***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f1423: مراقبہ قرآن وحدیث کی روشنی میں <Back
سوال

صوفیاء کرام رحمہم اللہ اجمعین ہمیشہ سے اپنے ارادت مندوں کو تقرب الی اللہ کے لئے مراقبہ کی تلقین کرتے آئے ہیں ، لیکن آج کل بعض لوگ اس کے جواز کا انکار کرتے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ یہ عمل غیر اسلامی ہے ، احادیث میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ۔ لہذا جناب والا سے گزارش ہے کہ کون سی احادیث و آیات میں اس مخصوص عمل کے اشارے ملتے ہیں ، چند حوالے عطا فرماکر ممنون فرمائیں ۔

جواب

مراقبہ کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اس بات کومستحضر رکھے کہ اللہ تعالی اُسے دیکھ رہاہے : ارشاد الہی ہے : إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا ۔ ترجمہ : یقیناً اللہ تعالی تم پر نگہبان ہے ۔ (سورۃ النساء ۔ 1) نیز ارشاد الہی ہے : وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ رَقِيبًا ۔ ترجمہ: اور اللہ تعالی ہر چیز پر نگہبان ہے ۔ (سورۃ الاحزاب ۔ 52) اس کے علاوہ اور بہت ساری آیتیں ہیں جن سے اللہ تعالی کی ہم پر نگہبانی معلوم ہوتی ہے ۔ یہ طریقہ دراصل قرآن کریم واحادیث شریفہ سے ماخوذ ومستفاد ہے ، حدیث جبریل میں مذکور ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کے بارے میں پوچھے جانے پر ارشاد فرمایا: أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ۔ ترجمہ : احسان یہ ہے کہ تم اللہ تعالی کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اُسے دیکھ رہے ہو ، اگر تم سے یہ نہ ہوسکے تو پھر اس خیال کو جمائے رکھو کہ وہ تمہیں دیکھ رہاہے ۔ (صحیح بخاری شریف ،کتاب الایمان ، باب سؤال جبريل النبى صلى الله عليه وسلم عن الإيمان والإسلام والإحسان وعلم الساعة .حدیث نمبر:50 ) \"اس خیال کو جمائے رکھو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے \" مراقبہ اِسی کا نام ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com