علاج السالکین  
حضرت ابوالحسنات سید عبداللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ : مصنف
  سرورق     << تمام کتابیں دیکھیں  
 
Share |
ڈاؤن لوڈ
Download Book in pdf
 
کتاب کاؤنٹر
This Book Viewed:
587 times
 
تلاش کریں
 

 

 
 
غایت بیعت و مقصود ذکر

غایت بیعت و مقصود ذکر
بیعت دراصل کسی واصل الی الحق کے دست حق پرست پر اس غرض سے کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے اور اس کو راضی کرنے کا طریق معلوم ہوجائے کیونکہ رب العزت کا خود ارشاد ہے کہ
اذکرو الله ذکراً کثيراً ۔

کثرت سے اللہ کو یاد کرو۔ فاذکرونی اذکرکم۔ تم میرا ذکر کیا کرو تو میں اس وقت تمہارا ذکر کرتے رہوں گا ۔اس حکمِ خداوندی کو بجا لانے کے لئے کسی سالکِ طریقت و عارف ِحق کی رہنمائی ضروری ہے اور اس حدیث سے بھی ذکر کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔ انا جليس من ذکرنی ترجمہ: میں ہم نشین ہوں اس کا جو مجھ کو یاد کرے ۔

 

مقصود ذکر الٰہی سے اللہ کی خالص محبت پیدا کرنا ہے اور کوئی دنیوی غرض بیعت سے وابستہ نہ رکھی جائے۔ حضرت پیر و مرشد کو اللہ تک پہنچنے کا ایک وسیلہ سمجھیں اور اس تعلق سے جو حقوق و آداب مرتب ہوتے ہیں انہیں بجا لانے کی کمال درجہ کوشش کریں ،ذکر کے وقت نہایت عاجزی کے ساتھ بارگاہ الٰہی میں یوں عرض پرواز ہوں کہ اے میرے معبود !میں تیری ہی یاد اور تیری ہی محبت کے لئے تیرا ذکر کررہا ہوں، میرا مقصود بس تو ہی ہے۔ مجھے اپنے فضل و کرم سے اپنی رضا و محبت اور اپنی معرفت عطا فرما!

پہلی وصیت

        اسی طرح بیعت لینے کے بعد سالک کو شرعی امور میں جملہ اوامرو نواہی کی سختی سے پابندی کرنی چاہئے کہ اتباع سنت ہی سے سلوک جلد طے ہوتا ہے اور ترقی حاصل ہوتی ہے۔ اس میں سب سے پہلی چیز نماز کی پابندی ہے۔

       سالک کے لئے  پہلی وصیت یہ ہے کہ پانچ وقت نماز کی پابندی رکھے اور ہر نماز کو جماعت سے پڑھنے کی کوشش کرے۔ عورتیں جماعت کے بغیر پانچ وقت کی نماز پابندی سے اپنے گھروں میں ادا کریں۔

 

وسری وصیت

       یہ ہے کہ درود شریف روزانہ کم ازکم 200 مرتبہ پڑھا کریں۔ درود شریف کے آداب میں یہ بھی ہے کہ ادب اور توجہ کے ساتھ بیٹھ کر پڑھا جائے ،چلتے پھرتے اور مکر وہ مقامات پر اس کا پڑھنا خلاف ادب ہے۔ درود شریف کو ذکر کے ساتھ ملاکر پڑھنا بھی ضروری نہیں ہے،سونے سے پہلے تک جب چاہیں اس کو پڑھ سکتے ہیں۔

 

 

   درود شریف کونسا بھی پڑھا جاسکتا ہے،یہاں ایک مختصر درود لکھا جاتا ہے جو اپنے معنی کے لحاظ سے بڑی فضیلت رکھتاہے۔ اس کے معنی خیال میں رکھ کر پڑھیں تو مناسب ہے۔ اَللهمَّ صَلِّ عَلٰي سَيدِنَا مَحَمَّدٍ وَعَليٰ الِه وَصَحْبِه اَفْضَلَ صَلَوٰاتِکَ وَعَدَدَ مَعْلُوْمَاتِکَ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ۔  اے اللہ درود بھیج ہمارے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کی آل و اصحاب پر سب سے افضل درود اور

اتنی تعداد میں جو آپ کے معلومات کی تعداد کے موافق ہے۔ برکت اور سلام نازل فرما۔

 

 
 
فہرست

شکایت
...............................
>>
پہلی علامت
...............................
>>
محبت کی کسوٹی
...............................
>>
بیماریٔ دل کی شدت و کمی
...............................
>>
دوسری علامت
...............................
>>
دل کی صحت کی علامتیں
...............................
>>
دل کی بیماریوں کا مادہ
...............................
>>
دل کے بیمار کا پرہیز
...............................
>>
دل کے طبیب
...............................
>>
دل کے علاج کی ترغیب
...............................
>>
دل کے بیماریوں کے ادویہ
...............................
>>
دل کی بیماریوں کے اسباب
...............................
>>
دل کے بیماریوں کے لئے اصول علاج
...............................
>>
روحانی طبیب کے لئے اصول علاج
...............................
>>
دل کے بیماروں سے خطاب
...............................
>>
روحانی نسخوں کا شہد
...............................
>>
ذکر کی ماہیت
...............................
>>
مشغول کے لئے طریقۂ ذکر
...............................
>>
دل کے بیمار کے لئے چند کام کی باتیں
...............................
>>
دل کے بیماریوں کا تفصیلی علاج
...............................
>>
مرض عصیاں کے لئے دستوں کی دوا
...............................
>>
غذا
...............................
>>
پرہیز
...............................
>>
علامات صحت
...............................
>>
حُب دنیا!
...............................
>>
امراض کے اقسام
...............................
>>
تشخیص میں غلطی
...............................
>>
اسباب مرض
...............................
>>
علاج مرض
...............................
>>
اس نسخہ کا اور ایک جز
...............................
>>
بیعت اور اس کے متعلق امور
...............................
>>
طریق ذکر
...............................
>>
تصور شیخ اور وساوس
...............................
>>
غایت بیعت و مقصود ذکر
...............................
>>
وظائف اور اشغال
...............................
>>

     

All right reserved 2011 - Ziaislamic.com