علاج السالکین  
حضرت ابوالحسنات سید عبداللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ : مصنف
  سرورق     << تمام کتابیں دیکھیں  
 
Share |
ڈاؤن لوڈ
Download Book in pdf
 
کتاب کاؤنٹر
This Book Viewed:
584 times
 
تلاش کریں
 

 

 
 
مشغول کے لئے طریقۂ ذکر

مشغول کے لئے طریقۂ ذکر

       کہ جو فکرِ معاش اور حقوقِ عباد سے فارغ نہ ہو تو اس کو ضروریات کا تو مضائقہ نہیں فضولیات میں اپنی عمر عزیز ضائع نہ کرے۔ ضروری کاروبار و ادائے حقوق عباد سے جو وقت بچے اس کو ذکر الٰہی میں صرف کرے۔ فضولیات کو ضروریات نہ سمجھے۔ اکثر ہم فضول کاموں کو ضروری سمجھ کر انہیں میں مصروف رہتے ہیں۔ ایسے بے سمجھوں کا وقت بچتا ہی نہیں، اس لئے ذکر نہ ہوسکنے کا عذر کیا کرتے ہیں یہ نفس کا دھوکہ ہے اس سے بچو !ذکر کے لئے وقت نکالو ،کثرت سے ذکر کیا کرو!ذکر ہی دل کے بیماریوں کے نسخوں کا متاخرین کے طرز پر جز اعظم ہے۔

       اے خدا کے طلب کرنے والو !جو کچھ تمہارا جاتا رہے اس پر افسوس نہ کرو۔ اگر افسوس کرو تو اُن گھڑیوں کے جانے پر کرو جو بغیر یاد الٰہی کے گذری ہوں۔

1۔گرنبا شد جامۂ اطلس ترا       کہنہ دلقے ساتِر تن بس ترا

2۔در مز نبودت باقند و مشک            خوش بود درغ و پیازونان خشک

3۔ورنہ باشد مشربہ از زرناب   باکف خود می توانی خورد آب

4۔ ورنہ باشد دور باش از پیش و پس      دور باش نفرت خلق است و بس

5۔ورنہ باشد مرکب زریں لگام می تواں زدہم بپائے خویش گام

6۔ورنہ باشد جانبائے زر نگار           می تواں کر دن بسر درگنج غار

7۔ورنہ باشد فرش ابریشم طراز  باحصیر کہنہ در مسجد بسار

8۔ورنہ باشد شانۂ از بہر ریش   شانہ بتواں کرداز انگشت خویش

9۔ہرچہ بینی درجہاں دار و عرض در عوض گردد ترا حاصل غرض

10۔بے عوض دانی چہ باشد درجہاں     عمر باشد عمر قدر آں بداں

1۔ اگر اطلس کا لباس نہ ملے تو اس کے بدلے پرانی گوڈڑی تن ڈھانپنے کے لئے کافی ہوسکتی ہے۔

2۔ قندو مشک ملا ہوا مز عفر نہ مل سکے تو اس کے بدلے چھانچ اور پیاز اور سوکھی روٹی ہی بس ہے۔

3۔ اگر خالص سونے کا بنا ہوا گلاس نہ مل سکے تو اس کے بدلے ہاتھوں کے چلو سے پانی پی سکتے ہیں۔

4۔ اگر آگے پیچھے خدمتگاروں کی ہٹو پڑھو نہ ہو نہ سہی، اس کے بدلے مخلوق کی نفرت ہٹو پڑھو کہنے کے لئے کافی ہے۔

5۔ اگر زریں لگام گھوڑا نہ ملے، اس کے بدلے اپنے پاؤں سے ہی گھوڑے کا کام لے سکتے ہیں۔

6۔ اگر سونے کا کام کئے ہوئے گھریں نہ ملیں تو کچھ پروا نہیں اس کے بدلے کسی غار کے کونے میں زندگی بسر کرسکتے ہیں۔

7۔ ریشمی بچھونا نہ ہو، اس کے بدلے پرانی حصیر پر کسی مسجد میں گذر کرسکتے ہیں۔

8۔ بالوں کے لئے اگر کنگی نہ ملے تو اس کے بدلے اپنی انگلیوں سےکنگھی کا کام لے سکتے ہیں۔

9۔ غرض دنیا میں ہر چیز کا بدل موجود ہے۔

10۔ جس چیز کا کچھ بھی بدل نہیں کچھ خبر ہے وہ کیا چیز ہے؟میرے دوست وہ عمر ہے۔ عمر جس کا کوئی بدل ہی نہیں۔ ایسے بے بدل چیزکی کچھ تو قدر کرو۔

       یعنی ہر چیز کا عوض ممکن ہے مگر عمر عزیز کی ایک گھڑی کا بھی عوض اس دنیا میں نہیں،ہر ایک کے بدلے دوسری چیز سے کام نکل سکتا ہے لیکن جو وقت گزر جائے اس کا معاوضہ کسی دوسری چیز سے نہیں ہوسکتا اس لئے اے دل کے بیمارو! ایسی بے نظیر عمر عزیز کی دل سے قدر کرو! ضرورت سے جو وقت بچے اس کو ذکر الٰہی میں گذارو ،کبھی کبھی عام مسلمانوں کے قبرستان اور اولیاء کرام کے مزارات پر ہو آیا کرو اور مغرب کے بعد گھنٹہ آدھ گھنٹہ جب تک دلچسپی ہو مراقبہ موت کیا کرو۔

       کثرت ذکر سے اللہ تعالیٰ کی محبت اور مراقبہ موت سے دنیا کی نفرت پیدا ہوگی، یہی محبت و نفرت کام بنا دینے کے لئے انشاء اللہ تعالیٰ کافی ہوں گے۔

       روزانہ کسی قدر قرآن کی تلاوت بھی کرلیا کرے، درود شریف کا ورد بھی جاری رکھے۔ اگر لزوم تقوے کے ساتھ ایک مدت اس طریقہ ذکر پر استقامت اور مداومت رہے گی تو انشاء اللہ تعالیٰ محروم نہ رہے گا اور یوں فائدہ تو اول ہی سے ہونے لگتا ہے لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ یہ بھی سمجھنے لگے گا لیکن نہ گھبرائے نہ جلدی کرے، نہ سستی کرے نہ کمی کرے کیونکہ اس کی نہ کوئی میعاد معین نہ کوئی ذمہ دار ہوسکتا ہے البتہ اس قدر امیدوار کرسکتے ہیں کہ

دریں رہ می تراش و خراش              تادم آخر دمے فارغ مباش

تادم آخر دمے آخر بود          کہ عنایت باتو صاحب سربود

فارغ کیلئے حضرت امام ابوعلی فارمدی طوسی رحمۃ اللہ علیہ کا بتلایا ہوا طریقہ ذکر

       اور جو فکر معاش اور حقوق عباد سے فارغ ہو تو اس کے لئے ذکر کا طریقہ یہ ہے کہ روحانی طبیب کی صحبت کو غنیمت جانے ،موٹی بات ہے کہ مریض کا طبیب کے پاس رہنا اور دور رہنا دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے خوب کہا گیا ہے ؂

مقام امن دمۂ بے غش و رفیق شفیق              گرت مدام میسر شود زہے توفیق

       اس لئے ان کی خدمت میں رہ کر کسی پاس کی مسجد یا خانقاہ کے حجرہ میں جہاں سے علیحدہ ہوکر خلوت اختیار کرے ،نماز کی جماعتوں کے سوا کبھی نہ نکلے یہ خلوت کبریٰ کہلاتی ہے۔ یہ اگر ممکن نہ ہو تو چادر سر پر سے اس طرح لٹکائے کہ سیدھے اور بائیں کی کچھ اطلاع نہ ہوسکے۔ یہ خلوت صغری کہلاتی ہے۔ غرض کوئی نہ کوئی خلوت میں رہے۔

       ائے خدا کے ڈھونڈھنے والے ! جس کے کارن تو نے یہ سارا سوگ اٹھایا ہے،سب سے پہلے تجھے دنیا کے تمام تعلقات سے ٹوٹ پھوٹ کر ایک کا،ہاں ہاں فقط ایک کا ہوجانا پڑے گا۔ وطن کا اور وطن والوں کا ،قرابت داروں کا دوست آشناؤں کا سب خیال دل سے بالکل دھو دینا ہوگا ،تو رہے اور خیال یاررہے،غیر کا نام و نشان سب مٹانا ہوگا۔ جاہ طلبی اور علمی مشغلوں سے ہاتھ دھونا پڑے گا،یہی مشاغل دل کو اپنی طرف مشغول کرکے خدا کا ہونے نہیں دیتے ہیں۔ جب تک تو ان سب کو خیرباد نہ کہے گا خدا نہیں ملے گا ؂

پھر رہی ہے دل کے اندر حب رجاہ              کب سماوے اس میں نور لا الٰہ

پھر رہے ہیں دل میں دنیاوی خیال              آئے کیونکر اس میں نور ذوالجلال

دوسرے کے ساتھ وہ شاہِ غیور          جمع ہوتا ہی نہیں ائے بے شعور

چاہیے تجھ کو اگر وصل صنم                    گھر کو خالی غیر سے کر یک قلم

کھینچ خدمت میں بہت سا انتظار           تامیسر ہو تجھے وصل نِگار

دیکھا ہے کوئی بھی ایسا خوبرو                   سوت کے جو پاس بیٹھے دو بدو

ہے غنی تر سب شریکوں سے خدا         چاہتا ہے یار وہ سب سے جدا

ہے جمال اس کا دوئی سوز اے پسر               دوسرے کی تو بھی گردن قطع کر

ہے اگر اس راہ کا تجھ کو خیال                  غیر حق جو کچھ ہے اس پر خاک ڈال

طبع کو جس جس طرف کا ہے خیال              ہے یہی بس مانع راہِ وصال

اور تو اور فرض و سنن کے سوا تجھے سارے درود وظائف و قرآن کی تلاوت ،تفسیر و حدیث کا مطالعہ سب کو چھوڑ چھاڑکر کل وساوس سے خالی دل کیا ہوا ،(درود و وظائف و قرآن و حدیث اس لئے چھڑاتے ہیں کہ آگے چل کر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اب لذت نہیں ملتی جب پڑھنے میں لذت ملے گی یوں سمجھئے کہ بگاڑتے ہیں بنانے کے لئے پڑھنا چھڑاتے ہیں لذت کے ساتھ پڑھانے کے لئے)۔خلوت میں بیٹھ کر اللہ اللہ حضور قلب کے ساتھ ہمیشہ اس طرح کہتے رہے، اس اسم مبارک کے بغیر کنہ و مثال اور بغیر عربی و فارسی وغیرہ الفاظ کے معنی مقدس سمجھ میں آئے اس کو ذہن میں ایسا محفوظ رکھے کہ دوسرا خیال بجز اللہ کے معنی مقدس کے خواہ نیک ہو یا بد پھر ذہن میں نہ آسکے، کمالِ توجہ کے ساتھ پوری قوت سے اللہ کے معنی مقدس کے سوا قوت مدوکہ اورجس مشترکہ میں کسی اور چیز کے خیال کو نہ آنے دے۔ شروع شروع میں تو سمجھ کو اس میں تکلف کرنا ہوگا پھر اللہ کے معنی مقدس دل میں ہمیشہ حاضر رہیں گے جیسے لازم و ملزوم سے اور دھوپ آفتاب سے جدا نہیں ہوتی۔ ایسے ہی یہ اللہ کے معنی مقدس کسی حال میں دل سے جدا نہیں ہوں گے۔ وساوس اور خطراتِ نفسانیہ و شیطانیہ سے بچاتے ہوئے ہمیشہ تجھے اس حالت کی حفاظت کرتے ہوئے رہنا ہوگا۔

       یہاں تک تو تیرے اختیار میں ہے آگے جو ہونے والا ہے اس کا انتظار کرنا ہوگا۔ اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہے اور تیرا ارادہ سچا ہے اور ’’تیری محبت کامل ہے اور اس عمل پر تو مداومت کرتا رہا اور شہوات نفسانیہ اور دنیا کے تعلقا ت تجھے اپنی طرف نہ کھینچے نہ مشغول کئے تو تیرے قلب پر اسرارِ ملکوت کے تجلیات ہونا شروع ہوں گے۔ ابتداءاً تو بجلی کی طرح کوندتے رہیں گے ان کو ثبات دوام نہ ہوگا پھر کچھ دیر تک رہنا شروع کریں گے اور جب غائب ہوں گے تو فوراً واپس ہوں گے اور کبھی دیر میں پھر آگے جو کچھ ہوگا وہ ایک طرز پر نہیں جیسے اولیاء اللہ کے مراتب کا کوئی شمار نہیں کرسکتا۔ ایسے ہی ان کے احوال کا پھر جو کچھ ہوگا وہ سب تیرے آگے آتا جائے گا۔ اس طریقۂ ذکر کا خلاصہ یہ ہے کہ سب سے اول تجھے دنیا کے سارے مشغلوں کی نجاست سے دل کو پاک کرکے بالکل یکسوئی پیدا کرنا ہوگا پھر اللہ اللہ کے ذکر اور اس کے معنی مقدس کی دُھن میں محو ہو کر دل کو صاف کرتے ہوئے اور جلادیتے ہوئے استعداد و قابلیت قبول تجلیات کی پیدا کرکے انتظار کرتے رہنا ہوگا۔

 

 

 
 
فہرست

شکایت
...............................
>>
پہلی علامت
...............................
>>
محبت کی کسوٹی
...............................
>>
بیماریٔ دل کی شدت و کمی
...............................
>>
دوسری علامت
...............................
>>
دل کی صحت کی علامتیں
...............................
>>
دل کی بیماریوں کا مادہ
...............................
>>
دل کے بیمار کا پرہیز
...............................
>>
دل کے طبیب
...............................
>>
دل کے علاج کی ترغیب
...............................
>>
دل کے بیماریوں کے ادویہ
...............................
>>
دل کی بیماریوں کے اسباب
...............................
>>
دل کے بیماریوں کے لئے اصول علاج
...............................
>>
روحانی طبیب کے لئے اصول علاج
...............................
>>
دل کے بیماروں سے خطاب
...............................
>>
روحانی نسخوں کا شہد
...............................
>>
ذکر کی ماہیت
...............................
>>
مشغول کے لئے طریقۂ ذکر
...............................
>>
دل کے بیمار کے لئے چند کام کی باتیں
...............................
>>
دل کے بیماریوں کا تفصیلی علاج
...............................
>>
مرض عصیاں کے لئے دستوں کی دوا
...............................
>>
غذا
...............................
>>
پرہیز
...............................
>>
علامات صحت
...............................
>>
حُب دنیا!
...............................
>>
امراض کے اقسام
...............................
>>
تشخیص میں غلطی
...............................
>>
اسباب مرض
...............................
>>
علاج مرض
...............................
>>
اس نسخہ کا اور ایک جز
...............................
>>
بیعت اور اس کے متعلق امور
...............................
>>
طریق ذکر
...............................
>>
تصور شیخ اور وساوس
...............................
>>
غایت بیعت و مقصود ذکر
...............................
>>
وظائف اور اشغال
...............................
>>

     

All right reserved 2011 - Ziaislamic.com