تذکرہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا
 

تذکرہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا

حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ازواج مطہرات تمام امت کی مائیں ہیں،اللہ تعالی نے انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے شرف زوجیت کی بناتمام خواتین میں امتیازی شان اور بلند مقام عطا فرمایا ،انہیں تقوی وطہارت کی نعمت اورعفت وعصمت کی مقدس چادر عطا فرمائی ،اور قیامت تک آنے والی خواتین امت کے لئے ان کو نمونہ بنایا،اوران کی شان و عظمت اس قدر بلند و بالا کی کہ دنیا کی کوئی عورت ان جیسی نہیں ۔

ارشاد باری تعالی ہے :يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ۔

      ترجمہ:اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیو! تم دوسری کسی عورت کے جیسی نہیں۔

(سورۃ الاحزاب ،آیت: 32)

       اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُوْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ وَاَزْوَاجُہٗ اُمَّھٰتُہُمْ ۔

     ترجمہ:نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) مؤمنوں کی جانوں سے زیادہ اُن کے قریب ہیں اور آپ کی ازواج (مطہرات)ان کی  مائیں ہیں۔

(سورۃ الاحزاب ،آیت: 6)

     اُن سے نکاح کرنا امت کے حق میں ہمیشہ کے لئے حرام ہے‘ ارشاد الہی ہے:

       وَلَآ اَنْ تَنْکِحُوْٓا اَزْوَاجَہ مِنْ بَعْدِہٖٓ اَبَدًا، اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ عِنْدَ اللّٰہِ عَظِیْمًا۔

     ترجمہ: اور نہ یہ جائزہے کہ تم ان کے بعد ان کی ازواج مطہرات سے نکاح کرو، بیشک یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے۔

(سورۃ الاحزاب ، آیت :53)

      اور حقیقی ماں سے پردہ نہیں مگر اِن مقدس ماؤں سے اُن کی عظمت و حرمت کے پیش نظر پردہ لازم و ضروری ہے ۔

 ایمان میں سبقت:

ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا خواتین میں سب سے پہلے ایمان لائیں ۔ اعلانِ نبوت کے بعد ہر طرف مخالفت کی لہر اٹھی تو آپ مونس حیات بن کر تسکین خاطر کا سبب بنیں ۔آپ سے متعلق حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا:قَدْ آمَنَتْ بِى إِذْ كَفَرَ بِى النَّاسُ وَصَدَّقَتْنِى إِذْ كَذَّبَنِى النَّاسُ۔

ترجمہ:(خدیجہ رضی اللہ عنہا)وہ ہیں جومجھ پر اس وقت ایمان لائیں جب لوگ میراانکار کررہے تھے،انہوں نے اس وقت میری تصدیق کی جب لوگ مجھے جھٹلارہے تھے۔

(مسند امام احمد بن حنبل،حدیث نمبر:25606) 

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے عقد فرمانے سے قبل حضرت  نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا مال لے کر اُن کے غلام ’’مَیْسَرَہْ ‘‘ کے ساتھ شام کا سفر فرمایا ۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت کریمہ اور صفت جمیلہ یہ تھی کہ تجارت میں نہ کسی کو دھوکہ دیتے نہ کسی سے جھگڑتے ، آپ کی برکت سے مالِتجارت میں بے حد اضافہ ہوتا ، اِس سفر تجارت کے دوران مَیْسَرَہ ْنے کچھ عجائب دیکھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دوپہر کے وقت دھوپ میں تشریف لے جاتے تو بادل آپ پر سایہ کرتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ملک شام پہنچ کر ایک کلیسا کے پاس درخت کے نیچے آرام فرما ہوئے تو راہب نے آپ کو دیکھ کر مَیْسَرَہ ْسے کہا: یہ کون ہیں؟ اِس درخت کے نیچے تو نبی آخر الزماں ہی آرام کریں گے ‘  مَیْسَرَہ ْنے سفر سے واپس ہونے کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے راہب کی باتیں اور بادل کا سایہ کرنا بیان کیا ۔ آپ بڑی عقلمند وشریف خاتون تھیں، اپنے چچازاد بھائی ورقہ کو سب کچھ بتایا تو اُنہوں نے بھی کہا کہ یہ ہمارے سردار اورآخری نبی ہیں اور اشعار کہے جس میں سے چند اشعار کا ترجمہ یہ ہے :

1)  محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سردار ہوں گے اور جو آپ کی طرف سے دوسروں پر حجت قائم کرے گا وہی غالب ہوگا۔

2)  تمام عالم میں اس نور مبارک کی روشنی پھیل جائے گی جو نور مخلوق کو گمراہی سے نکال کر سیدھے راستہ پر چلائے گا۔

(سبل الھدی والرشاد، ج:2، ص: 158۔ مواہب لدنیہ ، ج:1، ص:370)

ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح:

     ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا شرافت اور پاک دامنی میں بے مثال تھیں ، آپ کا لقبِمبارک ’’طَاہِرَہْ ‘‘ تھا، آپ کے شوہر کا انتقال ہوچکا تھا، بڑے بڑے مالدار لوگ آپ کو پیامِ نکاح بھیجا کرتے تھے مگر آپ شادی کی طرف راغب نہ تھیں۔ جب مَیْسَرَہ ْسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مَدح و ثناء اور کمالات سنیں تو متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کا پیغام بھیجا ۔

     حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا اور خاندان کے بڑے افراد کے سامنے یہ بات رکھی ، بھلا کون اس بات سے انکار کرسکتا تھا؟ حضرت  ابوطالب نے خطبۂ نکاح پڑھا ، ابن ہشام کے قول کے مطابق بیس 20جوان او نٹنیاں مہر مقرر ہوا ۔ دوسرے سیرت نگاروں نے پانچ سو درہم مہر لکھا ہے ۔

 

نکاح کے وقت آپ کی عمر مبارک چالیس(40)سال تھی اورحضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عمرشریف 25،  سال۔

حضورپاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ کی زندگی میں دوسرا عقد نہیں فرمایا ۔

     امام حاکم نے مستدرک علی الصحیحن میں روایت نقل کی ہے:

     عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ:كَانَتْ خَدِيْجَةُ أَوَّلَ مَنْ آمَنَ بِرَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النِّسَاءِ.

     ترجمہ:امام زہری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے،آپ نے فرمایا :خواتین میں سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائیں۔

(مستدرک علی الصحیحن،حدیث نمبر:4831)

سب سے پہلے قرآنی آیات سننے کا اعزاز:

آپ کو شرف حاصل ہے کہ وحی نازل ہونے کے بعد سب سے پہلے آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آیات قرآنیہ کوسنا۔

اعلان نبوت سے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تنہائی میں عبادتِ خدا کے ارادہ سے غار حراء تشریف لے جاتے اور اس غار میں اللہ تعالیٰ کی یاد میں مصروف رہا کرتے تھے ، مختصر ستو بطورِغذا ساتھ لے جاتے، جب وہ ختم ہوجاتا تو کبھی بنفس نفیس دولت خانہ واپس تشریف لاتے کبھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کھانا لے کر غارحرا میں حاضر ہوتیں۔

(صحیح بخاری،باب بدء الوحی،حدیث نمبر:3)

      معمول شریف کے مطابق معلم کائنات صلی اللہ علیہ وسلم حق تعالیٰ کی عبادت ، ذکر و مراقبہ میں مشغول تھے اچانک ایک دن اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرئیل علیہ السلام حاضرِ خدمت ہوئے اور عرض کیا :’’ اِقْرَاْ ‘‘پڑھئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں پڑھنے والا نہیں، فرشتہ نے گرم جوشی کے ساتھ آپ سے معانقہ کیاپھر عرض کیا : پڑھئے !حضور نے فرمایا: میں پڑھنے والا نہیں ۔ اس طرح تین بار کیا اور تیسری بار سورہ علق کی پہلی آیت ’’ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ‘‘ سے  پانچویں آیت تک تلاوت کی، ان آیاتِ کریمہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لے کر اپنے کاشانہ اقدس تشریف لائے ۔

      نزولِ قرآن کی وجہ سے خاص انوار و تجلیات کا ظہور ہوا تھا اور شانِ رسالت و نبوت سے حق تعالیٰ کا قرب خاص ملا تھا، جس کی وجہ سے جسم مبارک کانپ رہا تھا، دولت خانہ پر تشریف لاکر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : مجھے چادر اڑھاؤ؛ مجھے چادر اڑھاؤ ! آپ نے چادر اڑھادی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا واقعہ بیان کیا اور فرمایا کہ مجھے اپنی قوم کے جھٹلانے کا اندیشہ ہے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا : جب آپ ہیں تو ان کے لئے کوئی خطرہ نہیں۔ خدا کی قسم !اللہ تعالیٰ آپ کی شان بلند رکھے گا اور اپنی مدد کو نہیں روکے گا ۔ آپ رشتہ داروں سے بہتر سلوک کرتے ہیں، ناداروںکا بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور مصیبتوں کے وقت لوگوں کے کام آتے ہیں ۔

      پھر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اپنے چچا زاد بھائی’’ ورقہ بن نوفل ‘‘کے پاس گئیں ،جو ایک خدا کو ماننے والے تھے اور انہیں سارا واقعہ سنایا، انھوں نے کہا :یہ وہی فرشتہ ہے جو انبیاء کرام کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا رہا، کاش کہ میں اعلانِ نبوت کے وقت نوجوان ہوتا ، کاش میں اس وقت زندہ ہوتا؛ جب قوم کی شرارت کی وجہ سے آپ کو مکہ مکرمہ سے نکلنا ہوگا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کیا ان لوگوں کی وجہ سے مجھے مکہ سے نکلنا ہوگا ؟تو ورقہ نے کہا: جو بھی نبوت لے کر آئے ان کی قوم‘ مخالفت پر اتر آئی اور ان سے دشمنی کی ۔

فضائل ومناقب:

حضرت ا م المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت میں بہت سی احادیث آئی ہیں ۔

     امام طبرانی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو دنیا میں جنت کا انگور کھلایا۔

(معجم اوسط طبرانی ، حدیث نمبر:6277)

     حاشیہ زرقانی میں حدیث پاک ہے :اہل جنت کی عورتوں میں سب سے افضل حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ‘حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ‘حضرت مریم علیہا السلام اور حضرت آسیہ علیہاالسلام ہیں۔

بارگاہ خداوندی سے تحفہ سلام:

صحیح بخاری شریف میں  روایت ہے: حضرت جبرئیل امین علیہ السلام حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوکر عرض کیئے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاایک برتن میں کھانا لے کر حاضر خدمت ہورہی ہیں، جب وہ حاضر ہوں تو انہیں اللہ تعالیٰ کا اور میرا سلام فرمائیے اور انہیں خوشخبری دیجئے کہ جنت میں ان کے لئے موتی کا ایک عالیشان محل ہے ، جس میں نہ کوئی شور رہے گا اور نہ کوئی زحمت و تکلیف۔

عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَرَضِىَ اللهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِىَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ إِدَامٌ أَوْ طَعَامٌ أَوْ شَرَابٌ ، فَإِذَا هِىَ أَتَتْكَ فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلاَمَ مِنْ رَبِّهَا وَمِنِّى ، وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِى الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ ، لاَ صَخَبَ فِيهِ وَلاَ نَصَبَ۔

 مستدرک علی الصحیحین اور سنن کبری للنسائی میں روایت ہے کہ جب حضرت جبریل امین علیہ السلام نے سلام پیش کیا تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا :فقالت إن الله هو السلام وعلى جبريل السلام وعليك السلام ورحمة الله وبركاته۔

ترجمہ:یقینا اللہ تعالی وہی"سلام"ہے اور جبریل علیہ السلام پر سلامتی ہو اورائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم! آپ پر سلام ہو اور اﷲکی رحمت اور اس کی برکات ہوں۔

ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اللہ تعالی کے سلام کے ذکر کے بعد حضرت جبریل امین علیہ السلام کے سلام کا جواب عنایت فرمایا کیونکہ قانون شریعت یہ ہے کہ سلام پہونچانے والے کے لئے بھی سلامتی کی دعا کی جاتی ہے،اور سلام کے جواب میں اسے بھی شریک کیا جاتا ہے ،اس کے بعد آپ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت بابرکت میں نذرانہ سلام بطور شکر پیش کیا ، کیونکہ اللہ تعالی کا سلا م اور اس کا پیام جو  آپ کے نام آیا ہے وہ کسی عبادت کے صلہ میں یاتقوی وطہارت ، زہد و ورع کی وجہ سے نہيں بلکہ نسبت حبیب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بدولت یہ نعمت عطا ہوئی ہے۔

 اس لئے آپ نے برزح کبری ،واسطہ عظمی نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں صلوۃ وسلام پیش کیا ۔

جامع ترمذی شریف میں روایت ہے:حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکے وصال کے بعد سب سے زیادہ آپ کا ذکر خیر فرماتے اور بکری ذبح فرماتے تو آپ کی سہیلیوں کو ضرور عنایت فرماتے۔

(ترمذی شریف ج2ص22)

صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حدیث مبارک ہے ،حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : (حضرت)مریم(علیہا السلام ) اپنے زمانے کی سب سے بہترین عورت ہیں اور (حضرت )خدیجہ (رضی اللہ عنہا ) اپنے زمانے کی سب سے بہترین خاتون ہیں۔

وصال مبارک:

 آپ تقریباً پچیس سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں رہیں اور ہجر ت سے تین سال پہلے پینسٹھ (65) سال کی عمر مبارک میں مکہ مکرمہ میں آپ کا وصال ہوا ۔

اور مزارِمبارک جنۃ المعلّٰی مکہ مکرمہ میں ہے ۔

از:ضیاء ملت حضرت علامہ مولانا مفتی حافظ سید ضياء الدین نقشبندی مجددی قادری صاحب دامت برکاتہم العالیہ

 شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر

www.ziaislamic.com

 
     
 
 
 
  BT: 353   
حضرت خواجہ بندہ نوازرحمۃ اللہ علیہ، شخصیت وتعلیمات
...............................................
  BT: 352   
تذکرہ حضرت ابو الخیرسید رحمت اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ
...............................................
  BT: 351   
حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ کی اصلاحی وتجدیدی خدمات
...............................................
  BT: 350   
غوث اعظم رضی اللہ عنہ علمی جلالت، فیضان اور تعلیمات
...............................................
  BT: 349   
ولادت باسعادت، خصائص وامتیازات
...............................................
  BT: 348   
شاہ نقشبند حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبندؒ ملفوظات وکرامات
...............................................
  BT: 347   
امام ربانی مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ شخصیت حیات وتعلیمات
...............................................
  BT: 346   
ماہ صفر'اسلامی نقطۂ نظر
...............................................
  BT: 345   
محبت اہل بیت وصحابہ شعارِاہل سنت
...............................................
  BT: 344   
کرامات امام حسین رضی اللہ عنہ
...............................................
  BT: 343   
محبت اہل بیت وصحابہ شعارِاہل سنت
...............................................
  BT: 342   
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فضائل ومناقب
...............................................
  BT: 341   
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ،فضائل وکمالات
...............................................
  BT: 340   
قربانی فضائل ومسائل
...............................................
  BT: 339   
برادران وطن کے ساتھ تعلقات
...............................................
  BT: 338   
عشرۂ ذی الحجہ فضائل واحکام
...............................................
  BT: 337   
فضائل حج وعمرہ
...............................................
  BT: 336   
تذکرہ حضرت ابو الخیرسید رحمت اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ
...............................................
  BT: 335   
حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ‘فضائل ومناقب
...............................................
  BT: 334   
رمضان کے بعد ہماری زندگی کیسی ہو؟
...............................................
 
   
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights Reserved