***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f14: جنابت کی حالت میں کھانا ، پینا اور ذکرکرنا <Back
سوال
عورتیں جنابت اور ناپاکی کی حالت میں کیا کلمہ طیبہ کا وظیفہ پڑھ سکتی ہیں؟ اسی طرح دیگر اذکار و اوراد پڑھنے کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے۔
جواب
احکام شریعت کی روشنی میں عورتیں بحالت جنابت وناپاکی قرآن مجید کی تلاوت نہیں کرسکتیں،جیسا کہ جامع ترمذی شریف ج 1 ص 34، میں حدیث شریف ہے :عَنْ ابْنِ عُمَرَعَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقْرَأْ الْحَائِضُ وَلَا الْجُنُبُ شَيْئًا مِنْ الْقُرْآنِ- ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے ارشادفرمایا: حائضہ اور جنبی قرآن مجید کی تلاوت نہ کرے- (جامع ترمذی شریف ج 1 ص 34،حدیث نمبر:121) البتہ جنابت کی حالت میں اوراد ودعائیں اوراذکار پڑھنے میں کوئی حرج وممانعت نہیں ہے، شرح وقایہ ج1 ص 116،میں ہے: : وسائرالادعية والاذکار لاباس بها – ترجمہ : تمام قسم کے اوراد ودعائیں اور اذکار وغیرہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ فتاوی عالمگیری ج 1،کتاب الطهارة الفصل الرابع فی احکام الحيض والنفاس والا ستحاضة ,ص 38, میں ہے: : ويجوزللجنب والحائض الدعوات وجواب الاذان ونحوذلک۔ ترجمہ:جنبی اورحائضہ کے لئے دعائیں پڑھنا اوراذان کا جواب دینا اور اس جیسی چیزیں جائز ہیں مگر اتنی بات ہے کہ وہ اذکار واوراد اور کلمہ طیبہ وغیرہ پڑھنے کے وقت وضو کرلیں کیونکہ یہ ان کے حق میں مستحب ومندوب ہے ۔ اور درمختار برحاشیہ رد المحتار ج 1،ص 122،میں ہے : (ولايکره النظراليه )ای القرآن (لجنب وحائض ونفساء ) لان الجنابة لاتحل العين (ک)مالا تکره (ادعية )ای تحريما ، والافالوضوء لمطلق الذکر مندوب وترکه خلاف الاولی وهومرجع الکراهة التنزيهية ‘‘ ترجمہ:جنبی وحیض ونفاس والی عورت کےلئے قرآن مجید کودیکھنے میں کوئی کراہت نہیں کیونکہ جنابت وناپاکی آنکھ میں سرایت نہیں کرتی ونیزدعاؤں کا پڑھنا مکروہ تحریمی نہیں ہے البتہ مطلق ذکر کےلئے وضو کرلینا مستحب ہے اور بے وضوپڑھنا خلاف اولی اور مکروہ تنزیہی ہے ۔ بحالت جنابت ہاتھ، منہ دھوکرکھانے پینے میں کوئی مضائقہ نہیں، درمختار ص 123، میں ہے: (ولا) ای لايکره (اکله وشربه بعد غسل يد وفم ) ترجمہ: جنبی کےلئے ہاتھ منہ دہولینے کے بعد کھانا پینا مکروہ نہیں ہے، شرح معانی الآثار ج1، ص53، میں حدیث شریف ہے: عَنْ مَالِكِ بْنِ عُبَادَةَ الْغَافِقِيِّ قَالَ : أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جُنُبٌ فَأَخْبَرْت عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَجَرَّنِي إلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إنَّ هَذَا أَخْبَرَنِي أَنَّك أَكَلْت وَأَنْتَ جُنُبٌ قَالَ : نَعَمْ إذَا تَوَضَّأْت أَكَلْت وَشَرِبْت وَلَكِنِّي لَا أُصَلِّي وَلَا أَقْرَأُ حَتَّى أَغْتَسِلَ- حضرت مالک بن عبادہ غافقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت جنابت میں تناول طعام فرمایا ،میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لیکر پہنچے اور عرض کئے یارسول اللہ انہوں نے مجھ کو بتایا کہ آپ نے حالت جنابت میں تناول فرمایا ہے توآپ نے ارشاد فرمایا ہاں !جب میں وضوء کرلیتا ہوں توکھاتا اورپیتا ہوں لیکن نماز نہیں پڑھتا اورنہ تلاوت کرتا ہوں یہاں تک کہ غسل کرلوں- اس حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ بحالت جنابت کھانا پینا ہو تو وضوکرلیں کم ازکم ہاتھ منہ تو ضرور دھولیں ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com