حضرت امام ربانی رحمہ اللہ کا علمی وروحانی مقام
 
(……حضرت امام ربانی رحمہ اللہ کا علمی وروحانی مقام……)
 
 
 
یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالی ہر صدی میں دینِ اسلام کی تجدید اور اس میں آنے والی خرافات اور برائیوں کے خاتمہ کے لئے باعظمت شخصیات کو دنیا میں پیدا فرماتا ہے؛جو منشأخداوندی ومرضیٔ رسالت پناہی کے مطابق دینِ متین کی حفاظت کرتی ہیں اور اس میں در آئی خرابیوں کا ازالہ کرتے ہوئے اصلاح امت کا فریضہ انجام دیتی ہیں ، جیسا کہ سنن ابوداود میں حدیث پاک ہے:
 
 
 
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فِیمَا أَعْلَمُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُ لِہٰذِہِ الأُمَّۃِ عَلَی رَأْسِ کُلِّ مِائَۃِ سَنَۃٍ مَنْ یُجَدِّدُ لَہَا دِیْنَہَا.
 
 
 
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں ، حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ ہر صدی کی ابتداء میں اس امت میں ایسوں کو وجود بخشتا ہے جواس کے لئے اس کے دین کی تجدید کرتے ہیں۔
 
 
 
(سنن ابی داود، حدیث نمبر: 4293)
 
 
 
چونکہ(28)صفر المظفر 1034ھ کو امام ربانی مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد فاروقی سرہندی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا وصال مبارک ہوا ہے،اسی مناسبت سے آپ کا علمی وروحانی مقام ومرتبہ ہدیہ ناظرین کيا جارہا ہے:
 
 
 
          حضرت مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے روحانی مقام ومرتبہ کا اس بات سے بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ آپ کے پیرومرشدحضرت خواجہ محمدباقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ نے آپ سے متعلق فرمایا:”شیخ احمدوہ آفتاب ہیں جس میں ہم جیسے کئی ستارے گم ہیں“۔
 
          (تذکرہئ مشائخ نقشبندیہ، ص: 262)
 
          حضرت امام ربانی رحمۃ اللہ علیہ عالم اسلام کی وہ باکمال ہستی ہیں جس کا فیض سارے عالم میں پھیلاہواہے،آپ بیک وقت علماء ربانیین کے پیشوابھی تھے اور اربابِ طریقت کے مُقتَدا بھی،آپ نے تبلیغ دین اوراحیاء اسلام کا عظیم ترین فریضہ انجام دیا،روحانیت کے عظیم ترین منصب پرفائز ہونے کے ساتھ آپ کی علمی جلالت کا یہ حال تھا کہ تفسیرلکھنے کے دوران ایک مقام پرابوالفضل کو- جو ایک نادرانداز میں بے نُقَطْ حروف سے قرآن کریم کی تفسیر لکھ رہا تھا- دشواری ہوئی اوروہ رک گیا، اچانک وہاں حضرت امام ربانی رحمۃ اللہ علیہ جلوہ افروز ہوئے،اس نے آپ سے درخواست کی کہ میں یہاں پریشان ہوں کہ ان آیات مبارکہ کے مفہوم کوبیان کرنے کے لئے بے نُقَطْ الفاظ نہیں مل رہے ہیں، توحضرت امام ربانی رحمۃ اللہ علیہ نے قلم لیا اورفی البدیہ ان آیات کی بے نُقَطْ تفسیر لکھ کرابوالفضل کے حوالہ کردی۔ ابوالفضل آپ کے تبحرعلمی کودیکھ کرمحوحیرت ہوگیا۔
 
          (زبدۃ المقامات،ص:137/138۔تذکرہئ مشائخ نقشبندیہ مؤلفہ:علامہ نبی بخش توکلی،ص:255)۔
 
          آپ کے پیر ومرشدحضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: آپ مرید نہیں بلکہ مراد اور محبوب ہیں۔جن کے ظہور کی کتنے ہی اکابر اولیاء اللہ نے بشارتیں دی تھیں۔ میر ی محنت رائگاں نہیں گئی کہ میاں شیخ احمد(رحمۃ اللہ علیہ) جیسی ہستی کی تربیت کر چلاہوں، جن کو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بشارت دی کہ تم علمِ کلام کے مجتہدین سے ہو۔ جن کے عقائد کی بارگاہ رسالت میں مقبولیت ہوچکی ہے، اور فخر دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کے ایک رسالہ سے متعلق اولیاء کرام سے فرمایا کہ ایسے عقیدے رکھنے چاہئیے!۔
 
          میاں شیخ احمد(رحمۃ اللہ علیہ)جیسی ہستی آج اس آسمان کے نیچے اور نہیں ہے۔
 
          (تذکرہئ مشائخ نقشبندیہ،ص:262۔جواھر مجددیہ، ص: 38)
 
(……تذکرہ ئ امام ربانی رحمہ اللہکی اہمیت‘حضرت شاہ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہکی نظر میں ……)
 
          حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ”اخبار الاخیار“میں رقم طراز ہیں: ترجمہ: کتاب اخبار الاخیار مکمل ہوئی لیکن حقیقتًا اس وقت پایہئ تکمیل کو پہنچے گی جبکہ زبدۃ المقربین،قطب الاقطاب،فضیلت مآب، مظہر تجلیات الٰہی، مصدر برکات لامتناہی، امام ِربانی، مجددِ الف ثانی حضرت شیخ احمد فاروقی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ کے کچھ حالات تحریر کئے جائیں۔
 
          مجھ مصنف کو آخری عمر میں آپ سے نسبت حاصل ہوئی اس لئے آپ مقدم ترین کاملین و سابق ترین واصلین الی اللہ کا تذکرہ اس کتاب کے آخر میں ہی زیادہ مناسب ہے اور اگر حقیقت پر نظر کی جائے تو اول وآخر سب ایک ہی چیز ہے، میرا آپ سے رجوع ہونا ثقہ حضرات کی زبانی بھی مشہور بات ہے جیساکہ کتاب کے آخر میں   ان شاء اللہ بیان ہوگا-(اخبار الاخیار،ص:728)
 
(……امام ربانی رحمہ اللہاور قلم کی سیاہی کا ادب ……)
 
          ایک دن کا ذکر ہے کہ خادم آپ کی خدمت میں حاضرتھا اور آپ تحریر معارف میں مشغول تھے۔ ناگاہ (اچانک) بتقاضائے بول اُٹھ کھڑے ہوئے اور استنجاء خانہ کی طرف گئے اور معًا جانے کے پھر باہر آگئے، مجھے سخت حیرت ہوئی کہ آپ استنجا کے لئے گئے اور اتنی جلدی نکل آئے؛ لیکن آپ نے باہر آتے ہی پانی مانگا اور بائیں انگوٹھے کا ناخن دھو کر پھر استنجاء خانہ میں گئے اور دیر کے بعد نکلے، بعد ازاں آپ نے فرمایا کہ میں پیشاب کے لئے گیا تھا، جب میں پیشاب کے لئے بیٹھنے لگا تو میری نظر ناخن پر پڑی کہ اُس پر سیاہی کا نقطہ لگا ہوا ہے جس سے میں آیات قرآنیہ لکھ رہا تھا اور امتحانًا ناخن پر قلم لگایا تھا، یہ امر خلاف رعایت ادب تھا کہ میں ناخن کو نہ دھولیتااور ویسے ہی استنجا کرنے بیٹھ جاتا۔ گو مجھے ناخن دھونے میں تھوڑی تکلیف برداشت کرنی پڑی لیکن ترک ادب اس سے کہیں گراں تھا۔ (زبدۃ المقامات، ص: 193/194)
 
کرامات حضرت امام ربانی رحمہ اللہ
 
……)        آپ کی کرامات بے حدوبے شمارہیں،ایک وقت معین پردس جگہ کی دعوت قبول فرمائی،وقت مقررہ پرہرہرشخص کے پاس کھاناتناول فرماتے نظرآئے۔
 
……)        کلمہ حق کہنے کی وجہ سے جہانگیرنے جب آپ کوقید کیا تو سخت پہرے کے باوجود جمعہ کے لئے مسجدمیں آتے اور اس کے بعد قیدخانہ تشریف لے جاتے،پہرے والے جوانوں کوخبربھی نہ ہوتی کہ آپ باہرکب آئے اورقید خانہ میں واپس کب ہوئے۔
 
          بادشاہ موصوف نے کئی بارآپ سے یہ کرامت دیکھی، نہایت معتقد ہوکر معذرت کرتے ہوئے آپ کو قید سے رہاکیا،جس وقت آپ محبس (قیدخانہ)سے نکلے تو سینکڑوں قیدی پر آپ کی فیض صحبت کا ایسا اثر ہوا کہ وہ قیدی اہل دل اور اولیاء کرام سے ہوگئے تھے۔
 
……)        ایک مرتبہ بارش کے موقع پر آپ نے بادل کو حکم فرمایا کہ مخصوص مدت تک بارش نہ ہو تو بارش اس مدت تک رکی رہی۔
 
……)        آپ کی بہت بڑی کرامت توشریعت پر استقامت تھی،جسکوآپ نے اپنے کسی مکتوب میں اس طرح تحریرفرمایاہے کہ اگرکوئی شخص باوجود ہوا میں اڑنے اورپانی پر چلنے کے ایک مستحب بھی ترک کیا ہوتووہ نقشبندی اولیاء اللہ کے نزدیک جَوْبرابر قدر ومنزلت نہیں رکھتاہے۔
 
……)        اتباع سنت آپ پراس طرح غالب تھی کہ جب آپ کی عمرشریف پچاس (50) سال کی ہوئی توآپ نے فرمایا کہ ہماری عمرحضرت رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمرشریف سے بڑھ نہیں سکتی، ہم بھی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت میں ترسٹھ(63) سال کی عمرمیں دنیاسے کوچ کرجائیں گے۔
 
          ایساہی ہوا،ماہ محرم 1034ھ میں ایک روزآپ نے فرمایاکہ”پچاس روز کے بعدہم اس عالم سے کوچ کرنے والے ہیں،مجھے میری قبرکی جگہ بتلائی گئی ہے“۔
 
(……انتقال سے قبل سلوک طے کروانا ……)
 
          آپ کے ایک مرید مولانا یوسف کو جان کندنی (جاں کنی) کا وقت پیش آیا، ان کا سلوک کچھ باقی تھا، آپ اُن کے پاس تشریف لائے اور فورًا سلوک طے کروادیا۔ (جواہر مجددیہ، ص: 51)
 
(……مصیبت کے وقت امداد کرنا ……)
 
          سید جمال جو ارباب ذوق وحال سے اور آپ کے مخلصین میں سے تھے، بیان کرتے ہیں کہ ایک بیابان میں ناگاہ (اچانک) میرے روبرو ایک شیر آکھڑا ہوا۔ میں اپنی تنہائی اور اس درندہ کی ہیبت سے سخت ہراساں (خوف زدہ) ہوا، فرار ہونا بھی ناممکن تھا، اس لئے ناچار میں نے آپ سے مدد چاہی، کیا دیکھتا ہوں کہ آپ ایک طرف سے عصا ہاتھ میں لئے دوڑتے ہوئے آتے نظر آئے اور شیر کے منہ پر زور سے عصا مارا۔ اس کے بعد جب میں نے اس معاملہ کو بغور چشم دیکھا تو نہ آپ نظر آئے اور نہ میں نے شیر کا نام ونشان پایا۔ (زبدۃ المقامات، ص: 253)
 
(…… احوال ِ غیبیہ پر مطلع ہونا……)
 
          آپ کی خدمت میں ایک شخص نے کچھ تحفہ پیش کیا اور کسی مریض کی دعا ئے صحت کے لئے استدعا کی، آپ نے اس کو قبول نہیں فرمایا اور تھوڑی دیر تک مراقبہ کر کے فرمایا: ہم اس کی مغفرت کے لئے دعا کرتے ہیں، اس کے بعد معلوم ہو اکہ اس وقت اس شخص کا انتقال ہوچکا تھا۔ (جواہر مجددیہ، ص: 54)
 
(…… عشق مجازی کو عشق الٰہی میں تبدیل کردیا……)
 
          خواجہ جمال الدین حسین فرزند حقائق پناہ خواجہ حسام الدین احمدرحمۃ اللہ علیہ اپنے والد بزرگوار کی ہدایت وحکم سے سرہند میں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ فرماتے تھے کہ جب میں خدمت عالی میں آیا تو حضرت نے مجھ کو ذکر بتایا اور توجہ فرمائی تھوڑی دیر کے بعد ارشاد فرمایا کہ میں تمہارے دل میں کسی عورت کی محبت کا نقش ایسا جما ہوا پاتا ہوں جس طرح کہ پتھر مٹی میں۔ سچ کہو کہ یہ کیا بات ہے؟ جب تک کہ اُس کی محبت کا نقش تمہارے دل سے نہ نکل جائے گا خدا کی محبت سے تم مستفید نہیں ہوسکتے۔ میں نے کہا کہ میری پھوپھی کی ایک کنیز سے میرا تعلق ہے اور میں اُس کا شیفتہ ہوں اُس کے بعد آپ نے توجہ فرمائی اور اُس کے تعلق سے میرا دل پاک کردیا، اُس کی محبت اس طرح میرے دل سے جاتی رہی کہ گویا کبھی اُس سے الفت ہی نہ تھی۔ (حضرات القدس، دفتر دوم، ص: 147/148)
 
مکاشفات ِحضرت امام ربانی رحمہ اللہ
 
          حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے متعدد مکاشفات ہیں جن میں چند یہاں ذکر کئے جارہے ہیں:
 
(…… اللہ کے نام کا احترام اور اس کی برکات……)
 
           ایک روز حضرت امام ربانی رحمہ اللہ قضائے حاجت کے لئے بیت الخلاء گئے، دیکھا کہ ایک سِفّالی شکستہ (مٹی کا گراہوا) پیالہ کہ جس سے مہتر نجاست اٹھاتاتھا اور اس پر اللہ کا نام منقوش تھا اور وہ نجاستوں میں آلودہ تھا، حضرت امام ربانی نے پیالہ اپنے ہاتھ میں لیا اور وہاں سے نکلے اور خادم سے فرمایاکہ آفتابہ (لوٹا) لاؤ، اور پیالہ کو خاص اپنے دست مبارک سے پاک کیا، ہرچند خدام نے التماس کیا کہ ہم اُس کو پاک کرتے ہیں؛ مگر قبول نہ فرمایا اور پاک کر کے اُس کو ایک سفید کپڑے میں لپیٹ کر اُونچے مقام پر تعظیم کے ساتھ رکھ دیا اور جب پانی پینا چاہتے تو اسی پیالہ میں پیتے۔ اس اثناء میں بارگاہ رب الارباب سے خطاب مستطاب آیا کہ جس طرح تم نے ہمارے نام کی تعظیم کی اسی طرح ہم نے بھی تمہارے نام کو دنیا وآخرت میں معظم بنایا ہے۔ اور آپ فرماتے تھے کہ اس عمل نے مجھ کو جس قدر فیوض وبرکات پہنچائے وہ صدسالہ ریاضت ومجاہدہ سے بھی ناممکن تھے۔
 
          (حضرات القدس۔ دفتر دوم، ص: 78/79)
 
(……امام ربانی رحمہ اللہکی دعا سے شقاوت‘سعادت میں بدل گئی……)
 
          تفسیر مظہری میں علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ تقدیر سے متعلق تحریر فرماتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: یَمْحُوا اللہُ مَا یَشَاءُ وَیُثْبِتُ ج وَعِنْدَہٗ اُمُّ الْکِتٰبِ۔ ترجمہ: اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور (جوچاہتاہے) باقی رکھتاہے، اور اصل کتاب اس کے پاس ہے۔(سورۃ الرعد:39)
 
          اس آیت کے تحت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جو لوح میں لکھا ہوا ہے اللہ تعالیٰ اس میں سے جو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور جو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے، اور جو لکھا ہوا مٹانے کے قابل ہوتا ہے اسے قضاء ِمعلق کہتے ہیں۔ اور اللہ اُسی چیز کو پیدا فرماکر مٹاتا ہے جسکے ساتھ اس کو مٹانے کی تعلیق لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہو، یا اللہ تعالیٰ کے علم میں مضمر (پوشیدہ) ہو۔ اور جو مٹانے کے قابل نہیں ہوتا اس کو مبرم کہا جاتا ہے اور یہ قضا اٹل ہوتی ہے، اس میں رد وبدل نہیں ہوتا۔
 
          اس کی وضاحت میں علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ حضرت امام ربانی رحمہ اللہ کے مکاشفہ کا ذکر فرماتے ہیں:        
 
          حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ نے کشف کی نظر سے دیکھا کہ ملا طاہر لاہوری کی پیشانی پر شقی (بدبخت) لکھا ہوا ہے اور ملا طاہر آپ کے شہزادوں محمد سعید اور محمد معصوم رحمہما اللہ کے استاد تھے، حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ نے ان کی شقاوت کا تذکرہ اپنے صاحبزادوں سے کیا تو انہوں نے التجا کی! آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے استاد کی شقاوت کو مٹادے اور اس کی جگہ سعادت لکھ دے۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے غوث الثقلین سید السند محی الدین عبد القادر جیلانی قدس سرہٗ کا قول یاد آیا،آپ فرماتے تھے کہ ”میری دعا سے قضاء مبرم بدل جاتی ہے“۔میں نے اللہ تعالیٰ سے ان الفاظ میں دعا کی: اللّٰہم رحمتک واسعۃ وفضلک غیر مقتصر علی احد وارجوک واسئلک من فضلک العمیم ان تجیب دعوتی فی محو کتاب الشقاء من ناصیۃ ملا طاھر واثبات السعادۃ مکانہ کما اجبت دعوۃ سید السند رضی اللہ عنہ۔ ترجمہ: اے اللہ! تیری رحمت بڑی وسیع ہے، تیرا فضل کسی ایک پر منحصرنہیں ہے، میں تجھ سے امید کرتا ہوں اور سوال کرتا ہوں کہ اپنے فضل عمیم کے طفیل میری دعا کو قبول فرما! ملا طاہر کی پیشانی سے شقاوت کو مٹاکر سعادت کندہ فرمادے! جس طرح تونے سید السند غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی دعا قبول فرمائی تھی۔
 
          حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر گویا میں نے ملا طاہر کی پیشانی کو دیکھا کہ اس سے شقی کا کلمہ مٹادیا گیا ہے اور اس کی جگہ سعید کا کلمہ لکھا گیا ہے، وما ذلک علی اللہ بعزیز۔ اللہ تعالیٰ پر یہ کام مشکل نہیں ہے۔ پھر مجھ پر اس مسئلہ کا حل مشکل ہوگیا کہ قضاء مبرم کسی کی دعا سے کیسے بدل سکتی ہے؟ کیونکہ اسے تو کسی صورت میں بدلا ہی نہیں جاتا۔ اگر وہ بدل جاتی ہے تو وہ مبرم نہیں ہوتی اور یہ خلف ہے یا محال کو لازم ہے، پس اللہ تعالیٰ نے مجھے اس اشکال کا حل الہام فرمایا کہ قضاء معلق کی دو قسمیں ہیں: ایک وہ جس کا لوح محفوظ میں معلق ہونا لکھا ہوتا ہے اور یہ لکھا ہوتا ہے کہ اس قضاء کا رد فلاں فعل سے معلق ہے۔ دوسری وہ جس کا معلق ہونا لوح محفوظ میں لکھا ہوا نہیں ہوتا، وہ لوح محفوظ میں مبرم کی صورت میں ہوتی ہے لیکن اس کا مٹانا اور اس کا باقی رکھنا علم ِالٰہی میں معلق تھا۔ پس سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے جو ارشاد فرمایا کہ قضاء مبرم میری دعا سے بدل جاتی ہے یہ اس قضاء کے متعلق ہے جو لوح محفوظ میں مبرم کی شکل میں ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے علم میں مبرم نہیں ہوتی۔ پس ملا طاہر کی شقاوت اسی قبیل سے تھی، یعنی لوح محفوظ میں مبرم کی شکل میں تھی لیکن اللہ تعالیٰ کے علم میں حضرت مجدد رحمہ اللہ کی دعا کے ساتھ اس کا مٹنا معلق تھا۔ واللہ اعلم۔
 
اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ بطفیل حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں عقائدحقہ پرقائم رکھے اورحضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات وہدایات کے مطابق زندگی بسرکرنے کی توفیق عطافرمائے،اور آپ کے فیوض وبرکات سے ہم سب کو مالامال فرمائے۔
 
آمِیْن بِجَاہِ طٰہٰ وَیٰسٓ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی وَبَارَکَ وَسَلّمَ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔
 
از: ضياء ملت مولانا مفتی حافظ سید ضیاء الدین نقشبندی مجددی قادری دامت برکاتہم العالیہ
 
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر، حیدرآباد، الہند۔
 
www.ziaislamic.com
 
     
 
 
 
  BT: 354   
حضرت امام ربانی رحمہ اللہ کا علمی وروحانی مقام
...............................................
  BT: 353   
حضرت خواجہ بندہ نوازرحمۃ اللہ علیہ، شخصیت وتعلیمات
...............................................
  BT: 352   
تذکرہ حضرت ابو الخیرسید رحمت اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ
...............................................
  BT: 351   
حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ کی اصلاحی وتجدیدی خدمات
...............................................
  BT: 350   
غوث اعظم رضی اللہ عنہ علمی جلالت، فیضان اور تعلیمات
...............................................
  BT: 349   
ولادت باسعادت، خصائص وامتیازات
...............................................
  BT: 348   
شاہ نقشبند حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبندؒ ملفوظات وکرامات
...............................................
  BT: 347   
امام ربانی مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ شخصیت حیات وتعلیمات
...............................................
  BT: 346   
ماہ صفر'اسلامی نقطۂ نظر
...............................................
  BT: 345   
محبت اہل بیت وصحابہ شعارِاہل سنت
...............................................
  BT: 344   
کرامات امام حسین رضی اللہ عنہ
...............................................
  BT: 343   
محبت اہل بیت وصحابہ شعارِاہل سنت
...............................................
  BT: 342   
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فضائل ومناقب
...............................................
  BT: 341   
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ،فضائل وکمالات
...............................................
  BT: 340   
قربانی فضائل ومسائل
...............................................
  BT: 339   
برادران وطن کے ساتھ تعلقات
...............................................
  BT: 338   
عشرۂ ذی الحجہ فضائل واحکام
...............................................
  BT: 337   
فضائل حج وعمرہ
...............................................
  BT: 336   
تذکرہ حضرت ابو الخیرسید رحمت اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ
...............................................
  BT: 335   
حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ‘فضائل ومناقب
...............................................
 
   
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights Reserved