***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f135: عورت کے لئے بغیرمحرم کے حج کاحکم <Back
سوال
میں حیدرآباد کی رہنے والی پینتا لیس سالہ خاتون ہوں ،حج کے لئے جانا چاہتی ہوں اور میں حج کا سفر کرنے کی استطاعت بھی رکھتی ہوں،لیکن بعض لوگوں نے مجھ سے کہا کہ عورت محرم کے بغیر حج نہیں کرسکتی ،میرے ساتھ سفر میں اور کئی خواتین ہیں ،دوران سفر کوئی دقت پیش آنے پر میں ان سے مددبھی لے سکتی ہوں،میں جاننا چاہتی ہوں کہ کیا میں ان خواتین کے ساتھ حج کے لئے جاسکتی ہوں؟ براہ کرم تشفی بخش جواب دیجئے۔
جواب
حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کی عفت وعصمت اور عزت وتکریم کے پیش کسی محرم رشتہ دار کے ساتھ ہی سفر کرنے کاحکم فرمایاچنانچہ صحیح بخاری شریف میں حدیث پاک ہے عن ابن عمران النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لاتسافر المراۃ ثلثۃ ایام الا مع ذی محرم۔ ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی عورت تین دن کی مسافت کا سفر نہ کرے مگر یہ کہ اس کے ساتھ محرم ورشتہ فار ہو۔(صحیح بخاری شریف،ج1،ص147) عورت خواہ جوان ہویا عمررسیدہ حج واجب ہونے کے لئے اس کے ساتھ محرم کا ہونا شرط ہے ، اسی طرح محرم کے سفر حج کا نفقہ بھی عورت کے ذمہ واجب ولازم ہے، اگر محرم نہ ہوتو عورت پر ازروئے شرع شریف حج کی ادائیگی ہی نہیں ہوتی ،لہذا کوئی خاتون غیر محرم مردوں کے ساتھ حج کو نہیں جاسکتی ونیز بغیر محرم کے خواتین کے قافلہ کے ساتھ بھی نہیں جاسکتی،محرم سے مراد خود اس کا شوہر ہے یاوہ مرد جس سے اس عورت کا نکاح قرابت ، رضاعت یا مصاہرت کے سبب ہمیشہ کے لئے حرام ہواورمحرم کے شرائط میں یہ ہے کہ وہ عاقل وبالغ، نیک و صالح اور امانتدار ہو، فاسق وفاجر،خائن و بدخواہ نہ ہو۔ جیساکہ فتاویٰ عالمگیری ج1، کتاب المناسک، الباب الاول فی تفسیرالحج وفرضیتہ ووقتہ وشرائطہ وارکانہ، ص 218‘219 میں ہے: (ومنھا المحرم للمرأۃ) شابۃ کانت او عجوزا اذاکانت بینھا وبین مکۃ مسیرۃ ثلثۃ ایام ہکذا فی المحیط وان کان اقل من ذلک حجت بغیر محرم کذا فی البدائع والمحرم الزوج ومن لایجوز مناکحتھا علی التابید بقرابۃ او رضاع اومصاہرۃ کذا فی الخلاصۃ ویشترط ان یکون مأمونا عاقلا بالغاً حراً کان اوعبدا کافرا کان او مسلما ہکذا فی فتاویٰ قاضی خان وتجب علیہا النفقۃ والراحلۃ فی مالہا للمحرم لیحج بھا۔ ترجمہ: وجوب حج کے شرائط میں سے محرم کا ہونا ہے چاہے عورت جوان ہویا بوڑھی جبکہ مکہ مکرمہ تک سفر تین دن کا ہو، اور محرم شوہر یا وہ شخص ہے جس سے نکاح ہمیشہ کیلئے حرام ہے، یہ’’ حرمت‘‘ نکاح کے رشتہ کی وجہ سے ہویا رضاعت کی وجہ سے یا مصاہرت کی وجہ سے ‘یہ بھی ضروری ہے کہ محرم محفوظ کردار کا ہو، عاقل و بالغ ہوخواہ غلام ہویا آزاد ، محرم کے تمام اخراجات عورت کے ذمہ ہوں گے ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com