Hindi English
 
 
 

Share |

حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درود وسلام سنتے ہیں

الحاصل جب عموماً اہل قبور قریب سے سنتے ہوں تو چاہئے تھا کہ قبر شریف کے پاس اگر کوئی شخص سلام عرض کرے تو اس کی اطلاع کے واسطے فرشتہ کا توسط نہ ہوتا حالانکہ یہ سلام بھی فرشتہ ہی کے ذریعہ سے پہنچتا ہے چنانچہ تصریحاً فرماتے ہیں ما من عبد یسلم علیَّ عند قبری الا وکل اللہ بھا ملکا یبلغنی رواہ فی الشعب کذا فی مسالک الحنفا۔

ترجمہ:فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو بندہ مجھ پر سلام کرے گامیری قبر کے پاس، تو ایک فرشتہ مقرر ہوگا کہ وہ سلام مجھ کو پہنچا دیا کرے گا۔

اورکنزالعمال میں اسی حدیث کو اس طور سے روایت کیا ہے ۔ مامن عبد یسلم علیَّ عند قبری الاوکل اللہ بہ ملکا یبلغنی و کفی امرآخرتہ و دنیاہ وکنت بہ شھیدا یوم القیامة ہبعن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ۔

ترجمہ: فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو بندہ عرض کرے گا مجھ پر سلام میری قبر کے پاس تو حق تعالیٰ ایک فرشتہ مقرر فرمائے گا جو وہ سلام مجھ کو پہنچا دے گا اور کافی ہوگا اس کے دنیا و آخرت کے کاموں کیلئے اور میں اس کا گواہ بنوں گا قیامت کے دن انتہیٰ۔

اورقول بدیع میں امام سخاوی رحمة اللہ علیہ نے لکھا ہے :و فی المسعونیات بسند ضعیف عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ایضاً مرفوعاً من صلی علیَّ عند قبری و کل بھا ملک یبلغنی وکفی امردنیاہ و آخرتہ و کنت لہ یوم القیامة شھیداً و شفیعاً۔

ترجمہ :فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص میری قبر کے پاس مجھ پر درود پڑھے گا تو ایک فرشتہ مجھے وہ پہنچائے گا جو اس کام کیلئے مقرر ہوگا اور کفالت کرے گا وہ اس کے دنیا و آخرت کے کاموں کو۔ اور میں قیامت کے دن اس کا گواہ ہوں گا اور شفاعت کروں گا انتہیٰ۔

اورروایت ہے کہ ایک شخص قبر شریف کے پاس آکر سلام عرض کیا کرتا تھا حسن بن حسین رضی اللہ عنہ نے اس کو فرمایا کہ تو اور وہ شخص جو اندلس میں ہو برابر ہیں یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو علم دونوں کا برابر ہے۔

چنانچہ اس قول کو بدیع میں نقل کیا ہے؛ قدروی ان رجلا ینتاب قبرالنبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال الحسن بن حسین یا ھٰذا اما انت ورجل بالاندلس سواء انتہیٰ۔

فائدہ اس سے ظاہر ہے کہ جو لوگ مقامات دور و دراز سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام عرض کیا کرتے ہیں وہ بھی حضوری سے محروم نہیں ہیں۔ اب رہی وہ حدیث شریف جو فرماتے ہیں کہ اگر کوئی میری قبر کے پاس مجھ پر سلام کر ے تو میں سنتا ہوں اور دور سے ملائک پہنچاتے ہیں تو بعد ان دلائل کے جواب اس کا آسان ہے اس لئے کہ ہمیں نفی سماع کی تصریح نہیں ہے۔ ایک طریقہ عمل کا فرمادیا جس میں سامعین کو استبعاد بھی نہ ہو اور مقصود بھی حاصل ہو جائے۔

چونکہ عادت شریف تھی کہ حتی الامکان بحسب عقول و فہم سامعین کے کلام فرمایا کرتے تھے اور پہلے سے فرشتوں کی عظمت سامعین کے اذہان میں جمعی ہوئی تھی اور ان کی وسعت علم کا کسی کو استبعاد نہ تھا اس لئے برعایت بعض سامعین ارشاد فرمایا کہ جو درود دورپڑھا جائے فرشتہ پہنچادیا کرتا ہے۔

از: انوار احمدی ، مولفہ حضرت شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی ، بانی جامعہ نظامیہ رحمۃ اللہ علیہ

 

  SI: 57   
حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درود وسلام سنتے ہیں  

  SI: 65   
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے والا شقاوت سے نکل جاتاہے  

  SI: 41   
اذان کی برکت  

  SI: 47   
آشوب چشم کا فوراً دفع ہونا  

  SI: 68   
قرآن و حدیث سے مسائل کا استنباط کرنا ہرکسی کا کام نہیں  

  SI: 56   
تمام انبیاء و ملائک پر خصوصیت و عظمت آشکار  

  SI: 67   
سرکاردوعالم کی توجہ وعنایت آن واحد میں سب کی طرف  

  SI: 13   
میلاد النبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی شرعی حیثیت ۔ قسط اول  

  SI: 60   
درود پڑھنے والے پر اللہ کی رحمتیں  

  SI: 64   
عینِ عبادت نماز میں حکمِ صلوۃ وسلام  

   
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights reserved