شب قدر‘عظمت وفضیلت
 

شب قدر‘عظمت وفضیلت

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنْ، وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْاَنْبِیَاء وَالْمُرْسَلِیْنْ، وَعَلٰی آلِہِ الطَّیِّبِیْنَ الطَّاہِرِیْنْ، وَاَصْحَابِہِ الْاَکْرَمِیْنَ اَجْمَعِیْنْ،وَعَلٰی مَنْ اَحَبَّہُمْ وَتَبِعَہُمْ بِاِحْسَانٍ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنْ ۔

اَمَّا بَعْدُ ! فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ

إِنَّا أَنْزَلْنٰہُ فِی لَیْلَۃِ الْقَدْرِ .وَمَا أَدْرَاکَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ . لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ شَہْرٍ . تَنَزَّلُ الْمَلٰئِکَۃُ وَالرُّوحُ فِیہَا بِإِذْنِ رَبِّہِمْ مِنْ کُلِّ أَمْرٍ . سَلَامٌ ہِیَ حَتَّی مَطْلَعِ الْفَجْرْ .

صَدَقَ اللہُ الْعَظِیْمْ.

ماہ رمضان رحمتوں اور برکتوں کا سر چشمہ ہے، کثرت عبادت اورپابندیٔ صلاۃوصیام کا مہینہ ہے،اہتمام قعود وقیام میں منہمک رہنے اوردرود و سلام اورذکر و اذکار میں مصروف رہنے کا مہینہ ہے،بندۂ مومن اس مہینہ میں مسلسل صدقات و خیرات کی ادائیگی ، اوامر بجالانے اور نواہی سے اجتناب کرنے میں اپنے شب وروز کو بسر کرتا ہے،غرضکہ اس مبارک مہینہ میں تمام مسلمان مجسمۂ خیر اوربھلائی کے پیکر بن جاتے ہیں ۔

 یقینا یہ ماہ رمضان کا فیضان ہے کہ وہ گنہگار،معصیت شعار انسانوں کوتقوی و طہارت کا عادی بنا دیتا ہے اورعبادت وریاضت کا جامہ پہنا کر انہیں ہم دوش ثریا کردیتا ہے۔

رمضان المبارک وہ مہینہ ہے؛جس میں امت مسلمہ کے لئے گناہوں کی بخشش کا سامان فراہم کیا گیا،ساتھ ہی ساتھ نیکیوں کی قدر و قیمت بڑھادی گئی اور اس کی برکت سے شرح ثواب میں اضافہ کردیا گیا ، اسی ماہ مبارک میں ایک ایسی مقدس رات بندوں کوعطاکی جاتی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل و بہتر ہے، جس کا نام "لیلۃ القدر "ہے۔

شب قدرعظمت وفضیلت اور برکت والی رات ہے ،یہ نزولِ قرآن کریم کی وہ مقدس شب ہے جس میں فرشتوں کا ورود ہوتاہے اور اس شب میں رب العالمین عبادت وا طاعت میں مصروف رہنے والے بندگان حق کو ہزار مہینوں کی عبادت سے بڑھ کر ثواب عطا فرتا ہے، ارشاد باری تعالی ہے:

إِنَّا أَنْزَلْنٰہُ فِی لَیْلَۃِ الْقَدْرِ .وَمَا أَدْرَاکَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ . لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ شَہْرٍ . تَنَزَّلُ الْمَلٰئِکَۃُ وَالرُّوحُ فِیہَا بِإِذْنِ رَبِّہِمْ مِنْ کُلِّ أَمْرٍ . سَلَامٌ ہِیَ حَتَّی مَطْلَعِ الْفَجْرْ .

ترجمہ:بیشک ہم نے اس (قرآن )کو شب قدر میں نازل کیا،تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے،اس (رات )فرشتے اور روح (الامین)اپنے رب کے حکم سے ہر کام (کے انتظام)کے لئے (زمین پر )اترتے ہیں، وہ (رات سراپا امن و)سلامتی ہے،اور وہ رات صبح ہونے تک (اپنی برکتوں کے ساتھ)رہتی ہے۔

( سورۃ القدر۔1/5)

شب قدر کی وجہ تسمیہ

اس رات کو شب قدر کیوں کہا جاتا ہے ،اسے قدر والی رات کہنے کی کیا وجہ ہے ؛اس سے متعلق متعدِّد وجوہ بیان کی جاتی ہیں؛جس کی بنااسے قدر والی رات کہا جاتاہے۔

پہلی وجہ:قدر کے معنی عظمت و وقار کے ہیں،یہ لفظ عظمت کے معنی میں اس آیت کریمہ میں مستعمل ہے:

وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہْ.

ترجمہ:انہوں نے اللہ کی قدر دانی اس کی عظمت کے مطابق نہ کی ۔

(سورۃالانعام۔91)

صاحب تفسیر خازن علامہ ابوالحسن علی بن محمد خازن رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:

سمیت لیلۃ القدر لعظم قدرھا و شرفھا علی اللیالی۔

ترجمہ:اس شب کو دیگر راتوں پراس کے تقدس وبزرگی او ر عزوشرف کی وجہ "لیلۃ القدر"سے موسوم کیا گیا ہے ۔

(لباب التاویل فی معانی التنزیل،سورۃ القدر۔1)

معلوم ہواکہ یہ رات عزوشان،اوروقاروعظمت والی رات ہے ،اسی لئے اس کا نام "لیلۃ القدر" رکھا گیا۔

دوسری وجہ :جس طرح وہ رات شرف و فضیلت والی ہے ؛اسی طرح اس رات کیا جانےوالا عمل بھی بارگاہ الہی میںمقبول اور بڑی قدرو منزلت والا ہوتا ہے، چنانچہ اس رات نیک عمل کر کے بندۂ مومن اسے قبولیت کے دروازہ تک پہنچاتا ہے،اس بنیاد پر بھی اسے لیلۃ القدر کہا جاتا ہے۔

جیساکہ تفسیر خازن میں ہے:

وسمیت بذلک لان العمل الصالح یکون فیھا ذا قدر عند اللہ لکونہ مقبولا۔

اوراسے’’قدر ‘‘اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس شب بندہ کا نیک عمل بارگاہ الہی میں مقبولیت کے سبب بڑی قدر والا ہوجاتاہے ۔

(لباب التاویل فی معانی التنزیل،سورۃ القدر۔1)

تیسری وجہ :قدر تنگی کو کہتے ہیں،اس کے معنی تنگ ہوجانے کے بھی ہیں، کلام الہی میں لفظ ’’قدر‘‘تنگی کے معنی میں استعمال ہوا ہے،ارشادباری ہے :

وَمَنْ قُدِرَ عَلَیْہِ رِزْقُہُ فَلْیُنْفِقْ مِمَّا آَتَاہُ اللَّہْ۔

ترجمہ:اورجس پر اس کا رزق تنگ کردیا گیا وہ اسی میں سے خرچ کرے جو اسے اللہ نے عطاکیاہے۔(سورۃ الطلاق ۔7)

اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ یہ رات بندوں کے لئے تنگی کی رات ہے،دراصل اس رات عبادت گزاروں سے ملاقات کے لئے کثرت سے فرشتے نازل ہوتے ہیں ، جس کی وجہ سے زمین تنگ ہو جا تی ہے ، چنانچہ صاحب تفسیر خازن لکھتے ہیں: سمیت بذلک لان الارض تضیق بالملائکۃ فیھا۔

ترجمہ:اس (رات )کو اس لئے شب قدرکہا جاتا ہے؛ کیوںکہ اس رات زمین فرشتوں (کی آمد کی وجہ)سے تنگ ہوجاتی ہے ۔

(لباب التاویل فی معانی التنزیل،سورۃ القدر،1)

چوتھی وجہ:اس متبرک رات کو شب قدر کہے جانے کی ایک اور وجہ حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس طرح بیان فرمائی ہے:

یا’’ قدر‘‘ اس لئے کہ (1)کتاب قابل قدر ، (2)رسولِ قابل قدر کی معرفت ، (3)امت قابل قدر پر اتارا ، اس لئے سورۂ قدر میں" لیلۃالقدر‘‘کالفظ تین وقت آیا ہے۔ (فضائل رمضان، ص 107) جیسا کہ تفسیر قرطبی میں ہے:سمیت بذلک لانہ أنزل فیہا کتابا ذا قدر، علی رسول ذی قدر، علی أمۃ ذات قدر۔( تفسیرالقرطبی،سورۃ القدر۔1)

شب قدر کی توقیر کرنا اور عظمت بجالانااہل ایمان پر لازم ہے،ایک تو اس طرح کہ اس رات کا تقدس و عظمت قلب میں بسائے رکھیں،دوسرے اس طور پر کہ عبادات،اذکاروغیرہ اداکرتے رہیں، اور ممنوعاتاور گناہوں سے پر ہیز کریں۔

شب قدر کا تقدس برقرار رکھنے والے بندے یقینا رب قدیرکی ظاہری وباطنی نعمتوں کے حقدار بنیںگے،ان کے اعمال بارگاہ رب العزت سے شرف قبولیت حاصل کریں گے اور قدر وعظمت والے قرار پائیں گے ۔

شب قدر کا تعین

اللہ تعالی نے اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اولین وآخرین کے تمام علوم عطا فرمائے ہیں، منجملہ ان کے رب قدیر نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شب قدر کی تاریخ کا بھی قطعی علم عطا فرمادیا ،چنانچہ زجاجۃ المصابیح میں امام مالک ، امام شافعی اور امام ابو عوانہ رحمہم اللہکے حوالہ سے روایت درج ہے:

عن عائشۃ قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم انی رایت ہذہ اللیلۃ فی رمضان فتلاحی رجلان فرفعت۔رواہ مالک والشافعی و ابو عوانۃ۔

ترجمہ:ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے اس رات (یعنی شب قدر )کو رمضان میں دیکھا ،لیکن جب دو آدمیوں نے آپس میں جھگڑا کیاتو (شب قدر کا تعین )اٹھالیا گیا۔ ( زجاجۃ المصابیح)

شب قدر کی علامتیں

شب قدر کی کیا علامتیں ہیں؟ہم کیسے اندازہ لگائیں کہ ہم نے شب قدر کو پا لیاہے؟ اس سلسلہ میں ہمیں احادیث شریفہ سے روشنی ملتی ہے ،امام سیوطی رحمۃ للہ علیہ نے اپنی تفسیر ’’درمنثور‘‘ میں ایک تفصیلی روایت نقل کی ہے:

وأخرج أحمد وابن جریر ومحمد بن نصر والبیہقی وابن مردویہ عن عبادۃ بن الصامت أنہ سأل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم عن لیلۃ القدر فقال : " فی رمضان فی العشر الأواخر فإنہما فی لیلۃ وتر فی أحدی وعشرین أو ثلاث وعشرین أوخمس وعشرین أو سبع وعشرین أو تسع وعشرین أو آخر لیلۃ من رمضان من قامہا إیماناواحتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ ومن أماراتہا أنہا لیلۃ بلجۃ صافیۃ ساکنۃ ساجیۃ لا حارۃ ولا باردۃ کأن فیہا قمرا ساطعا ولا یحل لنجم أن یرمی بہ تلک اللیلۃ حتی الصباح ومن أماراتہا أن الشمس تطلع صبیحتہا لا شعاع لہا مستویۃ کأنہا القمر لیلۃ البدر وحرم اللہ علی الشیطان أن یخرج معہا یومئذ

امام احمد ،امام ابن جریر،امام محمد بن نصر، امام بیہقی اور امام ابن مردویہ نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر کے بارے میں سوال کیاتو حضور پاک علیہ الصلوۃوالسلام نے فرمایا:وہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ہوا کرتی ہے،کیوں کہ وہ طاق رات میں ہوا کرتی ہے، یاتو اکیسویں رات،یاتیئیسویں رات، یاپچیسویں رات، یاستائیسویں رات،یاانتیسویں رات،یارمضان المبارک کی آخری رات میں ہوتی ہے، جو شخص بحالت ایمان ثواب کے ارادہ سے اس رات قیام کرے تو اس کے گزرے ہوئے گناہ بخش دئے جاتے ہیں اور اس کی یہ علامتیں ہیں:(1) وہ رات نہایت روشن(2)خوب شفاف(3)پر سکون (4)سہانی وخاموش(5)نہ گرم اور نہ ہی سرد ہوتی ہے،گویا کہ اس رات چاند خوب روشنی بکھیررہا ہے،( 6)اور جب تک صبح نہ ہوجائے اس رات کسی ستارہ کو نہیں پھیکا جاتا(7)اور اس کی علامتوں میں یہ بھی ہے کہ اس کی صبح سورج مکمل طور پر ایسا طلوع ہوتا ہے؛گویا کہ وہ چودھویں رات کا چاند ہے،(8)اور اللہ تعالی نے شیطان پر یہ حرام کر دیا ہے کہ اس دن وہ سورج کے ساتھ نکلے۔

(الدرالمنثورفی التفسیر الماثور،سورۃ القدر۔2)

شب قدر ‘سمندر کاپانی شیریں ہو جا تا ہے

شب قدر کی علامتوںمیں یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اس رات سمندر کا پانی میٹھا ہو جا تا ہے،امام رازی نے ستائیسویں شب سمندر کا پانی میٹھا ہونے سے متعلق ایک واقعہ بیان کیا ہے:

انہ کان لعثمان بن أبی العاص غلام ، فقال : یا مولای إن البحر یعذب ماؤہ لیلۃ من الشہر ، قال : إذا کانت تلک اللیلۃ ، فاعلمنی فإذا ہی السابعۃ والعشرون من رمضان۔

ترجمہ:حضرت عثمان بن ابوالعاصرضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا؛(اس سے )آپ نے فرمایا:(رمضان کے)مہینہ میں ایک ایسی رات ہے؛جس میں سمندر کا پانی میٹھا ہوجاتا ہے،جب وہ رات آئی تو اس نے بتایا تو وہ رمضان المبارک کی ستائیسویں رات ہی تھی۔

(مفاتیح الغیب،سورۃ القدر۔1)

اسی طرح تفسیر قرطبی میں ایک روایت ہے کہ شب قدر میں سمندر کا پانی میٹھا ہوجا تا ہے:

قال عبید بن عمیر: کنت لیلۃ السابع والعشرین فی البحر، فأخذت من مائہ، فوجدتہ عذبا سلسا.

ترجمہ:حضرت عبید بن عمیر رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے:میں (رمضان المبارک کی )ستائیسویں شب سمندر میں(سفر کر رہا)تھا،میںسمندر سے پانی لیا تو اسے نہایت شیریں اور لطیف و لذیذ پایا۔

(تفسیر القرطبی ،سورۃ القدر۔1)

شب قدر رمضان کے آخری عشرہ میں

معلوم ہوا کہ شب قدر رمضان المبارک میں ہوا کرتی ہے،حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرنے یعنی آ خری دس راتوں میں عبادتوں کا خصوصی اہتمام کر نے کی تلقین فرمائی،جیسا کہ صحیح بخاری ،صحیح مسلم اورجامع ترمذی میں حدیث پاک ہے:

عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِصلی اللہ علیہ وسلمیُجَاوِرُ فِی الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ، وَیَقُولُتَحَرَّوْا لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فِی الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ

ترجمہ:ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرہ میںاعتکاف فرمایاکرتے اور ارشاد فرماتے تھے:تم شب قدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں تلاش کرو!

(صحیح البخاری کتاب فضل لیلۃ القدر،باب تحری لیلۃ القدر۔ ۔ ۔ حدیث نمبر: 2020،صحیح مسلم،کتاب الصیام ،باب فضل لیلۃ القدر۔ ۔ ۔ ،حدیث نمبر:2833،جامع الترمذی،ابواب الصوم ،باب ماجاء فی لیلۃ القدر،حدیث نمبر:797)

ستائیسویں شب ‘شب قدر

حضرت رسول پاک علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد سے واضح ہو رہا ہے کہ شب قدر رمضان المبارک کے آخری عشرہ میںہوا کرتی ہے۔چونکہ حضرات صحابۂ کرام حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام کے منشا اور مزاج سے زیادہ واقف اور وہی آپ کی مبارک سنتوں پربہتر عمل کرنے والے ہیں ؛اس لئے ان سے متعلق کسی خلاف سنت عمل کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا،چنانچہ وہی صحابۂ کرام بیان فرماتے ہیں کہ شب قدر رمضان المبارک کی ستائیسویں شب کو ہوا کرتی ہے،اگر چیکہ حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک موقع پر حکمتاًاس کے تعین کی صراحت نہیں فرمائی تھی، لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی مذکورہ حدیث پاک کی روایت کے بعد امام ترمذی شب قدر کے تعین سے متعلق تفصیلات بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:

وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ أَنَّہُ کَانَ یَحْلِفُ أَنَّہَا لَیْلَۃُ سَبْعٍ وَعِشْرِینَ.وَیَقُولُ أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّہِ -صلی اللہ علیہ وسلم- بِعَلاَمَتِہَا فَعَدَدْنَا وَحَفِظْنَا

ترجمہ:حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ قسم کھا کر یہ بیان فرماتے ہیںکہ وہ(شب قدر)ستائیسویں رات ہے اور یہ فرماتے کہ ہمیں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی علامتیں بیان فرمائیں تو ہم نے انہیںگِنا اور یاد کر لیا۔

سورۂ قدر کے کلمات سے استدلال

حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے بھی ایسی ہی روایت ہے کہ شب قدر ستائیسویں رمضان کو ہوا کر تی ہے ،اس سلسلہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سورۂ قدر کے کلمات سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا کہ سورۂ قدر میں تیس(30)کلمات ہیں، ان میں ضمیر ھی(یعنی وہ رات) ستائیسواں کلمہ ہے، جس کا مرجع اور مرا د ’’لیلۃ القدر‘‘ہے،جیسا کہ صحیح بخاری شریف کی عظیم شرحفتح الباری میں ہے:

و قد روی عن عمر رضی اللہ عنہ انھا لیلۃ سبع وعشرین وروی عن عبد اللہ بن عباس مثل ذلک و استدل علیہ بان سورۃ القدر ثلاثون کلمۃ و ان ھی منھا ھی الکلمۃ السابعۃ والعشرون۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ستائیسویں رات ہے اورحضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح کی روایت ہے اور آپ نے اس بنیاد پراستدلال کیا کہ سورۂ قدرمیں تیس(30 )کلمات ہیں،اور لفظ ’’ھی‘‘(یعنی وہ رات)ستائیسواں کلمہ ہے۔

(فتح الباری شرح صحیح البخاری،باب تحری لیلۃ القدر فی الوتر من العشر الا واخر۔ مفا تیح الغیب للامام الرازی،سورۃ القدر۔3)

لیلۃ القدر کے حروف سے ستائیسویں شب کی طرف اشارہ

سورۃ القدر میں لفظ لیلۃ القدر(یعنی شب قدر) تین مرتبہ استعمال ہوا اور ’’لیلۃ القدر‘‘ میں نو(9)حروف پائے جاتے ہیں،اورنو(9)کے عددکوتین(3)میں ضرب دینے سے ستائیس (27)حاصل ہوتے ہیں،چنانچہ اس ستائیس (27)کے عددسے بھی ’’شب قدر‘‘ ستائیسویں رات ہی ہونے کی طرف اشارہ ملتا ہے، جیساکہ علامہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:

واستنبط بعضھم ذلک فی جھۃ اخری فقال لیلۃ القدر تسعۃ احرف و قد اعیدت فی السورۃ ثلاث مرات فذلک سبع وعشرون۔

ترجمہ:اور بعض علماء نے ایک اور وجہ سے(شب قدر کے ستائیسویں شب میں ہونے پر)استدلال کیا ہے،چنانچہ منقول ہے :لیلۃ القدر میں نو (9)حروف ہیں اور اس سورہ میں لیلۃ القدر تین(3)مرتبہ آیا ہے،اس طرح وہ ستائیس (27)ہو تے ہیں۔

(فتح الباری،باب تحری لیلۃ القدر فی الوتر من العشر الا واخر۔ مفا تیح الغیب للامام الرازی،سورۃالقدر:3)

شب قدر اخیر عشرہ میں ہونے کی حکمت

شب قدر ماہ رمضان کے اخیر عشرہ میں رکھی گئی ہے،اس کی ایکحکمت تو یہ ہے کہ جب عمل کرنے والا اپنا عمل پورا کرتا ہے تو اسے انعام واکرام سے نوازا جاتا ہے ،ایسے ہی رمضان المبارک کی قدر کرنے والوں اور روزوں کا اہتمام کرنے والوں کے حق میں گویا شب قدر ایک عظیم انعام الہی ہے۔

اس کی ایک اور حکمت حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ عام افراد کے لئے؛"پہلے اور دوسرے دہے میں روزہ وغیرہ سے ضعف ہوگا اوراخیر دہے میں ہمت پست ہوتی ہے ،اس لئے ہمت بڑھانے کے لئے شب قدر مقرر ہوئی ، اس میں تجلی خاص فرمایا ،تاکہ ہمت بڑھے اوررمضان شریف کی تکمیل کرسکیں "۔(فضائل رمضان،ص110)

اخیر عشرہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا اہتما م

یہ مسلمہ عقیدہ ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم افضل الانبیاء ہیں،خالق کائنات نے آپ کو سرور کونین بنایا ہے،اس کے باوجود حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام ہم غلاموں کی حوصلہ مندی اور ہمت افزائی فرماتے ہوئے کثرت سے عبادتوں کا اہتمام فرماتے ،دیگر دنوں کی بنسبت رمضان المبارکاور خاص طور پر اس کے آخری عشرہ میں آپ کی شان عبادت عروج پرہوتی،جیسا کہ صحیح مسلم شریف میں حدیث مبارک ہے:

عن عائشۃ رضی اللہ عنہاقَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَجْتَہِدُ فِی الْعَشْرِ الاَوَاخِرِ مَا لاَ یَجْتَہِدُ فِی غَیْرِہِ.

ترجمہ:ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ،وہ فرماتی ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم دیگر شب وروز کی بنسبت (رمضان کے)اخیر عشرہ میں عبادت کرنے میںمزید اہتمام فرماتے۔

(صحیح مسلم ،کتاب الاعتکاف ، باب الاجتہاد فی العشر الاواخر من شہر رمضان. حدیث نمبر2845)

نہ صرف حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس عبادتوں کا اہتمام فرماتے ،بلکہ اپنے اہل بیت کو بھی اس کی توجہ دلاتے اور شب بیداری کی تلقین فرماتے،جیساکہ صحیح بخاری وصحیح مسلم میں حدیث مبارک ہے:

عَنْ عَائِشَۃَرَضِیَ اللہُ عَنْہَاقَالَتْ کَانَ النَّبِیُّصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ شَدَّ مِئْزَرَہُ ، وَاَحْیَا لَیْلَہُ ، وَاَیْقَظَ اَہْلَہُ .

ترجمہ:ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رمضان المبارک کا جب آخری عشرہ شروع ہوجاتا ہے تو حضرت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کمربستہ ہوکر ہمیشہ سے زائد عبادت میں مشغول ہوجاتے ہیں اور شب بیدار رہتے (اور نوافل، ذکر الٰہی اور تلاوت قرآن فرمایاکرتے) اور اپنے گھر والوں کو (بھی ان راتوں میں)جگا دیتے (تاکہ وہ بھی شب بیدار رہ کر آخری عشرہ کی برکتیں حاصل کریں)۔

(صحیحالبخاری، باب العمل فی العشر الأواخر من رمضان. حدیث نمبر 2024۔صحیح مسلم، باب الاجتہاد فی العشر الاواخر من شہر رمضان. حدیث نمبر 2844)

شب قدر کی خصوصیات

اس رات کی متعدّد خاصیتیں ہیں ،قرآن کریم کی روشنی میں اس کی چھ(6) خاصیتیں آشکار ہوتی ہیں:

(1) شب قدر کی اہمیت اور فضیلت و برکت اس امر سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکمل ایک سورہ اس کی شان میں نازل فرمایا۔(2)اس رات میں نزول قرآن ہوا(3)یہ رات ہزار مہینوں سے افضل ہے(4)اس رات میں فرشتے زمین پر آتے ہیں(5)حضرت جبریل کی آمد ہوتی ہے اور(6)صبح صادق تک بندوں پر سلامتی کا نزول ہوتا ہے۔

شب قدر کی فضیلت

اللہ تعالی نے شب قدر کے ذریعہ ہمیں ایک عظیم موقع عنایت فرمایا کہ ہم اس رات عبادت کے ذریعہ اجر وثواب کے خزانے حاصل کریں ،رب کی عنایتوں سے اپنے دامن مراد کو بھر لیں،لیکن کوئی ایسے عظیم موقع کو بھی غفلت کی نذر کرتا ہے تو یہ اس کی محرومی کی علامت ہے،سنن ابن ماجہ میں حدیث پاک ہے:

عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ دَخَلَ رَمَضَانُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ ہَذَا الشَّہْرَ قَدْ حَضَرَکُمْ وَفِیہِ لَیْلَۃٌ خَیْرٌ مِنْ اَلْفِ شَہْرٍمَنْ حُرِمَہَا فَقَدْ حُرِمَ الْخَیْرَ کُلَّہُ وَلاَ یُحْرَمُ خَیْرَہَا إِلاَّ مَحْرُومٌ۔

ترجمہ:ضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ نےفرمایا کہ رمضان کا مہینہ شروع ہواتو حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ وہ مہینہ ہے؛ جس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے ،جو اس سے محروم رہا وہ ہربھلائی سے محروم رہا اور اس کی خیر سے وہی محروم ہوگا جومکمل محروم ہے۔

(سنن ابن ماجہ،کتاب الصیام باب ماجاء فی فضل شھر رمضان ،حدیث نمبر1634)

پچھلے گناہ بخش دئے جاتے ہیں

شب قدر کی فضیلت میں کئی احادیث شریفہ وارد ہوئی ہیں،اس رات میں عبادت کرنے اور قیام کرنے والے کے پچھلے گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں،بشرطیکہ وہ صاحب ایمان اور اخلاص والا ہو، شب قدر میں قیام کرنے اور عبادت کرنے کی وجہ سے پچھلے گناہوں کی معافی کیلئے ایمان وعقیدہ اساسی شرط ہے،اس کے بغیر بخشش کا تصور بھی محال ہے،چنانچہ صحیح بخاری شریف میں حدیث مبارک ہے :

 عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ یَقُمْ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ إِیمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ.

ترجمہ:سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا حضرترسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلمنےارشاد فرمایا: جو شخص بحالت ایمان ثواب کے ارادہ سے شب قدر میں قیام کرے تو اس کے گزرے ہوئے گناہ بخش دئے جاتے ہیں ۔

(صحیح البخاری،کتاب الایمان ،باب قیام لیلۃ القدر من الایمان حدیث: 35)

شب قدر میں ملائکہ کا نزول اوردعائے مغفرت

شب قدر کی ایک خصوصیت یہ بیان کی گئی ہے کہ اس را ت فرشتوں کی آمد ہوتی ہے اور وہ رب العالمین کی عبادت میں مصروف بندوں کے لئے رحمت ومغفرت کی دعائیں کرتے ہیں،چنانچہ شعب الایمان،مشکوۃ المصابیح اور زجاجۃ المصابیح میں حدیث مبارک ہے:

عن انس بن مالک ، قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : إذا کان لیلۃ القدر نزل جبریل علیہ السلام فی کبکبۃمن الملائکۃ یصلون علی کل عبد قائم او قاعد یذکر اللہ عز وجل۔

ترجمہ:حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،انہوں نے فرمایا، حضرت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب شب قدر ہوتی ہے تو جبرئیل علیہ السلام فرشتوں کی ایک جماعت کے ہمراہ(زمین پر) اترتے ہیں اور ہر اس بندہ کے لئے دعاء مغفرت کر تے ہیں؛ جو کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر اللہ کی یاد (اور عبادت) میں مشغول رہتاہے ۔

(شعب الایمان للبیھقی،کتاب فی لیلۃ العیدین ویومھما، حدیث نمبر3562)

ستر ہزار فرشتوں کا نزول اور نورانی جھنڈوں کی تنصیب

سلطان الاولیاء حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ اپنی تصنیف منیف الغنیۃ لطالبی طریق الحق میں تفصیلی حدیث شریف نقل فرماتے ہیںکہ اس رات حکم الہی سے ہزاروں فرشتے زمین پر آتے ہیں، او روہ نورانی جھنڈے خانۂ کعبہ اور روضۂ نبوی وغیرہ پر نصب کرتے ہیں ،چنانچہ مروی ہے:

وروی عن ابن عباس رضی اللہ عنھما انہ قال: اذا کان لیلۃ القدر یامر اللہ سبحانہ وتعالی جبریل علیہ السلام ان ینزل الی الارض ومعہ سکان سدرۃ المنتھی وھم سبعون الف ملک،ومعھم الویۃ من نور،فاذاھبطوا الی الارض رکز جبریل علیہ السلام لو اء ہ والملائکۃ الویتھم فی اربع مواطن: عند الکعبۃ،وعند قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم،وعندمسجد بیت المقدس،وعند مسجد طورسیناء ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ترجمہ:سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:جب شب قدر آتی ہے تو اللہ تعالیٰ حضرت جبرئیل علیہ السلام کو حکم فرماتا ہے کہ زمین پر اتر جاؤ،آپ کے ساتھ سدرۃ المنتہی کے ساکن ستر ہزار فرشتے آتے ہیں۔ اور ان کے ساتھ نور کے جھنڈے ہوتے ہیں، جب وہ سب زمین پر آتے ہیں تو حضرت جبرئیل علیہ السلام اور دیگر فرشتے اپنے جھنڈے چارمقامات پر نصب کرتے ہیں: (1)خانۂ کعبہ کے پاس(2) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضئہ اقدس کے پاس(3) مسجد اقصیکے پاس(4) اورمسجد طور سیناکے پاس۔۔ ۔ ۔

(الغنیۃ لطالبی طریق الحق،ج:2،ص:14)

شب قدرہزار مہینوں سے افضل کیوں؟

شب قدر کی عظمت وفضیلت یہ ہے کہ اس رات کو ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا گیا،لیکن سوال یہ ہے کہ اس رات کو اتنی عظمت کیوں دی گئی اور یہ مقدس رات امت محمدیہ کو کیوں دی گئی؟ اس بارے میں احادیث شریفہ سے مختلف وجوہ سامنے آتی ہیں۔

کتب تفاسیر میں یہ روایت منقول ہے کہ بنی اسرائیل میں ایسی عبادت گزار ہستیاں تھیں جو مسلسل ہزار مہینوں تک حق تعالیٰ کی عبادت کرتی رہیںاور اتنی طویل مدت میںانہوں نے کبھی کوئی غفلت نہ کی، جب صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ سماعت فرمایا تو انہیں بہت خوشی ہوئی اورساتھ ہی یہ خیال ہونے لگا کہ ہماری عمر یں اتنی طویل نہیں، تو ہم کیسے وہ ثواب پاسکیں گے جو بنی اسرائیل کی ان مبارک ہستیوں نے حاصل کیاتو اللہ رب العزت نے رحمۃ للعا لمین صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اور ان بزرگان کے تذکرہ کی برکت سے ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر رات عطا فرمائی ۔ یہ روایت متعدد تفاسیر میں منقول ہے، چنانچہ علامہ ابن کثیر نے بھی اس حدیث پاک کواپنی تفسیر میں درج کیا ہے:

عن علی بن عروۃ قال ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوما اربعۃ من بنی اسرائیل عبدوا اللہ ثمانین عاما لم یعصوہ طرفۃ عین فذکر ایوب،وزکریا،وحزقیل بن العجوز و یوشع بن النون قال فعجب اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من ذلک فاتاہ جبریل فقال یا محمد عجبت امتک من عبادۃ ھولاء النفر ثمانین سنۃ لم یعصو ہ طرفۃ عین فقد انزل اللہ خیرا من ذلک فقرء علیہ انا انزلناہ فی لیلۃ القدر، وماادراک ما لیلۃ القدر،لیلۃ القدر خیر من الف شھر۔ ھذا افضل مما عجبت انت و امتک قال فسرّ بذلک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والناس معہ۔

ترجمہ:حضرت علی بن عروہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا،حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلمنے ایک دن بنی اسرائیل کے چار(4) انبیاء کرام علیہم السلام کا تذکرہ فرمایا، جنہوں نے اسی (80 )سا ل تک اللہ تعالی کی عبادت کی اورکبھی انہوں نے لمحہ بھر کے لئے بھی اپنے خلاف شان کوئی کام نہیں کیا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ایوب، حضرت زکریا،حضرت حزقیل اور حضرت یوشع علیہم السلام کاتذکرہفرمایا۔راوی کہتے ہیں:اس بات پر صحابۂ کرام کو تعجب ہوا،توحضرت جبریل علیہ السلام نے حاضر ہو کر عرض کیا:

یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کی امت کو ان چار (4)حضرات کی عبادت پر تعجب ہوا کہ انہوں نے اسی(80)سال تک عبادت کی اورکبھی انہوں نے لمحہ بھر کے لئے بھی اپنےخلاف شان کوئی کام نہیں کیا،تو اللہ تعالیٰ نے اس سے بہترخوشخبری بیان فرمائی، پھر حضرت جبریل نے سورۂ قدر کی تلاوت کی اس خبر سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور صحابۂ کرا م مسرور ہوگئے۔

(تفسیر ابن کثیر،سورۃالقدر۔3۔الدر المنثور،سورۃالقدر۔3)

مذکورہ روا یت سے یہ بات آشکار ہو رہی ہے کہ امت مرحومہ کے لئے رحمت الہی کے کیسے ابواب کھلتے ہیںباوجود یہ کہ اس امت کی عمریں کم ہیں اورا عمال بھی ناقص ہیں، لیکن حق تعالیٰ نے اپنے لطف وکرم اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ سے ہر سال ایک ایسی رات عطا فرمائی،جس میں وہ ثواب حاصل کرنے کا موقعہ عنایت فرمایا جو پچھلے زمانہ میں اسی(80)سال کی سخت محنتوں سے پایاجاسکتا تھا۔

شب قدر میں محروم کون؟

اس رحمت ومغفرت، عنایت وبخشش کی رات بھی چند افراد محروم رہ جاتے ہیں،اگر وہ افراد بھی اپنے گناہوں کو ترک کریں اور صدق دل سے توبہ کریں تو اللہ تعالی کی رحمت ان کے بھی شامل حال ہوگی۔

امام بیہقی کی شعب الایمان میں حدیث شریف ہے:

عن عبد اللہ بن عباس،انہ سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول :....وإذا کانت لیلۃ القدر یأمر اللہ عز وجل جبریل علیہ السلام ، فیہبط فی کبکبۃ من الملائکۃ إلی الأرض ومعہم لواءأخضر ، فیرکز اللواء علی ظہر الکعبۃ ، ولہ مائۃ جناح منہا جناحان لا ینشرہما إلا فی تلک اللیلۃ ، فینشرہما فی تلک اللیلۃ فیجاوز المشرق إلی المغرب ، فیبث جبریل علیہ السلام الملائکۃ فی ہذہ اللیلۃ فیسلمون علی کل قائم ، وقاعد ، ومصل وذاکر یصافحونہم ، ویؤمنون علی دعائہم حتی یطلع الفجر ، فإذا طلع الفجر ینادی جبریل معاشر الملائکۃ الرحیل الرحیل ، فیقولون یا جبریل ، فما صنع اللہ فی حوائج المؤمنین من أمۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فیقول جبریل : نظر اللہ إلیہم فی ہذہ اللیلۃ فعفا عنہم ، وغفر لہم إلا أربعۃ ، فقلنا : یا رسول اللہ من ہم ؟ قال : رجل مدمن خمر، وعاق لوالدیہ ، وقاطع رحم ، ومشاحن .

ترجمہ:سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا.... جب شب قدر آتی ہے تو اللہ تعالی جبریل امین کو حکم فرماتا ہے ،تو وہفرشتوں کی ایک عظیمجماعت کے ہمراہ زمین پر اترتے ہیں،ان کے ساتھ سبز جھنڈا ہوتا ہے جسے خانہ کعبہ پر نصب کیا جاتا ہے۔ جبریل امین (علیہ السلام )کوخصوصی شان والے ایک سو( 100)پر ہیں ،جن میں دو پرایسے ہیں جنہیں وہ شب قدرکے علاوہ کبھی نہیں کھولتے،جب (حضرت )جبریل اس راتاپنے پروں کوکھولتے ہیں تو مشرق و مغرب ڈھنک جاتے ہیں۔پھر (حضرت) جبریل ملائکہ کوہر طرف پھیل جانے کو کہتے ہیں، کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر عبادت کرنے والے، نماز پڑھنے والے اور ذکر الہی میں مشغول رہنے والوں کو وہ فرشتے سلام کرتے ہیں اور ان سے مصافحہ کرتے ہیں،ان کی دعاؤں پر آمین کہتے رہتے ہیں یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجاتی ہے۔جیسے ہی فجر طلوع ہوتی ہے (حضرت) جبریل ندا دیتے ہیں:ائے فرشتو! واپس چلو! واپس چلو!ملائکہ کہتے ہیں:ائے جبریل !امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلامکے مؤمنین کی ضروریات وحوائج سے متعلق اللہ تعالی نے کیا فیصلہ کیا ہے؟ (حضرت)جبریل، فرماتے ہیں:اس رات اللہ تعالی نے ان کی جانب نظر رحمت اورتوجہ خاص فرمائی، انہیںدرگزر فرمادیا اورانہیں؛ سوائے چار (4) افرا د کے! حضرات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم !وہ چار (4)افراد کون ہیں؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا(1) شراب کاعادی(2)والدین کا نافرمان(3) رشتوں کو توڑنے والا اور(4)کینہ پرور۔

(شعب الایمان للبیھقی ،حدیث نمبر:3540)

شب قدر کے معمولات

اس مقدس رات کی فضیلت وبرکت جاننے کے بعد غفلت میں پڑے رہنا مؤمنین کا شیوہ نہیں،چنانچہ بندۂ مومن کو چاہئے کہ وہ نعمت الہی پرشکر ادا کرنے کی خاطر غسل کرے، عبادات واذکار کا اہتمام کرے، خدائے تعالی کو راضی کرنے اوراس کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرے۔شب قدر کے معمولات سے متعلق ایک روایت میں آتا ہے:

قال زر ھی لیلۃ سبع وعشرین فمن ادرکھا فلیغتسل و لیفطر علی لبن ۔

ترجمہ:حضرت زربن حبیش رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا : شب قدر ستائیسویں شب ہے ،تو جوکوئی اسے پائے تو چاہئے کہ وہ غسل کرے اور دودھ سے افطار کرے۔

(مصنف عبد الرزاق،باب لیلۃ القدر،حدیث نمبر: 7701)

شب قدر میں کی جانے والی دعا

شب قدر کے معمولات میں یہ بھی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات پڑھنے کے لئے خصوصی دعا تعلیم فرمائی کہ اس رات یہ دعا کرے:

" اللَّہُمَّ إِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی "۔

جامع ترمذی شریف میں حدیث مبارک ہے:

عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قُلْت یَا رَسُولَ اللَّہِ اَرَاَیْتَ إِنْ عَلِمْتُ اَیُّ لَیْلَۃٍ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ مَا اَقُولُ فِیہَا ؟ قَالَ :قُولِی ! " اللَّہُمَّ إِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی "

ترجمہ:ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ،وہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ والہ وسلم : اگر مجھے شب قدر مل جائے تو اس میںکیا دعا پڑھوں؟ توحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلمنے ارشاد فرمایا: یہ دعا کرو!ائے اللہ! تو بہت معاف فرمانے والاہے، اور معافی کو پسندکرتاہے، پس تو مجھے معاف فرما۔

(جامع الترمذی،ابواب الدعوات،باب ای الدعاء افضل، حدیث نمبر: 3855)

اللہ سبحانہ وتعالی سے دعا ہے کہ قرآن اور صاحب قرآن صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صدقہ میں ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے،ہمیں مغفرت ونجات کا پروانہ عطا فرمائے اور ہمیں عبادت واطاعت کے ذریعہ شب قدر کی قدر کرنے والا اور اس کی رحمتوں اور برکتوں کو حاصل کرنے والا بنائے۔

آمِیْن بِجَاہِ سَیِّدِنَا طٰہٰ وَیٰسٓ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی وَبَارَکَ وَسَلَّمَ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہ وَصَحْبِہ اَجْمَعِیْنَ وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔

از:ضیاء ملت حضرت علامہ مولانا مفتی حافظ سید ضیاء الدین نقشبندی مجددی قادری دامت برکاتہم العالیہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر وانوار العلوم ابو الحسنات

www.ziaislamic.com

 
     
 
 
 
  BT: 353   
حضرت خواجہ بندہ نوازرحمۃ اللہ علیہ، شخصیت وتعلیمات
...............................................
  BT: 352   
تذکرہ حضرت ابو الخیرسید رحمت اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ
...............................................
  BT: 351   
حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ کی اصلاحی وتجدیدی خدمات
...............................................
  BT: 350   
غوث اعظم رضی اللہ عنہ علمی جلالت، فیضان اور تعلیمات
...............................................
  BT: 349   
ولادت باسعادت، خصائص وامتیازات
...............................................
  BT: 348   
شاہ نقشبند حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبندؒ ملفوظات وکرامات
...............................................
  BT: 347   
امام ربانی مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ شخصیت حیات وتعلیمات
...............................................
  BT: 346   
ماہ صفر'اسلامی نقطۂ نظر
...............................................
  BT: 345   
محبت اہل بیت وصحابہ شعارِاہل سنت
...............................................
  BT: 344   
کرامات امام حسین رضی اللہ عنہ
...............................................
  BT: 343   
محبت اہل بیت وصحابہ شعارِاہل سنت
...............................................
  BT: 342   
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فضائل ومناقب
...............................................
  BT: 341   
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ،فضائل وکمالات
...............................................
  BT: 340   
قربانی فضائل ومسائل
...............................................
  BT: 339   
برادران وطن کے ساتھ تعلقات
...............................................
  BT: 338   
عشرۂ ذی الحجہ فضائل واحکام
...............................................
  BT: 337   
فضائل حج وعمرہ
...............................................
  BT: 336   
تذکرہ حضرت ابو الخیرسید رحمت اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ
...............................................
  BT: 335   
حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ‘فضائل ومناقب
...............................................
  BT: 334   
رمضان کے بعد ہماری زندگی کیسی ہو؟
...............................................
 
   
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights Reserved