تذکرہ حضرت بابا شرف الدین سہروردی رحمۃ اللہ تعالی علیہ
 

تذکرہ حضرت بابا شرف الدین سہروردی رحمۃ اللہ تعالی علیہ

     قطب دکن،سلطان العارفین حضرت بابا شرف الدین سہروردی عراقی رحمۃ اللہ تعالی علیہ ایک عظیم المرتبت بزرگ اور باکمال داعی اسلام تھے۔

     حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر آپ سرزمین دکن تشریف لائے،اور تبلیغ دین واشاعت اسلام کا اہم فریضہ انجام دیا۔

     نام مبارک ونسب پاک:

     آپ کا نام مبارک "سید شرف الدین"تھا اور"بابا شرف الدین"کے لقب سے آپ مشہور زمانہ ہوئے۔

     آپ سادات حسینی سے تھے،آپ کا نسب مبارک تیرہ(13)واسطوں سے امام عالی مقام سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے جاملتا ہے۔

     شجرہ نسب:

     (1)امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ

     (2)سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ عنہ

     (3)سیدنا امام محمد باقر رضی اللہ عنہ

     (4)سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ

     (5)سیدنا امام موسی کاظم رضی اللہ عنہ

     (6)سیدنا امام موسی رضا رضی اللہ عنہ

     (7)سیدنا امام محمد تقی رضی اللہ عنہ

     (8)سیدنا امام محمد نقی رضی اللہ عنہ

     (9)سیدنا امام جعفر ثانی رضی اللہ عنہ

     (10)حضرت سید اصغر رحمۃ اللہ تعالی علیہ

     (11)حضرت سید عبد اللہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ

     (12)حضرت سید احمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ

     (13)حضرت سید محمود رحمۃ اللہ تعالی علیہ

     (14)حضرت سید بابا شرف الدین سلطان دکن رحمۃ اللہ تعالی علیہ ۔

(رحمہم اللہ تعالی ورضی اللہ عنہم اجمعین و افاض علینا من علومہم وبرکاتہم)

     ولادت باسعادت:

     16 شعبان المعظم 586ھ صبح کے وقت ملک عراق میں آپ تولد ہوئے۔

قطعۂ تاریخ ولادت

سولہویں' شعبان کی تھی بے گماں

تھا نزول فضل رب انس وجاں

خیر دنیا' شرف دیں پیدا ہوئے

صاحب ومقبول حق نجم وزماں

(586ھ)

     تعلیم وتربیت:

     حضرت بابا شرف الدین رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم سے حاصل کی،حفظ قرآن اور دینی کتب کی تعلیم کے بعد آپ شہر بغداد تشریف لے گئے،اور شیخ الشیوخ حضرت شیخ شہاب الدین سہرورد رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی خدمت میں حاضر ہوکر تفسیر وحدیث،فقہ وادب میں مہارت تامہ حاصل کی۔

     آپ نے حضرت شیخ الشیوخ کے دست مبارک پر بیعت کی اور آپ کی خدمت میں رہ کر آپ سے علوم ظاہری وباطنی حاصل کیا اور خلافت سے سرفراز کئے گئے۔

     آپ کی زبان مبارک میں اللہ تعالی نے ایسی تاثير رکھی تھی کہ جب آپ وعظ فرماتے تو ہزاروں فاسق وفاجر توبہ کرکے متقی وپرہیزگار بن جاتے،آپ ایسے حقائق ومعارف،اسرار ورموز بیان فرماتے کہ عوام تو کجا علماء بھی محو حیرت رہتے۔

     معمولات شریفہ:

     حضرت بابا شرف الدین سہروردی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کو قرآن کریم سے خاص شغف تھا،کثرت سے قرآن کریم کی تلاوت کرتے اور درود شریف کا خصوصی اہتمام فرماتے۔

     آپ ابتداء ہی سے اعلی اخلاق کے حامل،رقیق القلب،شریں زباں،سادہ مزاج،ایثار پسند،شب بیدار،تہجد گزار تھے۔

     آپ کے زہد وتقوی کا یہ عالم تھا کہ رات بھر ذکر ونوافل کا اہتمام رہتا،طلوق آفتاب سے چار گھنٹے قبل ٹھنڈے پانی سے وضو فرماکر نہایت خشوع وخضوع کے ساتھ نماز تہجد ادا فرماتے،اس کے بعد ذکر وشغل میں مصروف ہوجاتے۔

     نماز فجر کی ادائی کے بعد اپنے پیر ومرشد حضرت شیخ شہاب الدین سہرورد رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے ساتھ غریبوں کی اعانت اور بیماروں کی عیادت کے لئے تشریف لے جاتے۔

     دکن تشریف لیجانے کا حکم:

     حضرت بابا شرف الدین سہروردی  عراقی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ حضور اکرم،رحمت عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہيں،آپ ارشاد فرمارہے ہیں کہ "تبلیغ دین واشاعت اسلام کے لئے ہندوستان کے جنوبی علاقہ کی طرف روانہ ہوجاؤ!"

     خواب سے بیدار ہوکر آپ نے سفر کی تیاری کی اور دکن تشریف لائے۔

     سلطان شمس الدین التمش کے دور 631ھ میں آپ عراق سے ہندوستان تشریف لائے،اس وقت آپ کی عمر مبارک پینتالیس(45)سال تھی۔

     نو(9)سال تک آپ ہندوستان کے مختلف مقامات پر تبلیغ اسلام کا فریضہ انجام دیتے رہے، اور 640ھ میں سرزمین دکن کو آپ کے قدم مبارک سے عزت ملی۔

     یہاں تشریف لانے کے بعد آپ نو(9)سال تک ایک غار میں عبادت وریاضت میں مشغول رہے،ترسٹھ 63 سال کی عمر مبارک میں آپ غار سے باہر تشریف لائے اور بلالحاظ مذہب وملت ہر ایک کو فیض بخشنے لگے۔

     رات تمام عبادت میں مصرف رہتے اور دن میں تبلیغ دین اور درس وتدریس کا سلسلہ جاری رہتا۔

     کرامت:

     حضرت بابا شرف الدین سہروردی رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے بے شمار کرامات کا ظہور ہوا ہے،یہاں آپ کی ایک کرامت ذکر کی جاتی ہے:

     ایک شراب کا عادی شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ اگر آپ مجھے سیندھی،شراب پینے کی اجازت دیں تو میں اسلام قبول کرتا ہوں،آپ نے فرمایا کہ اس شرط سے اجازت ہے کہ ہمارے سامنے نہ پیا  کریں!وہ شخص راضی ہوگیا اور آپ کے دست حق پرست پر مشرف بہ اسلام ہوا،آپ نے اس کا اسلامی نام"نور محمد"رکھا ،جب واپس ہونے لگا تو شراب پینے کا خیال آیا،فوری شراب خانہ کی طرف روانہ ہوا،اور شراب بھی خریدا،اب پینا ہی چاہتا تھا ،ابھی پیالہ لب تک نہ پہونچا تھا کہ یکا یک دیکھا کہ حضرت سامنے کھڑے نظر آئے،مارے خوف کے ہاتھ سے پیالہ پھینک دیا،شراب خانہ سے بھاگ نکلا اور حضرت کے مریدوں میں آکر خوف زدہ،شرمندہ ایک گوشہ میں خاموش بیٹھا رہا،کسی نے پوچھا:نور محمد!کیاحال ہے؟اس نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ آج میں شراب خانہ گیا تھا،شراب پینے ہی کوتھا کہ یکا یک حضرت سامنے دکھائی دئیے،وہاں سے بھاگتا ہوا آکر ندامت وپشیمانی میں بیٹھا ہوں، حضرت کے خادموں سے دریافت کیا کہ حضرت آج باہر نکلے تھے؟انہوں نے جواب دیا: نہیں۔

اس واقعہ سے نور محمد اس قدر متاثر ہوئے کہ سیندھی،شراب تر ک کرکے آئندہ خلاف شرع افعال نہ کرنے کا پکا ارادہ کرلئے۔

     واقعی پیر ہوتو ایسا ہو،نااہل کو اہل،اندھے کوبینا،اور نادان کو دانا کردے۔

صحبت صالح ترا صالح کند

صحبت طالح ترا طالح کند

یہ واقعہ معمولی نظر سے دیکھنے کا نہیں!غورکیجئے!اس میں کیا بات پوشیدہ ہے،ایک مرتبہ کی حاضری نے قلب پر ایسا اثر کیا کہ شراب جیسی ام الخبائث شئے (تمام برائیوں کی جڑ)کو چھوڑ بیٹھا۔

وصال مبارک:

     19 شعبان المعظم 687ھ ،ایک سو ایک (101)سال کی عمر شریف میں آپ کا وصال مبارک ہوا۔

     ہرسال 16تا22 شعبان المعظم آپ کے عرس مبارک کی تقاریب منعقد ہوتی ہیں۔

     مصادر ومراجع:تذکرہ اولیاء دکن۔مشکوۃ النبوۃ۔سوانح مبارک حضرت بابا شرف الدین اولیاء وغیرہ۔

     از:مولانا مفتی حافظ سید ضياء الدین نقشبندی دامت برکاتہم العالیہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر،حیدرآباد الہند

     www.ziaislamic.com

 
     
 
 
 
  BT: 353   
حضرت خواجہ بندہ نوازرحمۃ اللہ علیہ، شخصیت وتعلیمات
...............................................
  BT: 352   
تذکرہ حضرت ابو الخیرسید رحمت اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ
...............................................
  BT: 351   
حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ کی اصلاحی وتجدیدی خدمات
...............................................
  BT: 350   
غوث اعظم رضی اللہ عنہ علمی جلالت، فیضان اور تعلیمات
...............................................
  BT: 349   
ولادت باسعادت، خصائص وامتیازات
...............................................
  BT: 348   
شاہ نقشبند حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبندؒ ملفوظات وکرامات
...............................................
  BT: 347   
امام ربانی مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ شخصیت حیات وتعلیمات
...............................................
  BT: 346   
ماہ صفر'اسلامی نقطۂ نظر
...............................................
  BT: 345   
محبت اہل بیت وصحابہ شعارِاہل سنت
...............................................
  BT: 344   
کرامات امام حسین رضی اللہ عنہ
...............................................
  BT: 343   
محبت اہل بیت وصحابہ شعارِاہل سنت
...............................................
  BT: 342   
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فضائل ومناقب
...............................................
  BT: 341   
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ،فضائل وکمالات
...............................................
  BT: 340   
قربانی فضائل ومسائل
...............................................
  BT: 339   
برادران وطن کے ساتھ تعلقات
...............................................
  BT: 338   
عشرۂ ذی الحجہ فضائل واحکام
...............................................
  BT: 337   
فضائل حج وعمرہ
...............................................
  BT: 336   
تذکرہ حضرت ابو الخیرسید رحمت اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ
...............................................
  BT: 335   
حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ‘فضائل ومناقب
...............................................
  BT: 334   
رمضان کے بعد ہماری زندگی کیسی ہو؟
...............................................
 
   
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights Reserved