***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f137: بیماری کی وجہ سے بارہویں ذی الحجہ کے بعد طواف زیارت کا حکم <Back
سوال

گذشتہ سال ہمارے والدصاحب حج کو گئے تھے جوہارٹ کے مریض ہیں، منی میں طبیعت سخت خراب ہونے کی وجہ سے انہیں فوراً دواخانہ میں شریک کردیا گیا،اوروہ طواف زیارت نہیں کرسکے ، بارہ ذی الحجہ تک دواخانہ میں ہی ایڈمٹ رہے، بعد ازاں کچھ افاقہ محسوس ہوا تو انہوں نے طواف زیارت کرلیا ۔ کیا بارہ تاریخ کے بعد طواف زیارت کرنے سے دم دیناواجب ہوگا؟

جواب

سوال میں مذکورہ تفصیل کے مطابق آپ کے والد صاحب کو منی میں طبیعت ناساز ہونے کی بناء اگر دواخانہ میں شریک کردیا گیا تھا ،اس عذر کی وجہ سے وہ بارہویں ذی الحجہ کے غروب تک طواف زیارت نہیں کرسکے ، پھر اس کے بعد انہوں نے جب طواف زیارت کرلیا ہے توازروئے شرع شریف ان کا یہ طواف زیارت ادا ہوگیا اور تاخیرچونکہ عذر کے سبب ہوئی ہے ،اس لئے امام اعظم کے مسلک کے مطابق ان پر دم واجب نہ ہوگا، کسی شرعی عذر یعنی حیض ونفاس یا بیماری وغیرہ کے سبب بارہویں کے غروب آفتاب تک طواف زیارت نہ کیا جاسکے تو اس تاخیر کی وجہ دم واجب نہ ہوگا اورعذر کے ساقط ہوتے ہی فوری طواف کرنا ضروری ہے۔ مناسک ملاعلی قاری مع حاشيۂ ارشاد الساری فصل فی واجباتہ ص 82 پر ان امور کے بیان میں مذکور ہے جن سے دم واجب نہیں ہوتا (وتاخیر طواف الزیارۃ عن ایامہ )ای عند الامام (لحیض اونفاس ) وکذا لحبس اومرض۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com