حضرت ابراہیم علیہ السلام صبر واستقامت کے پیکر
 
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنْ، وَالصَّلوٰةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنْ، وَعَلٰی آلِهِ الطَّیِّبِیْنَ الطَّاهِرِیْنْ، وَاَصْحَابِهِ الْاَکْرَمِیْنَ اَجْمَعِیْنْ،وَعَلٰی مَنْ اَحَبَّهُمْ وَتَبِعَهُمْ بِاِحْسَانٍ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنْ .
       اَمَّا بَعْدُ!فاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ: وَإِذِ ابْتَلٰی إِبْرَاهِیمَ رَبُّه بِکَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ.صَدَقَ اللّٰهُ الْعَظِیْمْ.
     اسلام کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے، ماہ ذی الحجہ کے ساتھ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاد لازمی طور پر آتی ہے، مناسک حج ہوں یا قربانی کا موقع ، مکہ مکرمہ کی وادی ہو یا منیٰ وعرفات کی گھاٹیاں، صفا ومروہ کی چٹانیں ہوں یا چاہ زمزم کا آب شیریں، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاد اہل اسلام کو ایک نئے جوش وخروش سے ہمکنار کرتی ہے، آپ کے تذکرہ سے پژمردہ دلوں کو نئی زندگی ملتی ہے، مایوس دل کوحوصلہ ملتاہے، آپ کے واقعات سننے سنانے سے عقیدہ میں پختگی اور عمل میں چستی پیدا ہوجاتی ہے۔     ؂
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستان حرم
نہایت اس کی حسینؓ، ابتدا ہے اسمٰعیلؑ
     اللہ تعالی نے انبیاء کرام کو معجزے عطا فرمائے، کوئی نبی بغیر معجزہ کے تشریف نہیں لائے ، حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی اللہ تعالی نے عظیم معجزات عطا فرمائے اور آپ کی مبارک زندگی کو انسانیت کے لئے نمونۂ عمل بنایا۔ آپ نے زندگی کے ہرمرحلہ میں دین اسلام کی حیات وبقا کے لئے اپنا ہرلمحہ ‘ہرسانس قربان کردیا؛ یہاں تک کہ اپنا مال‘ اپنی اولاد اور اپنی جان بھی حق تعالی کے لئے قربان کیا۔
اللہ تعالی جب کسی بندے کو اپنا محبوب بناناچاہتاہے تو اس کو کڑی آزمائش اور سخت امتحان کے مرحلہ سے گزارتاہے، جب بندہ امتحان میں کامیاب ہوتاہے تو اس کو اپنا محبوب بنالیتاہے ، مگر انبیاء کرام علیھم الصلوٰۃ والسلام کو حق تعالی پہلے اپنا بناتا ہے ‘ پھر انہیں منزل امتحان سے گزارتاہے ،انبیاء کرام کی آزمائش صرف اس لئے ہوتی ہے کہ کائنات کو ان حضرات کا عزم واستقلال اورثابت قدمی بتائی جائے ؛ تاکہ امت ،امتحان وآزمائش کے وقت ان کی ثابت قدمی کو پیش نظر رکھے اور اُسے منزل فلاح سے ہمکنار ہونے میں آسانی ہو۔
ارشاد الہی ہے :وَإِذِ ابْتَلٰی إِبْرَاهِیمَ رَبُّهبِکَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ .
اور جب ابراہیم (علیہ السلام)کو اُن کے رب نے چند باتوںسے آزمایا تو اُنہوں نے اُسے پورا کیا ۔
(سورۃ البقرۃ ۔ 124)
آیت کریمہ میں مذکور ’’کلمات‘‘سے کیامراد ہے ، اس کی مختلف تفسیریں کی گئی ہیں، چوتھی صدی ہجری کے محدث ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ علیہ نے ’’ کلمات ‘‘کی تفسیر میں یہ روایت نقل کی ہے :
عن ابن عباس قال الکلمات التی ابتلی بهن إبراهیم فأتمهن فراق قومه فی الله حین أمر بفراقهم ، ومحاجته نمرود فی الله حتی وقفه علی ما وقفه عليه من خطر الأمر الذی فيه خلافهم ،وصبره علی قذفه إیاه فی النار لیحرقوه فی الله علی هول ذلک من أمرهم ، والهجرة بعد ذلک من وطنه وبلاده فی الله حین أمره بالخروج عنهم ، وما أمره به من الضیافة والصبر عليها ، وماله وما ابتلی به من ذبح ولده حین أمره بذبحه،  فلما مضی علی ذلک من أمر الله کله وأخلصه البلاء قال الله له أسلم ، قال أسلمت لرب العالمین ، علی ما کان من خلاف الناس وفراقهم .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے ، اُنہوں نے فرمایا:وہ کلمات جن کے ذریعہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو آزمایا گیا اور اُنہوں نے اُسے پورا کیا،اُس سے مراد یہ ہے کہ جب اللہ تعالی نے قوم سے علٰحدگی اختیار کرنے کاحکم فرمایاتوحضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام اللہ کے لئے اپنی قوم سے علٰحدہ ہوگئے ،آپ نے اللہ تعالی کے بارے میں نمرود سے مناظرہ کیا یہاں تک کہ اُسے ایسے معاملہ میں لاجواب کردیا جس میں اُن لوگوں کو اختلاف تھا۔جب لوگوں نے آپ کو آگ میں جلانا چاہاتوآپ نے آگ میں ڈالے جانے پر صبر کیا ۔ جب اللہ تعالی نے قوم کو خیربادکہنے کا حکم فرمایاتوآپ نے اپنے وطن اور ملک سے اللہ کے لئے ہجرت فرمائی ۔ آپ نے ضیافت ومہمانی کا معمول قائم رکھا اور صبر کیا ‘ جس کا اللہ نے آپ کو حکم فرمایاتھا۔ جب اللہ تعالی نے قربانی کا امر فرمایاتو آپ نے اپنے مال کو قربان کیا، اپنے فرزندِ دلبند کی قربانی کے ذریعہ آپ کا امتحان لیا گیا، پھر جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے امتحان وآزمائش کی ان تمام دشوارگذار گھاٹیوں کو عبور کرلیا اور آزمائش کی کسوٹی پر مکمل اُترے تو اللہ تعالی نے آپ سے فرمایا: فرمانبرداری کیجئے!آپ نے عرض کیا : میں نے اللہ تعالی کی فرمانبرداری کی ‘ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ، آپ کا یہ طریقہ کار، ایسے وقت رہا جبکہ لوگ آپ کی مخالفت کرتے تھے اور آپ لوگوں سے علٰحدگی اختیار کرچکے تھے ۔
        (تفسیر ابن ابی حاتم،سورۃ البقرۃ ۔ 124)
      بندہ دنیا میں اسی لئے آیا ہے کہ رب کی معرفت حاصل کرے اور صبح وشام اس کی عبادت میں مصروف رہے ،بندہ کو تین امور کی وجہ سے معرفت الہی میں درجۂ کمال حاصل ہوتاہے :(1) ذات کی معرفت،جو خودی کی قربانی سے حاصل ہوتی ہے  (2) صفات کی معرفت، جو اولاد کی قربانی سے ملتی ہے (3) افعال کی معرفت، جو مال کی قربانی سے نصیب ہوتی ہے ۔
     جب تک یہ تین قربانیاں نہ دی جائیں محبتِ خدا کما حقہ نہیں ملتی اور نہ ہی بندہ ان قربانیوں کے بغیر کمال پاسکتاہے۔
(روح البیان ، ج 7ص474، سورۃ الصافات :104،105)
حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃوالسلام نے محبت خداوندی میں ان تینوں امور کوسرانجام دیا آپ نے جان کی قربانی کی ، مال بھی خرچ کیا اور اولاد کوبھی قربان کیا۔
راہِ خدا میں مال کی قربانی
محبت کی علامت ونشانی یہ بتائی گئی کہ چاہنے والا جو عمل کرے اپنے محبوب کے لئے ہی کرے، سننا چاہے تو صرف محبوب کی بات سنے اور گفتگو کرے تو اسی کا ذکرکرے ، سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام محبت الہی میں اتنا سرشار رہے کہ بذاتِ خود ذکر خدا میں مستغرق رہتے ،کسی اورسے اللہ تعالی کا ذکر سنتے تو ذکرالہی سے لطف اندوز ہوتے ، ذکر کی حلاوت وشیرینی کے اثر سے اس قدر متاثر ہوتے کہ ذکر کرنے والے شخص سے بار بار ذکر کرنے کی خواہش فرماتے اور ذکر الہی کی نسبت سے کوئی قربانی دینے کی نوبت آجاتی تو گریز نہ کرتے ۔
     حق تعالی نے اپنے خلیل کو مال ودولت کی کثرت عطا فرمائی ، جیساکہ تفسیر روح البیان میں ہے:
       ورد فی الخبر انه کان له خمسة آلاف قطیع من الغنم فتعجب الاغنام عليها اطواق الذهب فطلع ملک فی صورة آدمی علی شرف الوادی فسبح قائلا سبوح قدوس رب الملائکة والروح فلما سمع الخلیل تسبیح حبیبه اعجبه وشوّقه نحو لقائه ۔۔۔  وکانوا خسمة آلاف غلام فانصفت الملائکة وسلمت بخلته کما سلمت بخلافة آدم .
     آپ کے پاس بکریوں کے پانچ ہزار ریوڑ اور پانچ ہزار غلام تھے ، بکریوں کی نگہداشت وحفاظت کے لئے جو کُتّے تھے ان کے گلوں میں سونے کے پٹے رہتے تھے ، فرشتوں کواس بات سے تعجب ہوا کہ آپ کے پاس کثرت سے مال موجود ہے،اس کے ساتھ ساتھ آپ اللہ کے خلیل ہیں ، مقام خلت پر فائز ہیں،مال ودولت کی یہ فراوانی اور مقامِ خلت کا ایک ذات میں جمع ہونے سے فرشتے متعجب ہوئے ۔(روح البیان ، ج 7ص474، الصافات :104،105)
تسبیح سننے کے عوض تمام مال قربان کردیا
        چنانچہ آپ کے مرتبہ کے اظہار کی خاطر اللہ تعالی نے آزمائش کے لئے ایک فرشتہ آدمی کی صورت میں زمین پربھیجا، جس راہ سے حضرت خلیل علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی بکریاں لیکر جاتے تھے ، اسی راہ میں وہ فرشتہ انسان کی شکل میں اونچے ٹیلے پر بیٹھ گیااورذکر الہی میں مصروف ہوکربآواز بلند کہنے لگا :
 سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّ الْمَلَائِکَةِ وَالرُّوْحْ .
میرا رب پاک اور عظمت والا ہے ، فرشتوں اور حضرت جبریل کا پروردگار ہے ۔
حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب اپنے محبوب کی تسبیح سنی تواس کی لقاء کا اشتیاق موجزن ہوا، آپ نے ان سے فرمایا:
یا انسان کرر ذکر ربی فلک نصف مالی فسبح بالتسبیح المذکور فقال کرر تسبیح خالقی فلک جمیع اموالی مما تری من الاغنام والغلمان.
اے انسان!میرے رب کا ذکر دوبارہ سناؤ،میں تمہیں اپنا آدھا مال عطا کردونگا، اس نے دوبارہ تسبیح وتقدیس کے گن گائے ، آپ نے فرمایا:میرے خالق کاذکر دوبارہ کرو؛میرا  ہرقسم کا مال ومنال جو بکریاں ‘ غلام اورجوکچھ تم دیکھ رہے ہو وہ سارے کا سارا تمہارے لئے ہی ہے۔
(روح البیان ، ج 7ص474، الصافات :104،105)
حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنا مال ذکر الہی کے لئے خرچ کرکے بتادیا کہ محبت الہی میں اس درجہ فناہوجاؤ کہ مال کی محبت تمہیں راہِ خدا میں خرچ کرنے سے نہ روکے ،دنیا اوردنیاکی دولت رب نے عطا کی ہے تو اس دنیوی دولت کے عوض اللہ تعالی سے دولتِ عقبیٰ خریدنی چاہئے، اخرو ی درجات اور اعلی مراتب کا سوال کرنا چاہئے۔ اس کے برخلاف مال کی محبت میں منہمک ہوکر آخرت سے غفلت کرنا‘دولت عقبیٰ سے محروم ہوجانااور راہ خدامیںخرچ نہ کرنا،بندگی کا تقاضانہیں۔
قوم کے لئے دعوت حق
سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی قوم کو مسلسل حق کی دعوت دیتے رہے ، بت پرستی کے عواقب ونتائج بیان فرماتے رہے اور خدائے واحد کی عبادت سے دنیا وآخرت میں کیا فوائد ہیں ‘ یہ سمجھاتے رہے ، دعوت دین کے میدان میں آپ نے جہدِ مسلسل وسعی پیہم کی ‘ لیکن قوم نے کورِ باطن واندرونی خباثت کی وجہ سے دعوتِ حق کو قبول نہ کیا ۔
آتش کدہ گلزاربن گیا
حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام مسلسل ہدایت کی دعوت دیتے اور بت پرستی سے منع فرماتے رہے ،لوگوں کے دل چونکہ مسخ ہوچکے تھے اسی لئے انہوں نے مضبوط دلائل کے باوجود نہ ہدایت پائی اور نہ اس کی اشاعت میں حصہ لیا ، بلکہ راہ حق سے روکنے کی مذموم سعی کی اور حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اذیتیں پہنچانے لگے ، جب لوگ آپ کے دلائل کے سامنے عاجزہوگئے توآپ کو آگ میں ڈالنے کے مشورے کرنے لگے اور منصوبے بنانے لگے ، لوگوں نے کہا ایک بڑی عمارت بناکر اس میں آگ کو خوب دہکا یاجائے اور آپ کو اس آگ میں ڈالا جائے ۔قرآن شریف میں ان کا قول اس طرح مذکور ہے :
 قَالُوا ابْنُوا لَهٗ بُنْیَانًا فَأَلْقُوْهُ فِی الْجَحِیمِ .
وہ کہنے لگے : اُن کے لئے ایک آتش خانہ بناؤ ‘ پھر ان کو دہکتی آگ میں ڈالدو۔
(سورۃ الصافات۔97)
اور سورۃ الانبیاء میں مذکورہے :
قَالُوا حَرِّقُوهُ وَانْصُرُوا آَلِهَتَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ فَاعِلِین.
لوگوں نے کہا (حضرت )ابراہیم کو جلادو اور اپنے خداؤں کی مدد کرو اگرتم کرنے والے ہو۔
(سورۃ الانبیاء۔68)
اس آیت کریمہ کے تحت علامہ قاضی ثناء اللہ نقشبندی پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر مظہری میں لکھتے ہیں :
قال ابن اسحق کانوا یجمعون الحطب شهرا فلما جمعوا ما أرادوا واشعلوا فی کل ناحية من الحطب فاشتعلت النار واشتدت حتی ان کان الطائر لتمربها فتحرق من شدة وهجها فاوقدوا عليها سبعة ایام روی انهم لم یعلموا کیف یلقونه فيها فجاء إبلیس فعلمهم علم المنجنیق فعلموا ثم عمدوا إلی ابراهیم فرفعوه إلی راس البنیان وقیدوه ثم وضعوه فی المنجنیق مقیدا مغلولا فصاحت السموات والأرض ومن فيها من الملئکة وجمیع الخلق .... فلما أرادوا القائه فی النار أتاه خازن المیاه فقال ان أردت أخمدت النار وأتاه خازن الریاح فقال ان شئت طیرت النار فی الهواء فقال ابراهیم لا حاجة لی إلیکم حسبی اللّه ونعم الوکیل .
حضرت ابن اسحاق نے فرمایا : لوگوں نے ایک مہینہ لکڑیاں جمع کیں، جب لکڑیاں جمع کرچکے توتمام لکڑیوں میں آگ جلائی ‘ پھر آگ بھڑک اٹھی اور اس کے شعلے اتنے بلند ہونے لگے کہ اگر کوئی پرندہ اس کے پاس سے بھی گزرتاتو اس کی گرمی کی شدت سے مرجاتا۔ انہوں نے سات روز ان لکڑیوں کو جلتے رہنے دیا۔ اب انہیں یہ معلوم نہیں ہورہاتھا کہ اس بھڑکتی آگ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کیسے ڈالیں ؟ انسان کاازلی دشمن شیطان آگیا، اس نے انہیں منجنیق بنانے کی تعلیم دی اوراس کے ذریعہ پھینکنے کا مشورہ دیا،وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک بلند عمارت پر لے گئے ،آپ کے ہاتھ پیر باندھ کر منجنیق میں ڈال دیا،اس منظر کو دیکھ کر جن وانس کے سوا زمین وآسمان کی ہرچیز کی چیخ نکل گئی۔۔ ۔ ۔ جب انہوں نے آپ کو آگ میں ڈالنے کا ارادہ کیا تو پانی کا فرشتہ حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا :اے ابراہیم علیہ السلام !اگر آپ چاہیں تو میں اس آگ کو یکدم بجھادوں ؟ ہوا کا فرشتہ آیا عرض کیا: ابراہیم علیہ السلام!اگرآپ چاہیں تو میں اس آگ کو ہوا سے اڑادوں ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کمالِ استغناء کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا:مجھے تمہاری مدد کی کوئی ضرورت نہیں ، میرا اللہ کافی ہے اور وہ بہترکار ساز ہے ۔
(التفسیر المظھری،سورۃ الانبیاء۔68)
وروی عن أبی بن کعب ان ابراهیم قال حین أوثقوه لیلقوه فی النار لا اله الا أنت سبحانک لک الحمد ولک الملک لا شریک لک ثم رموا به فی المنجنیق إليها واستقبله جبرئیل فقال یا ابراهیم ألک حاجة قال اما إلیک فلا قال جبرئیل قال ربک فقال ابراهیم حسبی من سوالی علمه بحالی.
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے کے لئے جب انہوں نے باندھا تو آپ نے " لا اله الا أنت سبحانک لک الحمد ولک الملک لا شریک لک" پڑھا ‘پھر انہوں نے آپ کو جب منجنیق میں بٹھادیا،اس وقت حضرت جبریل امین حاضر ہوئے ، عرض کی : اے ابراہیم علیہ  السلام ! میرے لائق کوئی خدمت ہو تو حاضر ہوں ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:اے جبریل ! مجھے تمہاری اعانت کی کوئی ضرورت نہیں ۔ جبریل علیہ السلام نے عرض کیا : اپنے رب سے ہی التجا کرلیجئے۔ فرمایا:وہ میرے حال سے خوب واقف ہے مجھے عرض کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔
(تفسیر البغوی ،سورۃ الانبیاء۔68۔ التفسیر المظھری،سورۃ الانبیاء۔68)
     اس کے بعد ان ظالموں نے آپ کو منجنیق کے ذریعہ آگ میں پھینک دیا، جیسے ہی آپ آگ کے قریب ہوئے اللہ تعالی نے آگ کوٹھنڈی ہونے کا حکم فرمایا‘ ارشاد الہی ہے :
قُلْنَا یَا نَارُ کُونِیْ بَرْدًا وَسَلَامًا عَلٰی إِبْرَاهِیْمَ .
ہم نے کہا :اے آگ!ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی بن جا۔
(سورۃ الانبیاء۔69)
       اس آیت کریمہ کے تحت صاحبِ تفسیر مظھری فرماتے ہیں :
 ومن المعروف فی الآثار أنه لم یبق یومئذ نار فی الأرض إلا طفئت فلم ینتفع فی ذلک الیوم بنار فی العالم ولو لم یقل وسلاما علی إبراہیم بقیت ذات برد أبدا.
مشہور روایتوں میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب آگ کوٹھنڈی ہونے کا حکم فرمایا تو اس دن روئے زمین پر کوئی آگ دہکتی نہ رہی سب بجھ گئیں اور دنیا میں کسی شخص نے اس دن آگ سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا ، پھر اگر اللہ تعالیٰ ’’ابراہیم پر سلامتی‘‘ نہ فرماتا تو آگ ہمیشہ کے لئے ٹھنڈی ہوجاتی ۔
   آگ پہلے کی طرح جلانے کی صفت سے متصف تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے اسے اذیت اور تکلیف سے خالی کردیا جیسا کہ ’’علی ابراہیم‘‘کے الفاظ دلالت کرتے ہیں۔
قال السدی:فأخذت الملائکة بضبعی إبراهیم فأقعدوه علی الأرض فإذا عین ماء عذب وورد أحمر ونرجس ، قال کعب:ما أحرقت النار فی إبراهیم إلا وثاقه قالوا : وکان إبراهیم فی ذلک الموضع سبعة أیام ، قال المنهال بن عمرو: قال إبراهیم  ما کنت أیاما قط أنعم منی من الأیام التی کنت فيها فی النار قال ابن یسار: وبعث الله عزو جل ملک الظل فی صورة إبراهیم فقعد فيها إلی جنب إبراهیم یؤنسه قالوا وبعث الله جبریل بقمیص من حریر الجنة وطنفسة فألبسه القمیص وأقعده علی الطنفسة وقعد معه یحدثه وقال جبریل : یا إبراهیم إن ربک یقول : أما علمت أن النار لا تضر أحبابی ثم نظر نمرود وأشرف علی إبراهیم من صرح له فرآه جالسا فی روضة والملک قاعد إلی جنبه وما حوله نار تحرق الحطب فناداه :یا إبراهیم کبیر إلهک الذی بلغت قدرته،أن حال بینک وبین ما أری یا إبراهیم هل تستطیع أن تخرج منها ؟ قال : نعم قال : هل تخشی إن أقمت فيها أن تضرک ؟ قال لا قال : فقم فاخرج منها فقام إبراهیم یمشی فيها حتی خرج منها فلما خرج إلیه قال له : یا إبراهیم من الرجل الذی رأیته معک فی صورتک قاعدا إلی جنبک ؟ قال : ذلک ملک الظل أرسله إلی ربی لیؤنسنی فيها فقال نمرود : یا إبراهیم إنی مقرب إلی إلهک قربانالما رأیت من قدرته وعزته فیما صنع بک حین أبیت إلا عبادته وتوحیده إنی ذابح له أربعة آلاف بقرة فقال له إبراهیم : إذا لا یقبل الله منک ما کنت علی دینک حتی تفارقه إلی دینی فقال : لا أستطیع ترک ملکی ولکن سوف أذبحها له فذبحها له نمرود ثم کف عن إبراهیم ومنعه الله منه قال شعیب الجبائی : ألقی إبراهیم فی النار وهو ابن ست عشرة سنة .
علامہ سدی کہتے ہیں فرشتوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پہلوؤں سے پکڑا اور بڑے آرام سے زمین پر بٹھادیا ، جب آپ اس آتشکدہ میں اترے تو وہاں میٹھے پانی کا چشمہ تھا اور سرخ رنگ کے گلاب کے خوبصورت پھول تھے، حضرت کعب فرماتے ہیں آگ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بال بھی بیکانہ کیا لیکن جن رسیوں سے آپ کو باندھا گیا تھا انہیں جلادیا ، علماء فرماتے ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں سات دن رہے تھے ، منہال بن عمر و فرماتے ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا : جودن میں نے آگ میں گزارے وہی دن میری زندگی کے عمدہ ترین دن تھے ، اللہ تعالیٰ نے ان ایام میں خصوصی انعامات سے نواز تھا ۔
ابن یسار فرماتے ہیں اللہ تعالی نے سائے کے فرشتے کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی صورت میں بھیجا، وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پہلومیں بیٹھ کرانس ومحبت کی باتیں کرتا تھا ، فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو جنت سے ریشمی قمیص اور جائے نماز دے کر بھیجا ، جبرئیل نے قمیص آپ کو پہنادی اور جائے نماز پربٹھادیا اور پھر جبرئیل علیہ السلام ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنے لگے ، جبرئیل نے کہا اے ابراہیم !اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کیاتمہیں معلوم نہیں کہ آگ ہمارے محبوبوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتی ،  پھر نمرود نے اپنے محل کی بالکونی سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو عجب نظارہ دیکھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک باغیچہ میں بیٹھے ہوئے ہیں اور فرشتہ آپ کے پہلومیں بیٹھ کر محوگفتگو ہے ، جبکہ آپ کے ارد گرد آگ لکڑیوں کو جلارہی ہے ، نمرود نے اپنے محل کے اوپر سے آوازدی ،اے ابراہیم !آپ کے خداوند عظیم کی قدرت کا یہ کرشمہ ہے کہ اس نے آپ کے درمیان اورآگ کے درمیان اپنی حفاظت سے جو روک لگادی اُسے دیکھ رہاہوںاے ابراہیم !کیا آپ اس آگ سے نکل بھی سکتے ہیں فرمایا ہاں ، پھر نمرودنے پوچھا کیا آپ کو کوئی خدشہ ہے کہ اگرآپ اس میں ٹھہرے رہیں تو یہ آگ آپ کو جلا دے گی ؟فرمایا نہیں ، نمرود نے کہا پھر کھڑے ہوجائیے اور باہر نکل آئیے،حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ کے شعلوں کے درمیان سے چلتے ہوئے باہر تشریف لائے ، جب آپ باہر آچکے تو نمرود نے پوچھا اے ابراہیم! آگ میں آپ کے ساتھ کو ن تھا ؟وہ تو بالکل آپ کی تصویر تھا اور آپ کے پہلو میں بیٹھاتھا ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا وہ سایہ کا فرشتہ تھا ، اللہ تعالیٰ نے اسے میری طرف بھیجا تھا تاکہ میری تنہائی کی اکتاہٹ کو دورکرے تو نمرود نے کہا میں آپ کے خداوندعظیم کے لئے قربانی دینا چاہتا ہوں
کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ جب آپ نے سارے خداؤں کی عبادت سے منہ موڑکر اس کی عبادت اور توحید کو اپنایا تو اس نے جوآپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے میں اپنی سطوت و قدرت کا کرشمہ دکھا یا ہے اس سے میں بہت متاثر ہوا ہوں ، میں اس کی رضا کے لئے چارہزارگائے ذبح کروںگا ، حضرت ابراہیم نے فرمایا جب تک تو مشرکانہ عقائد کا حامل اور اس غلط دین کا پیروہے اللہ تعالیٰ تیری قربانی قبول نہیں فرمائے گا ، تو اپنا یہ باطل مذہب چھوڑے گا تب تیری کوئی قربانی قبول ہوگی ، نمرود نے کہا میں اپنی سلطنت تو چھوڑنہیں سکتا ، آپ کا دین اپنا نے میں مجھے اپنی بادشاہی سے ہاتھ دھونے پڑیں گے لیکن میں اس کے لئے گائیں ذبح کروں گا ، تو نمرود نے گائیںذبح کیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کوئی زک پہنچا نے سے باز آگیا ، اس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے یہ منظر دکھا کر حضرت ابراہیم کو اس کی سختیوں اور پابندیوں سے بچالیا ۔شعیب جبائی فرماتے ہیں جب حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالا گیا تو اس وقت آپ کی عمر سولہ سال تھی۔
(التفسیر المظھری ، سورۃ الانبیاء ۔ 69)
اللہ تعالی نے آگ کو ٹھنڈی ہونے کے ساتھ سلامتی بن جانے کاحکم فرمایا؛کیونکہ کوئی چیززیادہ ٹھنڈی ہوجائے تو نقصان کا اندیشہ ہوتاہے، اس لئے فرمایا:ایسی ٹھنڈی ہوکہ سردی بھی نہ ہونے پائے ۔
     حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نہیں جلایا‘آگ میں جلانے کی قوت وصلاحیت جس پروردگار نے رکھی ہے اُسی کا حکم ہوا کہ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہوجا۔
     حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام تسلیم ورضا کے مقام پر تھے ، آپ نے رضا بالقضاء کے پیکر بن کر آگ میں ڈالے جانے کو قبول کیا کہ اگر فیصلۂ خداوندی یہی ہے اور جان جاتی ہے تو جائے ‘میں ہر حال میں اپنے رب کے فیصلہ کو تسلیم کرنے والا اور اس کے منشأ کے مطابق ہی چلنے والاہوں ۔
     حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ سے صحیح وسلامت باہر تشریف لائے ، آگ آپ کو معمولی نقصان بھی نہ پہنچاسکی ، اس عظیم معجزہ کو دیکھ کر بھی وہ لوگ مشرف بہ اسلام نہیں ہوئے توآپ نے حکم الہی کے مطابق اپنا وطن ترک کیا اور وہاں سے ہجرت کرکے ملک شام کی طرف کوچ فرمایا، جیساکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
وَقَالَ إِنِّی ذَاهِبٌ إِلَی رَبِّی سَیَهْدِینْ .
اور آپ نے کہا میں ایسی جگہ جانے والاہوں جہاں کا رب نے حکم فرمایا،یقینا وہ مجھے منزل تک پہنچائے گا۔
(سورۃالصافات ۔99)
     علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:
وَقالَ ابراهیم حین خرج من النار سالما ولم یؤمنوا به إِنِّی ذاهِبٌ إِلی رَبِّی یعنی اهجر دار الکفر واذهب إلی حیث اتجرد فیه بعبادة ربی سَیَهْدِینِ(99) ۔۔۔  یعنی خرج من النار سالما وقال انّی ذاهب إلی ربّی سیهدین إلی ما فیه صلاح دینی أو إلی مقصد قصدته حیث أمرنی ربی وهو الشام وحینئذ فرّ ابراهیم هاربا مع سارة من ارض بابل من خوف نمرود وکانت سارة من أجمل نساء عصرها ومرّ بحدود مصر وفرعونها یومئذ صادف بن صادف،فغصب سارة من ابراهیم فحمل صادف الجبار سارة إلی قصره وجعل اللّه الجدر والستور لابراهیم کقشر البیضة ینظر إلیها کیلا یقید قلبه إلیها وکان رجلا غیورا . فلمّا همّ بها زلزل القصر فلم یدر ان ذلک من أجلها فتحول إلی القصر الثانی فزلزل به فتحول إلی القصر الثالث فزلزل به فقالت سارة هذا من إلی ابراهیم رد إلیه امرأته۔وفی روایة فلمّا مدّ یده إلیها شلت یده،فاستغاث صادف بسارة وطلب الدعاء فدعت سارة فعادت الید کما کانت فمدیده إلیها ثانیة فصارت مشلولة فطلب الدعاء منها ثانیا وعهد ان لا یفعل لهذا الفعل فدعت السارة فمد یده إلیها ثالثة فشلت یده ثالثا وحلف ان عوفی ان لا یفعل ابدا فدعت سارة فصحت یده .
وروی أحمد فی مسنده والبخاری ومسلم عن أبی هریرة عن النبی صلی اللّه علیه وسلم بینا هو ذات یوم وسارة إذ اتی علی جبار من الجبابرة فقیل له ان هاهنا رجل معه امراة من احسن الناس فارسل إلیه فساله عنها فقال من هذه قال أختی فاتی سارة فقال یا سارة لیس علی وجه الأرض مؤمن غیری وغیرک وان هذا سالنی فاخبرته انک أختی فلا تکذبنی فارسل إلیها فلمّا دخلت علیه ذهب یتناولها بیده فاخذ فقال ادعی اللّه لی ولا اضرک فدعت اللّه فاطلق ثم تناولها ثانیا فاخذ مثلها أو أشد فقال ادعی اللّه لی ولا اضرک،فدعت اللّه فاطلق فدعا بعض حجبته وهو قائم یصلی فاومی بیده مهیم قالت رد اللّه کید الفاجر فی نحره وأخدمنی هاجر.
حضرت ابراہیم علیہ السلام جب آگ سے صحیح وسلامت باہر تشریف لائے اور مشرک اتنا بڑا معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے تو آپ نے فرمایا میں تمہارے دارالکفر کو چھوڑ کر جارہاہوں اور میں ایسی جگہ جارہا ہوں جہا ں میں سکون اور دلجمعی کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کروں گا ، جب آپ آگ سے سلامتی کے ساتھ باہر تشریف لائے تو فرمایا میں اپنے رب کی طرف جارہا ہوں ، وہ میری ایسی جگہ رہنمائی فرمائے گا جہاں میرے دین کی صلاح ہوگی یا یہ معنی کہ میں وہا ں کا قصد کروں گا جہاں کا میرا رب مجھے حکم فرمائے گا تو آپ شام تشریف لے گئے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نمرود کے خوف سے بابل کی زمین سے حضرت سارہ کو لے کر نکل پڑے اور حضرت سارہ اپنے زمانہ کی تمام عورتوں سے زائد حسین وجمیل تھیں اور آپ مصر کی حدود سے گزرے ، جبکہ مصرکا فرعون اس وقت صادف بن صادف تھا۔(مصر کے باشاہ کا لقب فرعون ہوتا تھا)اس نے حضرت ابراہیم سے حضرت سارہ کو چھین لیا اور انہیں اپنے محل میں لے گیا، االلہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے لئے دیواروں اور پردوں کو انڈے کے پردے کی طرح باریک بنادیا تاکہ آپ حضرت سارہ کو دیکھتے رہیں اور آپ کا دل مطمئن رہے ، آپ انتہائی غیرت مند شخصیت کے مالک تھے، جب اس ظالم نے حضرت سارہ کا ارادہ کیا تو محل میں زلزلہ آگیا ، ظالم کو معلوم نہ ہوا کہ یہ زلزلہ حضرت سارہ کی وجہ سے ہے وہ دوسرے محل میں منتقل ہوگیا تو وہ بھی لرزنے لگا،وہ تیسرے محل میں چلاگیا تو وہ بھی اسی طرح لرزنے لگا کو آپ کی زوجہ مطہرہ واپس کردی ، حضرت سارہ نے کہا یہ سب کچھ ابراہیم کی وجہ سے لرزرہا ہے ، فرعون نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کوآپ کی زوجہ مطہرہ واپس کردی ، ایک اور رو ایت میں ہے کہ جب فرعون نے حضرت سارہ کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اس کا ہاتھ شل ہوگیا،اس نے حضرت سارہ سے فریاد کی اور دعا کی درخواست کی ، حضرت سارہ نے اس کی درستگی کے لئے دعافرمائی ، اس کا ہاتھ پہلے کی طرح بالکل ٹھیک ہوگیا ، فرعون نے دوبارہ آپ کی طرف ہاتھ بڑھایا پھر وہ مفلوج ہوگیا ، اس نے دوبارہ آپ سے دعا کی درخواست کی اور وعدہ کیا کہ پھر ایسی حرکت نہیں کرے گا، حضرت سارہ نے دعافرمائی تو وہ ہاتھ ٹھیک ہوگیا ، اس بے غیرت نے تیسری مرتبہ پھر ہاتھ بڑھایا ، وہ ہاتھ پھر شل ہوگیا ، اب اس نے قسم کھائی کہ اب اگر ہاتھ ٹھیک ہوگیاتو پھر ہر گزایسی حرکت نہیں کروں گا ، حضرت سارہ دعافرمائی اور ہاتھ ٹھیک ہوگیا ۔امام احمد نے اپنی مسند میں اور امام بخاری اور مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دن حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت سارہ کی معیت میں ایک جابر بادشاہ کے پاس سے گزرے،جب کہ اس بادشاکو پہلے خبردی گئی تھی کہ یہاںایک آدمی آیا ہے جس کے ساتھ ایک خوبصورت عورت ہے ، بادشاہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بلایا اور سارہ کے متعلق پوچھا کہ اس سے تمہارا کیا رشتہ ہے؟ آپ نے فرمایا وہ میری بہن ہے ، حضرت ابراہیم یہ جواب دے کر جب سارہ کے پاس تشریف لائے تو فرمایا اے سارہ روئے زمین پر میرے اورتمہارے سواکوئی مومن نہیں ہے ، اس ظالم بادشاہ نے تمہارے متعلق مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا وہ میری بہن ہے تو میری تکذیب نہ کرنا، (کیونکہ اسلام او رایمان کے رشتہ سے حقیقت میں تم میری بہن ہو) بادشاہ نے حضرت سارہ کو بلایا ، جب آپ بادشاہ کے دربار میں پہنچیں تو اس نے بدنیتی سے آپ کی طرف ہاتھ بڑھایا لیکن وہ شل ہو گیا ، بادشاہ نے حضرت سارہ سے دعا کی درخواست کی اور کہا میں تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچاؤں گا،حضرت سارہ نے دعافرمائی اس کا ہاتھ ٹھیک ہوگیا،پھراس نے دوبارہ ہاتھ بڑھایا توپہلے سے زیادہ اس کا ہاتھ شل ہوگیا،بادشاہ نے کہا:میرے حق میں اللہ تعالی سے دعاکرو؛میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا،آپ نے دعا کی تو اس کا ہاتھ ٹھیک ہوگیا،پھر بادشاہ نے اپنے درباری کو بلایا اور کہا تو میرے پاس کسی انسان کو نہیں کسی جن کو لایا ہے ،بادشاہ نے حضرت سارہ کو خدمت کے لئے ایک باندی ہاجرہ پیش کی ، جب حضرت سارہ ہاجرہ کو لے کر حضرت ابراہیم کے پاس پہنچیں تو آپ کھڑے ہوکر نماز پڑھ رہے تھے ، حضرت ابراہیم نے ہاتھ کے اشارہ سے فرمایا کیا ہوا ؟ حضرت سارہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فاجر کے مکر اور سازش کو اس کے سینے میں لوٹادیا اور اس نے مجھے خدمت کے لئے ہاجرہ باندی دی ہے۔
حضرت سارہ کے بطن سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ ہاجرہ ایک قابل رغبت عورت ہے انہیں اپنی خدمت میں قبول فرمالیں ہوسکتا ہے ان کے بطن سے آپ کو اولا د ہوجائے۔
فرزندِ دلبندکی خوشخبری
     اب تک آپ کو اولاد نہ ہوئی تھی ، اس ہجرت کے بعد آپ نے رب کائنات سے التجاکی کہ اولاد کی نعمت بخشے:
رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصَّالِحِیْنْ.
اے میرے رب مجھے فرزندِ صالح عطافرما۔
(سورۃالصافات ۔100)
     اللہ کے محبوب بندوں کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے ، حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعاقبول ہوئی،اللہ تعالی نے آپ کو فرزند ہمت بلند سرفراز کرنے کی خوشخبری عطافرمائی ‘ چنانچہ ارشادِ الہی ہے :
فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِیْمٍ.
توہم نے اُنہیں ایک بردبار صاحبزادہ کی بشارت دی۔
(سورۃالصافات ۔101)
اِس آیتِ کریمہ میں کلمہ ’’غلام ‘‘کے ذریعہ بتایاگیا کہ حضرت خلیل کو لڑکا ہوگا اور وہ ایسی عمر پائینگے جس میں عقل کمال وبلندی تک پہنچتی ہے اور انسان کا شمار اربابِ عقل ودانش میں ہونے لگتاہے۔(خازن، سورۃالصافات ۔101)
حضرت ابراہیم کا مثالی خاندان
یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ایک اور امتحان لیا جاتا ہے،عمر شریف کے اس حصہ میں شہزادہ عطا کیا گیا ،پھر حکم ہوتا ہے کہ اپنے شہزادہ او ر اہلیہ کو ایک ایسے مقام پر چھوڑآؤ جہاں نہ کوئی گھاس ہو نہ پانی،حکم الہی کی تعمیل میں آپ نے اپنے شیرخوار شہزادہ کو بے آب وگیاہ مقام پر چھوڑدیا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام ‘حضرت ہاجرہ علیہا السلام اور اپنے شہزادہ کو مکہ مکرمہ لے آئے،اور انہیں بیت اللہ شریف کے قریب ایک درخت کے نیچے بٹھا دیا، اس وقت مکہ مکرمہ میں نہ کوئی انسان تھا اور نہ ہی وہاں پانی موجود تھا۔ آپ نے انہیں ایک چمڑے کا تھیلادیا جس میں کھجورتھے اور پانی سے بھرا ہوا ایک چھوٹا مشکیزہ دیا۔
جب آپ واپس جانے لگے تو حضرت ہاجرہ علیہا السلام عرض کرنے لگیں:آپ ہمیں اس جنگل میں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہو؛ جہاں نہ کوئی انسان ہے اور نہ کوئی اور چیز؟ وہ بارہا یہی کہتی رہیں لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انھیں مڑ کر بھی نہیں دیکھا،تب حضرت ہاجرہ علیہا السلام نے عرض کیا:کیا اللہ تعالی نے آپ کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا : ہاں!تو حضرت ہاجرہ علیہا السلام نے کہا:اذالایضیعناپھر تواللہ ہمیں ضائع نہیں فرمائے گا، یہ کہہ کر وہ اطمِنان کے ساتھ واپس لوٹ آئیں اورحضرت ابراہیم علیہ السلام بھی وہاں سے تشریف لے گئے۔
جب آپ ثنیہ گھاٹی پر پہنچے جہاں سے وہ آپ کو نہیں دیکھ سکتے تھے ‘وہاں رک گئے اور کعبۃ اللہ شریف کی جانب رُخ کیااوراپنے دستہائے اقدس اٹھاکر ان کلمات کے ساتھ دعا کی: اے ہمارے پروردگار! میں نے اپنی اولاد کو تیرے محترم گھر کے پاس اس بے آب وگیاہ مقام پر ٹھہرایا ،اے ہمارے پروردگار!تاکہ یہ نمازیں پڑھیں،اور تو لوگوں کے دلوں کو ایسا کردے کہ ان کی طرف جھکے رہیں،اور ان کو میوؤں سے روزی عطا فرما،تاکہ وہ تیرا شکر بجالائیں۔(سورۃ ابراہیم،37)
     صحیح بخاری شریف میں حدیث پاک ہے:
عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَوَّلَ مَا اتَّخَذَ النِّسَاء ُ الْمِنْطَقَ مِنْ قِبَلِ أُمِّ إِسْمَاعِیلَ ، اتَّخَذَتْ مِنْطَقًا لَتُعَفِّیَ أَثَرَهَا عَلَی سَارَةَ ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا إِبْرَاهِیمُ ، وَبِابْنِهَا إِسْمَاعِیلَ وَهْیَ تُرْضِعُهُ حَتَّی وَضَعَهُمَا عِنْدَ الْبَیْتِ عِنْدَ دَوْحَةٍ ، فَوْقَ زَمْزَمَ فِی أَعْلَی الْمَسْجِدِ،وَلَیْسَ بِمَکَّةَ یَوْمَئِذٍ أَحَدٌ ، وَلَیْسَ بِهَا مَاء ٌ،فَوَضَعَهُمَا هُنَالِکَ ، وَ وَضَعَ عِنْدَهُمَا جِرَابًا فِیهِ تَمْرٌ وَسِقَاء ً فِیهِ مَاء ٌ ، ثُمَّ قَفَّی إِبْرَاهِیمُ مُنْطَلِقًا فَتَبِعَتْهُ أُمُّ إِسْمَاعِیلَ فَقَالَتْ یَا إِبْرَاهِیمُ أَیْنَ تَذْهَبُ وَتَتْرُکُنَا بِهَذَا الْوَادِی الَّذِی لَیْسَ فِیهِ اَنیسٌ وَلاَ شَیْء ٌ فَقَالَتْ لَهُ ذَلِکَ مِرَارًا ، وَجَعَلَ لاَ یَلْتَفِتُ إِلَیْهَا فَقَالَتْ لَهُ آللَّهُ الَّذِی أَمَرَکَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ . قَالَتْ إِذًا لاَ یُضَیِّعُنَا . ثُمَّ رَجَعَتْ ، فَانْطَلَقَ إِبْرَاهِیمُ حَتَّی إِذَا کَانَ عِنْدَ الثَّنِیَّةِ حَیْثُ لاَ یَرَوْنَهُ اسْتَقْبَلَ بِوَجْهِهِ الْبَیْتَ ، ثُمَّ دَعَا بِهَؤُلاَءِ الْکَلِمَاتِ وَرَفَعَ یَدَیْهِ ، فَقَالَ (رَبَّنَا إِنِّی أَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِی بِوَادٍ غَیْرِ ذِی زَرْعٍ )حَتَّی بَلَغَ(یَشْکُرُونَ ). وَجَعَلَتْ أُمُّ إِسْمَاعِیلَ تُرْضِعُ إِسْمَاعِیلَ ، وَتَشْرَبُ مِنْ ذَلِکَ الْمَاءِ ، حَتَّی إِذَا نَفِدَ مَا فِی السِّقَاءِ عَطِشَتْ وَعَطِشَ ابْنُهَا ، وَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَیْهِ یَتَلَوَّی ۔ أَوْ قَالَ یَتَلَبَّطُ ۔ فَانْطَلَقَتْ کَرَاهِیَةَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَیْهِ ، فَوَجَدَتِ الصَّفَا أَقْرَبَ جَبَلٍ فِی الأَرْضِ یَلِیهَا ، فَقَامَتْ عَلَیْهِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَتِ الْوَادِیَ تَنْظُرُ هَلْ تَرَی أَحَدًا فَلَمْ تَرَ أَحَدًا ، فَهَبَطَتْ مِنَ الصَّفَا حَتَّی إِذَا بَلَغَتِ الْوَادِیَ رَفَعَتْ طَرَفَ دِرْعِهَا ، ثُمَّ سَعَتْ سَعْیَ الإِنْسَانِ الْمَجْهُودِ ، حَتَّی جَاوَزَتِ الْوَادِیَ ، ثُمَّ أَتَتِ الْمَرْوَةَ ، فَقَامَتْ عَلَیْهَا وَنَظَرَتْ هَلْ تَرَی أَحَدًا ، فَلَمْ تَرَ أَحَدًا ، فَفَعَلَتْ ذَلِکَ سَبْعَ مَرَّاتٍ .
       قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ النَّبِیُّ صلی الله علیه وسلم فَذَلِکَ سَعْیُ النَّاسِ بَیْنَهُمَا .فَلَمَّا أَشْرَفَتْ عَلَی الْمَرْوَةِ سَمِعَتْ صَوْتًا ، فَقَالَتْ صَهٍ . تُرِیدَ نَفْسَهَا ، ثُمَّ تَسَمَّعَتْ،فَسَمِعَتْ أَیْضًا ، فَقَالَتْ قَدْ أَسْمَعْتَ ، إِنْ کَانَ عِنْدَکَ غِوَاثٌ . فَإِذَا هِیَ بِالْمَلَکِ ، عِنْدَ مَوْضِعِ زَمْزَمَ ، فَبَحَثَ بِعَقِبِهِ ۔ أَوْ قَالَ بِجَنَاحِهِ ۔ حَتَّی ظَهَرَ الْمَاء ُ ، فَجَعَلَتْ تُحَوِّضُهُ وَتَقُولُ بِیَدِهَا هَکَذَا ، وَجَعَلَتْ تَغْرِفُ مِنَ الْمَاءِ فِی سِقَائِهَا ، وَهْوَ یَفُورُ بَعْدَ مَا تَغْرِفُ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ النَّبِیُّ صلی الله علیه وسلم .
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے،آپ نے فرمایا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا: خواتین میں سب سے پہلے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ سیدہ ہاجرہ علیہا السلام نے کمرپٹا باندھا۔۔۔۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آپ کو اور آپ کے شہزادہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کو(مکہ مکرمہ) لے آئے ، اور ہاجرہ علیہاالسلام  (اسوقت)حضرت اسماعیل علیہا السلام کو دودھ پلاتی تھیں اور انھیں بیت اللہ کے قریب مسجد کی بلند جانب ایک درخت کے نیچے بٹھا دیا جو اس مقام پر ہے جہاں آب  زمزم ہے ، اس وقت مکہ مکرمہ میں کوئی آباد نہ تھا، اور نہ ہی وہاں پانی تھا ۔پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام  نے ان حضرات کو وہاں بٹھا یا اور چمڑے کا ایک تھیلا کھجوروں سے( بھرا ہوا ) اور پانی سے بھرا ہوا ایک چھوٹا مشکیزہ دیا ۔ پھر جب آپ واپس جانے لگے تو حضرت ام اسمعیل علیہا السلام ان کے پیچھے ہوئیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے عرض کرنے لگیں ! ہمیں اس وادی میں چھوڑکر کہاں جارہے ہو
کہ جہاں نہ کوئی مونس وغمگسارہے اور نہ کوئی اور چیز؟ حضرت ہاجرہ علیہا السلام نے بارہا یہی الفاظ دہرائے  لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام  نے انھیں نہیں دیکھا تو ہاجرہ علیہا السلام نے کہا کہ کیا اللہ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے ؟ حضرت  ابراہیم علیہ السلام  نے فرمایا: ہاں  انھوں نے جواب دیا کہ پھر تو اللہ تعالی  ہمیں ضائع ہونے نہیں دیگا، یہ کہہ کر وہ واپس لوٹ آئیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام واپس جانے لگے یہاں تک کہ جب اس پہاڑی پر پہنچے جہاں سے آپ انہیں دکھائی نہ دے سکتے تھے تو آپ نے کعبۃ اللہ شریف کی طرف رخ کیا پھر ان کلمات کے ساتھ دونوں ہاتھ بلند کر کے دعا کی:اے ہمارے پروردگار! میں نے اپنی اولاد کو تیرے محترم گھر کے پاس اس بے آب وگیاہ مقام پر ٹھہرایا ،اے ہمارے پروردگار!تاکہ یہ نمازیں پڑہیں،اور تو لوگوں کے دلوں کو ایسا کردے کہ ان کی طرف جھکے رہیں،اور ان کو میوں سے روزی عطا فرما،تاکہ وہ تیرا شکر بجالائیں۔(سورۃ ابراہیم،37)
اور سیدہ ہاجرہ علیہا السلام حضرت اسماعیل علیہا السلام  کو دودھ پلاتی اور خود مشکیزہ میں سے پانی پیتی پلاتی رہیں ،یہاں تک کہ جب مشکیزہ میں پانی ختم ہو گیا،جس کے باعث آپ کو اور آپ کے لخت جگر کو پیاس محسوس ہوئی،جب آپ نے دیکھا کہ شہزادہ پیاس کی وجہ بے تاب ہورہے ہیں یا فرمایا کہ ایڑیاں رگڑر رہے ہیں، تو وہ اس منظر کو دیکھ کرپانی کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئیں،آپ  کے سامنے صفا پہاڑ قریب ہی تھا آپ اس پر چڑھ گئیں پھر وادی میں دیکھا کہ شاید کوئی نظر آئے لیکن کوئی بھی نظر نہ آیا پھر آپ وہاں سے اتریں اور اپنا دامن سمیٹ کر نشیب میں اس طرح دوڑیں جیسے کوئی مصیبت زدہ دوڑتا ہے یہاں تک کہ وادی کو پار کرکے مروہ پہاڑی پر پہنچیں اور اس پر چڑھ کر دیکھا کہ شاید کوئی آدمی نظر آئے لیکن کوئی نظر نہ آیا ، پھر اسی طرح ( صفا ومروہ کے درمیان )سات دفعہ چکر لگائے
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے کہا کہ حضرت  رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسی لئے لوگوں کے لئے ان دونوں ( صفا و مروہ )کے درمیان سعی مقرر کی گئی  ہے پھر جب حضرت ہاجرہ علیہا السلام (آخری چکر میں ) مروہ پر چڑھیں تو انھوں نے ایک آواز سنی تو  آپ کے دل میں خیال آیا کہ اس کو سننا چاہئیے، پھر وہی آواز سنی تو کہنے لگیں کہ ( اے اللہ کے بندے !تو جو کوئی بھی ہے ) میں نے تیری آواز سن لی ، کیا تو ہماری کوئی مدد کرسکتا ہے؟ اسی دوران انہوں نے  دیکھا کہ آب زمزم (چشمہ والی جگہ ) کے قریب ایک فرشتہ (حضرت جبریل) ہے جو زمین پر اپنی ایڑی مارا ( یا یہ فرمایا کہ ) اپنا پر مارا یہاں تک کہ اس جگہ سے پانی نکلنے لگا ۔ حضرت ہاجرہ علیہا السلام اپنے ہاتھ سے(مٹی سے)اس کے گرد حوض سا بنانے لگیں اور پانی چلو سے بھر بھر کر اپنی مشکیزہ  میں ڈالنے لگیں ، جوں جوں وہ پانی لیتیں وہ چشمہ اور جو ش مارتا جاتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما  فرماتے ہیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:
یَرْحَمُ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِیلَ لَوْ تَرَکَتْ زَمْزَمَ . أَوْ قَالَ لَوْ لَمْ تَغْرِفْ مِنَ الْمَاءِ . لَکَانَتْ زَمْزَمُ عَیْنًا مَعِینًا.قَالَ فَشَرِبَتْ وَأَرْضَعَتْ وَلَدَهَا ، فَقَالَ لَهَا الْمَلَکُ لاَ تَخَافُوا الضَّیْعَةَ ، فَإِنَّ هَا هُنَا بَیْتَ اللَّهِ ، یَبْنِی هَذَا الْغُلاَمُ ، وَأَبُوهُ ، وَإِنَّ اللَّهَ لاَ یُضِیعُ أَهْلَهُ . وَکَانَ الْبَیْتُ مُرْتَفِعًا مِنَ الأَرْضِ  کَالرَّابیةِ ، تَأْتِیهِ السُّیُولُ فَتَأْخُذُ عَنْ یَمِینِهِ وَشِمَالِهِ ، فَکَانَتْ کَذَلِکَ،حَتَّی مَرَّتْ بِهِمْ رُفْقَةٌ مِنْ جُرْهُمَ ۔ أَوْ أَهْلُ بَیْتٍ مِنْ جُرْهُمَ ۔ مُقْبِلِینَ مِنْ طَرِیقِ کَدَاءٍ فَنَزَلُوا فِی أَسْفَلِ مَکَّةَ ، فَرَأَوْا طَائِرًا عَائِفًا. فَقَالُوا إِنَّ هَذَا الطَّائِرَ لَیَدُورُ عَلَی مَاءٍ ، لَعَهْدُنَا بِهَذَا الْوَادِی وَمَا فِیهِ مَاء ٌ ، فَأَرْسَلُوا جَرِیًّا أَوْ جَرِیَّیْنِ ، فَإِذَا هُمْ بِالْمَاءِ ، فَرَجَعُوا فَأَخْبَرُوهُمْ بِالْمَاءِ ، فَأَقْبَلُوا،قَالَ وَأُمُّ إِسْمَاعِیلَ عِنْدَ الْمَاءِ فَقَالُوا أَتَأْذَنِینَ لَنَا أَنْ نَنْزِلَ عِنْدَکِ فَقَالَتْ نَعَمْ،وَلَکِنْ لاَ حَقَّ لَکُمْ فِی الْمَاءِ.قَالُوا نَعَمْ.قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ النَّبِیُّ صلی الله علیه وسلم فَأَلْفَی ذَلِکَ أُمَّ إِسْمَاعِیلَ ، وَهْیَ تُحِبُّ الإِنْسَ  فَنَزَلُوا وَأَرْسَلُوا إِلَی أَهْلِیهِمْ ،فَنَزَلُوا مَعَهُمْ .
اللہ تعالیٰ اسمعیل علیہ السلام کی والدہ پر رحم فرمائے ! اگر وہ زمزم کو اس کے حال پر چھوڑ دیتیں ( حوض نہ بناتیں ) یا ( آپ نے یہ ارشاد فرمایا ) اگر وہ چلو بھر کر ( مشکیزہ بھرنے کے لیے ) پانی نہ لیتیں تو زمزم ایک جاری رہنے والا  چشمہ ہوتا ۔ ( پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے )ارشاد فرمایا : حضرت ہاجرہ علیہا السلام نے خود بھی پانی پیا اور اپنے شہزادہ کو دودھ پلایا ۔ فرشتے نے ان سے کہا کہ تم اپنی جان کا خوف نہ کرو ، بیشک یہاں اللہ کا گھر ہے ، جسے یہ نونہال اور ان کے والد محترم  تعمیر کریں گے اور اللہ اپنے بندوں کو ضائع نہیں کیا کرتا ۔ اور اس وقت بیت اللہ ( کا مقام) ٹیلے کی طرح زمین سے اونچا تھا اور جب برسات کا پانی آتا تو وہ دائیں بائیں سے نکل جا تا ۔ سیدہ ہاجرہ علیہا السلام نے ایک  مدت اسی طرح گزاری یہاں تک کہ جرہم قبیلے کے کچھ لوگ یا  بنی جرہم کے کچھ افراد ان کے پاس سے گزرے جو کداء کے راستے سے آرہے تھے۔وہ مکہ کے نشیب میں اترے ،انھوں نے پرندوں کو وہاں گھومتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ پرندے ضرور پانی کے گرد گھوم رہے ہیں ، مگر ہم اس وادی سے اچھی طرح واقف ہیں اور یہاں پانی کہیں بھی نہیں ہے ۔ پھر انھوں نے ایک یا دو آدمیوں کو پانی کا حال معلوم کرنے کیلئے بھیجا ، انھوں نے دیکھا کہ پانی موجود ہے ، وہ لوٹ کر گئے اور انھیں پانی کی خبر دی ،پھر وہ تمام افراد وہاں  آئے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پانی کے پاس ہی ام اسماعیل علیہا السلام بیٹھی تھیں ۔ ان لوگوں نے کہا کہ کیا آپ ہمیں یہاں اپنے پاس آباد ہونے کی اجازت دیتی ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں اجازت ہے ، لیکن پانی میں تمہارا کوئی حق نہیں ہوگا ، انھوں نے اسے قبول کرلیا ۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما  فرماتے  ہیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:( جرہم کے) لوگوں نے ( وہاں رہنے کی ) اس وقت اجازت مانگی جب خود اسماعیل کی والدہ یہ چاہتی تھی کہ یہاں بستی ہو ۔ پس وہ لوگ وہیں آباد ہوگئے اور پیغام بھیج کر اپنے اہل وعیال کو بھی اسی جگہ بلا لیا وہ بھی وہیں ان کے پاس آگئے۔
(صحیح البخاری،کتاب أحادیث الأنبیاء ،حدیث نمبر 3364)
اعتماد وتوکل کی اعلی مثال
اس واقعہ کے ذریعہ خواتین امت کو صبر و تحمل ،اعتمادوتوکل کی تعلیم دی گئی، شیرخوارگی کی عمر میں بچوں کو خصوصی نگہداشت میں رکھا جاتا ہے ،ان کا بطور خاص خیال رکھا جاتا ہے کیونکہ اس عمر میں بچوںکے اعضائِ جسم نازک ہوتے ہیں مزاج میں نزاکت ولطافت ہوتی ہے۔
شیرخواربچہ کو تنہاماں کے ساتھ ریگزارویران میں چھوڑنا ، غیرمعمولی واقعہ ہے، اس واقعہ میں مردحضرات کی بھی تربیت ہے اور خواتین و مستورات کی بھی ،حضرت ہاجرہ علیہا السلام کے جواب میں دختران ملت کے لئے عظیم درس وپیغام ہے کہ جب آپ نے اتنا سنا کہ یہاں اللہ تعالی کے حکم کے مطابق لایا گیا ہے تو بغیر کسی تامل اور فکر کے مکمل اطمینان کے ساتھ وہیں رک گئیں،چین وقرار پایا،ظاہری طور پر وہاں نہ کوئی مونس وغمخوارہے اور نہ کوئی ہم دم وغمگسار ‘ نہ گھاس ہے نہ پانی‘ نہ کوئی مراقب ونگہبان ہے‘ نہ کوئی محافظ وپاسبان۔خدائے تعالی کی ذات پر اس طرح کامل یقین اور اس کی نصرت پر مکمل بھروسہ تھا کہ فرمایا:جب یہ سب اللہ تعالی کے حکم سے ہے تو ہمیں وہ ضائع نہیں کرے گا،آپ اطمینان سے واپس جائیں!۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا،حضرت ہاجرہ علیہا السلام کا توکل اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی برکت سے اللہ تعالی نے وہاں زم زم کا کنواں جاری فرمادیا ۔
انبیاء کا خواب‘وحی کے درجہ میں
حضرتِ خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں آزمائشوں کا ایک سلسلہ رہا ، جو محض آپ کی شان وعظمت کے اظہار کے لئے تھا،ابتلاء وآزمائش کی ایک اوراعلیٰ منزل یہ تھی کہ پروردِگار نے دعاؤں کے بعد جو لختِ جگرعطافرمایااور انکے متعلق متعدد بشارتیں عطا فرمائیں، حسن وجمال‘ عقل وافر‘فہم کامل اورکئی ایک جواہر کا مالک بنایا‘ جب وہ والدگرامی کے ساتھ نشست وبرخاست کرنے لگے ‘ خلوت وجلوت میں ہم دم رہنے لگے اور اپنی خداداد صلاحیتوں سے والدِمحترم کا قلب مسرتوں سے لبریز کرنے لگے، وہ فرزند دلبند جو باغِ خلیل کی رعنائی بنے ،وہ فرزند دلبند جو چمن خلیل کی بہار ہوئے ، حق تعالی نے انہی کو اپنی راہ میں قربان کرنے کا حکم فرمایا اور حکم بھی دیا توحالتِ بیداری میں نہیں بلکہ خواب کے ذریعہ حکم دیا۔
     انبیاء کرام علیھم الصلوٰۃ والسلام کا خواب بھی وحی الہی ہوتاہے ، جیساکہ تفسیرابن کثیرمیں ارشادِ نبوی ہے:
 رؤیا الانبیاء فی المنام وحی.
 انبیاء کرام علیھم الصلوٰۃ والسلام کا خواب وحی کے درجہ میں ہے۔
(تفسیرابن کثیر،سورۃ الصافات : 103)
حضرت خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عزم واستقلال پر ہزار بار قربان جائیں توکم ہے ، ہمیں اس سے فیض حاصل کرتے ہوئے ان امور میں پُرعزم وصاحب استقلال بنناچاہئے ؛جن پر عمل ہمارے لئے مشکل ہوتا ہے ،جب حالات موافق نہیں رہتے، طبیعت آمادہ نہیں ہوتی یا کوئی اور رکاوٹ آجاتی ہے توہمارا حوصلہ پست ہوتا ہوا نظر آتاہے، عزم ابراہیمی پر نظرڈالیں تو ہماری ہمت بندھ جائے گی ، ہمارا حوصلہ بلند ہوگا اور ہم استقلال واستقامت کے ساتھ شریعت پر کار بند ہوجائیں گے۔
صاحبزادہ کی قربانی کاحکم
     حضرت اسمٰعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام جب چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچے توحضرت خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو صاحبزادہ کی قربانی کا حکم دیاگیا، حضرت خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام حکمِ خداوندی کی تکمیل کا پختہ ارادہ کیا ‘ عزم مصمم کے ساتھ آپ نے چھری اور رسی لے کر اپنے پارۂ جگر سے فرمایا:پیارے بیٹے ! میرے ساتھ چلو ‘ ہمیں اللہ کے لئے قربانی کرنی ہے ، صاحبزادہ ساتھ ہوگئے ‘ وادی منی میں پوچھا :ابّا جان !ہمیں کس چیزکی قربانی کرنی ہے ؟تو آپ نے اس وقت فرمایا، جیسا کہ ارشاد الہی ہے:
فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یَا بُنَیَّ إِنِّی أَرٰی فِی الْمَنَامِ أَنِّی أَذْبَحُکَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَی.
جب وہ ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ دوڑنے کی عمر کو پہنچے تو اُنہوں نے فرمایا: اے پیارے بیٹے! میں خواب میںدیکھتاہوں کہ تمہیں ذبح کررہاہوں۔ بتاؤ! تمہاری کیا رائے ہے ؟
(سورۃ الصافات۔102)
جس وقت قربانی کی جارہی تھی اس وقت حضرت اسمٰعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عمر شریف تیرہ(13)سال تھی، اس کم سنی میں صاحبزادہ نے جاں نثاری کا جس متانت کے ساتھ جواب دیا ؛وہ بڑے سے بڑے حلیم الطبع وبردبار افراد کے لئے نمونہ ہے ، بہادروں کے لئے ہمت وحوصلہ ہے ، عرض کیا : اے والد بزرگوار! حکم کی تعمیل میں نہ میں پس وپیش کرونگا اور نہ ہی آپ پر محبتِ پسر غالب آئیگی ، آپ نے تاجِ خلت پہن رکھا ہے اور جوش قرباں میرے رگ وپئے میں موج مارتاہے ۔
قرآن کریم بزبانِ ذبیح اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام ناطق ہے :
یَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِینَ .
اے میرے والد بزرگوار!آپ کو جو حکم دیاجارہاہے اس کو پورا کرگزرئیے، اگر اللہ نے چاہاتو یقینا آپ مجھے صبرکرنے والوںمیں  پائیں گے۔
(سورۃ الصافات۔102)
     حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صاحبزادہ سے اس لئے مشورہ کیا کہ آپ ان کے صبرواستقلال اور آزمائش کے وقت ثابت قدمی کو دیکھنا چاہتے تھے ، آپ نہ صرف اک والد تھے بلکہ معلمِ قوم ومصلحِامت بھی تھے ،اگر صاحبزادہ سے جزع ‘فزع ظاہر ہوتو صبر کی تلقین کرنا بھی مقصود تھا لیکن ایسی کوئی صورت ظاہر نہ ہوئی ؛کیونکر ہوسکتی ہے جبکہ حضرت ذبیح اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام‘پیکراستقلالِ نبی کے صاحبزادہ ہیں ، آپ نے مثالی ثابت قدمی اور رضا بالقضاء کا مظاہرہ فرمایا۔
حضرت اسمعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی ذات پرمکمل اعتماد نہ کیا بلکہ یہ خیال فرمایا : میں ہمہ تن منشأ الہی ومشیت ایزدی کا تابع ہوں ، بذاتِ خود خیرکا کام نہیں کرسکتااورنہ برائی سے بچ سکتاہوں ، اسی لئے ان شاء اللہ کہا ، صاحبِ تفسیر خازن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
وأنه لا حول عن معصیة الله تعالی إلا بعصمة الله تعالی ولا قوة علی طاعة الله إلا بتوفیق الله .
اللہ تعالی کے بچائے بغیر گناہ سے بچنا ممکن نہیں اور طاعت وفرمانبرداری پر قوت وغلبہ ‘ ہمت وحوصلہ بھی اسی کی توفیق سے ہے ۔
اسی لئے صبر کو مشیت الہی کے ساتھ ہی ذکر کیا۔
(تفسیر الخازن ، ج 4،ص24،سورۃ الصافات۔102)
     حضرت اسمعیل علیہ الصلوۃ والسلام نے والد بزرگوار سے یہ عرض نہیں کیا کہ جوآپ دیکھ رہے ہیں اسی طرح کرگزریں بلکہ عرض کیا :آپ کو جو حکم دیا جارہا ہے اس کی تعمیل کیجئے !کم سنی کے باوجود ذہن کی رسائی اور فراست ایمانی کا یہ حال ہے کہ والد گرامی کے خواب کو وحی کے مرتبہ میں جانتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں۔
شیطان کی جانب سے رخنہ ڈالنے کی ناکام کوشش
     حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب صاحبزادہ کو قربانی کی خاطر لے چلے تو شیطان بے چین وبے قرارہوگیا، اس نے حکمِ الہی پر حضرت خلیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مستعدی دیکھی تو اس عملِ خیرکو روکنے کے لئے مکروفریب سے کام لیا اور کہا آلِ ابراہیم کو میں آج آزمائش میں ناکام نہ کروں توانہیں پھر کبھی ناکام نہ کرسکوں گا۔
شیطان ایک آدمی کی صورت میں حضرت ذبیح اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی والدۂ محترمہ کے پاس آیا اور کہنے لگا :کیا آپ جانتی بھی ہیں کہ ابراہیم ( علیہ الصلوٰۃ والسلام)نے آپ کے بیٹے کو ساتھ کیوں لیا ؟ آپ نے کہا ہاں ! جنگل سے لکڑیاں چننے کے لئے ۔
شیطان نے کہا :نہیں وہ تمہارے لختِ جگر کو ذبح کرنا چاہتے ہیں ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے گھر میں اس کا اظہار نہیں کیا تھا۔حضرت ہاجرہ نے فرمایا:یہ نہیں ہوسکتا ، میں جانتی ہوں حضرت ابراہیم اپنے بیٹے سے کتنی محبت رکھتے ہیں۔شیطان نے کہا یہ تو صحیح ہے لیکن ان کا خیال ہے کہ اللہ تعالی نے انہیں ان کے شہزادہ کی قربانی کا حکم دیا ، یہ سن کر حضرت اسمٰعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کی والدہ نے فرمایا:حضرت ابراہیم اگر یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اُنہیں اس بات کا حکم فرمایا ہے تواُنہوں نے بہت اچھا کیا‘جو اپنے رب کی اطاعت میں لگ گئے ۔ شیطان یہاں سے مایوس ہوکر لوٹ گیا اور حضرت اسمٰعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس پہنچا‘ آپ اپنے والدکی اتباع میں پیچھے پیچھے چل رہے تھے ۔
     شیطان آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا :اے شہزادے ! والد گرامی کہاں لے جارہے ہیں ؛کیا خبربھی ہے ؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام ابھی صاحبزادہ کوبیان نہیں کئے تھے۔ آپ نے فرمایا: ہاں ! اس جنگل سے لکڑیاں جمع کرنے کے لئے لے جارہے ہیں۔
اس نے کہا :نہیں نہیں ،والد گرامی آپ کو ذبح کرنا چاہتے ہیں ، آپ نے پوچھا: وہ کیوں ؟ اس نے کہا حق تعالی نے ان کو حکم دیا ہے ، حضرت اسمٰعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: رب نے جو حکم دیا والدگرامی کو اس کی تعمیل کرنی چاہئے ، شیطان یہاں سے بھی ناکام لوٹا۔
     حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس آیا اور پوچھا:کہاں کا ارادہ ہے ؟ آپ نے فرمایا:اس وادی میں کچھ کام کی خاطر جارہاہوں ، شیطان نے کہا :مجھے پتہ ہے کہ شیطان نے آپ کو خواب میں صاحبزادہ ذبح کرنے کی بات دل میں ڈالی۔ یہ سن کر حضرت خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: اے دشمنِ خدا !نکل جا، دور ہوجا، میں اپنے رب کاحکم بہر صورت بجالاؤنگا۔
     اس طرح شیطان اپنی تمام کوششوں اور دجل وفریب کے باوجود مایوس وناکام ،رسواونامراد ہوگیا۔(تفسیرالخازن،ج4،ص24،سورۃ الصافات:102)
کنکریوں کے ذریعہ شیطان پرضرب نبوت
       بعض روایات میں آیا ہے کہ شیطان ‘حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی راہ میں تین بار رکاوٹ ڈالنے کے لئے آیا ، آپ نے ہربار اس پر کنکریاں ماریں ، ضرب نبوت کی تاب نہ لاکر وہ مزید خلل اندازی کی ہمت نہ کرسکا، جیساکہ تفسیرِخازن میں ہے:
وقال ابن عباس:لما أمر إبراہیم بذبح ابنه عرض له الشیطان عند جمرة العقبة فرماه بسبع حصیات حتی ذهب، ثم عرض له عند الجمرة الوسطی، فرماه بسبع حصیات حتی ذهب، ثم عرض له عند الجمرة الأخری فرماه بسبع حصیات حتی ذهب ثم مضی إبراهیم لأمر الله تعالی.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا:حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کوجب اپنے صاحبزادہ کی قربانی کا حکم دیا گیاتو اچانک مشعرحرام میں شیطان آگیاآپ جمرۂ عقبہ کے پاس پہنچے تو شیطان وہاں آیا،آپ نے اس کو سات کنکریاں ماریں تو وہ چلاگیا، پھر جمرۂ وسطی کے پاس آیا ، آپ نے وہاں بھی اُسے سات کنکریاں ماریں تو وہ بھاگ گیا، پھر جمرۂ اُخریٰ کے پاس آیا تو آپ نے سات کنکریاں ماریں ،یہاں تک کہ وہ چلاگیا ، اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حکم خداوندی بجالایا۔
(تفسیرالقرطبی،سورۃ الصافات،تفسیرالخازن،ج 4، ص24،سورۃ الصافات،صحیح ابن خزیمہ ، کتاب المناسک ، حدیث نمبر:2738۔المستدرک علی الصحیحین ، کتاب المناسک ، حدیث نمبر:1666)
     حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ذبح کرنے کے لئے اپنے لاڈلے کو زمین پر اوندھا لٹادیا ‘ تاکہ چہرہ دکھائی نہ دے کہ کہیں محبت پدری حکم بجالانے میں خلل انداز نہ ہوجائے ، پسردلبر نے اس خیال سے کہ ذبح کے وقت جب میں مضطرب ہوجاؤں تو بارگاہِ الہی میں کہیں بے ادبی نہ ہو، عرض کیا :والد بزرگوار ! میرے اعضاء باندھ دیجئے تاکہ مجھ سے اضطراب وبے چینی نہ ہونے پائے ‘ پھر حضرت اسمٰعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خیال پیدا ہواکہ بارگاہِ یزدی میں قربان ہورہاہوں اور رسّی سے بندھا ہوارہوں گا تو ایسا معلوم ہوگا گویا قیدی کی طرح زبردستی اور طبیعت کی ناگواری کے ساتھ حاضرہوا ہوں ، اس خیال کے ساتھ ہی والدِ بزرگوار سے عرض کیا کہ مجھے کھول دیجئے، جیساکہ نزہۃ المجالس میں ہے:
وان إسماعیل قال لأبیه حل وثاقی لئلا یقول الناس ذبحه قهرا ولا یعلمون أنی أبذل روحی طائعا مختارا.
حضرت اسمٰعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے والد بزرگوار سے عرض کیا: میری رسی کھول دیجئے، لوگ یہ نہ کہیں کہ والد نے انہیں زبردستی ذبح کر ڈالا، اور وہ نہیں جان سکیں گے کہ میں فرمانبرداری و اختیار کے ساتھ اپنی جان جان آفرین کے حوالہ کررہا ہوں۔
(نزہۃ المجالس،باب فضل عرفۃ والعیدین والتکبیر والأضحیۃ)
     اور اپنا دامن سمیٹ رکھئے کہ میرے خون کے چھینٹیں آپ کے دامن پاک پر نہ آئیں اور میرا قمیص ہوسکے تو میری والدہ کو دیجئے تاکہ ان کو قمیص سے تسلی ہوتی رہے ۔
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی
(علامہ اقباؔل)           
        حضرت خلیل علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صاحبزادہ کو بوسہ دیا اور ان کے ہاتھ ‘ پاؤں باندھ کر چھری گلے پر چلائی لیکن چھری نے گلا کاٹانہیں ، آپ نے تین بار پتھر پر چھری کو تیز کیا مگر چھری کو کاٹنے کا حکم نہ تھا ،یہ حالت دیکھ کر صاحبزادہ نے عرض کیا: اباجان !مجھے منہ کے بل رکھئے کہ کہیں آپ کی نظر پڑ جائے تو شفقت غالب نہ آئے اور امر الہی کی بجاآوری میں تاخیرنہ ہوجائے ، حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آپ کی گردن پر بھی چھری چلاکر آزمالیا‘ لیکن چھری الٹی ہوگئی ،قربانی کرنے کے لئے اس کے علاوہ کوئی اور عمل باقی نہ تھا‘ جو جو مراحل ہونے تھے‘ ہوچکے،چھری تیز کی گئی، حلق پر اور گردن پر چلائی گئی لیکن چھری تیز اور دھاری دار ہونے کے باوجود کاٹتی نہ تھی ‘جاں نثاری کا یہ عمل جاری ہی تھا کہ قبولیت کی بشارت مل گئی اور آواز آئی ،ارشاد الہی ہے :
فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِینِ . وَنَادَیْنَاهُ أَنْ یَا إِبْرَاهِیمُ ،قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا إِنَّا کَذَلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ .
جب وہ دونوں نے حکمِ الہی کو تسلیم کیا اور والد نے صاحبزادہ کو پیشانی کے بل لٹادیا اور ذبح کرنے لگے توہم نے انہیں ندا دی کہ اے ابراہیم ! واقعی آپ نے خواب سچا کردکھایا‘ بے شک ہم محسنوں کو ایساہی بدلہ دیتے ہیں ۔
(سورۃ الصافات ۔ 104،تفسیرالخازن ، ج 4، ص24)
تفسیر درمنثور میں روایت منقول ہے :
عن عطاء بن یسار رضی الله عنه قال سألت خوات بن جبیر رضی الله عنه عن ذبیح الله قال:إسماعیل علیه السلام لما بلغ سبع سنین رأی إبراهیم علیه السلام فی النوم فی منزله بالشام أن یذبحه فرکب إلیه علی البراق حتی جاءه فوجده عند أمه فأخذ بیدیه ومضی به لما أمر به. وجاء الشیطان فی صورة رجل یعرفه ؟ فذبح طرفی حلقه فإذا هو نحر فی نحاس. فشحذ الشفرة مرتین أو ثلاثا بالحجر ولا تحز قال إبراهیم:إن هذا الأمر من الله فرفع رأسه فإذا هو بوعل واقف بین یدیه فقال إبراهیم:قم یا بنی قد نزل فداؤک فذبحه هناک بمنی.
حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ آپ نے فرمایا:میں نے خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ سے حضرت ذبیح اللہ علیہ السلام کے بارے میں دریافت کیا،توآپ نے فرمایا: جب حضرت اسماعیل علیہ السلام سات (7)سال کی عمر کو پہنچے تو حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے گھرمیں جو ملک شام میں واقع تھا، خواب دیکھا کہ آپ انہیں (حضرت اسماعیل علیہ السلام کو)ذبح کررہے ہیں ‘ توسوار ہوکر اُن کے پاس گئے ،حتی کہ ان کے پاس تشریف لائے ، آپ نے انہیں ان کی ماں کے ہاں پایا ، ان کے دونوں ہاتھوں کو پکڑا اور اس کام کے لئے لے چلے جس کا آپ کوحکم دیا گیاتھا ، شیطان ایسے آدمی کی صورت میں آیا جسے آپ پہچانتے تھے ‘ پھر اُن گلے کے کناروں پر چھری چلانے لگے ، ایسا معلوم ہوتاتھا کہ تانبے پر چھری چلارہے ہیں ۔ توحضرت ابراہیم علیہ السلام نے پتھر سے دویاتین مرتبہ چھری تیزکی لیکن چھری نہیں کاٹتی تھی ، کیا دیکھتے ہیں کہ آپ کے سامنے ایک دنبہ کھڑا ہے ، ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:ائے پیارے بیٹے!اٹھو تمہاری جان کا فدیہ آچکا ہے پھر آپ نے (جانور)ذبح کردیا، یہ واقعہ منیٰ میں رونما ہوا۔
(الدرالمنثور فی التفسیربالمأثور ، سورۃ الصافات۔107)
حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے صبر ورضاکا عظیم نمونہ پیش کیا، حکم خداوندی پر اپنے شہزادہ کو قربان کرنے کے لئے تیار ہوگئے ۔ حضرت خلیل اللہ علیہ السلام خودپیکراستقامت بنے رہے اور اپنے شہزادہ کی بھی ایسی تربیت فرمائی شہزادہ بھی قربان ہونے کے لئے تیار ہیں ۔
اس کے بعد حضرت ہاجرہ علیہا السلام کا وصال ہوا، سیدنا اسمعیل علیہ السلام کا عقد ہوا،پھر جب اللہ تعالی کا حکم آیا تو سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام اور آپ کے شہزادہ سیدنا اسمعیل علیہ السلام نے خانۂ کعبہ کی تعمیر فرمائی،اس سے متعلق صحیح بخاری شریف میں وارد حدیث پاک ملاحظہ ہو:
حَتَّی إِذَا کَانَ بِهَا أَهْلُ أَبْیَاتٍ مِنْهُمْ ،وَشَبَّ الْغُلاَمُ ،وَتَعَلَّمَ الْعَرَبِیَّةَ مِنْهُمْ ، وَأَنْفَسَهُمْ وَأَعْجَبَهُمْ حِینَ شَبَّ،فَلَمَّا أَدْرَکَ زَوَّجُوهُ امْرَأَةً مِنْهُمْ ، وَمَاتَتْ أُمُّ إِسْمَاعِیلَ ، فَجَاءَ إِبْرَاهِیمُ ، بَعْدَ مَا تَزَوَّجَ إِسْمَاعِیلُ یُطَالِعُ تَرِکَتَهُ ، فَلَمْ یَجِدْ إِسْمَاعِیلَ، فَسَالَ امْرَأَتَهُ عَنْهُ فَقَالَتْ خَرَجَ یَبْتَغِی لَنَا.ثُمَّ سَأَلَهَا عَنْ عَیْشِهِمْ وَهَیْئَتهِِمْ فَقَالَتْ نَحْنُ بِشَرٍّ ، نَحْنُ فِی ضِیقٍ وَشِدَّةٍ . فَشَکَتْ إِلَیْهِ . قَالَ فَإِذَا جَاءَ زَوْجُکِ فَاقْرَئِی عَلَیْهِ السَّلاَمَ ، وَقُولِی لَهُ یُغَیِّرْ عَتَبَةَ بَابِهِ . فَلَمَّا جَاءَ إِسْمَاعِیلُ ، کَأَنَّهُ آنَسَ شَیْئًا ، فَقَالَ هَلْ جَاءَکُمْ مِنْ أَحَدٍ قَالَتْ نَعَمْ ، جَاءَنَا شَیْخٌ کَذَا وَکَذَا ، فَسَأَلَنَا عَنْکَ فَأَخْبَرْتُهُ ، وَسَأَلَنِی کَیْفَ عَیْشُنَا فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّا فِی جَهْدٍ وَشِدَّةٍ .
قَالَ فَهَلْ أَوْصَاکِ بِشَیْءٍ قَالَتْ نَعَمْ ، أَمَرَنِی أَنْ أَقْرَأَ عَلَیْکَ السَّلاَمَ ، وَیَقُولُ غَیِّرْ عَتَبَةَ بَابِکَ . قَالَ ذَاکِ أَبِی وَقَدْ أَمَرَنِی أَنْ أُفَارِقَکِ الْحَقِی بِأَهْلِکِ . فَطَلَّقَهَا ، وَتَزَوَّجَ مِنْهُمْ أُخْرَی ، فَلَبِثَ عَنْهُمْ إِبْرَاهِیمُ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَتَاهُمْ بَعْدُ ، فَلَمْ یَجِدْهُ ، فَدَخَلَ عَلَی امْرَأَتِهِ ، فَسَأَلَهَا عَنْهُ.فَقَالَتْ خَرَجَ یَبْتَغِی لَنَا.قَالَ کَیْفَ أَنْتُمْ وَسَأَلَهَا عَنْ عَیْشِهِمْ، وَهَیْئَتِهِمْ . فَقَالَتْ نَحْنُ بِخَیْرٍ وَسَعَةٍ.وَأَثْنَتْ عَلَی اللَّهِ . فَقَالَ مَا طَعَامُکُمْ قَالَتِ اللَّحْمُ . قَالَ فَمَا شَرَابُکُمْ قَالَتِ الْمَاء ُ.فَقَالَ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَهُمْ فِی اللَّحْمِ وَالْمَاءِ .قَالَ النَّبِیُّ صلی الله علیه وسلم وَلَمْ یَکُنْ لَهُمْ یَوْمَئِذٍ حَبٌّ ، وَلَوْ کَانَ لَهُمْ دَعَا لَهُمْ فِیهِ .قَالَ فَهُمَا لاَ یَخْلُو عَلَیْهِمَا أَحَدٌ بِغَیْرِ مَکَّةَ إِلاَّ لَمْ یُوَافِقَاهُ . قَالَ فَإِذَا جَاءَ زَوْجُکِ فَاقْرَئِی عَلَیْهِ السَّلاَمَ ، وَمُرِیهِ یُثْبِتُ عَتَبَةَ بَابِهِ ، فَلَمَّا جَاءَ إِسْمَاعِیلُ قَالَ هَلْ أَتَاکُمْ مِنْ أَحَدٍ قَالَتْ نَعَمْ أَتَانَا شَیْخٌ حَسَنُ الْهَیْئَةِ ، وَأَثْنَتْ عَلَیْهِ ، فَسَأَلَنِی عَنْکَ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَسَأَلَنِی کَیْفَ عَیْشُنَا فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّا بِخَیْرٍ . قَالَ فَأَوْصَاکِ بِشَیْءٍ قَالَتْ نَعَمْ ، هُوَ یَقْرَأُ عَلَیْکَ السَّلاَمَ ، وَیَأْمُرُکَ أَنْ تُثْبِتَ عَتَبَةَ بَابِکَ . قَالَ ذَاکِ أَبِی ، وَأَنْتِ الْعَتَبَةُ ، أَمَرَنِی أَنْ أُمْسِکَکِ . ثُمَّ لَبِثَ عَنْهُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ جَاءَ بَعْدَ ذَلِکَ ، وَإِسْمَاعِیلُ یَبْرِی نَبْلاً لَهُ تَحْتَ دَوْحَةٍ قَرِیبًا مِنْ زَمْزَمَ ، فَلَمَّا رَآهُ قَامَ إِلَیْهِ، فَصَنَعَا کَمَا یَصْنَعُ الْوَالِدُ بِالْوَلَدِ وَالْوَلَدُ بِالْوَالِدِ ، ثُمَّ قَالَ یَا إِسْمَاعِیلُ ، إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِی بِأَمْرٍ.قَالَ فَاصْنَعْ مَا أَمَرَکَ رَبُّکَ .قَالَ وَتُعِینُنِی قَالَ وَأُعِینُکَ . قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِی أَنْ أَبْنِیَ هَا هُنَا بَیْتًا.وَأَشَارَ إِلَی أَکَمَةٍ مُرْتَفِعَةٍ عَلَی مَا حَوْلَهَا.قَالَ فَعِنْدَ ذَلِکَ رَفَعَا الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ ، فَجَعَلَ إِسْمَاعِیلُ یَأْتِی بِالْحِجَارَةِ ، وَإِبْرَاهِیمُ یَبْنِی ، حَتَّی إِذَا ارْتَفَعَ الْبِنَاء ُ جَاءَ بِهَذَا الْحَجَرِ فَوَضَعَةُ لَهُ ، فَقَامَ عَلَیْهِ وَهْوَ یَبْنِی، وَإِسْمَاعِیلُ یُنَاوِلُهُ الْحِجَارَةَ ، وَهُمَا یَقُولاَنِ( رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ).قَالَ فَجَعَلاَ یَبْنِیَانِ حَتَّی یَدُورَا حَوْلَ الْبَیْتِ ، وَهُمَا یَقُولاَنِ(رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ ).
یہاں تک کہ جب وہاں کئی گھر آباد ہو گئے اور اسماعیل علیہ السلام لڑکپن کی عمر کو پہنچے تو انھوں نے عربی ان   (جرہم کے ) لوگوں سے سیکھی اور حضرت اسمعیل علیہ السلام انہیں عادات وخصائل کے لحاظ سے بڑی نفیس اور دلکش نظر آئے تو انہوں نے اپنے خاندان کی ایک خاتون سے ان کی شادی کر دی ۔ اس کے بعد حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ محترمہ کا انتقال ہوگیا ،حضرت ابراہیم علیہ السلام ،اسماعیل علیہ السلام کی شادی کے بعد اپنے صاحبزادہ کی خبر لینے کے لئے تشریف لائے جنہیں وہ چھوڑ کر گئے تھے ،لیکن حضرت  اسماعیل علیہ السلام کوگھر پر نہیں پایا تو ابراہیم علیہ السلام نے ان کی اہلیہ سے ان کے بارے میں دریافت فرمایا ، انہوں نے کہا کہ روزی کی تلاش میں گئے ہیں ۔ ابراہیم علیہ السلام نے ان کی گزر اوقات اور معاشی حالت کے بارے میں دریافت فرمایا،تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم مفلوک الحالی میں ہیں، تنگدستی اور پریشانی میں زندگی بسر کررہے ہیں، اس طرح آپ سے خوب شکایت کی ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: جب تمہارے خاوند آئیں تو انھیں میری طرف سے  سلام کہنا اور یہ کہنا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل دیں  ۔ پھر جب اسماعیل علیہ السلام گھر میں آئے اور(اپنے والد ماجد کی )کچھ خوشبو محسوس کی تو (اہلیہ سے)کہا کہ کیا ہمارے گھر کوئی تشریف لائے تھے ؟ انہوں نے کہا :ہاں ، ایک عمر رسیدہ صاحب اس شکل وشباہت کے آئے تھے ۔ اور انہوں نے آپ کے بارے میں پوچھا تو میں نے بتادیا کہ آپ روزی کی تلاش میں گئے ہیں اور انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمہاری گزربسر کیسے ہوتی ہے ؟ تو میں نے کہا کہ بڑی تکلیف اورپریشانی میں وقت گزر رہا ہے،حضرت  اسماعیل علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ کیا انھوں نے تمہیں کوئی وصیت کی تھی ؟ جواب دیا" ہاں ! انھوں نے مجھ سے کہا تھا کہ میں آپ کو سلام کہہ دوں اور یہ بھی کہا کہ آپ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل ڈالیں! حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ میرے والد محترم تھے اور انھوں نے مجھے حکم فرمایا کہ میں تمہیں چھوڑدوں ، تم اپنے گھر والوں میں چلی جاؤ! پھر آپ نے انہیں طلاق دے دی اور (جرہم قبیلہ میں سے)کسی دوسری خاتون سے شادی کر لی ۔ پھر جب تک اللہ تعالی کو منظور تھا حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے ملک میں ٹھہرے رہے پھر اس کے بعد دوبارہ تشریف لائے تو اس مرتبہ بھی اپنے لخت جگر کو گھر پر نہ پایا ،تو ان کی اہلیہ محترمہ کے پس جاکر پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ ہمارے لئے روزی کی تلاش میں گئے ہیں ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارا حال کیسا ہے ؟ اور ان کی معیشت اور رہن سہن  کے متعلق دریافت فرمایا، تو انہوں نے جواب دیا کہ اللہ کا شکر ہے ہم بہت خیر و خوبی کے ساتھ بڑے آرام سے زندگی گزار رہے ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ تم کیا کھاتے ہو ؟ جواب دیا کہ گوشت ،پھر دریافت کیا کہ تم کیا پیتے ہو؟ جواب دیا:پانی،آپ  نے فرمایا: اے اللہ !ان کے لئے گوشت اور پانی میں برکت عطا فرما۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:ان دنوں وہاں غلہ نہیں ہوتا تھا، اگر ہوتا توحضرت ابراہیم علیہ السلام اس میں بھی برکت کی دعا فرمادیتے۔پھر فرمایا : ان دونوں چیزوں پر مکہ مکرمہ کے سوا اور کسی جگہ گزار انہیں کیا جاسکتا،کیونکہ  یہ مزاج سے موافقت نہیں کریں گے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے فرمایا:جب تمہارے خاوند آئیں تو انہیں میرا سلام کہنا اور انہیں میرا حکم بھی پہنچانا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ کو حفاظت سے رکھنا۔ پھر جب حضرت اسماعیل علیہ السلام آئے تو اپنی اہلیہ محترمہ سے دریافت فرمایا کہ  ہمارے گھر کوئی تشریف لائے تھے ؟ جواب دیا :ہاں !ایک خوبصورت سے بزرگ آئے تھے،پھر ان کی بڑی تعریف کی ،اور کہا کہ اس بزرگ نے آپ سے متعلق دریافت کیا تو میں نے بتا دیا ۔ پھر ہماری گزر اوقات کے بارے میں سوال کیا تو میں نے عرض کیاکہ زندگی بہت اچھی گزر رہی ہے  ۔حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا کہ انہوں نے تمہیں کوئی وصیت بھی کی ہے ؟ جواب دیا:ہاں !انہوں نے آپ کو سلام کہا  اور فرمایا کہ تم اپنے  دروازے کی چوکھٹ کو حفاظت سے رکھنا ۔حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ میرے والد محترم  تھے اور تم دروازے کی چوکھٹ ہو ، آپ نے مجھے  حکم فرمایا ہے کہ میں تمہیں اپنی زوجیت میں رکھوں  ۔ پھر جب تک اللہ تعالی کو منظور تھا حضرت ابراہیم علیہ السلام ( اپنے ملک میں )ٹھہرے رہے ، اس کے بعد جب تشریف لائے توحضرت اسمعیل علیہ السلام اس وقت چاہ زمزم کے قریب ایک درخت کے نیچے بیٹھے اپنے تیردرست فرما رہے تھے ،جب انھوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو استقبال کے لئے فوراً اٹھ کھڑے ہوئے،اور والد محترم نے اپنے شہزادہ کے ساتھ شفقت کی،اور شہزادہ نے والد کے ساتھ ادب واحترام کے وہ تمام تقاضے پورے کئے جو ایسے والد اور ایسے شہزادہ کی شایان شان تھے۔پھر فرمایاکہ اے اسماعیل!بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک حکم دیا ہے ۔ حضرت اسمعیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ اللہ تعالی  نے جو حکم دیا ہے وہ بجا لائیں ، آپ نے فرمایا کہ کیا تم میری مدد کروگے ؟ انھوں نے عرض کیا: میں ضرور مدد کروں گا ۔ آپ نے فرمایا: اللہ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں اس جگہ پر ایک گھر بناؤں اور ایک اونچے ٹیلے اور اس کی حدود کی جانب اشارہ فرمایا ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اس وقت دونوں حضرات نے بیت اللہ شریف کی بنیادیں اٹھانی شروع کردیں ۔ ہوا یوں کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام پتھر لاتے جاتے تھے اورحضرت ابراہیم علیہ السلام تعمیر فرماتے ، جب دیواریں اونچی ہو گئیں تو اسماعیل علیہ السلام ایک پتھر لے آئے  اور اس کو رکھ دیا پھر ابراہیم علیہ السلام اس پر کھڑے ہو کر دیوار تعمیر کرتے اور اسماعیل علیہ السلام انھیں پتھر لا کر دیتے اور دونوں حضرات یوں عرض کرتے رہے:اے ہمارے پروردگار!تو ہم سے قبول فرما ،بیشک تو ہی سننے والا جاننے والا ہے ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ دونوں حضرات کعبۃ اللہ شریف کی تعمیر کرتے رہے یہاں تک کہ بیت اللہ شریف کے گردیہ کہتے ہوئے پھر تے رہے :اے ہمارے پروردگار!تو ہم سے قبول فرما ،بیشک تو ہی سننے والا جاننے والا ہے۔
( سورۃ البقرۃ ۔127)۔( صحیح البخاری،کتاب أحادیث الأنبیاء ،حدیث نمبر 3364)
       حضرت خلیل اللہ علیہ السلام کو جب اولاد کے ذریعہ آزمایا گیا تو آپ نے اولاد کی قربانی پیش کی، جب جان کے ذریعہ آزمایا گیا تو جان قربان کرنے تیار ہوگئے ۔ اللہ تعالی نے آپ کی ہر قربانی قبول فرمائی ، حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے بدلہ جنت کادنبہ ذبح کیا گیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو بحکمِ خدا آگ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوگئی۔
سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کا مختلف طریقوں سے امتحان لیا گیا اور آپ ہر امتحان میں کامیاب ہوگئے ، ہرآزمائش پر صبر وتحمل کی چٹان اور استقامت کے پہاڑ بنے رہے ، بڑے سے بڑا امتحان آپ کے پائے استقامت میں ذرہ برابر فرق نہ لاسکا ، کٹھن سے کٹھن آزمائش آپ کی ثابت قدمی کو بدل نہ سکی ۔
     اللہ تعالی آپ کی یاد کو قیامت تک کے لئے باقی رکھا ،آپ کی سیرت طیبہ سے ہمیں یہ پیام ملتاہے کہ مصائب ومشکلات خواہ کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں ، بندہ کو چاہئے کہ ہمیشہ صبر و تحمل کو اختیار کرے، استقلال واستقامت کا مظاہرہ کرے ، اپنے عقیدہ وایمان پر قائم رہے اور ہر حال میں راضی بقضارہے۔
     اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ حضرت خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صبرو استقامت کے تصدق اورحضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل ہمیں دین پر ثابت قدمی عطا فرمائے اور ایمان پر ہمارا خاتمہ فرمائے!
       آمِیْن بِجَاهِ سَیِّدِنَا طٰهٰ وَیٰس صَلَّی اللهُ تَعَالٰی وَبَارَکَ وَسَلَّمَ عَلَیْهِ وَعَلٰی آلِه وَصَحْبِه اَجْمَعِیْنَ وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.
 از:مولانا مفتی حافظ سید ضیاء الدین نقشبندی دامت برکاتہم العالیہ
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر،حیدرآباد،الہند

 

 
 
     
 
 
 
  BT: 353   
حضرت خواجہ بندہ نوازرحمۃ اللہ علیہ، شخصیت وتعلیمات
...............................................
  BT: 352   
تذکرہ حضرت ابو الخیرسید رحمت اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ
...............................................
  BT: 351   
حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ کی اصلاحی وتجدیدی خدمات
...............................................
  BT: 350   
غوث اعظم رضی اللہ عنہ علمی جلالت، فیضان اور تعلیمات
...............................................
  BT: 349   
ولادت باسعادت، خصائص وامتیازات
...............................................
  BT: 348   
شاہ نقشبند حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبندؒ ملفوظات وکرامات
...............................................
  BT: 347   
امام ربانی مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ شخصیت حیات وتعلیمات
...............................................
  BT: 346   
ماہ صفر'اسلامی نقطۂ نظر
...............................................
  BT: 345   
محبت اہل بیت وصحابہ شعارِاہل سنت
...............................................
  BT: 344   
کرامات امام حسین رضی اللہ عنہ
...............................................
  BT: 343   
محبت اہل بیت وصحابہ شعارِاہل سنت
...............................................
  BT: 342   
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فضائل ومناقب
...............................................
  BT: 341   
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ،فضائل وکمالات
...............................................
  BT: 340   
قربانی فضائل ومسائل
...............................................
  BT: 339   
برادران وطن کے ساتھ تعلقات
...............................................
  BT: 338   
عشرۂ ذی الحجہ فضائل واحکام
...............................................
  BT: 337   
فضائل حج وعمرہ
...............................................
  BT: 336   
تذکرہ حضرت ابو الخیرسید رحمت اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ
...............................................
  BT: 335   
حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ‘فضائل ومناقب
...............................................
  BT: 334   
رمضان کے بعد ہماری زندگی کیسی ہو؟
...............................................
 
   
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights Reserved