علاج السالکین  
حضرت ابوالحسنات سید عبداللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ : مصنف
  سرورق     << تمام کتابیں دیکھیں  
 
Share |
ڈاؤن لوڈ
Download Book in pdf
 
کتاب کاؤنٹر
This Book Viewed:
584 times
 
تلاش کریں
 

 

 
 
روحانی طبیب کے لئے اصول علاج

روحانی طبیب کے لئے اصول علاج

       روحانی طبیبوں کی خدمت میں گذارش ہے کہ سلف صالحین کا یہ طرز تھا کہ جو کوئی مرید ہونے آتا تو ذکر والقائے نسبت کے پہلے اس کے اخلاق درست کرتے اور جو دل کی بیماریاں یعنی برے اخلاق ہیں ان کا علاج فرماتے پھر ذکر و شغل بتایا کرتے مثلاً کسی مرید کو دیکھا بنا ٹھنا رہتاہے، حکم دیا کرتے کہ مسجد میں جھاڑو دیا کرو ،جھاڑو دینے والے کی کیا ہیئت اچھی رہ سکتی ہے؟کسی میں تکبر ہے تو یوں علاج فرماتے کہ نمازیوں کے جوتیاں درست کرتے رہو۔

       حضرت خواجہ بہاؤ الدین نقشبندرحمۃ اللہ علیہ کی صاحبزادی جب جوان ہوئیں تو حضرت کو ان کے عقد کا خیال ہوا ،خود مدرسہ اسلامیہ میں تشریف لائے ہر لڑکے کے احوال پر اس کے دل پر نظر ڈالے۔ ان میں سے ایک کو منتخب فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا کہ حضرت میں مفلس ہوں فرمایا :بابا  !تم مفلس ہو تو کیا ہوا، تمہارا دل تو غنی ہے۔ بابا ہم اللہ والا ڈھونڈھتے ہیں، تمہارے دل میں اس کی صلاحیت ہے۔ غرض حضرت نے اس قریب التحصیل طالب علم سے اپنی صاحبزادی کا نکاح فرمادیا۔ پھر وہ جب مرید ہوتے ہیں تو حضرت ان کے سر پر سیب کا ٹوکرا رکھا کر تمام شہر میں بکواتے ہیں۔ ایک مدت کے بعد فرمائے :بابا !ہم نے تم سے جو سیب بکوائے تھے۔ اس سے غرض روپیہ کمانا نہیں تھی بلکہ مولویت کی نخوت و غرور جو تم میں تھی اس کو توڑنا منظور تھا۔ یہ قدیم روحانی طبیبوں کا علاج،اس کی وجہ یہ فرمایا کرتے تھے کہ جب برتن کو قلعی کرنا چاہتے ہیں تو پہلے میل کچیل کو ریتی ڈال کر رگڑ رگڑ کر صاف کیا کرتے ہیں، جب خوب صاف ہوجائے تو پھر قلعی کرتے ہیں یا جیسے طبیب جسمانی پہلےسہل سے مادہ فاسد نکال کر پھر دوا پلاتے ہیں یا مکان کو جب آراستہ کرنا منظور ہو تو پہلے کچرا کوڑا، جالے سب صاف کرکے پھر جہاڑ ،فانوس ،فرش سے آراستہ کرتے ہیں۔ یا کسی کو عمدہ لباس پہنانا ہوتا ہے تو پہلے جسم کو غسل دے کر میل کچیل سے صاف کیا کرتے ہیں اس کو تخلیہ کہتے ہیں۔ پھر ذکر شغل بتاکر تخلیہ کیا کرتے تھے یعنی پہلے اخلاق رذیلہ دور کرکے پھر اخلاق حسنہ کا رنگ ان پر چڑھاتے تھے ،یہی طرز صحابۂ کرام کے تربیت پانے اور تربیت کرنے کا تھا۔

       متأخرین روحانی طبیبوں نے دیکھا کہ نہ پہلے کے جیسی لوگوں میں ہمت ہے نہ ویسی فرصت ،اس لئے وہ فرماتے ہیں کہ بعض مجبوریوں کی وجہ سے پہلے مکان میں فرش کرکے پھر آہستہ آہستہ صفائی کرتے رہتے ہیں۔ لہٰذا ابتداءاً ذکر بتاکر پھر آہستہ آہستہ دل کے امراض یعنی برے اخلاق کو چھڑاتے رہتے تھے ،اب آپ حضرات بھی مرید کرکے خدا کے لئے بے فکر نہ ہوجائیں دونوں طریقے آپ کے سامنے ہیں ،کوئی نہ کوئی طریقہ سے دل کے بیماریوں کا علاج فرماتے رہئے۔

       صحابہ کرام کی بچوں کی طرح تربیت کی گئی ہے،ہر بات میں ان کی نگرانی کی جاتی تھی۔ جس قدر مؤثر طریقے تربیت کے تھے وہ سب برتے گئے،پہلے زبان سے قرآن و حدیث سنا سنا کر سمجھایا جاتا تھا پھر حضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود کرکے بتاتے تھے۔ ہر وقت نگرانی کی جاتی تھی۔ جہاں کوئی بات خلاف ہوئی تو فوراً  ٹوک دیئے گئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وحشی وخونی۔ سفّاک، ظالم سارا نور و فیض بن کر نکلے۔

       سارے عالم کو اپنے نور سے منور کر گئے۔ آپ بھی بحیثیت نائب رسول ہونے کے اسی طرح علاج فرمائیے۔ پھر دیکھئے کہ کس قدر جلد کا یا پلٹ ہوتی ہے۔ اب تو لوگ عموماً یہ سمجھ رہے ہیں کہ مرید ہونا اور کچھ راز کی باتیں سیکھنا ،زیادہ سے زیادہ تھوڑا بہت ذکر کرنا بس یہی مریدی کی غرض ہے۔ اسی طرح سلوک طئے ہوا کرتاہے۔ اس لئے دل کی بیماریاں ویسی کی ویسی رہ جاتی ہیں۔ لہٰذا باادب گزارش ہے کہ تخلیہ شروع نہ سہی تخلیہ کے ساتھ ساتھ تو ہونا چاہیے ،یہی تو خلاصہ سلوک کا ہے۔

        جب آپ بیعت کے لئے ہاتھ لیں تو یوں سمجھئے کہ میں اس مرید کے دل کی نبض دیکھ رہا ہوں، طبیب حاذق کی طرح مختلف حرکات اور اس کے احوال کے قرائن سے اس کے چھپے امراض کا پتہ لگائیے۔ پھر ہر مرض کے لئے یہ سونچئے کہ کیا اسباب ہیں اور کس طرح پیدا ہوئے ہیں، ان اسباب کے دور ہونے کی کیا دوا ہے۔ اس کا پرہیز کیا ہے۔ جب یہ معلوم ہوجائے تو وہ اعمال جو اس مرض کے ازالہ کے لئے مفید ہیں علم نافع کے ساتھ شرعی ارزاں میں تول کر ایک معجون بنائیے اور استعمال کرائیے۔

 

 

 
 
فہرست

شکایت
...............................
>>
پہلی علامت
...............................
>>
محبت کی کسوٹی
...............................
>>
بیماریٔ دل کی شدت و کمی
...............................
>>
دوسری علامت
...............................
>>
دل کی صحت کی علامتیں
...............................
>>
دل کی بیماریوں کا مادہ
...............................
>>
دل کے بیمار کا پرہیز
...............................
>>
دل کے طبیب
...............................
>>
دل کے علاج کی ترغیب
...............................
>>
دل کے بیماریوں کے ادویہ
...............................
>>
دل کی بیماریوں کے اسباب
...............................
>>
دل کے بیماریوں کے لئے اصول علاج
...............................
>>
روحانی طبیب کے لئے اصول علاج
...............................
>>
دل کے بیماروں سے خطاب
...............................
>>
روحانی نسخوں کا شہد
...............................
>>
ذکر کی ماہیت
...............................
>>
مشغول کے لئے طریقۂ ذکر
...............................
>>
دل کے بیمار کے لئے چند کام کی باتیں
...............................
>>
دل کے بیماریوں کا تفصیلی علاج
...............................
>>
مرض عصیاں کے لئے دستوں کی دوا
...............................
>>
غذا
...............................
>>
پرہیز
...............................
>>
علامات صحت
...............................
>>
حُب دنیا!
...............................
>>
امراض کے اقسام
...............................
>>
تشخیص میں غلطی
...............................
>>
اسباب مرض
...............................
>>
علاج مرض
...............................
>>
اس نسخہ کا اور ایک جز
...............................
>>
بیعت اور اس کے متعلق امور
...............................
>>
طریق ذکر
...............................
>>
تصور شیخ اور وساوس
...............................
>>
غایت بیعت و مقصود ذکر
...............................
>>
وظائف اور اشغال
...............................
>>

     

All right reserved 2011 - Ziaislamic.com