علاج السالکین  
حضرت ابوالحسنات سید عبداللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ : مصنف
  سرورق     << تمام کتابیں دیکھیں  
 
Share |
ڈاؤن لوڈ
Download Book in pdf
 
کتاب کاؤنٹر
This Book Viewed:
584 times
 
تلاش کریں
 

 

 
 
مرض عصیاں کے لئے دستوں کی دوا

مرض عصیاں کے لئے دستوں کی دوا


        اخیر درجہ میں ایک علاج بتلاتا ہوں جس میں شان بھی نہ جائے گی اور آمدنی بھی نہ گھٹے گی۔ وہ یہ ہے کہ بھائی !جو کچھ کمارہے ہو کماؤ ،جس حالت میں ہو اسی میں رہو۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ گناہ کی اجازت دیتا ہوں بلکہ میں سچی توبہ کو چنددن ملتوی کرتا ہوں تاکہ اگر کامل اصلاح نہ ہو اور نہ سہی تو گو دُر گو تو نہ رہے کچھ تو تغیر کرو۔ اگر دوا نہیں پیتے پرہیز ہی کرلو۔ اگر پرہیز بھی نہیں ہوتا تو دستوں کی دوا ہیکھالیا کرو۔

کیا کریں بھائی !اگر مریض ہو کم ہمت، تو اس کی اتنی تو رعایت خیر طبیب مشفق کرسکتا ہے کہ دوا کے استعمال کو کچھ دن کے لئے ملتوی کردے اور فی الحال کوئی ایسی تدبیر بتائے جس سے مرض نہ بڑھے !گو اس سے صحت نہ ہوگی مگر مرض بھی نہ بڑھے گا۔ پھر انشاء اللہ تعالیٰ کسی نہ کسی وقت صحت بھی ہوجائے گی۔ لیجئے ایک ایسا دست آور نمک بتائے دیتا ہوں جس میں آپ کی دنیا کا کچھ بھی ہرج نہیں وہ نمک یہ ہے کہ دن بھر تو جو کام کرتے ہو کرتے رہو لیکن سوتے وقت یہ کرو کہ مسجد میں نہیں نہ سہی

بلکہ لیٹنے کی جگہ جہاں خلوت ہو بلکہ چراغ بھی گل کردو تاکہ کوئی دیکھے نہیں اور کر کری نہ ہو۔ دو رکعت نفل نماز توبہ کی نیت سے پڑھ کر یہ دعا مانگو کہ اے اللہ !میں آپ کا سخت نافرمان بندہ ہوں ،میں فرمانبرداری کا ارادہ کرتا ہوں، مگر میرے ارادے سے کچھ نہیں ہوتا اور آپ کے ارادے سے سب کچھ ہوسکتا ہے، میں چاہتا ہوں کہ میری اصلاح ہو مگر ہمت نہیں ہوتی؟آپ کے ہی اختیار میں ہے۔ میری اصلاح کیجئے !اللہ میں سخت نالائق ہوں ،سخت خبیث ہوں، سخت گنہگار ہوں ،میں تو عاجز ہورہا ہوں آپ ہی میری مدد فرمائیے۔ میرا قلب ضعیف ہے گناہوں سے بچنے کی قوت نہیں آپ ہی قوت دیجئے! میرے پاس کوئی سامان نجات نہیں آپ ہی غیب سے میری نجات کا سامان پیدا کردیجئے! اے اللہ جو

 

 

گناہ میں نے اب تک کئے ہوں انہیں تو اپنی رحمت سے معاف فرما دے۔ گو میں یہ نہیں کہتا کہ آئندہ ان گناہوں کو نہ کروں گا میں جانتا ہوں کہ آئندہ پھر کروں گا لیکن پھر معاف کرالوں گا غرض خوب برا بھلا اپنے آپ کو حق تعالیٰ کے سامنے کہا کرو صرف دس منٹ روزانہ یہ کام کرلیا کرو۔ لو بھئی !دوا بھی مت پیو۔ بدپرہیزی بھی مت چھوڑو۔ صرف تھوڑے سے نمک کا استعمال سوتے وقت کرلیا کرو۔

 حضرت !آپ دیکھیں گے کہ کچھ دن بعد غیب سے ایسا سامان ہوگا کہ ہمت قوی ہوجائے گی توبہ کے لئے دشواریاں بھی پیش نہ آئیں گی

حضرات! اور کچھ نہیں تو اتنا تو فائدہ ضرور ہوگا کہ اگر روز روز کی معافی چاہتے رہے تو گناہوں کا بوجھ کچھ تو ہلکا ہوتا رہے گا۔ پھر جتنا رہ جائے گا وہ شاید مرتے وقت توبہ سے جاتا رہے۔

 

 

بدرقہ

        اس نسخہ کا بدرقہ اس طرح دل کو سمجھانا ہے کہ اے میرے غافل دل !قطعی طور پر آخرت کی سعادت تیرا مطلوب ہے ،کیا تجھے خبر نہیں؟ تیرے مطلوب اور مقصود سے دور رکھنے والے گناہ ہیں تو پھر گناہ کررہا ہے؟

 

 کب تک گناہوں پر اصرار کرے گا، شاید تیری تقدیر میں وہ آخرت کی پر لطف زندگی نہیں، جب ہی تو تو گناہوں پر ایسااڑا ہوا ہے ،تجھے تیری غفلت گناہوں سے بے پروا بنائی ہوئی ہے،مگر یاد رکھ یہی گناہ تیرے ابدالآباد کی ہلاکت کا باعث ہونے والے ہیں۔ خدا کے لئے سنبھل جا! تجھے دنیا کی زندگی اور نفس و شیطان دھوکے میں رکھے ہوئے ہیں ،کب تک تو ان کے دھوکہ میں رہے گا۔

         ایک عارف نے فرمایا ہے۔ جب کسی پر ملک الموت ظاہر ہوتے ہیں اور وہ اس کو معلوم کراتے

 

ہیں کہ تیری عمر کا یہ آخری وقت ہے، ایک لحظہ اب آگے پیچھے نہیں ہوسکتا تو اس وقت مرنے والے کو اس قدر حسرت ہوتی ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ اگر تمام دنیا اس کے پاس ہو تو دیدوں اور ایک ساعت کی مہلت لے لوں اور اس ساعت میں گناہوں سے معافی چاہوں اور کچھ تو عمر بھر کی غفلت کا تدارک کروں ۔ہائے افسوس !یہ آرزو دل کی دل میں رہ جاتی ہے اور اس کا موقع نہیں دیا جاتا ہے۔        میرے پیارے دل !کیا تو اس طرح کی حسرت ساتھ لے جانا چاہتا ہے؟ دیکھ ابھی وقت ہے۔ اب تو دل پر گناہوں کا زنگ چڑ رہا ہے، ایک وقت وہ آئے گا کہ یہ زنگ دل کو کھا جائے گا، مہر ہوجائے گی یا موت آجائے گی۔ پھر کچھ نہ ہوسکے گا۔ اس کے پہلے کچھ تو تدارک کرلے۔ کاش تجھے یاد ہوتا جب تو دنیا

 

میں آرہا تھا۔ پاک اور منزہ دل تیرے پاس امانت رکھا جارہا تھا اور حکم ہورہا تھا: میرے بندے !لے یہ دل ہماری امانت ہے ہماری امانت ہم کو ویسی ہی پاک اور ستھری دینا جیسی تو لے رہا ہے۔   ہائے! اس وقت کیسا ہوگا جب تو دنیا سے جارہا ہوگا؟امانت میں خیانت کرچکا ہے۔ دل کو نجس و ناپاک بنادیا ہے اور حکم ہورہا ہوگا میرے بندے !ہماری امانت لا۔ دیکھیں ہماری امانت کو تو کس طرح رکھا ہے ؟ہائے اس کا کیا جواب دے گا؟ کچھ تو فکر کر۔

        مرض عصیاں کے بیمارو کیا کہیں بادشاہ کو دیکھے ہو کہ وہ نجس اور میلے کپڑے کے نذرانہ کو قبول کیا ہے؟ پھر خدائے تعالیٰ تمہارے نجس اور میلے دل کو کیسے قبول کرے گا ؟کچھ تو سونچو!جب اس

 

طرح دل کو سمجھاؤ گے تو اس وقت دل میں ندامت کی آگ بھڑکے گی، دل دکھے گا جیسے کوئی اندھیرے میں ہو اور یکایک آفتاب نکل آئے تو کیا دیکھتا ہے کہ اس میں اور اس کے مطلب میں کوئی شئے حائل ہے تو وہ اس شئے کے دور کرنے کی کوشش کرتاہے۔ اسی طرح اس ندامت کے آگ کی روشنی میں گناہوں کے بیمار کو دِکھتاہے کہ اس میں اور اس کے مطلوب و مقصود آخرت میں گناہ سَبد سکندر بنے ہوئے ہیں تو وہ ان گناہوں کے مٹانے کے لئے توبہ کرتا اور آئندہ پھر گناہوں میں مبتلا نہ ہونے کا عزم کرلیتا ہے۔ 

 

 

حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ کو ایک دیوانہ نے مرض گناہ کی یہ دوا بتائی ہے

        نیاز مندی کی جڑپشیمانی کے پتے ،شکیبائی کی چھال لے کر ان کو توبہ کے ہاون میں کوٹ، ان پر صدق کا پانی ڈال، پھر محبت کی آگ پر جوش دے اور پرہیزگاری کی ہوا سے ٹھنڈا کر ،نیاز  کے ساتھ پی جا اور کہہ کہ یا الٰہی !میرے گناہ بخش ۔یقین ہے کہ توبہ کے مسہل سے مواد فاسدہ خارج ہوجائیں گے۔ 

 

 

 
 
فہرست

شکایت
...............................
>>
پہلی علامت
...............................
>>
محبت کی کسوٹی
...............................
>>
بیماریٔ دل کی شدت و کمی
...............................
>>
دوسری علامت
...............................
>>
دل کی صحت کی علامتیں
...............................
>>
دل کی بیماریوں کا مادہ
...............................
>>
دل کے بیمار کا پرہیز
...............................
>>
دل کے طبیب
...............................
>>
دل کے علاج کی ترغیب
...............................
>>
دل کے بیماریوں کے ادویہ
...............................
>>
دل کی بیماریوں کے اسباب
...............................
>>
دل کے بیماریوں کے لئے اصول علاج
...............................
>>
روحانی طبیب کے لئے اصول علاج
...............................
>>
دل کے بیماروں سے خطاب
...............................
>>
روحانی نسخوں کا شہد
...............................
>>
ذکر کی ماہیت
...............................
>>
مشغول کے لئے طریقۂ ذکر
...............................
>>
دل کے بیمار کے لئے چند کام کی باتیں
...............................
>>
دل کے بیماریوں کا تفصیلی علاج
...............................
>>
مرض عصیاں کے لئے دستوں کی دوا
...............................
>>
غذا
...............................
>>
پرہیز
...............................
>>
علامات صحت
...............................
>>
حُب دنیا!
...............................
>>
امراض کے اقسام
...............................
>>
تشخیص میں غلطی
...............................
>>
اسباب مرض
...............................
>>
علاج مرض
...............................
>>
اس نسخہ کا اور ایک جز
...............................
>>
بیعت اور اس کے متعلق امور
...............................
>>
طریق ذکر
...............................
>>
تصور شیخ اور وساوس
...............................
>>
غایت بیعت و مقصود ذکر
...............................
>>
وظائف اور اشغال
...............................
>>

     

All right reserved 2011 - Ziaislamic.com