روزہ‘دنیوی و اخروی فوائد کا مظہر
 

روزہ‘دنیوی و اخروی فوائد کا مظہر

       اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنْ، وَالصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلَی سَیِّدِ الْاَنْبِیَاءوَالْمُرْسَلِیْنْ، وَعَلٰی آلِہِ الطَّیِّبِیْنَ الطَّاہِرِیْنْ، وَاَصْحَابِہِ الْاَکْرَمِیْنَ اَجْمَعِیْنْ،وَعَلٰی مَنْ اَحَبَّہُمْ وَتَبِعَہُمْ بِاِحْسَانٍ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنْ ۔ 

       اَمَّا بَعْدُ! فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ:  یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آَمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ ۔صَدَقَ اللّٰہُ الْعَظِیْمْ .

        اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی عبادت اور بندگی بندہ کا حقیقی مقصود ہے ، اسے اس بات کی فکر ہونی چاہئے کہ میری زندگی کے اوقات اور شب وروز اپنے مقصود کو پورا کرنے میں گزریں، ساری زندگی رب العالمین کی عبادت وبندگی کر نے اوراس کی بارگاہ کا قرب حاصل کرنے کے لئے بسرہو، چنانچہ اس فکرکو عملی جامہ پہنانے کے لئے اللہ رب العزت نے ہمیں مختلف انداز میں اس کی بارگاہ میں حاضر ہونے اورعبادت کرنے کے سنہری مواقع عطافرمائے ، کبھی نماز کی صورت میں عبادت کا سلیقہ عطافرمایا، کبھی راہ حق کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے خانۂ کعبہ کے حج کرنے کا حکم فرمایا او رکبھی مخلوقِ خدا کی مدد کرنے کے لئے زکوۃ وصدقات کی صورت میں عبادتوں کاقرینہ عطافرمایا ۔ عبادت کے انہی مختلف طریقوں میں ایک بہترین طریقہ ’’روزہ‘‘ بھی ہے جواسلام کا چوتھا رکن ہے ،اور ہر عاقل،بالغ مسلمان پر ہر سال رمضان کے روزے فرض ہیں،روزہ کی فرضیت کا منکر کافر ہے۔ اس کے شرعی معنی’’ صبح صادق کے طلوع ہونے سے سورج غروب ہونے تک بندئہ مومن کو کھانے ، پینے اور ازدواجی تعلقات سے رکے رہنے کے ہیں۔‘‘

ماہ رمضان کی برکتیں

       رمضان المبارک وہ مہینہ ہے ، جس میں رب العالمین اپنے بندوں کو فضل ومہربانی سے سرشار فرماتا ہے، اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کا صدقہ اورخیرات انہیں عطا فرماتا ہے اور انہیں رمضان المبارک کی رحمتوں،برکتوں اور بخشش سے بہرہ ور فرماتا ہے ، جیسا کہ ترمذی شریف میں حدیث پاک ہے :

 عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا کَانَ أَوَّلُ لَیْلَۃٍ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّیَاطِینُ وَمَرَدَۃُ الْجِنِّ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ فَلَمْ یُفْتَحْ مِنْہَا بَابٌ وَفُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّۃِ فَلَمْ یُغْلَقْ مِنْہَا بَابٌ وَیُنَادِی مُنَادٍ یَا بَاغِیَ الْخَیْرِ أَقْبِلْ وَیَا بَاغِیَ الشَّرِّ أَقْصِرْ وَلِلَّہِ عُتَقَاء ُ مِنَ النَّارِ وَذَلِکَ کُلَّ لَیْلَۃٍ .

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا ، حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جب رمضان المبارک کی پہلی رات آتی ہے تو شیطان اور سرکش جن جکڑدیئے جاتے ہیں، دوزخ کے دروازوں کو بندکردیا جاتا ہے اور ان میں کوئی دروازہ کھلا نہیں رکھاجاتا ، اور جنت کے دروازوں کو کھول دیا جاتا ہے اور ان میں کوئی دروازہ بند نہیں رکھا جاتا ،  اور ایک ندا دینے والاندا دیتا ہے : اے بھلائی کے طلبگار !

(خیر کی طرف) متوجہ ہوجا،اور اے برائی چاہنے والے! (گناہوں سے)دورہوجا ،اور اللہ تعالی کی جانب سے دوزخیوں کو آزاد ی ملتی ہے اور رمضان کی ہر رات یہ انعام ہوتارہتا ہے ۔

(جامع الترمذی، کتاب  الصوم،باب ماجاء فی فضل شھررمضان ،حدیث نمبر:684)

رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کریمی

       رمضان المبارک میں رب العالمین کی سخاوت اورعطاکا یہ معاملہ ہوتا ہے کہ اس میں ایمان والوں کو عبادتوں کا خصوصی موقع عنایت کیا جاتا ہے ، شرح ثواب میں اضافہ کیا جاتاہے ،شیاطین کو جکڑدیا جاتا ہے، تاکہ وہ بندگان خدا کونہ بھٹکا سکیں ، انہیں عبادتوں سے نہ بہکاسکیں۔

       اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے بندوں کو سرفراز کرتے ہوئے ماہ رمضان کی ہر رات گنہگار بندوں کو دوزخ سے آزاد فرماتا ہے ،ماہِ رمضان میں جو دوسخااور فیاضی کا معاملہ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ہواکرتا ہے ، آپ بھی اپنی امت کو سرفراز فرماتے اور اپنی رحمت کا صدقہ عطافرماتے ہیں ،جیسا کہ روایت ہے :

عن ابن عباس قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا دخل شہر رمضان اطلق کل اسیر واعطی کل سائل۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے؛ آپ نے فرمایا:جب ماہ رمضان شروع ہوتا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر قیدی کو آزادکر دیتے اور ہر مانگنے والے کو عطافرماتے۔

(شعب الایمان،فضائل شھر رمضان،حدیث نمبر:3475۔مجمع الزوائد،حدیث نمبر4838۔کنز العمال، حدیث نمبر:18060 )

روزوں کی فرضیت

       اسی برکتوں والے مہینہ میں رب قدیر نے بندوںکے لئے ’’روزہ‘‘ کی صورت میں عبادت کرنے کاایک سنہری موقع عطافرمایا،چنانچہ ہجرت کے دوسرے سال شعبان المعظم کے مہینہ میں روزہ کی فرضیت کا اعلان فرمایا اور ماہ رمضان کی خصوصیت کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:

شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی أُنْزِلَ فِیہِ الْقُرْآَنُ ہُدًی لِلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِنَ الْہُدَی وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ

رمضان وہ مہینہ ہے ، جس میں قرآن نازل کیا گیا، اس حال میں کہ وہ لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور اس میں حق وباطل میں تمییز کرنے والی روشن دلیلیں ہیں ، تم میں جو کوئی اس مہینہ کو پائے وہ اس کے روزہ رکھے !

(سورۃ البقرۃ،آیت:185)

       روزہ ایک ایسی عبادت ہے ، جو اگلی امتوں پر بھی فرض تھی، انہیں بھی رب العالمین نے روزہ کا اہتمام کرنے کا حکم فرمایا تھا ،وہ ایسی عظیم عبادت ہے ؛جس کی برکت سے انسان تقوی وطہارت کا پابندہوجاتا ہے ،چنانچہ رب العالمین نے ہمارے لئے بھی روزہ کو تقوی اور پرہیزگاری اختیار کرنے کا بہترین ذریعہ بنایا ،جیساکہ مذکورہ آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آَمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَیَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُون۔

اے ایمان والو!تم پر روزے فرض کئے گئے؛جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پرفرض کیئے گئے تھے ،تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ!

       (سورۃ البقرۃ،آیت:183)

روزہ دار صفت الہی کا مظہر اور سنت نبوی کا پیکر

       روزہ ایک ایسا فرض ہے، خدا کی ایک ایسی عبادت ہے کہ بندئہ مومن جب تک سرورکونین صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل نہ کرے اسے ادا نہیں کرسکتا ،رب العالمین نے روزہ دار کے حق میںایسا معاملہ فرمایا کہ وہ رب کی عظیم عبادت روزہ کا آغاز کرنا چاہے تو وہ سحری کھائے بغیر روزہ شروع نہیں کرسکتا اور اگر سحری کھائے بغیر روز ہ رکھ بھی لے تو وہ خلاف سنت عمل کا مرتکب ہوگا، اس لئے کہ حبیب پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سحری کھانے سے متعلق آگاہ فرمادیا اور ہم غلاموں کو اس کی طر ف توجہ دلائی اوریہ حکم فرمایا :

عبدالعزیز بن صہیب قال : سمعت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ قال ، قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم تسحروافان فی السحوربرکۃ .

حضرت عبدالعزیز بن صہیب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے فرمایا ، حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سحری کھایا کرو! کیوںکہ سحری میں برکت ہے ۔

(صحیح البخاری ، کتاب الصوم ، باب برکۃ السحور من غیر ایجاب ،حدیث نمبر: 1923)

       اسی طرح روزہ کے اختتام پر افطار کرنا ، یہ بھی رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کریمہ ہے ، گویا رب العالمین نے روزہ کو حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسنتوں کے درمیان رکھ دیا، خدائے تعالیٰ کی اس عبادت کو اپنا کر روزہ دار جہاںصفت الہی کا مظہر ہوجاتاہے، وہیں وہ سنت نبوی کا پیکر بھی بن جاتا ہے ، چونکہ کھانا تناول فرماناحضورپاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سنت ہے اور خدا کی ذات کھانے، پینے سے پاک ہے ، اس بنیاد پر بندہ جب روزہ رکھتا ہے تو وہ تجلیات ربانی اور انوار نبوی سے اپنے ظاہر وباطن کو روشن ومنور کرلیتا ہے ۔

روزہ دار کے حق میں خصوصی سرفرازی

       دنیا اور آخرت میں روزہ کے بے شمار فوائد ہیں ، روزہ دار کے حق میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے دنیا وآخرت میں بے شمار برکتیں اور سعادتیں رکھی ہیں، روزہ خدائے تعالیٰ کی وہ عبادت ہے کہ جس کی برکتیں دیگر عبادتوں میں اور ان کے ثواب میں نہیں پائی جاتیں ، بندئہ مومن کو نیکی کرنے کی وجہ سے اجروثواب تو ضرور دیا جاتا ہے ، لیکن وہ اجروثواب ‘روزہ اور اس کے اجروثواب کے مماثل نہیں ہوسکتا ، حدیث شریف میں آتا ہے :

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَبَّکُمْ یَقُولُ کُلُّ حَسَنَۃٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِہَا إِلَی سَبْعِمِائَۃِ ضِعْفٍ وَالصَّوْمُ لِی وَأَنَا أَجْزِی بِہِ الصَّوْمُ جُنَّۃٌ مِنَ النَّارِ وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْیَبُ عِنْدَ اللَّہِ مِنْ رِیحِ الْمِسْکِ وَإِنْ جَہِلَ عَلَی أَحَدِکُمْ جَاہِلٌ وَہُوَ صَائِمٌ فَلْیَقُلْ إِنِّی صَائِمٌ .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا، حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک تمہارا پروردگا ر فرماتا ہے : ہر نیکی کا اجر دس(10) گناسے سات سو(700)گناتک دیا جاتا ہے اور روزہ (خالص ) میر ے لئے ہے اور میں ہی اس کا صلہ عطاکرتا ہوں ،روزہ ‘دوزخ کے لئے ڈھال ہے

اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالی کے نزدیک مشک سے زیادہ خوشبودار ہے ، اور اگر کوئی ناداں تم میں کسی روزہ دار سے نازیبا حرکت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ کہے :میں روزہ دار ہوں۔

   (جامع الترمذی، کتاب الصَّوْمِ، باب مَا جَاءَ فِی فَضْلِ الصَّوْمِ، حدیث نمبر:769)

       حدیث شریف میں مذکور کلمہ وانا اَجزِی بہ  کو وانااُجْزیٰ بہ بھی پڑھاگیا ، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ’’ میں خودہی روزہ کا بدلہ ہوجاتا ہوں ۔‘‘

       اس حدیث شریف سے یہ بات آشکا ر ہوتی ہے کہ رب قدیر نے ہر عبادت کا بدلہ او راس کی ہر اطاعت کا صلہ ثواب کی شکل میں مقرر کیا ہے ، لیکن روزہ خدائے تعالیٰ کی ایک ایسی عبادت ہے؛ جس کا بدلہ خود خالق کائنات ہوجاتا ہے اور روزہ دار کو اپنے دیدار پر انوار سے مشرف فرماتا ہے ۔

روزہ بے ریا عمل

       روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس میں خاص طور پر ریا کاری کا کوئی شائبہ نہیں، اس میں دکھاوے کا کوئی دخل نہیں ، اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے روزہ دار کے لئے خصوصی سرفرازی کا جووعدہ فرمایا؛ اسی سے متعلق تفصیل بیان کرتے ہوئے شارح صحیح بخاری علامہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ رقمطراز ہیں :

وَاللَّہ أَعْلَم أَنَّہُ إِنَّمَا خَصَّ الصِّیَام لِأَنَّہُ لَیْسَ یَظْہَر مِنْ اِبْنِ آدَم بِفِعْلِہِ وَإِنَّمَا ہُوَ شَیْء فِی الْقَلْب . وَیُؤَیِّد ہَذَا التَّأْوِیل قَوْلہ صَلَّی اللَّہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ " لَیْسَ فِی الصِّیَام رِیَاء "حَدَّثَنِیہِ شَبَابَۃ عَنْ عُقَیْل عَنْ الزُّہْرِیِّ فَذَکَرَہُ یَعْنِی مُرْسَلًا قَالَ : وَذَلِکَ لِأَنَّ الْأَعْمَال لَا تَکُونُ إِلَّا بِالْحَرَکَاتِ ، إِلَّا الصَّوْم فَإِنَّمَا ہُوَ بِالنِّیَّۃِ الَّتِی تَخْفَی عَنِ النَّاس۔ 

 اللہ تعالی ہی بہتر جانتا ہے، دراصل اس نے روزہ کو اس لئے مخصوص فرمایا؛ کیونکہ روزہ انسان کے عمل سے ظاہر نہیں ہوتا،اس لئے کہ وہ دل ہی میں پوشیدہ چیز ہے اور اس بات کی تائید حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے ہوتی ہے کہ روزہ میں دکھاوا نہیںہے۔ ۔ ۔ امام زہری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: بات یہ ہے کہ اعمال حرکات کے ساتھ ہوا کر تے ہیں، لیکن روزہ صرف نیت پر موقوف ہوتا ہے اور نیت لوگوں سے پوشیدہ رہتی ہے ۔

( فتح الباری شرح صحیح البخاری،کتاب الصوم،باب فضل الصوم)

خشیت الہی کی برکت

       روزہ دار اپنے مولی کو راضی کرنے کے لئے سورج کی حرارت کو برداشت کرتا ہے ،لیکن پانی کا ایک قطرہ اپنے حلق کے نیچے جانے نہیں دیتا ،بھوک کی شدت پر بھی صبر کرتا ہے ، لیکن کھانے کا ایک دانہ اپنے پیٹ میں جانے نہیں دیتا اورروزہ دار کے اس عمل کا کسی کو شعور نہیں ہوتا ،حتی کہ وہ تنہائی میں ہوتا ہے ، اس کے ساتھ کوئی اور شخص نہیں ہوتا ایسے وقت اگروہ کچھ کھالے اور پی لے تو اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا ،تب بھی وہ کوئی چیز کھانے پینے کی جرأت نہیں کرتا ، کیونکہ اس کے دل میں خدائے تعالیٰ کا خوف ہوتا ہے ۔

       محض وہ اللہ رب العزت کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ان ظاہری صعوبتوں کو سہتاہے، نفسانی خواہشات سے پرہیز کرتا ہے، گناہوں سے گریز کرتا ہے، شیطان کے وسوسوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ حدیث شریف میںروزہ کودوزخ کی آگ سے بچنے کی ’’ڈھال‘‘ کہا گیا ۔

       چونکہ روزہ دار جب اللہ تعالیٰ اور اسکے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں اخلاص و للہیت کے ساتھ ہمہ تن مصروف ہوجاتا ہے اور شریعت مطہرہ کی خلاف ورزی سے وہ اپنے دامن کو بچالیتا ہے تو ’’روزہ‘‘اس کے حق میں دوزخ کے لئے ڈھال بن جاتا ہے اور اسے روزہ کے باعث دوزخ سے چھٹکارانصیب ہوجاتاہے۔

روزہ دارکے لئے رحمتوں کی سوغات

      

 جب روزہ دار اپنے مولا کا قر ب حاصل کرنے کے لئے ‘اخلاص وللہیت کے ساتھ روزہ اداکرنے کے لئے مشقتیں برداشت کرتا ہے ، نفسانی خواہشات کو پا مال کردیتا ہے تو رب العالمین نے روزہ دار بندہ کو اپنی خوشنودی سے سرفراز کرنے اور اسے اپنی خصوصی رحمتوں سے نوازنے کا وعدہ فرمایا ہے ، جس کی خبر ہمیں نبی برحق‘ مخبرصادق صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ،چنانچہ ایک موقع پرحضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :

 عن سعید بن زید بن عمرو بن نفیل قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وأقبل علی أسامۃ بن زید فقال یا أسامۃ علیک بطریق الجنۃ وإیاک أن تختلج دونہا فقال یا رسول اللہ ما أسرع ما یقطع بہ ذلک الطریق قال بالظمإ فی الہواجر وکسر النفس عن لذۃ الدنیا۔یاأسامۃ علیک بالصوم فإنہ یقرب إلی اللہ أنہ لیس شیء أحب إلی اللہ من ریح فم الصائم ترک الطعام والشراب للہ عز وجل فإن استطعت أن یأتیک الموت وبطنک جائع وکبدک ظمآن فافعل فإنک تدرک شرف المنازل فی الآخرۃ وتحل مع النبیین ویفرح الأنبیاء بقدوم روحک علیہم ویصلی علیک الجبار تعالی ۔۔۔۔۔

 حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،انہوں نے فرمایا ، میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف متوجہ ہوکر ارشاد فرمایا:اے اسامہ!تم جنت کی راہ پرگامزن رہو اور اس کے علاوہ راستہ پرچلنے سے بچتے رہو! توانہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اس راستہ پر تیزی سے پہنچانے والی کونسی چیزہے ؟ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گرمیوں میں پیاسارہنا اور دنیوی خواہشات سے نفس کو روکنا۔ اے اسامہ! تم روزہ رکھا کرو !کیوںکہ وہ اللہ تعالی کا قرب عطا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک روزہ دار کے منہ کی بوسے اوراس کے کھانے پینے کو رضائے الہی کی خاطر چھوڑنے سے بہتر کوئی پسندیدہ چیز نہیں،اگر تم ایساکرسکتے ہو کہ تمہارے انتقال کے وقت تمہارا پیٹ بھوکا اور جگرپیاسا ہو ‘ توتم ایسا کرو ! جس کے سبب تم آخرت میں بلند مقامات پالوگے اور انبیاء کرام کی خدمت میں رہوگے، اور تمہارے ان کی خدمت میں حاضر ہونے کی وجہ سے وہ خوش ہوں گے اوراللہ سبحانہ وتعالیٰ تم پر رحمتیں نازل فرمائے گا۔

(تاریخ دمشق ، حرف الالف ، اسامہ بن زید بن حارثہ )

روزہ عملی واخلاقی تربیت کا ضامن

      

 روزہ کے منجملہ فوائد میں یہ بھی ہے کہ اس میں روزہ دار کی عملی واخلاقی تربیت ہوتی ہے ، وہ نعمتوں کی قدردانی کرنے والا اورخدا کی عطاپر شکر کرنے والا بنتا ہے، مصائب ومشکلات پر صبرکرنے کا عادی ہوجا تا ہے اور خود کھانے پینے سے رکے رہنے کی وجہ سے غریب ونادار اور بھوک وفاقہ سے دوچار افراد سے متعلق اس کے دل میں غمگساری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔

روزہ صحت کی برقراری کا باعث

       طبی لحاظ سے بھی روزہ کے کئی فوائد ہیں ،باضابطہ روزہ رکھنے سے انسانی صحت برقرار رہتی ہے ۔ طبی ماہرین کا بیان ہے کہ معدہ کو طویل وقت تک غذا سے خالی رکھنا کئی جسمانی امراض کا علاج ہے، بھوک کی وجہ سے معدہ کے فاسد مادے زائل ہوجاتے ہیں،علاوہ ازیں روزہ انسان کو درپیش ہونے والے کئی امراض کا موثر ذریعہ علاج ہے ،بلڈ پریشر، نظام ہاضمہ، شوگر اور اس جیسے کئی عوارض جسمانیہ کی روک تھام کیلئے بے حد مفید ہے۔

روزہ دخول جنت کا بہترین ذریعہ

       ان خوبیوں اور فوائد کے پیش نظر روزہ کو صرف رمضان کی حدتک محدود نہیں کیا گیا ، بلکہ جس طرح فرض نمازوں کے علاوہ نفل نمازیں بھی اداکی جاتی ہیں، صدقہ واجبہ اور زکوۃ کے علاوہ نفل صدقہ ‘خیرات اور عطیات دئے جاتے ہیں؛ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نفل روزہ کی بھی ترغیب دلائی اور اسے جنت میں داخل ہونے کا بہترین ذریعہ قرار دیا، جیسا کہ مسند امام احمد میں حدیث  پاک ہے :

 عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ قَالَ أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ مُرْنِی بِعَمَلٍ یُدْخِلُنِی الْجَنَّۃَ. قَالَ  عَلَیْکَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّہُ لاَ عِدْلَ لَہُ۔ثُمَّ أَتَیْتُہُ الثَّانِیَۃَ فَقَالَ عَلَیْکَ بِالصِّیَامِ۔

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : مجھے ایسے عمل کا حکم فرمائیے؛ جو مجھے جنت میں داخل کرے!حضور پاک علیہ الصلوٰۃوالسلام نے ارشاد فرمایا : تم روزہ کا اہتمام کرو !کیونکہ کوئی عمل اس کے مماثل نہیں ،میںحضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا :تم روزہ کا اہتمام کرو!۔

( مسندالامام أحمد ، حدیث أبی أمامۃ الباہلی،22805)

روزہ میں ہر گز شریعت کی خلاف ورزی نہ کریں!

       خدائے تعالی کی یہ سرفرازی اور کرم نوازی اپنے نیکوکار ، روزہ دار ، عبادت گزار اور پرہیزگار بندوں کے لئے ہے ، جو اپنے مولی کی اطاعت کرتے ہیں،اس سے خوف کرتے ہیںاور ہمیشہ ان پر خشیتِ الہی طاری رہتی ہے ، اخلاص وللہیت کے ساتھ وہ معبود حقیقی کی عبادت کرتے ہیں ، اسی بنیاد پر رب العالمین انہیں اپنے فضل وکرم میںلے لیتا ہے،ان ہستیوں سے قطع نظر جو بندے خدائے تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں ، اس کی اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے روگردانی کرتے ہیں ،وہ عبادت تو ضرور کرتے ہیں ،لیکن اس میں اخلاص نہیں ہوتا، وہ روزہ تو رکھتے ہیں ؛لیکن گناہوں سے نہیں بچتے تو ایسے افراد کی عبادت دربارِالہی میں شرف قبولیت حاصل نہیں کرتی ، جیسا کہ صحیح بخاری شریف میں حدیث پاک ہے :

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَنْ لَمْ یَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِہِ فَلَیْسَ لِلَّہِ حَاجَۃٌ فِی أَنْ یَدَعَ طَعَامَہُ وَشَرَابَہُ .

 

 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا :حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص (روزہ میں )جھوٹ بات اور بے ہودہ عمل کو نہیں چھوڑتا تو اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑدے ۔

(صحیح البخاری،کتاب الصوم، باب من لم یدع قول الزور۔ ۔ ۔ حدیث نمبر 1903)

       ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس متبرک مہینہ کی قدر کریں ، روزوں اور تراویح کا اہتمام کریں ، بلاعذرشرعی روزہ نہ چھوڑیں اور بطورِخاص روزہ کی حالت میں ناجائز وحرام کاموں کے علاوہ مکروہات ومشتبہات سے بھی بچتے رہیں۔

از:ضیاء ملت حضرت علامہ مولانا مفتی حافظ سید ضیاء الدین نقشبندی مجددی قادری صاحب دامت برکاتہم العالیہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر

www.ziaislamic.com

 
     
 
 
 
  BT: 353   
حضرت خواجہ بندہ نوازرحمۃ اللہ علیہ، شخصیت وتعلیمات
...............................................
  BT: 352   
تذکرہ حضرت ابو الخیرسید رحمت اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ
...............................................
  BT: 351   
حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ کی اصلاحی وتجدیدی خدمات
...............................................
  BT: 350   
غوث اعظم رضی اللہ عنہ علمی جلالت، فیضان اور تعلیمات
...............................................
  BT: 349   
ولادت باسعادت، خصائص وامتیازات
...............................................
  BT: 348   
شاہ نقشبند حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبندؒ ملفوظات وکرامات
...............................................
  BT: 347   
امام ربانی مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ شخصیت حیات وتعلیمات
...............................................
  BT: 346   
ماہ صفر'اسلامی نقطۂ نظر
...............................................
  BT: 345   
محبت اہل بیت وصحابہ شعارِاہل سنت
...............................................
  BT: 344   
کرامات امام حسین رضی اللہ عنہ
...............................................
  BT: 343   
محبت اہل بیت وصحابہ شعارِاہل سنت
...............................................
  BT: 342   
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فضائل ومناقب
...............................................
  BT: 341   
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ،فضائل وکمالات
...............................................
  BT: 340   
قربانی فضائل ومسائل
...............................................
  BT: 339   
برادران وطن کے ساتھ تعلقات
...............................................
  BT: 338   
عشرۂ ذی الحجہ فضائل واحکام
...............................................
  BT: 337   
فضائل حج وعمرہ
...............................................
  BT: 336   
تذکرہ حضرت ابو الخیرسید رحمت اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ
...............................................
  BT: 335   
حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ‘فضائل ومناقب
...............................................
  BT: 334   
رمضان کے بعد ہماری زندگی کیسی ہو؟
...............................................
 
   
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights Reserved