Hindi English
 
 
 

Share |

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے والا شقاوت سے نکل جاتاہے

تفسیر روح البیان میں لکھا ہے کہ سلطان محمود غازی رحمۃ اللہ علیہ شیخ ابوالحسن خرقانی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا کہ بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کے حق میں آپ کیا کہتے ہیں ؟کہا شیخ نے :وہ شخص ہیں کہ جس نے انہیں دیکھا ہدایت پائی اور سعادت کو پہنچا۔

سلطان نے کہا :وہ کیا بات ہے !ابو جہل نے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا۔ شیخ نے کہا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا بلکہ محمد بن عبداللہ یتیم ابی طالب کو دیکھا تھا ، اگر حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو بیشک شقاوت سے نکل جاتا۔ دلیل اس کی قرآن شریف میں موجود ہے۔ وترٰھم ینظرون الیک وھم لایبصرون پس معلوم ہوا کہ یوں دیکھ لینا مفید نہیں۔

جس پر آثار مرتب ہوتے ہیں وہ دیکھتا ہی کچھ اور ہے۔ شعر

برائے دیدن روئے توچشم دیگرم باشد۔

کہ ایں چشمے کہ من دارم جمالت رانمی شاید۔

غرض کہ جنہوں نے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے اور خیال ہمسری جمایا ویسوں کے حسب حال یہ شعر ہے۔

در خلاسنگے چمین آلودہ پیش حاجئے۔ گفت دانی کیستمہمسنگ کعبہ بودہ ام۔

ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے جو اعتبار حقائق کا کیا ہے یہی مذہب اہل تحقیق کا بھی ہے ، چنانچہ مولانا نے جامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں شعر۔

ہر مرتبہ از وجود حکمے دارد

گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی

تقریر دور جاپڑی۔کلام اس میں تھا کہ عام جن و انس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو نہیں مانتے ، ادنیٰ تامل سے ظاہر ہوسکتا ہے کہ اس سے نفس عظمت میں کوئی نقصان نہیں آتا؛ کیونکہ جملہ عالم میں یہ عظمت جب مسلم ہوچکی تو چند عوام کا لانعام کس شمار میں۔

البتہ اس موقع میں صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا حال معلوم کرنا ضروری ہے کیونکہ افضل ترین امت ہونے پر ان کے خود حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہی دی ہے اگرچہ اس باب میں احادیث بہت وارد ہیں مگر یہاں ایک حدیث ذکر کی جاتی ہے جس کو دیلمی رحمۃ اللہ علیہ نے فردوس میں ذکر کیا ہے۔

عن انس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اللہ عز وجل نظر فی قلوب العباد فلم یجد قلبا اتقی من قلوب اصحابی و لذلک اختارھم فجعلھم صحاباً فما استحسنوا فھو عند اللہ حسن وما استقبحوا فھو عند اللہ قبیح۔

ترجمہ:فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ حق تعالیٰ نے کوئی قلب میرے صحابہ کے قلوب سے پاکیزہ تر نہیں دیکھا اس لئے ان کو میری صحابیت کیلئے پسند فرمایا ، جو کچھ وہ اچھا سمجھیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اچھا ہے اور جو برا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک برا ہے۔

ان کا حال کسی قدر ابھی معلوم ہوا اور آئندہ بھی انشاء اللہ معلوم ہوگا کہ کیسی عظمت حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے دلوں میں تھی۔ اور کس درجہ آداب کی رعایت رکھتے تھے۔

باوجود اس کے اگر کسی سے بمقتضائے بشریت یا سادگی سے کوئی ایسی حرکت ہوجاتی جس میں شائبہ بے ادبی کا ہوتا ساتھ ہی کلام ِالٰہی میں تنبیہ اور زجر وتوبیخ نازل ہوتی جس سے سب متنبہ اور ہوشیار ہوجاتے۔

(انوار احمدی ، ص:210/209)

  SI: 65   
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے والا شقاوت سے نکل جاتاہے  

  SI: 47   
آشوب چشم کا فوراً دفع ہونا  

  SI: 68   
قرآن و حدیث سے مسائل کا استنباط کرنا ہرکسی کا کام نہیں  

  SI: 56   
تمام انبیاء و ملائک پر خصوصیت و عظمت آشکار  

  SI: 67   
سرکاردوعالم کی توجہ وعنایت آن واحد میں سب کی طرف  

  SI: 13   
میلاد النبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی شرعی حیثیت ۔ قسط اول  

  SI: 60   
درود پڑھنے والے پر اللہ کی رحمتیں  

  SI: 64   
عینِ عبادت نماز میں حکمِ صلوۃ وسلام  

  SI: 24   
عفو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  

  SI: 62   
درود پڑھنے والے کے لئے دعائے مغفرت (قسط دوم  

   
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights reserved