زکوۃ اہمیت وفرضیت
 

زکوۃ اہمیت وفرضیت

       اللہ تعالی نے انسان وجنات کو اپنی عبادت وبندگی کے لئے پیدا کیا ہے،اس لئے دین اسلام میں عبادات کی غیر معمولی اہمیت ہے ،چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے:وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ. 

ترجمہ:اور میں نے انسان وجنات کو اپنی عبادت کے لئے ہی پیدا کیا ۔

     (سورۃ الذاریات۔56)

      اسلام کا نظامِ عبادت منبرومحراب تک محدود نہیں ،اس میں رسمی تقاضوں کی تکمیل نہیں، یہ چند روایتی کاموں کی انجام دہی کا نام نہیں،بلکہ اسلامی نظامِ عبادت بندوں کے لئے خالق کے قرب کا باعث اور مخلوق سے تعلقات استوار کرنے کا ذریعہ ہے ، وہ اپنے اندر وقیع معنویت اور گہری تاثیررکھتا ہے،معاشرہ وسوسائٹی کی اصلاح میں اسلامی نظامِ عبادت جو رول ادا کرتاہے اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔

     نماز وروزہ ہو یا زکوۃ و حج،اعتکاف وقربانی ہو یا صدقہ وخیرات یہ تمام عبادتیں بالواسطہ یا بلا واسطہ خود عبادت کرنے والے کے لئے بھی مفید و سود مند ہیں اور معاشرہ وسوسائٹی کے لئے بھی نفع بخش وکار آمد ہیں۔

     بالخصوص اسلام کا نظام زکوۃ سماج میں انتہائی خیرخواہی اور اخوت ورواداری کامظہر ہے ، نیز باہمی امداد واعانت پر مبنی اورمعاشرتی عدل وانصاف کا آئینہ دار ہے،نظامِ زکوۃ پر بالکلیہ طورپر عمل آوری سے دنیا معاشی بحران سے نجات پا سکتی ہے‘ انسانیت اقتصادی مشکلات سے راحت حاصل کرسکتی ہے اور ایک پاکیزہ وخوشگوار سوسائٹی وصالح معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے،جس کے نتیجہ میں معاشرہ کے ہرہر طبقہ کے تمام افراد اپنی اپنی حیثیت سے آسودہ زندگی گزارنے والے دکھائی دیں گے،سوسائٹی کے ارکان وافراد حرص ولالچ،بخل وامساک سے دور ہوں گے اورخود غرضی وموقع پرستی سے عاری اور اخلاقی اقدارکے حامل ہوں گے۔

        زکوۃ کے ذریعہ مال کی صحیح تقسیم ہوگی،دولت منجمد نہ ہوگی،اس میں بہاؤ آئے گا،تنگدست ومسکین افراد کو ان کے مالی حقوق حاصل ہوں گے،جس طرح تجارت پیشہ افراد، اہل صنعت وحرفت خوشحال زندگی بسر کررہے ہیں اسی طرح مفلس وضرور تمندافراد کی ضرورتیں تکمیل ہوتی نظر آئیں گی ‘ مالداروں اور دولتمندوں کے اور فقراء و مساکین کے درمیان رنجشیں یا تلخیاں نہ ہوں گی ۔

     اسلامی عبادات میں نماز کے بعد سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والی عبادت زکوٰۃ ہے، جو اسلام کا ایک مضبوط ستون اور رکن رکین ہے، جس کی فرضیت قرآن کریم سے ثابت ہے اور حدیث شریف‘اجماع امت اور قیاس اس کی فرضیت کی تائید وتاکید کرتے ہیں۔

زکوۃ کا لغوی معنٰی

     زکوۃ کا لغوی معنیٰ طہارت وپاکیزگی،اضافہ اور نُمُوْہے اور جس مال کی زکوۃ نکالی جاتی ہے اس میں یہ مفہوم کامل طور پر پایاجاتا ہے ،زکوٰۃ دینے سے مال پاک ہوتاہے ‘اوراس میں ترقی وبرکت ہوتی ہے۔

البحرالرائق میں ہے :

وفي الغاية : انها في اللغة بمعنی النماء وبمعنی الطهارة وبمعنی البرکة ۔

(البحرالرائق شرح کنزالدقائق، کتاب الزکوٰۃ ، ج 2 ص352 )

زکوۃ کااصطلاحی معنٰی

     اصطلاح شرع میں زکوۃکا معنی یہ ہے کہ مالک نصاب کی جانب سے خالص اللہ کی رضا کے لئے کسی ایسے ضرورتمندمسلمان کوجو نہ تو سیدہو اور نہ سید کاآزاد کردہ غلام ہو‘اپنے مال کے ایک مقررہ حصہ کا پوری طرح مالک قرار دیا جائے۔

فقہ حنفی کی معروف کتاب کنز الدقائق میں ہے :

هی تمليک المال بغير عوض من فقيرمسلم غيرهاشمی ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملک من کل وجه لله تعالي.

(کنزالدقائق ،کتاب الزکوٰۃ ، ص 55)

زکوۃ کاحکم

     زکوٰۃ فرائض اسلام میں ایک اہم فریضہ ہے ،یہ شہادتین اور نماز کے بعد اسلام کاتیسرارکن ہے ،جس صاحب نصاب مسلمان ‘عاقل‘بالغ‘آزاد مردوعورت کے پاس نصاب کے بقدر مال ہو اس پر سال گزرتے ہی زکوٰۃ فرض ہے ۔

زکوٰۃ کی فرضیت کا انکار کرنے والا دائرۂ اسلام سے خارج ہے،زکوۃ کا حکم سابقہ امتوں کے لئے بھی تھا اور امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے لئے فرضیتِ زکوٰۃ کا حکم سنہ دو(2) ہجری میں ماہ رمضان کے روزوں کی فرضیت سے قبل نازل ہوا ‘جبکہ مسلمانو ں کے حالات ایسے تھے کہ اُنہیں آپسی مدد ونصرت،باہمی تعاون کی سخت ضرورت تھی۔

درمختارمیں ہے :

وفرضت فی السنة الثانية قبل فرض رمضان.

(درمختار ،کتاب الزکوٰۃ )

انبیاء کرام پر زکوٰۃ واجب نہیں

حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے لئے زکوۃ کا حکم نہیں،اس بات پر اجماع واتفاق ہے ،اس لئے کہ زکوۃ اس شخص کے لئے پاکیز گی کا ذریعہ ہے جو گندگی وآلائش سے متاثر ہو سکتا تھا‘ جبکہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃوالسلام وہ مقدس ہستیاں ہیں جوہر قسم کی گند گی وآلائش سے پا ک ہی ہوتی ہیں،درمختارمیں ہے:

ولا تجب علي الانبياء اجماعا .

(درمختار، کتاب الزکوٰۃ)

اور رد المحتارکتاب الزکوۃ میں ہے:

لان الزکوة طهرة لمن عساه ان يتدنس والانبياء مبرء ون منه۔

(ردالمحتار، کتاب الزکوٰۃ)

زکوۃ کی اہمیت

زکوٰۃ کا حکم اس قدر اہمیت والا ہے کہ اس کی تاکیدمیں کئی ایک آیات قرآنیہ نازل ہوئیں، اللہ تعالی نے قرآن کریم میں بتیس (32)مقامات پر نماز اور زکوٰۃ کو ایک ساتھ ذکر کیا اور مختلف اندازواسلوب میں زکوٰۃ کا حکم دیا، کہیں بطور حکم فرمایا:

واٰتُوْا الزَّکوٰة. اور زکوٰۃ ادا کرو۔

(سورۃ البقرۃ ۔ 43)

کہیں زکوٰۃ کو نیکی کے کاموں میں ذکر کردیا۔(سورۃ البقرۃ۔177)

اور متعدد آیات مبارکہ میں زکوٰۃ کا اداکرنا ایمان والے بندوں کی صفت قرار دیا۔

امام طبرانی کی معجم کبیر میں حدیث پاک ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

وَاَدُّوا زَکوٰةَ اَمْوَالِکُمْ طِيْبَةً بِهَا اَنْفُسُکُمْ.

ترجمہ:اورتم اپنے اموال کی (خواہ وہ سونا چاندی ہو یا زیورات) خوشی خوشی زکوٰۃ ادا کرو۔

(المعجم الکبیرللطبرانی ،حدیث نمبر:7413)

مزید برآں مختلف مواقع پر سرور کونین صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے زکوٰۃ کی اہمیت بیان فرمائی اور اسے ادا کرنے کا حکم فرمایا۔

از:ضیاء ملت حضرت علامہ مولانا مفتی حافظ سید ضیاء الدین نقشبندی مجددی قادری صاحب دامت برکاتہم العالیہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر

www.ziaislamic.com

 

 
     
 
 
 
  BT: 354   
حضرت امام ربانی رحمہ اللہ کا علمی وروحانی مقام
...............................................
  BT: 353   
حضرت خواجہ بندہ نوازرحمۃ اللہ علیہ، شخصیت وتعلیمات
...............................................
  BT: 352   
تذکرہ حضرت ابو الخیرسید رحمت اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ
...............................................
  BT: 351   
حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ کی اصلاحی وتجدیدی خدمات
...............................................
  BT: 350   
غوث اعظم رضی اللہ عنہ علمی جلالت، فیضان اور تعلیمات
...............................................
  BT: 349   
ولادت باسعادت، خصائص وامتیازات
...............................................
  BT: 348   
شاہ نقشبند حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبندؒ ملفوظات وکرامات
...............................................
  BT: 347   
امام ربانی مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ شخصیت حیات وتعلیمات
...............................................
  BT: 346   
ماہ صفر'اسلامی نقطۂ نظر
...............................................
  BT: 345   
محبت اہل بیت وصحابہ شعارِاہل سنت
...............................................
  BT: 344   
کرامات امام حسین رضی اللہ عنہ
...............................................
  BT: 343   
محبت اہل بیت وصحابہ شعارِاہل سنت
...............................................
  BT: 342   
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فضائل ومناقب
...............................................
  BT: 341   
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ،فضائل وکمالات
...............................................
  BT: 340   
قربانی فضائل ومسائل
...............................................
  BT: 339   
برادران وطن کے ساتھ تعلقات
...............................................
  BT: 338   
عشرۂ ذی الحجہ فضائل واحکام
...............................................
  BT: 337   
فضائل حج وعمرہ
...............................................
  BT: 336   
تذکرہ حضرت ابو الخیرسید رحمت اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ
...............................................
  BT: 335   
حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ‘فضائل ومناقب
...............................................
 
   
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights Reserved