تذکرۂ سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ
 

تذکرۂ سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ

 

      اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنْ، وَالصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلَی سَیِّدِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنْ، وَعَلٰی آلِہِ الطَّیِّبِیْنَ الطَّاہِرِیْنْ، وَاَصْحَابِہِ الْاَکْرَمِیْنَ اَجْمَعِیْنْ،وَعَلٰی مَنْ اَحَبَّہُمْ وَتَبِعَہُمْ بِاِحْسَانٍ اِلَی یَوْمِ الدِّیْنْ۔

اَمَّا بَعْدُ! فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ : اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ۔صَدَقَ اللّٰہ الْعَظِیم۔

ہر انسان کی تخلیق کا مقصد رب العالمین کی عبادت اور اس کی بندگی ہے۔ بندگان خدا اپنے مولی کے حضور اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے عبادت کرتے ہیں ، اسے راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،ہمیشہ اس کی رضا حاصل کرنے کی فکر کرتے ہیں  اور پروردگار عالم انہیں  د ارین میں  اس کا صلہ عنایت فرماتا ہے، انہیں  اپنی بارگاہ میں اعلی درجات مرحمت فرماتاہے، اپناخاص قرب عطا فرماتا ہے اور انہیں مقبول بارگاہ بناکر منصب ولایت سرفرازفرماتا ہے اوریہ ایسا عظیم منصب ہے جو رب العالمین اولیا ء کرام کو ان کی ریاضتوں  اور مجاہدات کے صلہ میں  عطا فرماتاہے اور بعض خوش نصیب وہ ہوتے ہیں جنہیں  حق تعالی ریاضت ومجاہدہ کے بغیر ہی اپنی بارگاہ میں  مقبول بنالیتا ہے اور درجۂ ولایت پر فائز فرماتاہے ، جیسا کہ ارشاد رب العزت ہے :اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ۔

ترجمہ:اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی بارگاہ کے لئے چن لیتا ہے اور جو رجوع ہوتا ہے اسے اپنی طرف ہدایت دیتا ہے ۔ (سورۃ الشوریٰ ۔13)

پروردگار عالم جن اولیاء کا ملین ومحبوبین بارگاہ کو بغیر ریاضت ومجاہدہ، محنت ومشقت کے محض اپنی عطاوکرم سے چن لیتا ہے اور اپنا محبوب بنالیتا ہے اور انہیں  اپنے خوان کرم سے انعام واکرام سے سرفراز فرماتاہے،انہی خاصان خدابزرگ وباعظمت، محبوب ومقرب نفوس قدسیہ میں  بے مثال شان والی ہستی محبوب سبحانی، قطب ربانی غوث صمدانی قندیل نورانی ابومحمد محی الدین سیدنا عبدالقادر جیلانی غوث اعظم رضی اللہ عنہ ہیں  جنہیں خدائے کریم نے اپنی بارگاہ میں  خصوصی مقام عطا فرمایا ہے اورآپ کو تمام اولیاء کرام کا سردار اور ان کاپیشوا ومقتدی بنایاہے اس عطائے الہی اور انتخاب خداوندی کے آثارآپ کی ولادت سے قبل ہی ظاہر ہورہے تھے ، جیسے جب ٹھنڈی ہوائیں  چلتی ہیں  تو رحمت باراں  کے نزول کی خوشخبریاں  دیتی ہوئی گزرجاتی ہیں ، اسی طرح آپ کی ولادت باسعادت سے قبل خوشخبریاں  دی گئیں  اور آپ کی ولادت اور محبوبیت سے متعلق نوید مسرت سنائی گئی ۔

ولادت باسعادت کی خوشخبری

     طبقات کبری ، بہجۃ الاسرار ، قلائد الجواہر، نفحات الانس ، جامع کرامات اولیاء ، نزہۃ الخاطر الفاتراور اخبار الاخیاروغیرہ کتب میں  حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ  کی ولادت کے واقعات اس طرح مذکور ہیں :

محبوبِ سبحانی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ کے والد ماجد حضرت ابو صالح سید موسی جنگی دوست رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے آپ کی ولادت کی شب مشاہدہ فرمایا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی مبارک جماعت کے ساتھ آپ کے گھر جلوہ افروز ہیں  اور آپ کے ساتھ اولیاء کرام بھی حاضرہیں ،حبیب پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے انہیں  یہ خوشخبری عطافرمائی :" یا ابا صالح! اعطاک اللہ ابنا وھو ولیی و محبوبی ومحبوب اللہ تعالی، و سیکون لہ  شان فی الاولیاء و الاقطاب کشأنی بین الانبیاء والرسل۔

ترجمہ:اے ابو صالح!اللہ تعالیٰ نے تمہیں  ایسا فرزندصالح سرفرازفرمایا ہے جو میرا مقرب ہے، وہ میرا اور اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے اورعنقریب ان کی اولیاء اللہ اور اقطاب میں  وہ شان ظاہرہوگی جو انبیاء اور مرسلین میں  میری شان ہے۔

      حضرت ابو صالح موسی جنگی دوست رحمۃ اللہ تعالی علیہ خواب میں  سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے علاوہ جملہ انبیاء کرام علیہم السلام کے دیدار پرانوار سے مشرف ہوئے اور سبہوں نے آپ کویہ بشارت دی کہ تمام اولیاء کرام تمہارے فرزندار جمند کے مطیع ہوں  گے اور ان سب کی گردنوں  پر ان کا قدم ہوگا۔

 جس رات حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی ،اس رات جیلان شریف کی جن عورتوں  کے ہاں  ولادت ہوئی، ان سب کو اللہ تعالی نے لڑکا ہی عطا فرمایا اور وہ ہر لڑکا، اللہ تعالیٰ کاولی بنا۔

آپ کا نام نامی اسم گرامی:عبدالقادر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) ہے۔

کنیت شریفہ:ابو محمد (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)ہے اور القاب مبارکہ: محی الدین ، محبوب سبحانی ، غوث الثقلین پیران پیراور غوث اعظم دستگیروغیرہ ہیں ۔

آپ کی ولادت29!شعبان المعظم  470 ؁ھ ،ملک عراق کے ایک قصبہ جیلان، نزد بغداد شریف میں  ہوئی ۔اورآپ کا وصال مبارک 9 !17!ربیع الآخر  561  ؁ھ میں  ہو،تا ہم دیار ہند میں  گیارھویں  شریف مشہور ہے۔(ماثبت بالسنۃ۔ص68)

حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ حسنی اور حسینی سادات ہیں ، والدماجد سے سلسلۂ نسب حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جاملتا ہے اور والدہ ماجدہ کے بتوسط حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جاملتا ہے اورآپ کا خانوادئہ عالیہ اولیاء اللہ کا مبارک گھرانہ ہے ،آپ کے داداجان ،نانا جان ،والد ماجد، والدئہ محترمہ ،پھوپھی جان ، بھائی صاحب اور صاحبزادگان سب باکمال اولیاء کرام میں  سے ہیں  اور صاحبانِ کرامات عالیہ ، مقامات رفیعہ ودرجات عظیمہ ہیں  ۔

ولادت کے ساتھ ہی ولایت کا اعلان

 پچپن ہی سے آپ پرولایت کے آثار نمایاں  تھے چنانچہ انتیس (29)شعبان المعظم کوآپ کی ولادت  ہوئی اور یکم رمضان المبارک ہی سے آپ نے روزہ رکھا، سحری سے لے کر افطار تک آپ اپنی والدۂ محترمہ کا دودھ نہ پیتے ،جیساکہ آپ کی والدئہ ماجدہ کابیان ہے کہ میرے فرزند ارجمند عبدالقادر رمضان شریف میں  کبھی دن کے اوقات میں  دودھ نہ پیتے تھے۔

ایک مرتبہ موسم ابر آلود ہونے کی وجہ سے لوگوں  کورمضان شریف کا چاند دکھائی نہ دیا، لوگوں  نے جب دریافت کیاتوآپ نے کہاکہ میرے لڑکے نے آج دودھ نوش نہیں کیاہے،

بعد ازاں  تحقیقات کرنے پر اس حقیقت کا انکشاف ہوگیا کہ اُس دن رمضان کی پہلی تاریخ ہی تھی ،اس طرح سارے شہر میں  یہ بات مشہور ہوگئی:واشتھر ببلدنا فی ذلک الوقت انہ ولد فی الاشراف ولد لا یرضع فی نھار رمضان۔

 ترجمہ:ہمارے شہر میں  اس وقت مشہور ہوگیا کہ سادات گھرانہ میں  ایک صاحبزادہ تولد ہوئے ہیں  جو رمضان شریف میں دن تمام دودھ نہیں  پیتے۔ بلکہ روزہ رکھتے ہیں ۔

(طبقات کبری ،ج1،ص126،بہجۃ الاسرار -،ص89 ،قلائد الجواہر،ص-3نفحات الانس ،فارسی،ص251 ،جامع کرامات اولیاء ،ج،2،ص201،نزہۃ الخاطر الفاتر،ص 23،اخبار الاخیار،فارسی ،ص 23،سفینۃ الاولیاء ،ص63)

محترم حضرات !ابھی حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ہی ہوئی تھی کہ رب قدیر نے آپ کی ذات عالی صفات سے فیض کے چشمے بہادئے ، خود بھی بارگاہ الہی میں  تحفۂ بندگی پیش کررہے ہیں  اور خلق کثیر کو بھی مولی تعالیٰ کی بارگاہ میں  پیش کررہے ہیں  ، درباطن اس بات کا اعلان کردیا گیا کہ آپ کی ذات کو امت مرحومہ کی رہنمائی کے لئے وجود بخشا گیا ہے اور سارے عالم کے لئے آپ کو مقتدا اور پیشوا بنادیاگیا ، گہوارہ میں  آپ کے کمال کا یہ عالم ہے کہ آپ کے روزہ کو دیکھ کر لوگ روزہ رکھ رہے ہیں ، آپ کی عبادتوں  سے سلیقہ حاصل کرکے اپنی عبادتوں کو کامل بنارہے ہیں  ،تو جس وقت آپ باضابطہ منصب رشد وہدایت پر متمکن ہوکر مخلوق کی رہنمائی فرماتے توفیض رسانی کا کیا عالم ہوتا ہوگا؟

حضرت غوث پاک کی ولایت

حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کسی نے پوچھا،آپ کو کب سے معلوم ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے ولی ہیں  ؟تو آپ نے ارشاد فرمایا:انا ابن عشر سنین، فی بلدنا اخرج من دارنا و اذھب الی المکتب فاری الملائکۃ علیھم السلام تمشی حولی، فاذا وصلتُ الیٰ المکتب سمعت الملائکۃ یقولون:" افسحوا لولی اللہ!حتی یجلس"۔

میں  دس(10)سال کالڑکا تھا کہ اپنے شہر کے مدرسہ میں  پڑھنے کے لئے اپنے گھرسے نکلتاتو میں  اپنے اردگرد فرشتوں  کوچلتے دیکھاکرتا، اور جب مدرسہ پہنچتا تو میں  انہیں  یہ کہتے ہوئے سنتا کہ اللہ تعالیٰ کے ولی کے لئے راستہ فراہم کرو!یہاں  تک کہ وہ تشریف رکھیں "

(بہجۃ الاسرار، ص21، قلائدالجواہر، ص9، اخبارالاخیار، فارسی، ص22، سفینۃ الاولیاء ، ص63)

قلائد الجواہرمیں  منقول ہے کہ :قال رضی اللہ عنہ : لماکنت صغیرا فی المکتب کان یأتینی فی کل یوم ملک لا اعرف انہ ملک علی صورۃ بنی آدم یوصلنی من دارنا الی المکتب وکان یأمر الصبیان أن یوسعوا لی فی المجلس ویجالسنی حتی انصرف الی دارنا فسألتہ یوما، من تکون؟ فقال : انا ملک من الملائکۃ علیہم السلام ارسلنی اللہ تعالیٰ الیک اکون معک ما دمت فی المکتب۔

حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں  کہ جب میں  صغر سنی کے عالم میں  مدرسہ کو جایا کرتا تھا تو روزانہ ایک فرشتہ انسانی شکل میں  میرے پاس آتا اور مجھے مدرسہ لے جاتا، اور لڑکوں  کو حکم دیتا کہ وہ میرے لئے مجلس کشادہ کریں ،خود بھی اس وقت تک میرے پاس بیٹھا رہتایہاں  تک کہ میں  اپنے گھرواپس آتا، میں  اس کو مطلقاً نہ پہچانتا تھا کہ یہ فرشتہ ہے۔ایک روز میں  نے اس سے پوچھا  آپ کون ہیں ؟ تو اس نے جواب دیا۔ میں  فرشتوں  میں  سے ایک فرشتہ ہوں ، اللہ تعالیٰ نے مجھے اس لئے بھیجا ہے کہ میں  اس وقت تک مدرسہ میں  آپ کے ساتھ رہا کروں جب تک کہ آپ وہاں  تشریف فرما رہیں  ۔ (قلائد الجواہر ص ،135 ،134)

     بہجۃ الاسراراور قلائدالجواہر میں  منقول ہے :وقال رضی اللہ عنہ: کنت صغیرا فی اہلی ، کلما ہممت أن العب مع الصبیان اسمع قائلا یقول لی" الی یا مبارک" فاھرب فزعاً منہ والقی نفسی فی حجر امی۔

 حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں  کہ بچپن میں  جب کبھی میں  ساتھیوں  کے ساتھ کھیلنے کا ارادہ کرتا تو میں  غیب سے کسی کہنے والے کی آواز سنا کرتا"اے برکت والے، تُم میرے پاس آجاؤ!تو میں  فوراً والدہ ماجدہ کی گود میں  چلاجاتا-

(بہجۃ الاسرار،ص21۔ قلائدالجواہر،ص9 ، اخبارالاخیار،مترجم،ص51)

 آپ کی شان وعظمت دیکھیں !آپ کوبچپن ہی سے رجوع الی اللہ کی فکر دیجارہی ہے ، دنیا اور اس کی رنگینیوں  سے آپ کی حفاظت کی جارہی ہے کہ آپ کا منصب دنیا میں  منہمک ہونا نہیں ، بلکہ دنیا داروں  سے دنیوی افکار کو نکال کر مولی کے ذکر وفکر اور اس کی یاد میں  مشغول کرنا اور ان کے تاریک دلوں  کو انوار وتجلیات سے منور کرنا ہے ۔

علم دین حاصل کرنے کا اشارہ

حضرت شیخ محمد بن قائد الاوانی رحمۃ اللہ علیہ بیان فرماتے ہیں :قال کنت صغیرا فی بلدنا فخرجنا الی السواد فی یوم عرفۃ وتبعت بقرۃ حراثۃ فالتفتت الی بقرۃ وقالت: یا عبدالقادر ! مالہذا خلقت، فرجعت فزعا الی دارنا وصعدت الی سطح الدار، فرأیت الناس واقفین بعرفات، فجئت الی امی وقلت لہا: ھبینی للہ عزوجل ، وائذنی لی فی المسیر الی بغداد ، اشتغل بالعلم وازور الصالحین فسألتنی عن سبب ذلک فأخبرتھا خبری فبکت ۔ ۔ ۔ واذنت لی فی المسیر وعاہدتنی علی الصدق فی کل احوالی۔

     حضرت شیخ عبد القادر جیلانی غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے ہم سے فرمایا کہ بچپن میں  مجھے ایک دفعہ حج کے ایام میں  جنگل کی طرف جانے کا اتفاق ہوااور میں  ایک گائے کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا، اچانک اُس گائے نے میری طرف دیکھ کر کہا:"ائے عبدالقادر!تمہیں اس قسم کے کاموں  کے لئے تو پیدا نہیں  کیا گیا!، میں  متفکرہوکر لوٹا اور اپنے گھر کی چھت پر چڑھ گیا تو میں  نے میدان عرفات کا مشاہدہ کیا لوگ وہاں  وقوف کئے ہوئے ہیں ۔یہ سارا واقعہ میں  نے اپنی والدہ ماجدہ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا اور اجازت طلب کی:اے مادر مہربان!آپ مجھے اللہ تعالی کی خاطروقف کردیں  اور مجھے سفربغداد کی اجازت مرحمت فرمائیں  ،تاکہ میں  علم دین حاصل کروں  صالحین کی زیارت کرتارہوں  اور ان کی صحبت میں  رہوں  ۔ والدہ ماجدہ نے مجھ سے اس کا سبب دریافت کیا ؟میں  نے ساراواقعہ عرض کیا تو آپ کی مبارک آنکھوں  میں  آنسو آگئے اور مجھے بغداد جانے کی اجازت عطافرمائی، اوریہ نصیحت کی کہ میں  ہر حال میں  راست گوئی اور سچائی کو اپناؤں ۔

(قلائدالجواہرفی مناقب عبدالقادر،8/9)

حضرت پیران پیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی والدئہ ماجدہ کی خدمت میں جومعروضہ کیا ہے ا س میں ہمیں  کئی نصیحتیں  ملتی ہیں  ، ا س کمسنی کے عالم میں  آپ کا حصول علم کیلئے گھر بار کو چھوڑدینا، والدہ محترمہ اور عزیزبھائی سے دوری اختیارکرنا ، وطن مالوف سے دورکوچ کرجانا، محض اخلاص وتوکل کی اساس پر بغداد شریف کا سفر کرنا اور سب سے اہم یہ بات ہے کہ حصول علم کے ساتھ ساتھ بزرگوں کی ہمنشینی کو مطمح نظر بنانا ، اولیاء کرام اور صالحین کے دیدار کی تڑپ اور ان کی صحبت کو مدنظر رکھنا، یہ سب ایسے امور ہیں  جو ہماری فکرونظر کو شعور وآگہی اور عقل وخرد کو احساس وروشنی بخشتے ہیں ۔

     ہمارے لئے مقام غور ہے کہ دین ودنیا کی ترقی صرف حصول علم ظاہری پر منحصر نہیں  ہوتی، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ صالحین کی قربت اور بزرگوں  کی صحبت انسانیت کیلئے نقطۂ کمال ہوا کرتی ہے ، سرکار غوث پاک رضی اللہ عنہ نے سفر بغداد کے سلسلہ میں  حصول علم کے ساتھ ساتھ بزرگان دین کی زیارت کو اپنا نصب العین بنایا اوریہ اہل حق کی ابتداء ہی سے فطرت رہی کہ وہ صالحین کی قربت اور صحبت کو ترجیح دیا کرتے تھے۔

ریاضتیں  اور مجاہدے

سرکارپیران پیررضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں  کہ جب ابتدائے جوانی میں  مجھ پر نیند غالب آتی تو میرے کانوں  میں  یہ آواز آتی: اے عبدالقادر! ہم نے تجھ کو سونے کے لئے پیدا نہیں  کیا۔ (بہجۃ الاسرار ،ص 21 ،سفینۃ الاولیاء، ص63 )

      چنانچہ آپ فرماتے ہیں  کہ میں  عرصہ دراز تک شہر کے ویران اور بے آباد مقامات پر زندگی بسر کرتا رہا، نفس کو طرح طرح کی ریاضت اور مشقت میں  ڈالا ، پچیس (25)برس تک عراق کے بیابان جنگلوں  میں  تن تنہا پھرتا رہا  ،چنانچہ ایک سال تک میں  ساگ گھاس وغیرہ سے گزارا کرتا رہا اور پانی مطلق طور پر نہ پیا، پھر ایک سال تک پانی بھی پیتا رہا، پھر تیسرے سال میں نے صرف پانی پر ہی گزارا کیا، کچھ بھی نہیں کھاتاتھا، پھر ایک سال تک نہ ہی کچھ کھایا ،نہ پیا اور نہ ہی سویا۔ (قلائد الجواہر،ص10۔11)

چالیس سال عشاء کے وضو ء سے فجر کی نماز ادا فرمانا

 اخبار الاخیار،ص40،قلائد الجواہر،ص76میں  مذکور ہے :وقال ابوالفتح الہروی : خدمت سید ی الشیخ عبدالقادر رضی اللہ عنہ اربعین سنۃ ، فکان فی مدتہا یصلی الصبح بوضوء العشاء -

حضرت ابوالفتح ہروی رحمۃ اللہ تعالی علیہ بیان فرما تے ہیں  کہ میں  حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی خدمت اقدس میں  چالیس(40) سال تک رہا اور اس مدت کے دوران میں  نے آپ کو ہمیشہ عشاء کے وضو سے صبح کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔

( اخبار الاخیارمترجم،ص40،قلائد الجواہر،ص76۔ )

       حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ پندرہ سال رات بھر میں  ایک قرآن پاک ختم کرتے رہے۔

(اخبار الاخیارمترجم ،ص 40جامع کرامات اولیاء )

ان مجاہدات اور سرفرازی نعمت کا اظہار بذات خودآپ نے اس طرح فرمایا :

حضرت شیخ ابوعبداللہ نجار رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے مروی ہے کہ حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں  نے بڑی بڑی سختیاں  اور مشقتیں  برداشت کیں  اگر وہ کسی پہاڑ پر گزرتیں  تو وہ پہاڑ بھی پھٹ جاتا۔ (قلائد الجواہر،ص10۔ )

حضرت غوث اعظم سید الاولیاء

حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب یہ ارشاد فرمایا :" قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی اللہ " میرا یہ قدم اللہ کے ہر ولی کی گردن پر ہے ،اولیاء کرام نے آپ کے اس ارشاد کو سماعت کیا اور اپنے اپنے مقامات سے ہر ولی نے اس ارشاد کو قبول کیا اور سر تسلیم خم کیا، چنانچہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی غریب نواز رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ایسا ادب بجالایا کہ اس ارشاد کے وقت آپ خراسان کی پہاڑیوں  کے غاروں  میں  مجاہدے اور ریاضتوں  میں  مشغول تھے، آپ نے حضرت غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ اعلان سنتے ہی اپنا سر مبارک زمین پر رکھ دیا اور زبان حال سے عرض کیا: حضور والا گردن پر کیا بلکہ میرے سر پر آپ کا مبارک قدم ہے۔

وضع راسہ علی الارض و قال بل علی راسی۔ (تفریح الخاطر۔ شمائم امدادیہ۔ لطائف الغرائب للشیخ امیر محمد الحسینی)

  خواجۂ خواجگاں ، شاہ نقشبند حضرت خواجہ بہاؤ الدین نقشبند رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مذکورہ ارشاد مبارک کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا:گردن ہی نہیں  آپ کا قدم مبارک میری آنکھوں  اور بصیرت پر ہے۔ علی عینی و علی بصیرتی۔ (تفریح الخاطر)

 غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی کرامت

حضرت شیخ الاسلام عارف باللہ امام محمد انوار اللہ فاروقی بانی جامعہ نظامیہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے مقاصد الاسلام ،حصۂ ہشتم میں  ایک عنوان "غوث الثقلین رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی سلطنت " قائم فرمایا اور حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی کرامت اس طرح نقل فرمائی "دائرۃ المعارف میں  معلم بطرس بستانی نے یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیدنا عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں  حاضر ہوکر کہا:میری ایک لڑکی گھر کے چھت پر چڑھی تھی، وہاں  سے وہ غائب ہوگئی ! آپ نے فرمایا کہ آج رات  تم محلہ کرخ کے ویرانہ میں  جاؤ اور پانچویں  ٹیلہ کے پاس بیٹھو اور زمین پر یہ کہتے ہوئے ایک دائرہ اپنے اطراف کھینچ لو کہ (بسم اللہ علی نیۃ عبد القادر)جب اندھیرا ہوجائے گا تو جن کی ٹکڑیاں  مختلف صورتوں  میں  تم پر گزریں  گی ، ان کی ہیبت ناک صورتوں  کو دیکھ کر ڈرنا نہیں  ، صبح کے قریب ان کا بادشاہ ایک بڑے لشکر میں  آئے گا اور تم سے پوچھے گا کہ تمہاری کیا حاجت ہے ؟ تو کہہ دینا کہ مجھے عبد القادر نے بھیجا ہے،اور اس وقت لڑکی کا واقعہ بھی بیان کردو! اس شخص نے اس مقام پر جاکر حکم کی تعمیل کی اور کُل واقعات وُقوع میں  آئے ، جب بادشاہ نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا کہ مجھے شیخ عبد القادر رضی اللہ تعالی عنہ  نے بھیجا ہے،یہ سنتے ہی وہ گھوڑے سے اتر پڑا اور زمین بوسی کرکے دائرہ کے باہر بیٹھ گیا اور اس کی حاجت دریافت کی ، جب اس نے اپنی لڑکی کا واقعہ بیان کیا تو اپنے ہمراہیوں  سے کہا کہ جس نے یہ کام کیا ہے فورا اسے پکڑ کے لاؤ! چنانچہ ایک سرکش جن لایا گیا، جس کیساتھ میری لڑکی بھی تھی ، حکم دیا کہ اس سرکش کی گردن ماردی جائے،اور لڑکی کو میرے حوالہ کرکے رخصت ہوگیا-"

     حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی یہ کرامت نقل فرماکر حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں  "اس سے جنوں  کے علم کا بھی حال معلوم ہوتاہے کہ دائرہ تو کرخ میں  کھینچا گیا اور مسافت بعیدہ پر بادشاہ کو خبر ہوگئی کیونکہ رات بھر چل کر قریب صبح اس دائرہ کے پاس پہنچا جو صرف حضرت شیخ کی نیت سے کھینچا گیا تھا،اور اس سے حضرت غوث الثقلین رضی اللہ تعالی عنہ کے تصرف کا حال بھی معلوم ہوگیا کہ جنوں  پر آپ کا کیا اثر تھا کہ لکیر جو آپ کی نیت سے کھینچی گئی تھی وہاں  پادشاہ بذات خود حاضر ہوا اور زمین بوسی کی  "-

(مقاصد الاسلام،حصۂ ہشتم،ص169/170)

حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس کرامت سے یہ حقیقت بھی آشکا رہورہی کہ جن اور انس ہر دوآپ کی ذات عالی سے وابستہ ہیں ،اور تابع فرمان ہیں ۔

اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ ہمیں  حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے فیوض وبرکات سے مالامال فرمائے اور آپ کے نقش قدم پر چلاکر دنیاوآخرت کی کامیابی عطافرمائے !

آمین بجاہ سیدنا طہ ویس صلی اللہ تعالی وبارک وسلم علی خیر خلقہ سیدنا محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین والحمد للہ رب العالمین۔

از:مولانا مفتی حافظ سید ضیاء الدین نقشبندی قادری صاحب دامت برکاتہم

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر،حیدرآباد

 
     
 
 
 
  BT: 354   
حضرت امام ربانی رحمہ اللہ کا علمی وروحانی مقام
...............................................
  BT: 353   
حضرت خواجہ بندہ نوازرحمۃ اللہ علیہ، شخصیت وتعلیمات
...............................................
  BT: 352   
تذکرہ حضرت ابو الخیرسید رحمت اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ
...............................................
  BT: 351   
حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ کی اصلاحی وتجدیدی خدمات
...............................................
  BT: 350   
غوث اعظم رضی اللہ عنہ علمی جلالت، فیضان اور تعلیمات
...............................................
  BT: 349   
ولادت باسعادت، خصائص وامتیازات
...............................................
  BT: 348   
شاہ نقشبند حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبندؒ ملفوظات وکرامات
...............................................
  BT: 347   
امام ربانی مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ شخصیت حیات وتعلیمات
...............................................
  BT: 346   
ماہ صفر'اسلامی نقطۂ نظر
...............................................
  BT: 345   
محبت اہل بیت وصحابہ شعارِاہل سنت
...............................................
  BT: 344   
کرامات امام حسین رضی اللہ عنہ
...............................................
  BT: 343   
محبت اہل بیت وصحابہ شعارِاہل سنت
...............................................
  BT: 342   
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فضائل ومناقب
...............................................
  BT: 341   
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ،فضائل وکمالات
...............................................
  BT: 340   
قربانی فضائل ومسائل
...............................................
  BT: 339   
برادران وطن کے ساتھ تعلقات
...............................................
  BT: 338   
عشرۂ ذی الحجہ فضائل واحکام
...............................................
  BT: 337   
فضائل حج وعمرہ
...............................................
  BT: 336   
تذکرہ حضرت ابو الخیرسید رحمت اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ
...............................................
  BT: 335   
حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ‘فضائل ومناقب
...............................................
 
   
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights Reserved