت وصیانت اور عقائد کے تحفظ سے متعلق نصیحت فرماتے ہیں:

 ’’اس زمانے میں مسلمانوں کو اسقدر ضرورت ہے کہ نہ ایسی تفسیریں دیکھیں نہ اس قسم کی تفسیریں سنیں جس سے شک پیدا ہو ،بلکہ دعا کریں کے خدائے تعالی ہم کو اور ان کو ہدایت کرے۔ اور وہ ایمان واسلام عطا فرمائے جو باعث نجات اخروی ہے۔ ‘‘ (مقاصد الاسلام ‘ ج 1 ‘ص137  تا140 )

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ذو معنی لفظ کا استعمال نیک نیتی سے بھی درست نہیں

آیت کریمہ: لاتقولوا راعنا وقولوا انظرنا  ترجمہ : اے وہ لوگو جو ایمان لائے مت کہو"راعنا" اور کہو"انظرنا" کی تفسیر کے ضمن میں اسکے نکات پر بحث کرتے ہوئے شیخ الاسلام رقمطرازہیں:

’’ حاصل یہ ھیکہ ہر چند صحابہ اس لفظ کو نیک نیتی سے تعظیم کے محل میں استعمال کیا کرتے تھے مگر چونکہ دوسری زبان میں گالی تھی، حق تعالی نے اس کے استعمال سے منع فرمادیا۔ اب یہاں ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ جس لفظ میں کنایۃًبھی توہین مراد نہ تھی بلکہ صرف دوسری زبان کے لحاظ سے استعمال اس کا ناجائز ٹہرا تو وہ الفاظ ناشائستہ جس میں صراحۃ کسر شان ہو ،کیونکر جائز ہونگے ؟اگر کوئی کہے کہ مقصود ممانعت سے یہ تھا کہ یہود اس لفظ کو استعمال نہ کریں !تو ہم کہیں گے کہ یہ بھی ہوسکتا ہے ۔ مگر اسمیں شک نہیں کہ نہی (ممانعت) صراحۃً خاص مومنین کو ہوئی جن کے نزدیک یہ لفظ محل تعظیم میں مستعمل تھا، اس میں نہ یہود کا ذکر ہے، نہ انکے لغت کا ،اگر صرف یہی مقصود ہوتا تو مثل اور انکی شرارتوں کے اس کا ذکر بھی یہیں ہوجاتا۔

 صرف مومنین کو مخاطب کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے الفاظ نیک نیتی سے بھی استعمال کرنا درست نہیں! پھر سزا   اسکی یہ ٹھیرائی گئی کہ جو شخص یہ لفظ کہے خواہ کافر ہو یا مسلمان ‘اُسکی گردن مار دی جائے!بالفرض اگر کوئی مسلمان بھی یہ لفظ کہتا تو اس وجہ سے کہ وہ حکم عام تھا؛ بیشک مارا جاتا۔ اور کوئی یہ نہ پوچھتا کہ تم نے اس سے کیا مراد لی تھی"۔ (انوار احمد ی ص222)

مذکورہ آیت کریمہ پر نکات بیان کرنے کے بعد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں صراحۃً یا کنایۃً کی جارہی گستاخیوں اور بے ادبیوں سے متعلق فرماتے ہیں ، حضرت شیخ الاسلام کی انتہائی درمندانہ اور بصیرت افروز اورپُراثر تحریرملاحظہ ہو:       

اب غور کرنا چاہئے کہ جو الفاظ خاص توہین کے محل میں مستعمل ہوتے ہیں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت استعمال کرنا خواہ صراحۃً ہو یا کنایۃ‘ کس درجہ قبیح ہوگا  اگر صحابہ کے روبرو جن کے نزدیک "راعنا "کہنے والا مستوجب قتل تھا‘ کوئی اس قسم کے الفاظ کہتا تو اُسکے قتل میں کچھ تامل ہوتا یا یہ تاویلاتِ باردہ مفید ہوسکتیں؛ ہرگز نہیں!۔ مگر اب کیا ہوسکتا ہے؟ سوائے اس کے کہ اس زمانہ کو یا د کر کے اپنی بے بسی پر رویا کریں،اب وہ پُرانے خیالات والے پختہ کارکہاں ؟جنکی حمیت نے اسلام کے جھنڈے مشرق ومغرب میں نصب کردےئے تھے، ان خیالات کے جھلملاتے ہوئے چراغ کو آخری زمانے کی ہوا دیکھ نہ سکی۔ غرض میدان خالی پاکر جس کاجی چاہتا ہے، کمالِ جرأت کے ساتھ کہدیتا ہے۔ پھر اس دلیری کو دیکھئے کہ جو گستاخیاں اور بے ادبیاں جو قابل سزا تھیں، انہیں پر ایمان کی بناء قائم کی جارہی ہے، جب ایمان یہ ہوتو بے ایمانی کا مضمون سمجھنے میں البتہ غور و تامل درکار ہے!۔ (انوار احمد ی ص222 تا224)۔

عینِ عبادت نماز میں حکمِ صلوۃ وسلام

        نماز جوکہ عین عبادت ہے، اس کے ہرقعدہ میں تشہدپڑھنا واجب ہے ، جس میں اہل اسلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں سلام پیش کرتے ہیں ، اس موقع پر شبہ پیدا کیا جاتا ہے کہ آیاحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہوکر سلام کرنا چائیے یا نہیں ؟ کیا نماز میں بارگاہ نبوی کی طرف توجہ کرنے سے عبادت میں شرک ہوگا؟

        چنانچہ حضرت شیخ الاسلام نے صلوۃ وسلام کے جواز اور آداب پر کتاب وسنت کے دلائل سے سیر حاصل بحث فرمانے کے بعداس شبہ کو دورکرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے:

"ہر مسلمان کو چاہئے کہ نماز میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیطرف متوجہ ہو کرسلام عرض کرے اور شک نہ کرے کہ اس میں"شرک فی العبادۃ "ہوگا، کیونکہ جب شارع کی طرف سے اسکا امر ہوگیا تو اب جتنے خیالات اسکے خلاف میں ہو،وہ سب بے ہودہ اور فاسدسمجھے جائیں گے اور اس میں تعلل ایسا ہوگا جیسے ابلیس نے آدم علیہ السلام کے سجدہ میں تعلل کیا تھا۔

اب یہ بات معلوم کرنا چاہئے کہ جب اس سلام کا یہ رتبہ ہو کہ ایک حصہ عبادت محضہ یعنے نماز کا اسکے لئے خاص کیا گیا تو دوسرے اوقات میں ہم لوگوں کو کسقدر اہتمام و ادب چاہئے ہر چند عوام الناس اس قسم کے امور سے مرفوع القلم ہیں ،کیونکہ انکو تو اسی قدر کافی ہے کہ جتنا شارع نے ضروری بتایا اتنا کردیا، مگر اہل عقل وتمیز کو چاہئے کہ ایسے امور میں غور وفکر کریں اور ادب سیکھیں! العاقل تکفیہ الاشارۃ-

الغرض جب کسی وقت خاص میں سلام عرض کرے تو چاہئے کہ کمال ادب کے ساتھ کھڑا ہو اور دست بستہ ہو کر السلام عليک يا سيدنا رسول الله السلام عليک يا سيدنا سيد الاولين والاخرين وغیرہ صیغے جن میں حضرت کی عظمت معلوم ہو، عرض کرے!۔ اب یہاں شاید کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ قیام میں تشبیہ بالعبادة ہے اور وہ جائز نہیں -توجواب اسکا یہ ہے کہ جب عین عبادت میں یہ سلام جائز ہوا تو شبیہ بالعبادة میں کیوں نہ ہو۔ اگر کہا جائے کہ قوموا للہ قانتین سے معلوم ہوتا ہے کہ قیام خاص اللہ کے واسطے چاہئے -تو ہم کہینگے کہ بیشک نماز کا قیام خاص اللہ تعالیٰ کے واسطے ہے اور اگر مطلق قیام کی اس میں تخصیص ہوتی تو لفظ ’’للّٰہ‘‘کی ضرورت نہ تھی ۔خلاصہ یہ کہ اس آیت شریفہ سے نماز کا قیام فرض ہوا نہ یہ کہ انحصار قیام کا اسمیں ثابت ہو،ا گر یہی بات ہوتی تو کوئی قیام درست ہی نہ ہوتا۔ حالانکہ جمہور محدثین وفقہا کے نزدیک علاوہ اور مقاموں کے کسی کے اکرام کے واسطے کھڑا رہنا بھی درست ہے۔ (انوار احمدی ص۱۷۵‘۱۷۶)۔

نام مبارک سن کر انگوٹھے چومنا

        اذان میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کا نام مبارک سن کر انگوٹھے چومنے کے مسنون ومستحب ہونے سے متعلق حضرت شیخ الاسلام نے احادیث شریفہ ،آثار صحابہ اور اقوال سلف سے دلائل پیش کرنے کے بعد ناصحانہ انداز میں فرماتے ہیں :

"اس پر بھی اگر ہم نام مبارک کو دیکھ کر اور سن کر کبھی بوسہ نہ لیں تو اتنا ضرور چاہئے کہ حق تعالی سے اسکی توفیق طلب کریں۔اگر فضل الہی شامل حال ہو اور ہم لوگ حضرت کا نام مبارک سن کر تقبیل کیا کریں تو انشاء اللہ تعالی برکات دارین کے مستحق ہوسکتے ہیں ۔"(انوار احمدی ص ۲۸۱، ۲۸۲)۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم دورونزدیک کی سنتے ہیں

        درود و سلام کی ایمان افروز بحث کے ضمن میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سماعت سے متعلق تحریرفرماتے ہیں :

 ’’جب اتنی حدیثوں سے یہ بات ثابت ہے کہ بعض فرشتوں کے پاس قرب وبعد یکساں ہے اور آن واحد میں ہر شخص کی آواز برابر سنتے ہیں ۔ تو اب اہل ایمان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احاطہ علمی میں شک کا کیا موقع ہوگا؟  اس لئے مبنی شک وانکار کا یہی تھا کہ اسمیں شرک فی الصفت لازم آتا ہے پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خدام میں یہ صفت موجودہے تو چاہئے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں بطریق اولیٰ اور بوجہ اتم ہو۔"(انواراحمدی ص۷۵)۔

حاجت روائی بطفیلِ اولیاء اللہ

        اولیاء کرام وبزرگان دین سے مدد طلب کرنے او رمرادیں مانگنے پر اعتراض کیا جاتا ہے ؛اسکوشرک سے تعبیرکیا جاتا ہے اوراس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے رقمطراز ہیں:

’’ شاید یہاں یہ اعتراض کیا جائیگا کہ اولیاء اللہ کی زیارت کو جاکر ان سے مرادیں مانگتے ہیں، یہ شرک ہے ۔اسکا جواب یہ ہے کہ اپنی حاجت روائیوں کے واسطے شفاعت طلب کرنا تو کسی طرح شرک نہیں ہوسکتا۔

  جب یہ ثابت ہے کہ خدائے تعالی انکو دارین کے باتیں سناتا ہے، جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے تو دور رہنے والوں کے دل کی باتیں بھی انکو سنادے تو کیا تعجب ! ۔

 ...جب خدائے تعالی کو یہی منظور ہے کہ انکو نیک نام کرے ۔جیسا کہ ابھی معلوم ہوا تو جن امور میں لوگ ان سے شفاعت چاہتے ہیں ،خود انکی حاجت روائیاں کردے تو کیا بعید ہے ؟یہی وجہ ہے کہ باوجود یہ کہ صدہا سال گذر گئے ہیں، مگر اولیاء اللہ کی قبروں پر میلے لگے رہتے ہیں، اگر لوگوں کی مرادیں انکے طفیل میں حاصل نہ ہوتیں تو کس کو غرض تھی کہ مشقتیں اٹھا کر انکی زیارتوں کو جائے اور ہزاروں روپیہ ایصال ثواب کے لئے خرچ کرے۔‘‘ (مقاصد الاسلام‘ ج۴ ‘ص۸۴)

نمازمیں تصورِحبیب پاک صلی اللہ علی وسلم سے متعلق توہین وبے ادبی کا علمی محاسبہ

        آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے بعد خانہ کعبہ میں تشریف لے گئے اور ملاحظہ فرمائے کہ انہوں نے انبیاء علیہم السلام کی تصویریں بنارکھی ہیں تو آپ نے زعفران کے پانی سے ان کو مٹادیا۔ اس حدیث شریف سے حضرت شیخ الاسلام استدلال فرماتے ہیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تصور جو ذہن وخیال میں آتا ہے، اسکو چونکہ آپ کی ذات اقدس سے نسبت ہے ،اس لئے اسکی تعظیم وتکریم ضروری ہے ۔چنانچہ حضرت شیخ الاسلام رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :

’’دیکھئے وہ تصویریں بتوں کی قطار وشمار میں تھیں اور انکی رعایت نہ شرعًا ضرور تھی نہ عقلاً ،مگر چونکہ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ انکو ایک خاص قسم کی نسبت تھی اور یہ کہا جاتا تھا کہ یہ تصویر فلاں نبی کی ہے ،اسی نسبت کی وجہ سے حضرت نے انکی قدر فرمائی کہ اگر مٹایا بھی تو زعفران کے پانی سے اور کسی قسم کی توہین گوارہ نہیں فرمائی ۔اگر اس زمانہ کے مشدد حضرات اس قسم کے تصاویر پاویں تو مقتضائے طبع ان کا گواہی دیتا ہے کہ اس کام کے لئے نجاست میں اپنے ہاتھ آلودہ کرنے پر آمادہ ہوجائیں اور اس کو کمال توحید پر دلیل قرار دیں ،چنانچہ اس پر قرینہ یہ ہے کہ بعضوں نے صراحۃً لکھا ہیکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تصور نماز میں کرنا اس سے بد ترکہ ( ۔۔۔۔۔   ) کا تصور کیا جائے۔

اب غور کیجئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت مبارکہ جو خیال میں آئے گی، اس کو حضرت کی صورت کے ساتھ خاص قسم کی نسبت ہوگی ،اسکو بدترین حیوانات سے بدتر کہاگیا ،کیا کسی ایماندار سے یہ ہوسکتا ہے؟ گو ایسے خیال والے لوگ اپنے ذہن میں اس کی کچھ توجیھات ضرور کرتے ہونگے مگر وہ سب خارج از مبحث ہونگی۔ ہمارا کلام اس میں ہے کہ جس صورت کو نسبت حضرت کی صورت مبارک سے ہوگی اسکی توہین ضرور ہوئی۔

صحابہ کے آداب پیش نظر رکھ کر یہ صاحب لوگ خود ہی خیال کرلیں کہ اگر اس قسم کی بات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مجمع میں کہی جاتی تو کہنے والے کی کیا گت بنائی جاتی۔ (مقاصد الاسلام ‘ج۱۰‘ ص۱۶۳، ۱۶۴)۔

حضوراکرم اہمیشہ مشاہدہٴ  جمال الٰہی میں مستغرق

        مسئلہ ندا اور غیراللہ سے مددطلب کرنے پر بحث فرماتے ہوئے آپ نے "التحیات "کے اسرار و رموز کو واشگاف فرمایا۔ چنانچہ حضرت شیخ الاسلام رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’یہ ندا اس غرض سے ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ مشاہدہٴ جمال الٰہی میں مستغرق رہتے ہیں، اس موقع میں کس کی مجال تھی کہ اپنی طرف توجہ دلاسکے ،مگر کمال بندہ نوازی سے یہ اجازت ہوگئی کہ جب چاہو ہمیں پکارلو تو ہم متوجہ ہوجائینگے، خصوصا اس وقت کہ بارگاہ الوہیت میں تمہیں حضوری نصیب ہو، متوجہ کر کے ضرور سلام عرض کیا کرو۔ یہ ہے سر التحیات میں سلام عرض کرنے کا ۔(مقاصد الاسلام ‘ج ۱۰‘ص۱۶۳)۔

سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ وعنایت آن واحد میں سب کی طرف

        حضرت شیخ الاسلام نے اس پر عقل کی رو سے ہونے والے اعتراض کا ایمان افروز جواب سپرد قرطاس فرمایاہے:

’’اب رہی یہ بات کہ حکیمانہ مذاق میں یہ گوارا نہیں کہ وقت واحد میں تمام مسلمانوں کی طرف حضرت کی توجہ ہوسکے، سو یہ بحث دوسری ہے ،اس قسم کے خیالات سے حکیموں نے خدائے تعالی کو بھی معطل الوجود قرار دیا ہے اور صاف کہدیا کہ خدائے تعالی کو۔ معاذ اللہ۔ جزئیات کا علم ہی نہیں، مگر اہل ایمان ان خیالات کو محض وساوس شیطانی سمجھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ خدائے تعالی ہرآن میں عالم کے ذرہ ذرہ کی طرف متوجہ اور حاضر و ناظر ہے اور قادر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی قوت عطا فرمائے کہ جب کوئی امتی آپ کو پکارے ؛آپ اس کی طرف متوجہ ہوجائیں اور سب کی طرف آن واحد میں متوجہ ہو سکیں۔ اگر یہ محال ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے خدائے تعالی کبھی نہ کہلواتا کہ نماز میں کل مسلمان السلام عليک ايها النبی کہا کریں۔ کیونکہ حق تعالی جانتا تھا کہ حضرت کی امت کے کڑوڑہا آدمی شرقًا وغرباًہر زمانے میں السلام عليک ايها النبی کہہ کر توجہ دلا یا کریں گے ۔

        التحيات میں جو ندا کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام عرض کیا جاتا ہے ،اس سے یہ غرض معلوم ہوتی ہے کہ گویا ہم یہ عرض کر رہے ہیں کہ حسب الارشاد ہم بارگاہ الوہیت میں حاضر ہوگئے ہی،ں مگرنہ ہم میں صلاحیت حضوری ہے ،نہ ہماری عبادت شایان بارگاہ کبریائی ہے۔ آپ کی مدد درکار ہے کہ یہ عبادت اور عرض ومعروض درجہ اجابت تک پہنچ جائے ،اسی طرح صحابہ اور تابعین مصیبت کے وقت آپ کو پکار کر مدد مانگتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آپ کو اس عالم میں تصرف دیا گیا ہے۔" (مقاصد الاسلام حصہ ‘ج ۱۰‘ ص۹۸تا ۹۹)

 

عبادت اور تعظیم میں فرق

        سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا تھا :یا رسول اللہ! میں نے جب سے آپ کے دست اقدس پر بیعت کی، اس وقت سے کبھی اپنے داہنے ہاتھ سے شرمگاہ کو نہیں چھوا۔ اس پر حضرت شیخ الاسلامؒ نے تعلیق وتبصرہ کرتے ہوئے عبادت وطاعت اور تعظیم وادب میں غلو کے مابین فرق کو واضح کیا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

وجہ اسکی یہی ہوگی کہ عبادت الٰہی میں اسقدر غلو کرنا ضرورت سے زیادہ ہے، جیسا ارشاد ہوا ؛  اتنا کرلیناکافی ہے ،بخلاف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کے کہ وہ باعث ترقی مدارج ہے، کیونکہ جس قدر حضرت کی عظمت زیادہ ہوگی اسی قدر ادب زیادہ ہوگا۔ چونکہ یہ التزام ادب باعث ترقی مدارج تھا، اس لئے حضرت نے اس سے منع نہیں فرمایا ۔اور اسکی خاص وجہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  محبوب رب العالمین ہیں، جس قدر محبوب کی عظمت زیادہ ہو اور اس سے زیادہ ادب کیا جائے ؛باعث خوشنودی محب ہوتی ہے۔ اس سے ثابت ہے کہ مشائخین عظام اس قسم کے آداب میں غلو اور التزام کرتے ہیں ،وہ شارع علیہ الصلوۃ والسلام کی مرضی کے خلاف نہیں ،بلکہ باعث ترقی مدارج ہے۔ اب ان حضرات کو ان امور کے لحاظ سے بدعتی کہنا بے موقع ہوگا۔ خدائے تعالی ہم لوگوں کو دین میں بصیرت عطا فرمائے !جس سے ہم مستحسن اور غیر مستحسن امور میں فرق کرسکیں ۔ ‘‘ (مقاصد الاسلام ‘ ج ۱۰ ‘ ص۱۴۶، ۱۴۷)۔

اچھے کاموں کی ایجاداچھی ہے

        عید میلاد مبارک ،سلام وقیام ، اطعام طعام کے جواز ومشروعیت پر تفصیلی بحث فرمانے کے بعد اختتامیہ کے طور پر اس کو بدعت وناجائز کہنے والے افراد کو دعوت فکر دیتے ہوئے رقم طراز ہیں:

’’اور قطع نظر اس کے اس قسم کے بدعتوں کی ایجاد کی شرعا اجازت ہے جیسا کہ حدیث صحیح  من سن سنّة حسنة (الحدیث)سے ظاہر ہے ۔جس کا مطلب یہ ہیکہ جو شخص کو ئی اچھا کام ایجاد کرے ؛ اس کو ثواب اس کا اور اس پر عمل کرنے والوں کا ملے گا۔ اور جو برا کام ایجاد کرے ؛اس کا اور اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ اس پر ہوگا۔ دیکھئے !قرون ثلثہ کی یا اور کسی بات کی تخصیص نہیں ؛بلکہ عام ارشاد ہے کہ جو کوئی اچھا طریقہ ایجاد کرے؛ اگر اسکی تخصیص قرون ثلثہ کے ساتھ کردی جائے تو بدعتیوں کو بڑی مددمل جائیگی، وہ یہ کہیں گے کہ جسطرح اچھے کاموں کی وہی ایجاد باعث ثواب ہے جو قرون ثلثہ میں ہو ،اسی طرح برے کاموں کی بھی وہی ایجاد باعث عذاب ہوگی جو قرون ثلثہ میں ہو ۔اسلئے بدلیل مقابلہ دونوں شقوں میں تعمیم یا تخصیص ایک ہی قسم کی معتبر ہوگی اور اس صورت میں مطلبِ حدیث یہ ہوگا کہ جتنے برے کام قرون ثلثہ کے بعد ایجاد کئے جائیں ؛وہ قابل مواخذہ نہیں! حالانکہ یہ غلط ہے ۔اس سے ثابت ہے کہ برے کاموں کی ایجاد جسطرح ہر زمانہ میں مذموم ہے اچھے کاموں کی ایجاد بھی ہر زمانہ میں محمود ہے۔

 الحاصل اگر مولود شریف بدعت بھی ہو تو بدعت حسنہ ہے ؛جسکی اجازت شریعت میں وارد ہے۔‘‘ (مقاصد الاسلام ‘ج ا ‘ص۶۷،۶۸)

وہ تصورِ توحید بدعت ہے جو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہ تھا

        اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل انماانا بشرمثلکم آپ فرمادیجئے!  یقینا میں تم جیسا ایک بشر ہوں ۔ اس آیت کریمہ سے غلط استدلال کرتے ہوئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے برابری اور ہمسری کا دعویٰ کیا جاتا ہے ۔۔نعوذ باللّٰہ من ذالک ۔۔حضرت شیخ الاسلام نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت صحابہ کرام علیہم الرضوان  ۔۔جو آسمان ہدایت کے ستارے ہیں ۔۔ کے عقیدہ کا ذکر فرماتے ہوئے ہمسری کے اس دعویٰ کی حقیقت وحیثیت کو بے نقاب کیا :

’’اب یہاں یہ امر قابل توجہ ہے کہ صحابہ جنکی فضیلت تمام امت مرحومہ پرنصوص قطعیہ سے ثابت ہے؛ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیشاب وغیرہ فضلات کو جان سے افضل بلکہ جان کے تقدس کا باعث سمجھتے تھے۔ تو کیا ممکن ہے کہ ۔۔معاذا للہ۔۔ وہ اپنے آپ کو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمسر سمجھتے ہوں گے ،آخر وہ حضرات بھی قل انما انا بشر مثلکم  پڑھتے تھے۔بلکہ سچ پوچھئے تو تازہ ایمان انہی حضرات کا تھا اور اسباب نزول پیش نظر ہونیکی وجہ سے ہر آیت کا اصلی مضمون وہ سمجھتے تھے، باوجود اسکے کسی صحابی سے کوئی ایسی بات مروی نہیں ،جو اس آخری زمانے کے بعض امتی کہتے ہیں اور اس توہین کو توحید کا تکملہ قرار دے کر تمام امت میں اپنے آپ کو ممتاز سمجھتے ہیں۔ ادنیٰ تامل سے یہ بات معلوم ہوسکتی ہے کہ اگر توحید اسی کا نام ہے توصحابہ سے اس قسم کے اقوال اور حرکات ضرور مروی ہوتے ،کیونکہ ہمارے دین کا مدار تعلیم نبوی پر ہے اور بلا واسطہ تعلیم یافتہ جماعت پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو ان حضرات کے افعال واقوال حرکات، سکنات اس قسم کے پیش نظر ہوجاتے ہیں کہ اس آخری زمانے کے اہل توحید سے ان کو کوئی مناسبت نہیں ،بلکہ بالکل تضاد اور مخالفت ہے ۔تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس قسم کی توحید بدعت ہے؛  جوآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے زمانے میں نہ تھی ۔

اہل ایمان کو صحابہ کے اعتقاد سے سبق حاصل کرناچاہئے کہ اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو کہاں آپکے بول وبراز کے ساتھ بھی ہمسری کا دعوی نہ کریں۔

اور انصاف سے دیکھا جائے تو اس بول وبراز سے ہمسری کا دعوی ہو بھی نہیں سکتا؛ کیونکہ" شفاء" میں قاضی عیاض(رحمۃ اللہ علیہ) نے یہ روایت نقل کی ہے کہ جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حاجت بشری سے فارغ ہوتے تو بول وبراز کو زمین فوراً نگل جاتی اور وہاں خوشبو مہکتی رہتی۔

اب یہ کہئے کہ کون دعوی کرسکتا ہے کہ اس کے جسم سے خوشبو مہکتی ہے۔ اس کا تجربہ آسان ہیکہ جوصاحب دعوی کریں ان کو گرمی میں گرم لباس پہنا کر کسی گرم مقام میں بٹھادیجئے اور کوئی اجنبی آدمی کو انکے پاس لا کر چھوڑدیجئے اگر وہ  لاحول پڑھتا ہوا وہاں سے نہ بھاگ جائے تو ہم سے پوچھئے ! اس سے ظاہر ہوجائیگا کہ وہ بو انہی کے جسم کی تھی ، ایسے گندہ جسم والوں کو کیا اس معطر بول وبراز کی ہمسری کا دعوی قابل قبول ہوسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں!۔ یہ حضرت کے جسمانی فضلات کا حال ہے کہ وہ بدر جہا اوروں کے جسم سے افضل تھے۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک بلکہ لباس پر مکھی نہیں بیٹھتی تھی ۔(مقاصد الاسلام ‘ج ۹ ‘ص۲۶۴، ۲۶۶)

 

ہو تصرف کیوں نہ پھر اُس ہاتھ کا اکوان میں

جس کو خالق نے یداللہ کہہ دیاقرآن میں

        اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو مختار کامل بنایا ، آپ کو دونوں جہاں میں تصرف کرنے کا حق واختیار عطافرمایا ، اسی وجہ سے صحابہ کرام علیہم الرضوان حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ عالیجاہ میں دنیوی واخروی ہر ضرورت لے کر حاضر ہوتے او ر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی حاجت روائی فرماتے ۔چنانچہ حضرت شیخ الاسلام تحریر فرماتے ہیں :

"خصائص کبریٰ " میں ہے کہ جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں گھوڑے پر سوار ہوتا تو گرجاتا تھا حضرت سے یہ حال عرض کیا ، آپ نے میرے سینہ پر اپنا دست مبارک مار کرفرمایا : اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا۔وہ کہتے ہیں کہ اسکے بعد میں گھوڑے پر سے کبھی نہ گرا۔انتہی۔ اگر سلاطین کے روبرو کوئی سپاہی اپنے اس قسم کی حالت کو ظاہر کرے تو مورد عتاب شاہی ہو جائے، مگر ۔۔سبحان اللہ ۔۔سردار عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو کس صفائی سے جریر رضی اللہ عنہ نے اپنا یہ عیب بیان کیا اور کس عمدگی سے حضرت نے اسکی اصلاح فرمائی!۔

        اصل یہ ہے کہ صحابہ جانتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات پر قدرت حاصل ہے کہ جو چاہیں کریں، اس وجہ سے وہ ایسے امراض وحوائج پیش کرتے تھے کہ سوائے خدائے تعالی کے کوئی دوسرا اسکا علاج وحاجت روائی نہ کرسکے اور حضرت بھی انکے خیال کے موافق ان کی حاجت روائیاں فرماتے تاکہ انکا اعتقاد راسخ اور ایمان مستحکم ہوجائے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو حضرت فرمادیتے کہ گھوڑے پر سے گرجانا تمہارا طبعی امر ہے ،مجھے اس سے کیا تعلق؟  بخلاف اسکے حضرت نے دست مبارک انکے سینہ پر مارکر یہ ثابت فرمادیا کہ ہمارے دست قدرت میں حق تعالی نے یہ بات رکھی ہے کہ ہمیشہ کے لئے تمہاری یہ شکایت کو دفع کریں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ وہ ہمیشہ معرکوں میں گھوڑوں پر سوار ہوتے اور شہسواری کی داد دیتے۔﴿ مقاصدالاسلام ‘ ج9، ص8 ،9﴾۔

افضل الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خیرالبشرہیں

        حضرت شیخ الاسلام اہل سنت وجماعت کے عقیدہٴ صحیحہ اور فرقہ وہابیہ کے باطل عقیدہ کے درمیان بصراحت ووضاحت فرق بیان کرتے ہوئے رقمطرازہیں:

’’ وہابیہ کہتے ہیں کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم بھی ہم جیسے ایک معمولی آدمی تھے۔ اہل سنت وجماعت کہتے ہیں کہ بیشک آدمی ہیں مگر تمام آدمیوں سے بلکہ تمام عالم سے افضل ،ہیں خدائے تعالی نے آپکو رحمۃ للعالمین بنایا اور علم اولین وآخرین آپکو عطا ہوا، اسکے سوا اور بہت ساری خصوصیتیں ہیں؛ جن کو حقّانی علماء خوب جانتے ہیں۔‘‘(مقاصد الاسلام ‘ج6‘ص 252)۔

معجزات کے بارے میں "سرسید"کے باطل نظریات کا رد

        حضرت شیخ الاسلام ایک نابغۂ روزگار شخصیت کی حیثیت سے اپنے زمانے کے فتنہ پروروں سے بخوبی واقف تھے، چنانچہ آپ نے ہر باطل نظریہ کارد بلیغ فرمایا ہے۔اسی طرح آپ نے "سرسید"کے باطل عقائد کا رد بلیغ فرماتے ہوئے ان کی لکھی ہوئی تفسیر کی حیثیت سے متعلق تحریر فرمایا :

’’اب سید صاحب جو اپنے آپ کو اہل اسلام میں شریک فرماتے ہیں! کمال تبرع ہے ؛ جسکا شکریہ ادا کرنا چاہئے ،مگر اسی حد تک کہ مسلمانوں کی مردم شماری کی تعداد انکے اور انکے اتباع کے نفوس سے زیادہ ہو رہی ہے ۔لیکن اسلام کے اندرونی مسائل میں وہ یا انکے ہم خیالی کوئی محققانہ بحث کریں تو اسکے وقعت کسی فیلسوف دھریہ کے قول سے زیادہ نہ ہو،ا س سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ سید صاحب نے قرآن کی جو تفسیر لکھی ہے؛ اس سے انکا مقصود قرآن کو رد کرنا ہے"-  (مقاصد الاسلام‘ج2‘ ص166، 167)

"سرسید "کے انکارمعجزات سے متعلق تفصیلی بحث فرمانے کے بعد اختتام کتاب "مقاصد الاسلام، حصہ دوم" پر رقمطراز ہیں :

’’الغرض معجزات کو ماننے کی صلاحیت عقل میں نہ ہوتی تو عقلاء جاپان ان امور کے سننے پر دین اسلام کو ہر گز قبول نہ کرتے ۔غیرت کا مقام ہے کہ اسلام سے بیگانے تو معجزات کو سن کر ایمان لائیں اور اس زمانہ کے موروثی مسلمان معجزات کا انکار کرکے مسلمانوں سے علیحدہ ہوجائیں ،حق تعالی اس زمانہ کے کل مسلمانوں کو توفیق عطا فرمائے کہ بغیر چوں وچرا کے پورے قرآن وحدیث پر پورے طور پر ایمان لائیں!۔ (مقاصد الاسلام ‘ج2‘ص168،169)۔

 ’’الکلام‘‘ کی تردید اور علمی تحقیق

        حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ "علامہ شبلی نعمانی" کے باطل تاویلات کا علمی رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’اب اگر اسی غلط بحث کا نام تحقیق مذہب ہے تو حکمت قدیمہ وجدیدہ کو پیش کرنے کی کیا ضرورت تھی، صرف یہی فرمادیتے کہ اہل مذہب کچھ ہی کہا کریں، قرآن وحدیث میں کچھ ہی ہوا کرے مگر ہم خدا کو بھی نہ مانیں گے تو یہ جھگڑا نہایت آسانی سے طے ہوجاتا اور دس پانچ ورق سیاہ کرنے کی زحمت بھی نہ ہوتی۔

 اب اہل انصاف غور کرسکتے ہیں کہ مولوی صاحب کے مذہبی تحقیقات کس درجہ پایۂ اعتبار سے ساقط ہیں!  اس سے بڑھکر کیا ہوکہ عبارتوں میں بھی تحریف ثابت ہوگئی۔‘‘(مقاصد الاسلام‘ ج3ص73،74)۔

شبلی نعمانی صاحب کی عقائد پرلکھی گئی کتاب "الکلام"  کا رد بلیغ فرمانے کے بعد شیخ الاسلام نے لکھا ہے:

’’ہم نے اپنا فرض منصبی ادا کردیا ،اس پر بھی اہل اسلام ’’الکلام‘‘ کو اسلامی کتاب سمجھیں تو مختار ہیں!  وما علينا الاالبلاغ۔‘‘ (مقاصد الاسلام‘ ج3، ص88)

ناصحانہ پیام افرادامت کے نام

         حضرت شیخ الاسلام نے بد مذہب افراد اور اہل قرآن جیسے" عبداللہ چکڑالوی، محمد حسین انجینئر" کے باطل نظریات کا رد کرتے ہوئے فرمایا ہے :

’’اب ان میں اور آریہ وغیرہ مخالفین اسلام میں فرق کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جیسے آریہ وغیرہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت مغلظات سناتے ہیں اور ہمارے دین کی توہین کرتے ہیں، یہ بھی وہی کام کررہے ہیں تمام مسلمانوں بلکہ صحابہ تک کو مشرک کہدیا اور در باطن قرآن پر الزام لگایا کہ ابتک قرآن نے جو تعلیم کی ہے؛ جسکے تمام مسلمان قائل ہیں، یہ شرک کی تعلیم تھی۔ اب بھی اگر مسلمان لوگ انکو مسلمان اور اہل قرآن سمجھیں تو انکی عقل کی خوبی ہے۔"(مقاصد الاسلام، ج4،ص86)۔

عقیدہٴ ختم نبوت

        تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النّبیین ہیں، اللہ تعالیٰ نے نبوت ورسالت کا سلسلہ آپ پر ختم فرمایا ، اب کوئی نبی یا رسول آنے والے نہیں ، قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے تو بحیثیت نبی نہیں آئیں گے بلکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی کی حیثیت سے نازل ہونگے اور شریعت محمدیہ پر عمل پیرا رہیں گے ،بعض گوشوں سے عقیدہٴختم نبوت میں شکوک وشبہات پیداکرنے کی ناپاک ومذموم کوشش کی گئی ، اس میں تاویل کرنے کے لئے عقل کو دخل دیتے ہوئے فلسفی بحث کا سہارا لیا گیا جبکہ ختم نبوت کا عقیدہ نص قرآنی متواترالمعنی احادیث مبارکہ وآثارصحابہ و اجماع امت سے ثابت ہے۔ حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ نے "صاحب تحذیر الناس" کی اس فلسفیانہ بحث کا دلائل معقول و منقول کی روشنی میں محاسبہ کرتے ہوئے رد بلیغ فرمایا ، اسی سلسلہ کی ایک بصیرت افروز ،دردمندانہ اورچشم کشا تحریر ملاحظہ ہو :

اب ہم ذرا ان صاحبوں سے پوچھتے ہیں کہ اب وہ خیالات کہاں ہیں، جو "کل بدعة ضلالة" پڑھ پڑھ کے ایک عالم کو دوزخ میں لے جارہے تھے!  کیا اس قسم کی بحث فلسفی بھی کہیں قرآن و حدیث میں وارد ہے یا قرون ثلثہ میں کسی نے کی تھی؟  پھر ایسی بدعت قبیحہ کے مرتکب ہو کر بحسبِ واقع کیا استحقاق پیدا کیا اور اس مسئلہ میں جب تک بحث ہوتی رہے گی، اس کا گناہ کس کی گردن پر؟۔ (انوار احمدی، ص52)۔

اس کے بعد حضرت شیخ االاسلام نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث نقل فرمائی کہ

"آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے دربار اقدس میں تورات کا نسخہ تلاوت کرنے لگے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جلال کا اظہار فرمایا ،اور ارشاد فرمایا : اگر موسیٰ موجود ہوتے تو انہیں بھی میری پیروی کے بغیر کوئی چارہ نہ رہتا ۔‘‘

 حضرت شیخ الاسلام اس حدیث شریف کو نقل کرنے کے بعد عقیدۂ ختم نبوت میں شک پیدا کرنے والی تحریر و تقریر سے متعلق رقم فرماتے ہیں :

" اب ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ جب عمر  رضی اللہ عنہ  کے سے صحابیٔ با اخلاص کی صرف اتنی حرکت اسقدر ناگوار طبع غیور ہوئی تو کسی زید وعمر و کی اس تقریر سے جو خود" خاتمیت " میں شک ڈالتی ہے؛  کیسی اذیت پہنچتی ہوگی، کیا یہ ایذارسانی خالی جائیگی ؟ ہرگز نہیں!  حق تعالی فرماتا ہے: ان الذين يؤذون الله ورسوله لعنهم الله فی الدنيا والاخرة واعدلهم عذابا مهينا (الاحزاب۔57) نسئل اللّٰه تعالیٰ توفيق الادب وهو ولی التوفيق۔ " (انوار احمدی، ص55)

 

Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights reserved