علاج السالکین  
حضرت ابوالحسنات سید عبداللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ : مصنف
  سرورق     << تمام کتابیں دیکھیں  
 
Share |
ڈاؤن لوڈ
Download Book in pdf
 
کتاب کاؤنٹر
This Book Viewed:
584 times
 
تلاش کریں
 

 

 
 
تشخیص میں غلطی

شخیص میں غلطی

        حُب دنیا کو مرض نہ سمجھنے کی وجہ سے اس کی تشخیص میں لوگوں نے غلطی کی ہے، حُب دنیا اور کسب دنیا میں فرق نہ کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ اطباءِ روحانی ہم کو دنیا کے لینے سے بالکل روکتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ ہم مسجد کے ملا ہوکر بیٹھ رہیں،بے گھر ہوجائیں اور جو کچھ ہے برباد کردیں حالانکہ اطبائے روحانی کا یہ مطلب نہیں ہے بلکہ وہ کہتے ہیں کہ دنیا کماؤ مگر بالکل دنیا میں کھپ مت جاؤ !اس کی محبت چھوڑ دو۔ دل سے بے تعلق ہوجاؤ ورنہ دنیاکو گھر سمجھنے لگوگے تو آخرت کو بھول جاؤ گے۔ دنیا میں کھپ جانا بولو یا حُب دنیا کہو وہی ہے ۔جس میں ترک ِآخرت ہو یہی مرض روحانی ہے۔ رہا کسب دنیا اس کو نہ حب دنیا کہتے ہیں نہ دنیا میں کھپ جانا ،اس لئے وہ مرض نہیں ہے پس دنیا کمانا جائز ہے، دنیا میں کھپ جانا ناجائز ہے۔ جیسے پائخانہ کمانا برا نہیں پائخانہ کھانا برا ہے۔ کسب اور حُب میں یہی فرق ہے یا یوں سمجھئے کہ ایک تو پائخانہ میں بضرورت طبیعت بیٹھنا اور ایک پائخانہ کو پچارا سمجھ کر اس میں جی لگاکر بیٹھنا۔         ایک صورت جائز دوسری ناجائز۔ اسی طرح دنیا کمانا تو جائز لیکن دنیا کو مرغوب و محیب سمجھنا حرام ،میں پھر کہتا ہوں کہ اطبائے روحانی دنیا کا کام کرنے سے منع نہیں کرتے مگر وہ یہ کہتے ہیں کہ اس میں دل نہ لگاؤ !کام سب کرو مگر جی اترا ہوا ہونا چاہیے۔ دل کھپا دینا یہی زہر ہے ،یہ وہ بلا ہے کہ اس سے اندیشہ ہے کہ مرتے وقت بھی غالب ہوکر اللہ رسول کے نام سے بالکل بے تعلقی نہ ہوجائے، لہٰذا جہاں تک ہوسکے اس کی کوشش کرو کہ دنیا میں دل لگا ہوا نہ ہو، دل کو خدائے تعالیٰ ہی سے لگاؤ۔ ہاتھ سے کام کرو کچھ حرج نہیں۔

شعر
گرت مال وزرہست زرع و تجارت 
جو دل با خدا یست خلوت
 نشینی

غرض دنیا کو قلب میں سے نکالئے ہاتھ سے دنیا کو نہ نکالئے ہاتھ سے نکالنے کو اطبائے روحانی نہیں کہتے ہیں۔ مولانا نے مثال دی ہے، فرماتے ہیں

شعر
گرت مال وزرہست زرع و تجارت 
جو دل با خدا یست خلوت نشینی

        غرض دنیا کو قلب میں سے نکالئے ہاتھ سے دنیا کو نہ نکالئے ہاتھ سے نکالنے کو اطبائے روحانی نہیں کہتے ہیں۔ مولانا نے مثال دی ہے، فرماتے ہیں ؂

آب درکشتی ہلاک کشتی است         آب اندر زیر کشتی پشتی است

        کیا عجیب مثال ہے؟ پانی اگر کشتی کے نیچے ہو تو اس کے جاری ہونے کا سبب ہے اگر وہ نہ ہو تو چل نہیں سکتی اور جو کشتی کے اندر پہونچ جائے تو ہلاک کر دے ۔

 

        دنیوی متاع کی مثال پانی کی سی ہے ۔اگر دل سے باہر رہے تو دین میں معین ہے اور جو دل میں گھس جائے تو باعث ہلاکت ہے تو دنیا میں کھپ جانا ایسا مرض ہے کہ اس کی وجہ سے خدائے تعالیٰ سے

شعر

غفلت ہوجاتی ہے پھر اس سے جوبرا کام نہ ہو وہ تھوڑا ہے اس لئے مولانا فرماتے ہیں ؂

چیست دنیا از خدا غافل بودن                         قماش و نقرہ و فرزند و زن

        اس مرض کا مریض جس طرح سے دنیا ہاتھ آتی ہے لیتا ہے ،خدا کی نافرمانی کا اس کو کچھ خیال ہی نہیں رہتا، دین کی کچھ فکر ہی نہیں رہتی باوجود آخرت کے قائل ہونے کے کبھی اعمال میں آخرت یاد نہیں آتی، نہ اس کے لئے کچھ سامان کی فکر ہوتی ہے۔

اگر کسی کو آخرت کا خیال آیا بھی تو اسی وقت تک رہتا ہے جب تک دنیا سلامت رہے۔ اگر دنیا کا نقصان کسی وجہ سے ہوگیا تو وہ آخرت کو خیرباد کہہ دیتا ہے گویا یہ مریض خدا کی اطاعت و عبادت محض اس خوشامد سے کرتا ہے کہ وہ ان کی دنیا کو سنوارتے رہیں اور اگر دین پر عمل کرتے ہوئے اتفاقاً دنیا بگڑ جائے تو یہ خدا سے بھی بگڑ بیٹھتا ہے۔ ہمیشہ دین پر دنیا کو ترجیح دیتا ہے۔ گو کسی کو یہ مرض اعلیٰ درجہ کا نہ ہو مگر جس درجہ کا بھی ہو وہ معمولی بات نہیں بلکہ سخت چیز ہے کیونکہ اس ادنیٰ درجہ کا بڑھ جانا کیا مشکل ہے؟   زکام کھانسی اولاً معمولی درجہ کی ہوتی ہے پھر وہی رفتہ رفتہ دق اور سل کی صورت اختیار کرلیتی ہے جب کہ اس کو معمولی سمجھ کر ٹال دیا جائے ،اسی طرح افیون و تمباکو شروع میں قلیل مقدار سے کھایا جاتا ہے،پھر وہ ترقی کرتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جو شخص ایک رتی افیون کھانے والا تھا سال کے بعد وہ کئی ماشے کھانے لگتا ہے کیونکہ نشہ کی چیز میں خاصیت ہے کہ وہ خود بخود بڑھتی ہے۔ حُب دنیا میں بھی ایک نشہ ہے، جیسے مشہور ہے کہ سو روپیہ میں ایک بوتل کا نشہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حب دنیا روز بروز ترقی کرتی رہتی ہے اس لئے گو مرض حب دنیا کسی درجہ کا بھی ہو اس کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔   اے حب دنیا کے مریض !تو خود غور کرکے دیکھ لے تیری مجلس میں صبح سے شام تک دنیا ہی کا

چرچا رہتاہے، دین کا ذکر ہی نہیں آتا ۔انسان اسی کا زیادہ ذکر کیا کرتا ہے جس سے اس کو زیادہ محبت ہوتی ہے ،اس سے کیا تو اندازہ نہیں لگا سکتا کہ تو حب دنیا کے مرض میں مبتلا ہے ؟ ہائے تیرا کیسا ہوگا! تو مریض ہے اور اپنے کو تندرست جانتا ہے ،جتنی محبت دنیا کی ہے آخرت کی وہ محبت اور اس کا اتنا شوق نہیں ہے۔ اپنے دل کو ٹٹول کر دیکھ کر وہ دیکھ لے کہ دنیا کے قیام کی بابت تو کیا کیا خیالات پکاتا ہے ہم یوں رہیں گے، یوں بسیں گے، شادی ہوگی، جائیداد ہوگی، یوں ہم ملازم ہوں گے، یوں عہدے لیں گے وغیرہ وغیرہ۔         اب انصاف سے دیکھ لے کہ آخرت کے متعلق بھی کبھی ایسی امنگیں ہوئی ہیں کہ مرجائیں گے تو یوں خدا کے سامنے جائیں گے، یوں جنت ہوگی ،اس میں باغات اور مکانات ہوں گے،یوں حوریں ہوں گی۔ غالباً کبھی بھی یہ امنگیں نہیں ہوتیں تو دنیا کی جتنی محبت ہے اگر آخرت کی محبت اتنی ہوتی تو جیسی یہاں کی زندگی کے متعلق دل میں خیالات پیدا ہوتے ہیں اور ان کے لئے تیاری اور کوشش کرتا ہے ایسی ہی وہاں کی زندگی کے متعلق بھی تو کچھ خیالات پیدا ہوتے اور ان کے لئے کچھ تو تیاری اور کوشش کیا کرتا۔ جب ایسا نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ حب دنیا کے مرض میں گرفتار ہے۔

ہائے افسوس !تیرا وطن آخرت ہے مگر تو نے اپنے لئے دنیا کو وطن بنا رکھا ہے۔ اپنے لئے اور اپنے ہر عزیز کے لئے دنیا ہی دنیا چاہتا ہے۔ اور دنیا سے کچھ ایسی دل بستگی ہے کہ گویا تجھکو ہمیشہ یہیں رہنا ہے۔ خدائے تعالیٰ سے منہ موڑ کر سب سے تعلق بڑھاکر، بکھیڑوں میں پڑ کر معاملات میں گھس کر اللہ تعالیٰ سے غافل ہے پھر بھی تو اپنے کو

حُب دنیا کے مرض میں مبتلا نہیں سمجھتا ہے۔ ہائے یہ کیا غضب کررہا ہے۔ اے حُب دنیا کے مریض !آ ہم تجھے تیرے مریض ہونے کی ایک اور علامت بتاتے ہیں :جب کوئی کام تو دنیا کا کرتا ہے اور وہ خلاف شرع ہوتا ہے اور اس کے کرنے سے تجھکو دنیا کا فائدہ ہے مگر شریعت اس کو منع کرتی ہے تو اب تعارض ہوا دین میں اور دنیا میں۔ اب اگر تو نے نفع دنیا پر خاک ڈال دی اور دین کو اختیار کیا تو سمجھا جائے گا کہ محبت الٰہی تجھ میں غالب ہے۔

اور اگر دنیا کو لے لیا اور شریعت کو پس پشت ڈال دیا تو سمجھا جائے گاکہ حُب دنیا غالب ہے، اے حُب دنیا کے مریض !اب اپنی حالت کو دیکھ کر جب دنیوی معاملات واقع ہوتے ہیں تو کیا کیا کرتاہے۔ دنیا کو ترجیح دیا کرتاہے خواہ آخرت کا نقصان ہوجائے۔ باتیں بنا بناکر اور تاویلیں کر کرکے دین کو چھوڑتا اور دنیا کو لیتا ہے۔ تو کیا یہ علامت تیرے مریض ہونے کی نہیں ہے ؟ہائے !کب تو اپنے کو مریض سمجھے گا اور کب علاج کے لئے کوشش کرے گا۔

 

 
 
فہرست

شکایت
...............................
>>
پہلی علامت
...............................
>>
محبت کی کسوٹی
...............................
>>
بیماریٔ دل کی شدت و کمی
...............................
>>
دوسری علامت
...............................
>>
دل کی صحت کی علامتیں
...............................
>>
دل کی بیماریوں کا مادہ
...............................
>>
دل کے بیمار کا پرہیز
...............................
>>
دل کے طبیب
...............................
>>
دل کے علاج کی ترغیب
...............................
>>
دل کے بیماریوں کے ادویہ
...............................
>>
دل کی بیماریوں کے اسباب
...............................
>>
دل کے بیماریوں کے لئے اصول علاج
...............................
>>
روحانی طبیب کے لئے اصول علاج
...............................
>>
دل کے بیماروں سے خطاب
...............................
>>
روحانی نسخوں کا شہد
...............................
>>
ذکر کی ماہیت
...............................
>>
مشغول کے لئے طریقۂ ذکر
...............................
>>
دل کے بیمار کے لئے چند کام کی باتیں
...............................
>>
دل کے بیماریوں کا تفصیلی علاج
...............................
>>
مرض عصیاں کے لئے دستوں کی دوا
...............................
>>
غذا
...............................
>>
پرہیز
...............................
>>
علامات صحت
...............................
>>
حُب دنیا!
...............................
>>
امراض کے اقسام
...............................
>>
تشخیص میں غلطی
...............................
>>
اسباب مرض
...............................
>>
علاج مرض
...............................
>>
اس نسخہ کا اور ایک جز
...............................
>>
بیعت اور اس کے متعلق امور
...............................
>>
طریق ذکر
...............................
>>
تصور شیخ اور وساوس
...............................
>>
غایت بیعت و مقصود ذکر
...............................
>>
وظائف اور اشغال
...............................
>>

     

All right reserved 2011 - Ziaislamic.com