عارف باللہ حضرت سید محمد بادشاہ بخاری نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ
 

9جمادی الاولیٰ 1439ھ م27 جنوری 2018ء  بروزہفتہ ‘111 سالہ عرس سراپا قدس آفتاب برج حقیقت‘ ماہتاب فلک شریعت‘ گنجینۂ معرفت‘ شیخ وقت‘ قطبِ دوران‘ عارف باللہ حضرت سید محمد بادشاہ بخاری نقشبندی مجددی قادری المعروف حضرت سید پیر بخاری شاہ صاحب قبلہ قدس سرہ اور 91 سالہ عرس سراپا قدس صاحبزادہ حضرت ایشاں کلیم طور سینائے ولایت ،حضرت پیر سید شاہ غوث محی الدین بخاری نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ مقرر ہے۔

اس مناسبت سے حضرت ابوالحسنات محدث دکن سید عبداللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب گلزار اولیاء سے حضرت سید پیر بخاری شاہ صاحب قبلہ رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت مقدسہ ‘ تعلیمات شریفہ اور احوال جمیلہ پر مشتمل مضمون ملاحظہ فرمائیں ۔

سالک مجذوب و مجذوب سالک ،باقی باللہ مرشدنا و مولانا حضرت سید پادشاہ صاحب بخاری رحمۃ اللہ علیہ

آپ کا سلسلۂ نسب حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت قدس سرہ سے ملتا ہے، آپ کے جد اعلیٰ بخارا شریف کے رہنے والے تھے مگر چند پشت سے آپ کے اجداد شہر کرنول میں رونق افروز رہے۔ اس لحاظ سے آپ کا مولد کرنول ہے۔ آپ علم ظاہری و باطنی کے عالم متبحر تھے‘ اور حیدرآباد دکن میں ایک عہدہ جلیلہ کے باعث زینت رہے اور کئی سو روپیہ آپ کی ماہوار تھی، چونکہ لڑکپن ہی سے آپ کی طبیعت درویشانہ واقع ہوئی تھی‘ اس لئے باوجود تموّل ظاہری کے زاہدانہ زندگی بسر فرماتے تھے‘ آپ کی ہر بات سے ترک دنیا کے آثار ظاہر ہوتے تھے، رات دن سخت ریاضت و مجاہدے میں گزارتے تھے‘ بلحاظ ملازمت کے جب تک آپ عدالت کی کرسی پر رونق افروز رہے ’’دست بکار دل بیار‘‘ کا نمونہ بن کر خلق خدا کو زبانِ حال سے سکھاتے تھے کہ اگر ایسی دنیا کی جائے تو وہ مذموم نہیں بلکہ سراسر محمود ہے۔

آپ نے نسبت قادریہ عالیہ ،اپنے خاندان میں حاصل کی اور طریقہ عالیہ نقشبندیہ کا سلوک عارف باللہ حضرت شاہ سعد اللہ صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے طئے فرمایا- جن کا مزار اقدس حیدرآباد دکن کے محلہ اردو(شریف ،گھانسی بازار) میں زیارت گاہ خلق ہے- پھر تو آپ کا مجاہدہ اس قد ر بڑھا کہ دائم الصوم و قائم اللیل جس کا ادنیٰ نمونہ تھا‘ چونکہ خدائے تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا ‘ ملازمت کے بھول بھلیوں میں آپ تھوڑے دنوں کے لئے بھی پھنسے رہنے کے لئے نہیں بنائے گئے تھے‘ اس لئے آپ نے یہ عادت کرلی تھی کہ عدالت کا معینہ وقت، سرکاری کام میں صرف فرماکر جو وقت بچ جاتا اس کو حضرت حاجی مستان شاہ صاحب مجذوب رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی حضوری میں گزارتے۔

حضرت شاہ سعد اللہ صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ پیر طریقت تھے تو یہ مجذوب صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ پیر صحبت۔

ایک روز آپ نے مجذوب صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے کچھ نصیحت کرنے کی درخواست کی-

مجذوب صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا: قطعہ ذیل کو حرز جاں بنالو! لاکھ نصیحتوں کی یہ ایک نصیحت ہے:

قطعہ

بندہ ہماں بہ کہ زتقصیر خویش

عذربدرگاہِ خدا آورد

بندہ وہی بہتر ہے کہ عبادت کرکے عبادت میں اپنی کوتاہیوں کا عذر اللہ تعالیٰ کے دربار میں پیش کرتا رہے۔

ورنہ سزاوار خداوندیش

کس نتواند کہ بجا آورد

ورنہ کسی سے نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ کے لائق، عبادت کرسکے۔

مجذوب صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اپنے وصال مبارک کے قریب، آپ سے پینے کے لئے پانی مانگا، آپ نے جلدی سے پانی لادیا‘ مجذوب صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے تھوڑا سا پانی پی کر باقی اپنا پس خوردہ پانی آپ کو پینے کے لئے ارشاد فرمایا‘ آپ فوراً اس کو پی گئے ‘ او ربے ہوش ہوکر زمین پر گر گئے ‘ گو تھوڑی دیر بعد ہو ش آگیا مگر دل، دنیا اور اہل دنیا سے پھر گیا۔

 

سرکاری کام کیا چاہتے ہیں لیکن کیا نہیں جاتا، دل بے اختیار خلوت و گوشہ نشینی کی طرف مائل ہوگیا، آپ دو چار دن اسی شش و پنج میں رہے۔ اس عرصہ میں وہ وقت قریب آگیا کہ لوگ حضرت ابراہیم ادھم رحمۃ اللہ علیہ کا گذشتہ قصہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں 1297ھ ہے۔

حاجی مستان شاہ صاحب مجذوب رحمۃ اللہ تعالی علیہپر نزع کا عالم ہے اور آپ حسب عادت مجذوب صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی حضوری میں حاضر ہوئے ہیں، جب سرکاری کام یاد آگیا تو آپ نے اٹھنے کا ارادہ فرمایا‘ مجذوب صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا: بیٹھ جا ‘ پھر آپ بیٹھ گئے،تھوڑی دیر کے بعد جب پھر آپ نے اٹھنا چاہا تو مجذوب صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا بیٹھ جا‘ پھر آپ بیٹھ گئے، ایسا ہی جب تیسری مرتبہ آپ کے اٹھنے پر مجذوب صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے بیٹھ جا !فرمایا ،تو آپ سب کو چھوڑ چھاڑ کر مجذوب صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ ہی کے ہورہے۔

جب مجذوب صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا انتقال ہوگیا تو لوگوں نے ان کو کفناکر اُجالہ شاہ صاحب قدس سرہ کی درگاہ کے قریب دفنادیا۔ آپ مجذوب صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی قبر کے پاس آخر دم تک بیٹھے رہے، آپ پر کیفیت جذبہ کی طاری تھی، اہل و عیال کا کچھ خیال تھا، نہ گھر کی خبر تھی نہ نوکری کی فکر ۔

نواب تراب علی خان سالار جنگ بہادر بہت چاہتے رہے کہ یہ نیستان معرفت کا شیر پھر دنیا کے تنگ پنجرہ میں مقید ہوجائے مگر یہ بیٹھنا کچھ معمولی بیٹھنا نہیں تھا‘ کسی دل جلے کے بٹھانے سے بیٹھنا پڑا تھا، اسی لئے اس کوہ ثبات کو کسی دنیا دار کی باتوں کے تیز جھونکے اپنی جگہ سے نہ ہلاسکے‘ سچ پوچھئے تو سدھ ہی کس میں تھی‘ ایک دل تھا وہ تو دلدار نے لے لیا، اب دل ہی کہاں سے لائیں جو اوروں کو دیں‘ اس وقت آپ اس شعر کے مصداق بنے ہوئے تھے:

یکے بین ویکے دان ویکے گوی

یکے خواہ ویکے خواں ویکے جویٔ

        دیکھو تو ایک کو دیکھو‘ جانو تو ایک کو جانو‘ کہو تو ایک ہی کو کہو‘ چاہو تو ایک ہی کو چاہو ‘ پڑھو تو ایک کا ہی نام پڑھو اور ڈھونڈو تو ایک ہی کو ڈھونڈو۔

سوائے پنج وقتہ نمازو ں کے آپ کوئی کام ہی نہیں کرسکتے تھے، نہ پہننے کا ہوش تھا نہ کھانے کا خیال‘ کسی نے پہنادیا پہن لیا‘ کسی نے کھلادیا کھالیا۔ لوگوں نے خیال کیا کہ یہ قلب ہی ہے شائد پلٹی کھائے، چندے انتظار بھی کیا، جب سب کو مایوسی ہوگئی تو آپ کے لئے مجذوب صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی قبر کے پاس ہی نواب تہنیت یارالدولہ بہادر کی تحریک پر نواب تراب علی خان سالار جنگ مدار المہام بہادر نے خزانہ صرف خاص سے اپنے نیابت کے زمانہ میں خانقاہ بنوادی، جس میں آپ عرصہ تک فروکش رہے ۔

ایک زمانہ کے بعد پھر نواب تہنیت یار الدولہ کی تحریک سے نواب لائق علی خاں سالار جنگ ثانی مدار المہام نے پختہ مسجد اور رہنے کے لئے حجرے‘، مجذوب صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی قبر کے متصل ہی سدی عنبر خانساماں کی نگرانی میں تیار کروائے۔

پھر ایک مدت کے بعد نواب آسمان جاہ بہادر نے اپنی مدار المہامی کے عہد میں مسجد‘ مینار او رسائبان وغیرہ تیار کراکے مسجد کی تعمیر مکمل فرمادی‘ آج تک وہ مسجد اپنے بانیوں کی یادگار میں قائم و موجود ہے۔

آپ نے اپنی ساری عمر اسی مسجد اور اسی حجرہ میں گذاری‘ جہاں گوشہ نشینی اختیار کی تھی۔ طالبان کرامت کے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا کرامت چاہئے کہ آپ تیس چالیس سال تک ایک ہی جگہ بیٹھے رہے۔

مجذوب صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے مزارِ اقدس کو چھوڑکر ایک لحظہ کے لئے بھی نہ ہٹے‘ خدا نے چاہا کہ آپ مسندِ ارشاد پر رونق افروز ہوکر طالبانِ حق کو مستفیض فرمادیں، اس لئے فنا فی اللہ کے ساتھ بقابا اللہ کا بھی درجہ عنایت ہوا۔

جو لوگ خدا کی جستجو میں مدتوں سر ٹکراتے پھرتے تھے ان کو آپ دم بھر میں کہیں سے کہیں پہنچادیتے تھے۔

        اس نوید جاں فزا کے سنتے ہی سینکڑوں مردہ دل دوڑ پڑے،آپ کی توجہ باطنی نے آبِ حیات کا اثر دکھلایا، سب زندہ دل ہوکر اطراف و اکناف میں پھیل گئے‘ ہزارہا دنیا دار اپنی اپنی مرادیں لے کر آتے اور اس در دولت سے کامیاب ہوکر جاتے۔

آپ کی توجہ باطنی کا یہ ادنیٰ کرشمہ تھا کہ دل‘ دلدار کا ہوجاتا اور دنیا سے سخت نفرت ہوجاتی‘ بے اختیار یہی بندھا رہتا کہ یا جنگل جنگل بھٹکتا پھرے یا کسی حجرہ کا دروازہ بندکرکے دنیا و اہل دنیا کو خیرباد کہہ کے رات دن یاد الٰہی میں مشغول رہے۔

آپ مثنوی شریف کے پڑھنے اور سننے کی اکثر رغبت دلایا کرتے ‘ خود آپ کو اس کے سینکڑوں اشعار زبانی یاد تھے، اکثر مجلسوں میں اس کے برجستہ اشعار بڑے ذوق و شوق سے سناتے‘ اس وقت ساری مجلس پر عجیب محویت اور بیخودی چھاجاتی، در و دیوار سے حیرت ٹپکتی تھی‘ تمام اُمراء و عہدہ داران سلطنت اور خاص کر حضور نظام بھی درِ دولت پر آتے‘ ان سے بھی ویسی ہی ملاقات فرماتے جیسے عام لوگوں سے،علماء و فضلاء سے نہایت کشادہ پیشانی سے ملتے تھے اور ان کے حاضر ہونے سے نہایت خوش ہوتے تھے۔

کئی مدار المہاموں کا دور آپ نے دیکھا، ہر ایک نے آپ کے لئے کچھ منصب یا یومیہ جاری کرنا چاہا‘ آپ کا دنیا سے پلٹا اور لوٹا ہوا متوکل دل ہرگز اس کو قبول نہ فرمایا، اکثر ایسا ہوا ہے کہ یومیہ وغیرہ کی سند‘ خدمت اقدس میں پیش کی گئی‘ آپ نے یہ فرماکر رد کردیا کہ شائد یہ کسی اور بخاری کی ہوگی،مجھے اس کی کچھ ضرورت نہیں ہے-

لوگوں کے نذرانے وہدایا بدقت قبول فرماتے اور اس کو بستر کے نیچے ڈال دیتے، اکثر سائل حاضر ہوا کرتے تو اُن کو اس میں سے لے کر مٹھی بند کرکے اس طرح دیتے کہ کسی کو خبر بھی نہ ہو کہ آپ نے کیا عطا فرمایا۔

مریدوں پر آپ کی ایسی نظر عنایت رہتی کہ ہر شخص یہی سمجھتا تھا کہ آپ کو سب سے زیادہ مجھ ہی سے خاص محبت ہے، اتباعِ سنت اور ذرا ذرا سے مسائل پر بھی عمل کرنا آپ کی طبیعت میں کوٹ کوٹ کر بھردیا گیا تھا ۔

یوں تو آپ سے سینکڑوں کرامات ظاہر ہوئے مگر سب سے زیادہ وہ کرامت قابل ذکر ہے جو آپ کے انتقال کے بعد آپ سے ظاہرہوئی: زندگی ہی میں آپ نے اپنے خلفاء سے فرمادیا تھا کہ ہماری تجہیز و تکفین سنتِ نبوی کے موافق ہونی چاہئے۔حدیث شریف میں یہی آیا ہے اور فقہاء بھی لکھتے ہیں اور امام الصوفیہ حضرت محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے بھی بہت زور دیا ہے کہ نماز جنازہ مسجد میں نہیں ہونی چاہئے،اس لئے ہماری نماز جنازہ مسجد میں نہ پڑھائی جائے،یہ وصیت آپ کے انتقال کے بعد لوگوں کے دلوں سے بھولی گئی۔

حیدرآباد میں قاعدہ تھا کہ اکثر جنازہ بہت تزک و احتشام کے ساتھ مکہ مسجد میں لے جاتے، وہیں نماز جنازہ پڑھائی جاتی ‘ حسب قاعدہ سب لوگ آپ کا بھی جنازہ مکہ مسجد کو لے جانے تیار ہوگئے حتیٰ کہ ہزارہا بندگان خدا جنازہ کا انتظار کرتے ہوئے مکہ مسجد ہی میں ٹھہرے رہے‘ چونکہ آپ کا موضع اقامت شہر سے باہر تھا‘ ایک قاعدہ ہے کہ شہر کے باہر کا جنازہ شہر کے اندر لانے کے لئے حضور نظام سے اجازت طلب کی جاتی، باوجودیکہ حضور نظام آپ کے نہایت معتقد تھے ‘ گھنٹوں وقت گذر گیا اجازت کے ملنے میں بہت دیر ہوگئی،مجبوراً اُجالے شاہ صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی درگاہ کے کھلے میدان میں ہزارہا خلق خدا کی جماعت کے ساتھ آپ کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔

نماز سے فارغ ہوتے ہی سنا گیا کہ اجازت مل گئی‘ اس وقت آپ کی وصیت یاد آئی، سب بے اختیار کہہ اٹھے: اللہ رے آپ کا شریعت کے مسائل پر عمل کرنا کہ انتقال کے بعد بھی آپ نے اپنا کوئی کام خلاف مسئلہ ہونے نہ دیا-

انہیں کہتے ہیں متشرع ‘ایسے ہوتے ہیں اہلِ طریقت و حقیقت۔

غرض آپ کے تفصیلی احوال کے لئے کئی دفتر غیر کافی ہیں‘ چونکہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نسبت‘ حُبیت تھی اور آپ کو بھی یہی نسبت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے خلافۃً ملی تھی‘ اس لئے جیسے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو کوئی اور مرض نہ تھا‘ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق و محبت ہی نے گھلا گھلا کر جان لی تھی، اسی طرح آپ کو بھی کوئی اور مرض نہ تھا، یہی عشق تھا جو گھلادیا اور ضعیف و ناتواں بنادیا۔

غرض بڑھتا بڑھتا یہی ضعف باعث وصال ایزدی ہوا، کم نصیب دکن و غمزدہ حیدرآباد کی آنکھوں میں دنیا تیرہ و تار ہوگئی، عاشقانِ حق تو لٹ گئے‘ کہیں کے نہیں رہے‘ طالبان صادق کی کمریں ٹوٹ گئیں‘ دل پاش پاش ہوگئے‘ کلیجے چھلنی بن گئے-

آہ ! حیدرآباد کی آنکھوں کا تارا جاتا رہا، برج حقیقت کا آفتاب‘ فلک شریعت کا مہتاب‘ اُجالا شاہ صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ والی مسجد کو اپنا مشرق بناکر اپنی نورانی شعاعوں سے ایک عالم کے دلوں کو روشن کرتارہا ۔ "کل نفس ذائقۃ الموت (ہر ایک کو موت کا مزہ چکھنا ہے)" کی مغرب میں منہ چھپاکر ہم غلاموں کو دائمی مفارقت کا داغ دے گیا۔

شفیق روحانی باپ کا سایہ ہم خادموں کے سر سے اٹھ گیا اور اٹھا بھی تو ایسا اٹھا کہ پھر اس زندگی میں ملنے کی امید ہی نہیں ۔

ایسی حالت میں خادم تو خادم سارا عالم بھی جس قدر رنج کرے تھوڑا ہے۔

شب جمعہ وقت تہجد جمادی الاولی کی دسویں تاریخ 1328؁ھ کی شب ہے، قاری یسین شریف پڑھتا ہوا" قیل ادخلی الجنۃ" پر پہنچا ہے کہ قطب دوران ،فرد وقت ‘ سالک مجذوب و مجذوب سالک ،باقی باللہ مرشدنا مولانا حضرت سید محمد پادشاہ صاحب بخاری رحمۃ اللہ علیہ ہم مہجوروں کو یوں ہی تڑپتا چھوڑ کر فردوس بریں کو سدھارے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔

 

قطعہ: تاریخ وفات طبعزاد جناب مولوی سید شاہ عبداللطیف صاحب قادری ساکن تماپور؂

کہ سید پادشاہ صاحب بخاری

گئی فردوس اعلیٰ کو سواری

کہ سنہ کی فکر میں تھا دل ہمارا

جو ہے منظور حق ہاتف پکارا

1328

ہائے افسوس! اس گنجینۂ معرفت کو اس جذب و سلوک کے خزانہ کو حاجی مستان شاہ مجذوب کے پہلو میں زیر زمین دفنا دیا اور اوپر سے چار اُنگل کا مٹی کا ڈھیر لگادیا۔

دیکھنے والو! آؤ دیکھو مسنون قبر ایسی ہوتی ہے‘ سنت نبوی علی صاحبھا الصلوٰۃ والسلام کے شیدائیو سنو !سنن پر مٹنا اس کو کہتے ہیں۔

 
     
 
 
 
  BT: 356   
حضرت خواجہ بندہ نوازرحمۃ اللہ علیہ، شخصیت وتعلیمات
...............................................
  BT: 355   
شب قدر‘عظمت وفضیلت
...............................................
  BT: 354   
حضرت امام ربانی رحمہ اللہ کا علمی وروحانی مقام
...............................................
  BT: 352   
تذکرہ حضرت ابو الخیرسید رحمت اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ
...............................................
  BT: 351   
حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ کی اصلاحی وتجدیدی خدمات
...............................................
  BT: 350   
غوث اعظم رضی اللہ عنہ علمی جلالت، فیضان اور تعلیمات
...............................................
  BT: 349   
ولادت باسعادت، خصائص وامتیازات
...............................................
  BT: 348   
شاہ نقشبند حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبندؒ ملفوظات وکرامات
...............................................
  BT: 347   
امام ربانی مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ شخصیت حیات وتعلیمات
...............................................
  BT: 346   
ماہ صفر'اسلامی نقطۂ نظر
...............................................
  BT: 345   
محبت اہل بیت وصحابہ شعارِاہل سنت
...............................................
  BT: 344   
کرامات امام حسین رضی اللہ عنہ
...............................................
  BT: 343   
محبت اہل بیت وصحابہ شعارِاہل سنت
...............................................
  BT: 342   
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فضائل ومناقب
...............................................
  BT: 341   
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ،فضائل وکمالات
...............................................
  BT: 340   
قربانی فضائل ومسائل
...............................................
  BT: 339   
برادران وطن کے ساتھ تعلقات
...............................................
  BT: 338   
عشرۂ ذی الحجہ فضائل واحکام
...............................................
  BT: 337   
فضائل حج وعمرہ
...............................................
  BT: 336   
تذکرہ حضرت ابو الخیرسید رحمت اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ
...............................................
 
   
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights Reserved