حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ ‘حیات وتعلیمات
 

حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ ‘حیات وتعلیمات

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنْ، وَالصَّلوٰةُ وَالسَّلَامُ عَلَی سَيِّدِ الْاَنْبِيَاءوَالْمُرْسَلِيْنْ، وَعَلٰی آلِهِ الطَّيِّبِيْنَ الطَّاهِرِيْنْ ، وَاَصْحَابِهِ الْاَکْرَمِيْنَ اَجْمَعِيْنْ ، وَعَلٰی مَنْ اَحَبَّهُمْ وَتَبِعَهُمْ بِاِحْسَانٍ اِلٰی يَوْمِ الدِّيْنْ . 

       اَمَّا بَعْدُ!

فاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ :  هَلْ جَزَاء ُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ .

 صَدَقَ اللهُ الْعَظِيْمْ .

     دین اسلام حسن اخلاق اور پاکیزہ کردار کی تعلیم دیتا ہے،دوسروں کے ساتھ شفقت ومحبت سے پیش آنے کی ہدایت دیتا ہے،اچھائی کا بدلہ اچھائی سے دینے اور اپنے محسنوں اور کرم نوازوں کا شکر ادا کرنے کا درس دیتا ہے،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

 هَلْ جَزَاء ُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ .

 ترجمہ:کیا احسان کا بدلہ احسان کے سوا ‘بھی کچھ ہوسکتا ہے؟۔

(سورۃ الرحمن۔60)

یعنی احسان کا بدلہ احسان ہی ہے۔

کوئی کسی مصیبت زدہ و تنگدست شخص کی اعانت کرکے احسان کرتا ہے تو کوئی کسی نادار وخستہ حال کی امداد کرکے احسان کرتا ہے،کوئی کسی غمزدہ کے ساتھ غمخواری کرکے احسان کرتا ہے تو کوئی کسی پریشان حال وشکستہ دل کے ساتھ ہمدردی کرکے احسان کرتا ہے،کوئی کسی بے سہارا کو سہارا دیکر احسان کرتا ہے تو کوئی کسی خوف زدہ شخص کے لئے مونس بن کر احسان کرتا ہے اورکوئی کسی مریض کا علاج کرواکر احسان کرتا ہے تو کوئی کسی بیوہ ویتیم کا تعاون کرکے احسان کرتا ہے۔

اس طرح کے احسانات کرنے والا ہمارا محسن تو ہے لیکن اس کا یہ احسان سب سے بڑا احسان نہیں ،کیونکہ مال ودولت خرچ کرکے کسی کی جان بچانا یہ اتنا عظیم احسان نہیں بلکہ اپنی انتھک محنتوں اور مخلصانہ کاوشوں کے ذریعہ کسی کا ایمان بچاناسب سے بڑا احسان ہے۔    

غور کرنا چاہئے کہ جب دین اسلام نے دنیوی احسان کرنے والے محسن کے احسان ماننے اور اس کی شکر گزاری کا اس طرح حکم دیا ہے تو پھر اس محسن کے احسان پر ہمیں کس درجہ شکر گزاری کا مظاہرہ کرنا چاہئے کہ جس نے ہمیں نہ صرف دنیوی زندگی کے اصول سکھائے بلکہ دین وایمان ہم تک پہنچایا ،جس نے ہمیں زندگی کا سلیقہ اور بندگی کا طریقہ سکھایا،اصول معیشت سے آگہی بخشی اور آداب معاشرت سے روشناس فرمایا اور حسن اخلاق،پاکیزہ عادات،عالی اقدار اوربلندیٔ کردار کی تعلیم دی۔

وہ ذات عالی وقار محسن امت ،غواص بحر معرفت ،امام الاولیاء ،قدوۃ الاصفیاء، سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین سجزی غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی ہے،جنہوں نے ہندوستان کی سرزمین پر اسلام کی شمع کو روشن کیا، حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے مصطفوی اخلاق کا وہ نمونہ پیش کیا کہ آپ کے اخلاق کی پاکیزگی اور کردارکی بلندی دیکھ کر لوگ تنہا تنہا اور جوق در جوق دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ۔

     حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے باشندگانِ ہند کو دولت اسلام اور نعمت ہدایت دے کر جو احسان فرمایا،اس کی احسان مندی اور شکر گزاری کرتے ہوئے آپ کا تذکرہ کرنا ، اہل ہند کا فرض ہے اور ان پر قرض بھی۔

     جامع ترمذی میں حدیث پاک ہے:

مَنْ لَمْ يَشْکُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْکُرِ اللَّهَ .

 ترجمہ:جس نے لوگوں کا شکرادا نہیں کیا وہ اللہ کا شکر گزار نہیں ہوسکتا۔

       (جامع ترمذی، ابواب البر والصلۃ، باب ما جاء فی الشکر لمن أحسن إلیک. حدیث نمبر۔2082)

      

سیدنا غریب نواز رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے گراں قدر وعظیم احسانات کا ہم کوئی بدلہ تو نہیں چکا سکتے بلکہ آپ کا ذکر خیر کرکے تحفۂ غلامی پیش کرتے ہیں اور اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں ،اور یہ مبارک تذکرہ ہمارے گناہوں کا کفارہ قرار پاتا ہے،جیساکہ جامع الاحادیث ،جامع کبیر اور کنز العمال میں روایت ہے:

ذِکْرُ الْأَنْبِيَاءِ مِنَ الْعِبَادَةِ وَذِکْرُ الصَّالِحِيْنَ کَفَّارَةُ الذُّنُوْبْ .

ترجمہ:انبیاء کرام کا ذکر کرنا عبادت ہے اور اولیاء وصالحین کا ذکر کرنا گناہوں کا کفارہ ہے۔

       (جامع الأحادیث ،حرف الذال،حدیث نمبر۔12503۔

الجامع الکبیر للسیوطی، حرف الذال، حدیث نمبر۔ 12685۔

کنز العمال،کتاب الفضائل من قسم الأفعال،حدیث نمبر۔32247 )

مبلغین وداعیان اسلام کے لئے حضرت غریب نواز کا اسلوب مشعل راہ

     خواجۂ خواجگاں حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے تعلیمات اسلامیہ کی ترویج واشاعت نہایت ہی خوش اسلوبی سے انجام دی ، جنہیں آج تک کسی نے فراموش کیا ہے نہ کوئی ان کی عالی خدمات کو نظر انداز کرسکتاہے ، جب آپ نے پرچم حق بلند کیا تو مخالفین نے مخالفت کی‘دشمنوں نے عداوتوں کے مظاہرے کئے‘ہرطرف مکروفریب کے جال بچھائے جانے لگے ‘ایسے وقت اگر آپ چاہتے تولشکر وسپاہ کے ذریعہ دشمنوں سے انتقام لے سکتے تھے اور اُنہیں دندان شکن جواب دے سکتے تھے‘ لیکن آپ نے ہرگز ایسا نہیں کیا‘ بلکہ حکمت ونصیحت کے اسلوب کو اختیار کیا ، جس کی برکت اسطرح ظاہر ہوئی کہ لوگ آپ کے صدق وصفا کو دیکھ کر صداقت شعار وباصفا ہوگئے، آپ کے حلم وبردباری، جود وسخاوت اوربلند اخلاق سے متاثرہوکر لوگ عمدہ اخلاق کے حامل اور پاکیزہ صفات کے پیکر ہوگئے، آپ کے محض دہلی سے اجمیر تک سفر کے دوران نودلاکھ 90,00,000) افراد مشرف بہ اسلام ہوئے۔

     آج کے اس پر فتن دور میں تعلیمات اسلامیہ عام کرنے اور اشاعت دین کے لئے نصیحت و موعظت کا اسلوب اپنانے کی ضرورت ہے کیونکہ اسلام کا پیام باہم محبت و الفت کا فروغ اور امن و سلامتی کی اشاعت ہے، ہمیں اسلاف کرام و صالحین عظام کے اسلوبِ تبلیغ کو اپنانا چاہئے ۔ خواجۂ ہند حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ جنہوں نے ہندوستان میں شمع اسلام کو روشن کیا اور اسلام کے پیغام کو عام کیا جب آپ ہندوستان تشریف لائے تو اپنے ساتھ لشکر جرار ،تیر و تلوار لے کر نہیں آئے بلکہ اخلاقِ احمدِ مختار صلی اللہ علیہ وسلم‘ بلندکردار اور اسلامی اقدارلے کر آئے، حضرت سیدنا غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نصیحت فرماتے تو آیات قرآنیہ احادیث نبویہ اور بزرگان دین کے اقوال واعمال کا ذکر فرماکر لوگوں کی اصلاح فرماتے ‘جس کا یہ اثرہوتاکہ لوگ بے دینی سے توبہ کرکے آپ کے عقیدتمندوں میں شامل ہوجاتے، آپ کی مبارک مجالس میں شریعت وطریقت اور حقیقت ومعرفت کی طرف لوگوں کو متوجہ کیا جاتااور فرائض وسنن کی ادائیگی،ریاضت ومجاہدہ ،پاکیزگی وخلوص ،طہارت ونفاست ،صدق وصفا،خوف خدااور مخلوق خدا کی خدمت کی تعلیم دی جاتی ۔ حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے خلفاء کو ہندوستان کے مختلف علاقوں میں اشاعت اسلام کی ذمہ داری دیکر روانہ فرمایا۔

     آپ ہی کااحسان ہے کہ دیار ہند کے ہر گوشہ میں اسلام کاپیا م عام ہوگیا۔اس سنہرے انقلاب سے متعلق سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الہی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ حضرت سید محمد بن مبارک کرمانی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں : حضرت کی اور کرامت یہ ہے کہ ہندوستان کی مملکت میں مشرق کے آخری سرے تک ہرطرف کفر وبت پرستی کا دور دَورہ تھا،لوگ دین اور شرائع دین سے غافل تھے،خدا اور رسولِ خدا سے بے خبر تھے، اہل یقین کے اس آفتاب عالمتاب کے قدوم میمنت لزوم سے اس سرزمین میں کفر کی تاریکیاں چھٹ گئیں اور ہر ُسواسلام کا اجالا پھیل گیا، آپ واقعۃً دین کے معین ہیں ‘اس سرزمین پرجو شخص بھی مسلمان ہوا اور لوگ آئندہ مسلمان ہوتے رہیں گے تا قیامت ان کا ثواب شیخ الاسلام خواجہ حسن سجزی رحمۃ اللہ علیہ کو پہنچتا رہے گا۔ (سیر الاولیاء ۔57)

ولادت مبارک ونسب عالی

     ایران کے صوبہ سجستان میں واقع مقام سجز میں  14رجب المرجب 536ھ بروز دوشنبہ صبح صادق کے وقت آپ کی ولادت ہوئی ، آپ بواسطۂ والد گرامی حسینی اور بذریعہ والدہ محترمہ حسنی سادات سے ہیں ۔ سلسلہ پدری بارہ واسطوں اور سلسلہ مادری گیارہ واسطوں سے حضرت مولائے کائنات سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ سے جاملتا ہے۔

     سادات گھرانے کے چشم وچراغ ہونے کی حیثیت سے آپ پر سعادت کے آثارنمایاں تھے ، والدہ محترمہ کا نام ’’ام الورع‘‘تھا ،آپ کی والدۂ ماجدہ اپنے نام کے مطابق تقوی وپرہیز گاری کا سرچشمہ تھیں ، والدماجد کا نام’’سید غیاث الدین حسن الحسینی‘‘ تھا، جو تہجد گزار،شب زندہ دار بزرگ تھے۔(ملخص از اقتباس الانوار ، ص 346 ) 

شکم مادر میں کرامت کا ظہور

     حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی والدۂ محترمہ حضرت ام الورع رحمۃ اللہ تعالی علیہا بیان فرماتی ہیں : میں نے دیکھا کہ زمانۂ حمل میں جس وقت سے معین الدین حسن کے جسم میں روح ڈالی گئی اس وقت سے ان کی ولادت تک میں ہر دن اپنے کانوں سے آواز سنا کرتی کہ وہ نصف شب سے دن چڑھنے تک کلمۂ طیبہ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘کا ورد کیا کرتے۔(سیرت خواجہ غریب نواز،ص۔168)

جامع علوم ظاہری وباطنی

      حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ پندرہ سال کی عمرمبارک کو پہنچے یا آپ کی عمر اس سے بھی کم تھی کہ آپ کے والدماجد کا وصال ہوگیا، دوسال بعد والدہ ماجد ہ کا بھی وصال ہوگیا، ترکہ میں ایک باغ تھا، آپ عبادت واذکار میں مشغول رہتے ہوئے باغبانی کیا کرتے، لیکن جب حضرت ابراہیم قندوزی رحمۃ اللہ علیہ سے نعمت ملی توآپ کو مزید طلبِعلم وکمال کا اشتیاق ہوا،اورآپ علوم ظاہری میں کمال حاصل کر نے کے لئے نیشاپورتشریف لے گئے اور اعلی علوم حاصل کرکے ایسے باکمال ہوگئے کہ وقت کے مشہور عالم آپ کی خدمت میں اپنے اشکالات وسوالات پیش کرتے اور آپ اُنہیں اشکالات کے حل بتلاتے اور سوالات کے تشفی بخش جوابات دیتے۔(ملخص ازمراٰۃ الاسرار:طبقہ17،ص:593)

     علوم ظاہری کی تکمیل کے بعد آپ حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوکر ارادت مند ہوئے ،بیس (20)سال خدمت کی،سفروحضر‘ جلوت وخلوت‘ آٹھوں پہرحضرت شیخ کی صحبت میں رہتے ، آپ پر شیخ کی خصوصی توجہ رہی ، باطنی کمال وروحانی مرتبہ ایسا حاصل کیا کہ خود پیرومرشد کو آپ پر ناز تھا۔

نور فراست اور علمی جلالت

     حضرت شیخ فیض الدین بلخی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے چند مسائل درپیش ہوئے ،جن کی وجہ سے میں سخت پریشان تھا،مجھے ان کا حل نہیں مل رہا تھا،میں ان سوالات کو ایک کاغذ پر لکھ کر حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا،حاضرین کی کثرت کی وجہ سے میں اپنے سوالات پیش نہ کرسکا،میں مجلس میں خاموش  بیٹھا رہا،کچھ دیر بعد حضرت نے مجھے قریب بلایا اور ایک کاغذ عنایت فرمایا،جب میں نے اس کاغذ کو کھولا تو اس پر میرے انہیں دریافت طلب سوالات کے تشفی بخش جوابات تھے۔(سیرت غریب نواز،ص۔308)

دربار نبوی سے قطب المشائخ کاخطاب

     خواجہ غریب نواز سلطان الہندحضرت خواجہ معین الدین حسن سجزی قدس اللہ سرہ اپنے پیر ومرشدحضرت خواجہ عثمان ہارونی قدس سرہ کے ملفوظات مبارکہ انیس الارواح میں تحریر فرماتے ہیں کہ یہ دعاگو اضعف عباداللہ معین الدین حسن سجزی شہر بغداد شریف میں گیا ، حضرت خواجہ عثمان ہارونی کو تلاش کیا، لوگوں نے کہا کہ حضرت خواجہ جنید بغدادی کی مسجد میں نماز کے لئے تشریف لے گئے ہیں ،یہ سن کرمیں حضرت خواجہ جنید بغدادی قدس اللہ سرہ کی مسجدمیں گیااور مولائی ومرشدی حضرت عثمان ہارونی قدس اللہ سرہ کی زیارت وقدم بوسی سے مشرف ہوا‘ اس وقت بہت سے مشائخ کبار خدمت اقدس میں حاضر تھے۔ 

      آپ نے ارشاد فرمایا کہ دو رکعت نماز پڑھو!میں نے حکم کی تعمیل کی ،آپ کھڑے ہوگئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر آسمان کی جانب منہ کیا اور زبان مبارک سے فرمایا کہ الہی!میں ان کو تیرے سپرد کرتا ہوں ،اسکے بعدبغداد شریف سے روانہ ہو کر مکہ معظمہ تشریف لائے اور یہ درویش ہم رکاب تھا‘آپ مجھے پاپیادہ کعبہ شریف لے گئے اور فقیر کے حق میں دعا ئِ خیر کی، آوازآئی کہ ہم نے معین الدین حسن سجزی کو قبول کیا‘ وہاں سے روانہ ہوکر مدینہ منورہ حاضرہوئے،میں بھی ہمراہ تھا‘جب حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ مبارک پر پہنچے تو مجھ سے ارشاد فرمایا کہ سلام کرو! میں نے سلام عرض کیا! روضۂ مبارک سے آوازآئی’’وعلیکم السلام یاقطب المشائخ‘‘ اس آواز کے آنے پرحضرت شیخ نے ارشاد فرمایا کہ آپ کا معاملہ درجۂ کمال کو پہنچا ۔ (حیات خواجہ ۔ص21/20)

  ٭۔ ۔ ۔ معمولات شریفہ۔ ۔ ۔ ٭

تلاوت قرآن کریم

     حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کا رمضان مبارک کے علاوہ عام دنوں میں  یہ معمول تھا کہ ہرروز دن ورات میں دو مرتبہ قرآن کریم ختم کیا کرتے ،اور ہرمرتبہ آواز آتی :’’ہم نے تمہارے ختم کو قبول کیا ہے‘‘ آپ نے حدیث شریف کی روشنی میں فرمایا کہ جو شخص کلام اللہ شریف کی طرف دیکھتا ہے اور تلاوت کرتاہے اللہ تعالی اسے دوثواب عطافرماتا ہے،ایک قرآن کریم پڑھنے کا اور دوسرا دیکھنے کا،اور ہر حرف کے بدلہ دس نیکیاں عطاہوتی ہیں اور دس برائیاں مٹادی جاتی ہیں ۔

شان غریب نوازی

    

حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی رحمۃ اللہ تعالی علیہ میں صفت کرم نوازی وشان غریب نوازی ابتداء ہی سے موجود تھی،چنانچہ آپ کی سیرت میں یہ بات ملتی ہے کہ ابھی کی عمر مبارک تین(3) سال ہی تھی کہ آپ اکثر اپنے ہم عمر ساتھیوں کو گھر لاتے اور بڑی محبت کے ساتھ انہیں کھانا کھالاتے۔(سیرت خواجہ غریب نواز،ص۔170)

غریب لڑکے کے لئے اپنی خوشیاں قربان فرمانا

     حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے بچپن کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن آپ اپنے گھر والوں کے ساتھ نہایت عمدہ اور نفیس لباس زیب تن فرماکر عیدگاہ تشریف لے جارہے تھے،راستہ میں آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ ایک نابینا لڑکا پھٹے پرانے کپڑے پہنے بیٹھا ہے،آپ سے اس کی غریبی ولاچاری،مفلسی واداسی دیکھی نہ گئی،فورا آپ اسے اپنے ساتھ گھر لے گئے ،اپنا نیا اور قیمتی لباس اسے دے دیا اور خود سادہ لباس زیب تن فرمایا اور اس غریب کے ساتھ نماز عید ادا فرمائی۔(ملخص از:سیرت خواجہ غریب نواز،ص۔171)

غرباء کی امداد اور مفلسوں کی فریادرسی

     حضرت سلطان الہندرحمۃ اللہ علیہ مفلسوں کی فریادرسی فرماتے ،غریبوں ناداروں کی امدادفرماتے ،بیواؤں اور یتیموں کی خبرگیری فرماتے ،غرباء ومحتاجوں کا تعاون فرماتے چنانچہ آپ ہر روز نماز اشراق کے بعد اپنے محلہ کی بیوگان اور عمررسیدہ وضعیف خواتین کی خبر گیری فرماتے اور ان کی مدد فرماتے۔

      آپ کے ملفوظات میں ہے:جو شخص بھوکوں کو سیر کرتا ہے تو اس کے اور دوزخ کے درمیان سات حجابات حائل ہوجاتے ہیں ،اور ارشاد فرمایا کہ جو بھوکے کو کھاناکھلاتا ہے اللہ تعالی اس کی ہزار حاجتیں پوری کردیتا ہے،اسے دوزخ سے چھٹکا را ملتا ہے اور جنت میں اس کے لئے ایک محل تیا ر ہوتا ہے۔

     آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالی کے پاس عاجزوں کی فریادرسی،حاجت مندوں کی حاجت برآری اور بھوکوں کو کھانا کھلانے سے بڑھکر کوئی اور طاعت نہیں ۔ اسی لئے آپ کے مطبخ میں روزانہ اس قدرکھانا پکا یا جاتا کہ شہر کے تما م غرباء ومساکین سیر ہوکر کھاتے،خانقاہ کے خرچ کے لئے خدام حاضر ہوتے ،آپ اپنے مصلے کا گوشہ اٹھا کر فرماتے :جس قدر رقم درکار ہو یہاں سے لے لو!۔

     آپ کی سخاوت وفیاضی سے متعلق حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی کسی سائل یا فقیر کو آپ کے در سے محروم جاتے نہیں دیکھا۔

خوف وخشیت

      

حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ تعالی علیہ ولایت کے عالی مرتبہ پر فائز ہونے کے باوجود آپ کے خوف وخشیت کا یہ عالم رہتا کہ آپ خوف الہی وخشیت خداوندی کے سبب کانپتے تھے اور ارشاد فرماتے:ائے لوگو!اگر تم کو زیر خاک سوئے ہوئے لوگوں کا ذرا سا بھی حال معلوم ہوجائے تو تم (مارے خوف ودہشت کے)ٹہرے ٹہرے پگھل جاؤگے اور نمک کی طرح گھل جاؤگے۔(مسالک السالکین)

تعلیمات وملفوظات

    

حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی ساری زندگی خدمت خلق کے جذبہ کے ساتھ گزاری ، آپ نے انسانی اقدار کا کس درجہ پاس ولحاظ رکھا‘ مخلوق خدا کے ساتھ آپ نے کس طرح الفت ومحبت کا برتاؤ کیا ؛ آپ کے ان ملفوظات اور تعلیمات سے اندازہ لگایا جاسکتاہے :

صفات حمیدہ کیا ہیں ؟

      حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کے پاس سب سے زیادہ محبوب کون سی صفات ہیں ؟ فرمایا(1)غمگین افراد کی فریاد سننا (2)مسکینوں کی حاجت پوری کرنا اور (3)بھوکوں کو کھانا کھلانا۔ اور فرمایا:جس میں تین خصلتیں ہوں سمجھو کہ وہ اللہ تعالی سے محبت رکھتاہے :(1)دریا کی طرح سخاوت (2)سورج کے جیسی شفقت اور(3)زمین کی طرح انکسار وتواضع۔(سیر الاولیاء ۔56)

ادائی فرائض وسنن کی تلقین

     آپ نے ادائی فرائض وسنن کی تاکید کرتے ہوئے فقیہ ابو اللیث کی کتاب کے حوالہ سے  فرمایا کہ روزانہ ایک فرشتہ پکار کر کہتا ہے:جوشخص خداکا فریضہ ادا نہیں کرتا وہ  اللہ تعالی کی بخشش سے دور ہوجاتا ہے ،دوسرا فرشتہ کہتا ہے :جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ کو ترک کرتا ہے وہ آپ کی شفاعت سے محروم ہوجاتا ہے۔

طہارت وپاکیزگی کی اہمیت

     حضرت غریب نواز نے فرمایا کہ جو بندہ باوضو سوتا ہے فرشتے اس کی روح کو عرش الہی کے نیچے لیجاتے ہیں ،اللہ تعالی کا حکم ہوتا ہے کہ اسے نور کی خلعت پہناؤ!اور جو شخص بے طہارت سوتا ہے اس کی روح فرشتے پہلے آسمان سے گرادیتے ہیں ۔

وصال مبارک

     حضرت غریب نوازرحمۃ اللہ علیہ کی مساعی جمیلہ اوراحسانات کی برکت سے ظلمت کدۂ کفر،انوارِتوحیدورسالت سے جگمگانے لگا،آپ نے تمام مخلوق خداپرشفقت ومحبت، رأفت ورحمت کے پھول برسائے ، آپ محبت خدااوررسول کا درس دیتے رہے، جب سفرآخرت کا وقت آیا تو چند اولیاء اللہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ ارشاد فرمارہے ہیں :اللہ کے دوست معین الدین سجزی آرہے ہیں ، ہم ان کے استقبال کیلئے آئے ہیں ۔

      وصال کے وقت آپ کی جبین اقدس پر یہ نورانی تحریرجگمگا رہی تھی:حبیب اللہ مات فی حب اللہ یہ اللہ کے محبوب ہیں جو محبت الہی میں وصال کرگئے۔

     آپ کی ذات مبارکہ سے بلالحاظ مذہب وملت سبھی اکتساب فیوض وبرکات کیاکرتے ہیں ،آپ کی سنہ ولادت اور سنہ وصال سے متعلق مختلف اقوال وارد ہیں ،

آپ کا وصال مبارک /6رجب المرجب 633ھ بروز دوشنبہ ہوا۔

اولاد امجاد

     "معین الارواح" میں مذکور ہے کہ حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ تعالی علیہ کو حضرت بی بی امۃ اللہ رحمۃ اللہ تعالی علیہا سے دو شہزادے :(1)حضرت خواجہ فخر الدین ابو الخیر رحمۃ اللہ تعالی علیہ اور (2)حضرت خواجہ حسام الدین ابو صالح رحمۃ اللہ تعالی علیہ اور ایک شہزادی :حضرت بی بی حافظ جمال تاج المستورات رحمۃ اللہ تعالی علیہا ہیں ۔

     اور حضرت بی بی عصمت اللہ رحمۃ اللہ تعالی علیہا سے ایک شہزادہ :حضرت خواجہ ضیاء الدین ابو سعید رحمۃ اللہ تعالی علیہ ہیں ۔ 

٭٭٭ کرامات٭٭٭

حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی بے شمار کرامات ہیں ،یہاں حصول سعادت کے لئے چند کرامتیں ذکر کی جاتی ہیں :

اناساگر ایک کوزہ میں

     ایک مرتبہ حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے ایک خادم انا ساگرسے وضو کے لئے پانی لینے گئے تو وہاں خلاف معمول راجہ کے سپاہی پہرہ دے رہے تھے،جب خادم نے کوزہ میں پانی بھرنا چاہاتوسپاہیوں نے سختی سے منع کردیااور کہا کہ اب تم اس کو نہیں چھوسکتے ہو‘ تالاب کے پانی کو گندہ مت کرو۔ خادم نے کہا کہ پانی تو جانوروں پر بھی بند نہیں کیا جاتا‘ ہم تو انسان ہیں ۔

      اس پرسپاہیوں نے کہا کہ تم حیوانوں سے بھی بدترہو۔ خادم نے آکر جب آپ کو سارا ماجرا سنایا تو آپ نے فرمایاکہ سپاہیوں سے کہو کہ اس مرتبہ ایک کوزہ پانی لے لینے دو پھر ہم اپنا کوئی اور انتظام کرلیں گے۔ آپ کے حکم پر جب خادم دوبارہ تالاب پر پانی لینے گیا توسپاہیوں نے تمسخر اڑاتے ہوئے کہا کہ آج کوزہ بھر لو اس کے بعد تمہیں یہاں سے پانی لینے کی اجازت نہیں ہو گی۔ چنانچہ خادم نے حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے حکم کے مطابق وہ کوزہ بھر لیا۔راجپوت سپاہیوں کیساتھ ساتھ مسلمان خادم پر بھی حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ گئے وہ یہ دیکھ کر تعجب میں پڑگئے کہ اناساگر تالاب کا سارا پانی ایک چھوٹے سے برتن میں سمٹ کر آگیا۔ جس تالاب پرسپاہی تکبر کر رہے تھے وہ پانی سے خالی ہو چکا تھا۔ اس قوم کے نزدیک یہ جادوگری کا ایک عظیم الشان مظاہرہ تھا۔ یہ دیکھ کر راجپوت سپاہی وہاں سے خوفزدہ ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ آپ کے خادم بھی حضرت کی خدمت میں واپس آئے اور آپ کوسارا واقعہ سنایا۔ پورے شہر اجمیرمیں ہنگامہ برپا تھا اناساگر تالاب کے خشک ہونے کی خبر سب کیلئے حیران کن تھی۔ پرتھوی راج مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو ہر صورت میں روکنا چاہتا تھا‘ مشیروں نے اسے مشورہ دیا کہ اس مسلمان فقیر کا مقابلہ ہندو جادوگر ہی کر سکتے ہیں ۔

     لیکن اس سے پہلے شہر اجمیر کے چند معززین اناساگر تالاب کی سابقہ پوزیشن بحال کرنے کی استدعا لیکر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ اگرتالاب کا پانی اسی طرح خشک رہا تو بہت سارے انسان پانی کے بغیر مر جائیں گے۔ چنانچہ آپ نے اسلام کی رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا:یہ تو حق کے نافرمانوں کیلئے ایک چھوٹی سی جھلک ہے،ورنہ ہمارا مذہب تو کسی کتے کوبھی پیاس سے تڑپتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔ یہ فرما کر آپ نے اپنے خادم کو حکم دیا کہ برتن کا پانی تالاب میں واپس ڈال دیا جائے۔جب کوزہ کا پانی آپ کے حکم سے تالاب میں ڈالا گیا تولوگ دیکھ کر یہ حیران رہ گئے کہ تالاب ایک بارپھر پانی سے لبالب اوربھرا ہوا ہے۔

      

بت پرستوں اور پرتھوی راج کیلئے حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی جانب سے یہ ایک بہت بڑا پیغام تھا،جسے سمجھنے اوراس پرعمل کرنے کے بجائے وہ سرکشی پر اتر آیااسلام اور اہل اسلام کے خلاف سازشیں رچانے لگا‘حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کی خدمت میں رہنے والے درویشوں پر زیادتیاں کرنے لگا۔

لشکر اسلام کو ہند میں آنے کی اجازت

     جب پرتھوی راج اپنے بغض وعناد سے باز نہیں آیا اور مظالم کی انتہاء کردی تو حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی روحانی قوت کے ذریعہ ظلم و جبر کی سلطنت کا تختہ الٹ دیا اورسرزمین ہندمیں امن وآشتی کی فضاہموارکرتے ہوئے حکومت کی باگ ڈور سلطان معز الدین عرف شہاب الدین غوری کے حوالہ فرمادی اور قوم کوپِرتھوی راج کی بربریت سے نجات دلادی،جیسا کہ شیخ محقق حضرت عبد الحق محد ث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :آپ پتھورا رائے(پرتھوی راج)کے دور حکومت میں اجمیر تشریف لائے اور عبادت الہی میں مشغول ہوگئے ،پتھورا رائے اس زمانہ میں اجمیر میں ہی مقیم تھا،ایک روز اس نے آپ کے ایک مرید کو کسی وجہ سے ستایا،آپ نے کہلا بھیجا کہ اسے مت ستاؤ!لیکن اس کاسر غرور وتکبر سے بھرا ہوا تھا ،وہ بازنہ آیا اور اس مرید کے بارے میں ناشائستہ کلمات کہے تو آپ نے فرمایا:پتھورا را زندہ گرفتہ بدست لشکر اسلام دادم یعنی پتھورا کو زندہ گرفتار کرکے میں نے لشکر اسلام کے ہاتھ میں دے دیا ،انہی ایام میں شہاب الدین غوری لشکر لیکر غزنی سے ہندوستان پر حملہ آور ہوئے ، پتھورا نے مقابلہ کیا لیکن اللہ کے حکم سے زندہ گرفتار ہوگیا۔(اخبار الاخیار،ص:55،مراٰۃ الاسرار،ص :599، سیرالاولیاء ۔ص 56)

مشت خاک کی کرامت

     جوں جوں اسلام عام ہوتاگیا‘مخالفین اسلام کے دلوں میں آتش غیظ وغضب بھڑک اٹھی، ایک شخص ناپاک ارادہ سے آپ پر حملہ آورہوا‘اس وقت آپ نماز میں مشغول تھے، نماز سے فراغت کے بعد جب خادموں نے اطلاع دی تو آپ اٹھے اور مٹھی بھر مٹی اٹھاکر اس پر آیۃالکرسی دم کی اور دشمنوں کی طرف پھینک دی ، وہ مٹی جس شخص پر پڑی اس کا جسم خشک ہوگیا ، اوروہ بے حس ہوکر رہ گیا ، یہ دیکھ کر سب لوگ وہاں سے بھاگ گئے ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت غریب نواز کی ولایت محمدی تھی، غرض یہ کہ جب دشمنوں نے دیکھا کہ حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کا مقابلہ ممکن نہیں تو انہوں نے لڑائی ترک کردی۔(اقتباس الانوار۔362/363)

      

یہاں بطور اختصار حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی شخصیت،حیات ،افکار وتعلیمات سے متعلق بیان کیا گیا ہے۔آپ کی مبارک زندگی کا ہر پہلو تابناک اور ہر گوشہ روشن ومنور ہے۔

     اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی تعلیمات پر عمل پیراہونے کی توفیق خیر مرحمت فرمائے اور آپ کے فیوض وبرکات سے ہمیں مستفید فرمائے۔آمین

       صَلَّی اللهُ تَعَالَی وَبَارَکَ وَسَلّمَ عَلَی خَيْرِ خَلْقِه سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلَی آلِهِ وَصَحْبِهِ اَجْمَعِيْنَ وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلِّه رَبِّ الْعَالَمِيْنَ . 

       از:مولانا مفتی حافظ سید ضیاء الدین نقشبندی دامت برکاتہم

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر

 www.ziaislamic.com

 

 
     
 
 
 
  BT: 354   
حضرت امام ربانی رحمہ اللہ کا علمی وروحانی مقام
...............................................
  BT: 353   
حضرت خواجہ بندہ نوازرحمۃ اللہ علیہ، شخصیت وتعلیمات
...............................................
  BT: 352   
تذکرہ حضرت ابو الخیرسید رحمت اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ
...............................................
  BT: 351   
حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ کی اصلاحی وتجدیدی خدمات
...............................................
  BT: 350   
غوث اعظم رضی اللہ عنہ علمی جلالت، فیضان اور تعلیمات
...............................................
  BT: 349   
ولادت باسعادت، خصائص وامتیازات
...............................................
  BT: 348   
شاہ نقشبند حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبندؒ ملفوظات وکرامات
...............................................
  BT: 347   
امام ربانی مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ شخصیت حیات وتعلیمات
...............................................
  BT: 346   
ماہ صفر'اسلامی نقطۂ نظر
...............................................
  BT: 345   
محبت اہل بیت وصحابہ شعارِاہل سنت
...............................................
  BT: 344   
کرامات امام حسین رضی اللہ عنہ
...............................................
  BT: 343   
محبت اہل بیت وصحابہ شعارِاہل سنت
...............................................
  BT: 342   
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فضائل ومناقب
...............................................
  BT: 341   
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ،فضائل وکمالات
...............................................
  BT: 340   
قربانی فضائل ومسائل
...............................................
  BT: 339   
برادران وطن کے ساتھ تعلقات
...............................................
  BT: 338   
عشرۂ ذی الحجہ فضائل واحکام
...............................................
  BT: 337   
فضائل حج وعمرہ
...............................................
  BT: 336   
تذکرہ حضرت ابو الخیرسید رحمت اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ
...............................................
  BT: 335   
حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ‘فضائل ومناقب
...............................................
 
   
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights Reserved