علاج السالکین  
حضرت ابوالحسنات سید عبداللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ : مصنف
  سرورق     << تمام کتابیں دیکھیں  
 
Share |
ڈاؤن لوڈ
Download Book in pdf
 
کتاب کاؤنٹر
This Book Viewed:
584 times
 
تلاش کریں
 

 

 
 
اس نسخہ کا اور ایک جز

اس نسخہ کا اور ایک جز
فنائے دنیا کو سونچتا رہے اور اس کی بے ثباتی کو ہمیشہ یاد رکھے ،ہم نے مانا کہ دنیا حسین بھی ہے، ہر طرح کی اس میں راحت بھی ہے،سب ہنر ہیں لیکن اس دنیا میں ایک عیب ایسا ہے کہ جس نے سب خوبیوں کو خاک میں ملادیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ دنیا ختم ہوجانے والی ہے۔ آپ دیکھتے ہوں گے کہ کیسے کیسے بڑے بڑے مکانات اجڑے پڑے ہیں ،ان کے رہنے والوں کے دلوں میں کیا کیا تمنائیں ہوں گی ،کیسی کیسی آرزوئیں ہوں گی۔ ہائے وہ سب آرزوئیں خاک میں مل گئیں۔ دنیا ختم ہوگئی۔

کل ’’ہوس‘‘ اس طرح سے ترغیب دیتی تھی مجھے        خوب ملک روس ہے اور سرزمین طوس ہے

گر میسر ہو تو کیا عشرت سے کیجئے زندگی   اس طرف آواز طبعی ادھر صدائے کوس ہے

صبح سے تا شام چلتا ہوئے گلگوں کا دور                  شب ہوئی تو ماہرویوں سے کنار و پوس ہے

سنتے ہی ’’عبرت‘‘ یہ بولی ایک تماشہ میں تجھے           چل دکھاوں تو جو قید از کا محبوس ہے

لے گئی ایکبارگی گورِ غریباں کی طرف                  جس جگہ جان تمنا سو طرح مایوس ہے

مرقدیں دو تین دکھا کر لگی کہنے مجھے                   یہ سکندر ہے یہ دارا ہے یہ کیکاؤس ہے

 پوچھ تو ان سے کہ جاہ و حشمت دنیا سے آج              کچھ بھی ان کے ساتھ غیر از حسرت افسوس ہے

        یہ دارا سکندر وہ تھے جو کبھی تمام دنیا پر حکومت کرتے تھے ،ہائے آج ان میں اتنی بھی قوت نہیں کہ اپنی قبر سے پیشاب کرنے والوں کو ہٹادیں۔ اے حب دنیا کے مریض! ایک اور قطعہ بھی سن لے ؂

کل پاؤں ایک کاسۂ سر پر جو آگیا                       یکسر وہ استخوانِ شکستہ سے چور تھا

بولا سنبھل کے چل تو ذرا راہ بے خبر  
میں کبھی کسی کاسر پر غرور تھا

        ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ابوہریرہ آؤ،ہم تم کو دنیا دکھاتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑا اور ایک ایسے مقام پر لیجاکر کھڑا کردیا جہاں انسان کی کھوپڑیاں اور گوہ اور کچھ کپڑوں کے چندیاں اور جانوروں کی ہڈیاں پڑی ہوئی تھیں۔ یہ

 

منظر دکھاکر فرمایا۔ سنو! ابوہریرہ اُن کھوپڑیوں میں ویسی ہی حرص تھی اور طرح طرح کی آرزوئیں تھیں جیسے تمہارے سروں میں ہے۔ سب رہ گیا آج بے چمڑے کی ہڈیاں رہ گئی ہیں ،کل راکھ ہوجائیں گی۔ اور یہ گوہ طرح طرح کے کھانے ہیں جس کو وہ کس کس مشقت سے کہاں کہاں سے کمائے تھے،ایک رات پیٹ میں رہے آج ایسے ہوگئے کہ لوگ ان سے گھن کرتے ہیں اور دور دور بھاگتے ہیں اور یہ پرانی چندیاں وہی بیش قیمت تھان ہیں جن کا وہ لباس بناکر پہنتے اور اتراتے پھرتے تھے۔ 
آج وہ کسمپرسی کی حالت میں ہیں، ہوائیں ان کو اڑا کر ٹھکانے لگارہی ہیں اور یہ ہڈیاں ان

جانوروں کی ہیں جن پر وہ سوار ہوکر اکڑا کرتے تھے۔ وہ رہے نہ ان کی سواریاں۔ ابوہریرہ یہ ہے دنیا اور دنیاکا انجام۔

اے حب دنیا کے بیماروں !تم نے سنا یہ ہے دنیا کی حقیقت ۔وہ دن کب آئیں گے تم پر دنیا کی حقیقت کھلے گی۔ کچھ نہیں؟         اے حب دنیا کے بیمارو !تم نے آخرت کو پہچانا ہی نہیں ورنہ اس کی طرف پوری توجہ کرتے، بلکہ دنیا کو بھی نہیں پہچانا،ورنہ اس کی طرف رُخ بھی نہ کرتے ۔دنیا ہی کو پہچان لو!اسی کو سوچو۔

       اگر دنیا کی پوری حقیقت ہی سمجھو تو پھر اس مردار کا نام بھی نہ لو۔ تم جو دنیا کے عاشق ہوئے

ہو، ذرا اس کو دیکھو تو سہی اس کی تو ایسی مثال ہے جیسے پاخانہ پر چاندی کے ورق لگے ہوئے ہوں اور کوئی اس کو حلوہ سمجھ کر تاک میں بیٹھا ہو۔ یا کسی چڑیل بڑھیا کو لال ریشمی لباس پہنا دیا گیا ہو اور نقاب سے منہ ڈھانک دیا گیا ہو اور کوئی اس کو حسین خوبصورت سمجھ کر محبت کا دم بھرنے لگے مگر جب برقعہ اٹھے گا اس وقت اس محبت کی حقیقت معلوم ہوجائے گی۔

 

حکایت
ایک عارف نے دنیا کو خواب میں دیکھا کہ بڑھیا ہے مگر ابھی تک باکرہ۔ انہوں نے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے کہ تو نے اتنے خصم کئے اور اب تک کنواری ہی رہی؟کہا
 : جو مرد تھے انہوں نے مجھے منھ نہیں لگایا اور جو میرے عاشق تھے وہ نامرد تھے ان کو میں نے منھ نہیں لگایا۔ اس لئے اب تک کنواری ہی ہوں۔    اے حُب دنیا کے بیمارو! تم دنیا کو برقعہ کے اوپر سے دیکھ کر اس کے عاشق ہوگئے ہو اور اہل اللہ نے برقعہ اٹھاکر اسے دیکھا ہے اس لئے وہ نفرت کرتے ہیں۔

       ذرا تم دنیا و آخرت دونوں کے برقعے کھول کر دیکھو تو دنیا سے نفرت اور آخرت کی طلب

 

ہوجائے گی۔
        دنیا ظاہر میں خوبیوں سے مزین ہے مگر اندر گوہ ،موت اور سانپ، بچھو بھرے ہوئے ہیں اور آخرت ظاہر میں ناگوار امور اور مصیبتوں سے گھری ہوئی ہے مگر اندر نہایت حسین، دلفریب محبوبہ ہے جس کی ایک نگاہ کے سامنے سلطنت ہفت اقلیم بھی کوئی چیز نہیں۔

        حضرت!دنیا کی بالکل ایسی ہی حالت ہے ؂

 

 

حال دنیا رابہ پرسیدم من از فرزانہ                     گفت یا خوابے است یا بادے است یا افسانہ

باز گفتم حالِ آں کس گو کہ دل دروے بے بست                 گفت یا غولے است یادیویست یا دیوانہ

 

 

 جب اس طرح دنیا کی بے وفائی اوربے  ثباتی کو پیش نظر رکھو گے تو حُب دنیاکا مرض بالکل تم سے زائل ہوجائے گا۔

ایک اور جز
کسی شئے کو اپنا نہ سمجھو،ہمیشہ آخرت کا دھیان اور دھن لگی رہے ،اس سے اول تو تم راستہ سے ہٹو گے نہیں اور اگر ہٹوگے بھی تو فوراً جلد متنبہ ہوکر راستہ پر لگ جاؤ گے۔

ایک اور جز

       جنت کے حالات اور وہاں کی نعمتوں کو سونچا کرو !اس سے آخرت کی طلب پیدا ہوگی، دنیا کی طرف سے توجہ ہٹ جائے گی رہ رہ کر یہ خیال آئے گا کہ حق تعالیٰ ہماری ذرا سی طلب پر افق بڑی جنت دیں گے اور طلب دنیا پر کچھ بھی وعدہ نہیں تو پھر ہم کو دنیا میں کھپنے سے کیا فائدہ؟

ایک اور جز

       خدائے تعالیٰ کی محبت پیدا کرو،یہ کتابوں سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کا طریقہ وہ ہے جو ایک شاعر کہتا ہے خوب کہا ہے۔

 

نہ کتابوں سے وعظوں سے نہ زر سے پیدا               دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا

        اس کے لئے عاشقان الٰہی کی صحبت کی ضرورت ہے اس لئے اہل اللہ کی صحبت اختیار کرو۔ گاہے گاہے ان سے ملتے رہو۔ ان کے پاس بیٹھا کرو ان کی باتیں سنو، ان سے تعلق رکھو اگر یہ میسر نہ ہو تو اولیاء اللہ کے تذکرے ان کی صحبت کے قائم مقام ہیں ،سنا اور دیکھا کرو۔ ان کی صحبت تم میں ایک نہ ایک دن خدائے تعالیٰ کی محبت پیدا کرکے رہے گی۔

 

 

بدرقہ

        اس نسخہ کا بدرقہ اس طرح دل کو سمجھانا ہے کہ اے دل ،او دنیا پر مٹنے والے دل !تو ایک دن دنیا کو چھوڑنے والا ہے ،تھوڑی سی زندگی ہے اس نے تجھ کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے، یہ چند روزہ زندگی ہے دنیا کا عیش و نشاط آخرت کے رنج و عذاب کے مقابلہ میں حبس دوام کے قیدی کے لئے رات کا احتلام ہے۔

 

        اے دل! پھر اس پر یہ غرور یہ غفلت آخر تابکے بڈھا ہوکر کیا پھر جوان ہونا ہے؟تجھے آخرت

کا کچھ خیال ہی نہیں،وہاں کے سامان کی کچھ فکر ہی نہیں، دیکھ اب وقت جاتا ہے۔ ایک دن وہ آتا ہے کہ توقبر کے گڑے میں پڑا ہوگا ،دنیا کو اور دنیا کے دیکھتے کے دیکھتے دیدہ بدلنے کو یاد کرکرکے روتا رہے گا۔ میرے پیارے دل !کیا تجھ کو اس کی خبر نہیں کہ اسرافیل علیہ السلام صور منہ میں لئے کھڑے ہیں ،کان لگائے نگاہ جمائے ہوئے ہیں کہ حکم ہوتے ہی صور پُھونک دیں۔         اے دل !جب یہ حالت ہے تو پھر تجھکو چین کیسے آتا ہے؟ جب صور پھونکا جائے گا جو جس حال میں ہوگا وہ اسی حال میں رہے گا۔ لقمہ لیا ہوا نگل نہ سکے گا، کپڑا پہن رہا ہے تو پہن نہ سکے گا، پی رہا ہے تو پی نہ سکے گا۔ ادھر تڑا تڑ ہر چیز ٹوٹنے لگے گی، جو کچھ عالم میں ہے سب نیست و نابود ہوجائے گا۔ خدا کے سوا

 

کوئی باقی نہ رہے گا اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا،لمن الملک اليوم۔ وہ کہاں ہے جو ہمارے خلاف کیا کرتے تھے،دنیا پر مرمٹتے تھے، اس دن کو بھولے ہوئے تھے پھر خود ہی فرمائے گا۔ لله الواحد القهار۔ پھر دوسری بار صور پھونکا جائے گا سب اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے، میدانِ قیامت میں کھڑے ہوں گے ،ہر ایک نفسی نفسی کہہ رہا ہوگا کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا۔         ایسے میں ایک بڑھیا آئے گی،بد صورت، نیلی آنکھیں ،بڑے بڑے دانت باہر نکلے ہوئے، تمام خلق کہے گی۔ نعوذ باللہ یہ کون کمبخت ہے ؟سب اس کی طرف سے منہ پھیر لیں گے۔

 

 

 حکم ہوگا آج کیوں اس سے منھ پھیر رہے ہو؟ یہی تو دنیا ہے اس پر کیسے تم گرتے تھے۔ اسی

چڑیل کی وجہ سے آپس میں حسد و دشمنی کرتے تھے، اس کی وجہ سے آپس میں خونا خونی ہوتی تھی نہ قرابت کا پاس ہوتا تھا نہ دوستی کا خیال۔ 
اس وقت سب کو یاد آجائے گا ہمارا مولا سچ فرماتا تھا۔ غرتهم الحيوٰۃ الدنيا ۔بے شک دنیا کی زندگی ہم کو دھوکے میں رکھی تھی۔ ہائے ہم !کچھ نہیں سمجھے تھے کہ دنیا کیسی ہے ،جب دنیا دوزخ میں ڈال دی جائے گی تو وہ کہے گی میرے دوست بھی میرے ساتھ کردیئے جائیں، اس کی درخواست قبول کرلی جائے گی۔ دنیا کے چاہنے والے بھی دنیا کے ساتھ دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے۔

       میرے پیارے دل !کیا تجھ کو اس دن کا انتظار ہے دوزخ میں دنیا کے ساتھ رہنا چاہتا ہے، اگر

 

 

ایسا نہیں ہے تو پھر کیوں دنیا میں کھپا ہوا ہے ،آخرت کو بھولا ہواہے۔ میرے پیارے دل !خدا کے لئے سنبھل اور اپنی خبر لے۔ دنیا کی بے وفائیاں اور اس کی بے ثباتیاں تجھ کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر جگارہی ہیں۔ ہائے تو جاگنا ہی نہیں، اگر جاگتا ہی ہے تو لوگوں میں تیرا اس طرح چرچا ہونے کے پہلے ہی جاگ کہ فلاں بیمار ہے۔ چو طرف سے طبیب آرہے ہیں علاج ہورہا ہے شفا کی امید نہیں پھر تیرا اس طرح ذکر ہورہا ہے کہ فلاں کی حالت بہت نازک ہے وصیت بھی کردیا ہے، مال پر توژے کردیئے گئے ہیں تو ہر چیز کو حسرت کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے پھر زبان بند ہوگئی ہے۔ پہچان بھی نہیں رہی ہے۔ دیدے چھت کو لگ گئے ہیں تیرے اہل و عیال تیرے اطراف کھڑے رو رہے ہیں تجھ ،کو دکھایا جارہا ہے کہ یہ تیرا بیٹاہے یہ

تیری بیوی ہے زبان پر مہر لگ گئی ہے کچھ کہہ نہیں سکتا ہے۔ پھر یکایک بستی میں یہ خبر گشت کرتی ہے کہ تو مر گیا ہے ،تیرے اعضاء سے روح نکال کر فرشتے لے جارہے ہیں اور تیرا جسم لوگوں کے ہاتھوں میں بے کفن لایا جارہا ہے پھر تجھے غسل دیا گیا اور کفن پہنایا گیا۔ حاسد راحت میں ہوگئے ہیں۔ورثاء تیرے مال کی تقسیم کے لئے منصوبے دل ہی دل میں کررہے ہیں تو شہر خموشاں میں پڑا ہو اپنے کئے کی سزا بھگت رہا ہے ۔

 

میرے پیارے دل ! یہ وقت آنے کے پہلے ہی جو کچھ کرنا ہے کرلے ورنہ پچتائے گا۔ اس وقت پچتانے سے کچھ فائدہ نہیں۔

 

پرہیز
اس مرض کا مریض ان لوگوں کی صحبت سے جو دنیا میں کھپے ہوئے اور خدا کو بھولے ہوئے ہیں بہت پرہیز کرے۔

 
 
فہرست

شکایت
...............................
>>
پہلی علامت
...............................
>>
محبت کی کسوٹی
...............................
>>
بیماریٔ دل کی شدت و کمی
...............................
>>
دوسری علامت
...............................
>>
دل کی صحت کی علامتیں
...............................
>>
دل کی بیماریوں کا مادہ
...............................
>>
دل کے بیمار کا پرہیز
...............................
>>
دل کے طبیب
...............................
>>
دل کے علاج کی ترغیب
...............................
>>
دل کے بیماریوں کے ادویہ
...............................
>>
دل کی بیماریوں کے اسباب
...............................
>>
دل کے بیماریوں کے لئے اصول علاج
...............................
>>
روحانی طبیب کے لئے اصول علاج
...............................
>>
دل کے بیماروں سے خطاب
...............................
>>
روحانی نسخوں کا شہد
...............................
>>
ذکر کی ماہیت
...............................
>>
مشغول کے لئے طریقۂ ذکر
...............................
>>
دل کے بیمار کے لئے چند کام کی باتیں
...............................
>>
دل کے بیماریوں کا تفصیلی علاج
...............................
>>
مرض عصیاں کے لئے دستوں کی دوا
...............................
>>
غذا
...............................
>>
پرہیز
...............................
>>
علامات صحت
...............................
>>
حُب دنیا!
...............................
>>
امراض کے اقسام
...............................
>>
تشخیص میں غلطی
...............................
>>
اسباب مرض
...............................
>>
علاج مرض
...............................
>>
اس نسخہ کا اور ایک جز
...............................
>>
بیعت اور اس کے متعلق امور
...............................
>>
طریق ذکر
...............................
>>
تصور شیخ اور وساوس
...............................
>>
غایت بیعت و مقصود ذکر
...............................
>>
وظائف اور اشغال
...............................
>>

     

All right reserved 2011 - Ziaislamic.com