***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f13: کپڑے پرنجاست کا دھبہ باقی رہ جائے توکیا حکم ہے <Back
سوال

کپڑوں کو گندگی لگ جائے اور کپڑے دھونے کے باوجود ناپاکی کا دھبہ باقی رہ جائے تو کیا ایسے کپڑے پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے؟ اگر کوئی شخص ناپاکی کا دھبہ ہوتے ہوئے نماز پڑھ لے تو اس کو کیا کرنا چاہئے؟

جواب

کپڑے پر جس ناپاکی کا دھبہ اور اثر باقی رہ گیا ہے ظاہر ہے وہ نجاست مرئیہ (دکھائی دینے والی نجاست ہے) اس کا حکم یہ ہے کہ کپڑے کو نجاست دور ہونے اور اثر زائل ہونے تک دھویا جائے خواہ ایک مرتبہ دھونے سے اثر زائل ہو یا تین مرتبہ دھونے سے یا اس سے زائد سے۔ اگر نجاست کپڑے میں اس قدر سرایت کر گئی ہو کہ صرف پانی سے اس کا اثر زائل نہیں ہوتا تو عین نجاست اور قابل زوال اثر کا دور کرنا ضروری ہے۔ البتہ صابن وغیرہ کا استعمال کمال نظافت و طہارت کے لیے مناسب ہے۔ چنانچہ فتاوی عالمگیری ج 1، كتاب الطهارة ، الباب السابع في النجاسة وأحكامها، ص41/42، میں ہے : وَإِزَالَتُهَا إنْ كَانَتْ مَرْئِيَّةً بِإِزَالَةِ عَيْنِهَا وَأَثَرِهَا إنْ كَانَتْ شَيْئًا يَزُولُ أَثَرُهُ وَلَا يُعْتَبَرُ فِيهِ الْعَدَدُ . كَذَا فِي الْمُحِيطِ فَلَوْ زَالَتْ عَيْنُهَا بِمَرَّةٍ اكْتَفَى بِهَا وَلَوْ لَمْ تَزُلْ بِثَلَاثَةٍ تُغْسَلُ إلَى أَنْ تَزُولَ ، كَذَا فِي السِّرَاجِيَّةِ . وَإِنْ كَانَتْ شَيْئًا لَا يَزُولُ أَثَرُهُ إلَّا بِمَشَقَّةٍ بِأَنْ يُحْتَاجَ فِي إزَالَتِهِ إلَى شَيْءٍ آخَرَ سِوَى الْمَاءِ كَالصَّابُونِ لَا يُكَلَّفُ بِإِزَالَتِهِ . هَكَذَا فِي التَّبْيِينِ وَكَذَا لَا يُكَلَّفُ بِالْمَاءِ الْمَغْلِيِّ بِالنَّارِ . هَكَذَا فِي السِّرَاجِ الْوَهَّاجِ . ترجمہ:نجاست مرئیہ ایسی چیز ہو جس کا اثر زائل ہوجاتا ہے تو عینِ نجاست اور اس کا اثر دور ہونے سے پاکی حاصل ہوجاتی ہے اور اس میں عدد کا اعتبار نہیں، اگر ایک مرتبہ دھونے سے زائل ہوجائے تو اُسی پر اکتفاء کرے اور تین مرتبہ سے بھی دور نہ ہو تو دور ہونے تک دھویا جائے اور اگر نجاست ایسی چیز ہو جس کا اثر زائل کرنا اس قدر دشوارہو کہ پانی کے علاوہ کسی دوسری چیز کی ضرورت ہوتی ہے جیسے صابن تو اُس کو دور کرنے کی تکلیف نہیں دی جائے گی۔ اس طرح گرم پانی سے دھونا بھی ضروری نہیں۔ مذکورہ بالا ہدایات کے تحت دھونے کے باوجود کپڑے پر نجاست کا اثر باقی رہ جائے تو شرعاً وہ کپڑا پاک ہے، اس کو پہن کر نماز ادا کرنا جائز و درست ہے۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com