***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f1430: نماز میں ایک آیت کے بجائے دوسری کوئی آیت تلاوت کرلے <Back
سوال

نماز مغرب میں امام صاحب نے سورۃ عصر کی تلاوت شروع کی اورالا الذین اٰمنوا و عملوا الصالحات وتواصوابالحق کے بجائے غلطی سے سورۃ تین کی آیتیں الاالذین امنوا و عملوا الصالحات فلھم اجر غیر ممنون سورہ ختم تک تلاوت کی بعض لوگوں نے نماز دہرانے کے لیے کہا لیکن امام صاحب نے اور کچھ لوگوں نے کہا کہ نماز دہرانے کی ضرورت نہیں،صحیح مسئلہ بیان فرمائیں ۔ مسئلہ سے واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں میں تردد کی کیفیت ہے آپ کے جوابات تشفی بخش اور مدلل ہوتے ہیں امید ہے کہ اس مسئلہ میں بھی تشفی بخش جواب تحریر فرمائیں گے ۔

جواب

اگر کوئی شخص نماز میں تلاوت کرتے ہوئے بھول کر ایک آیت کے بجائے دوسریکوئی آیت تلاوت کرلے تو اس کے متعلق فقہائے کرام نے تفصیل بیان کی ہے؛ اگراس نے تلاوت کرتے ہوئے کسی آیت پر مکمل طور پر وقف کیا پھر دوسری آیت کیتلاوت کی تو نماز فاسد نہیں ہوگی اور اگر وقف کئے بغیر دوسری ایسی آیتتلاوت کرے جس کی وجہ سے معنی میں تبدیلی واقع نہ ہو تب بھی نماز فاسد نہیںہوتی ،اس کے برخلاف ایسی آیت پڑھے جس کی وجہ سے معنی میں تبدیلی واقعہوجائے تو نماز فاسد ہوجائے گی ۔ جیسا کہ فتاوٰی عالمگیری کتابالصلوٰۃ،الفصل الخامس فی زلۃ القاریٔ ج 1 ص80 میں ہے: لوذکر آيةمکان آية إن وقف وقفا تاما ثم ابتدأ بآية أخری أو ببعض آية لاتفسد ۔۔۔۔۔۔ اما اذا لم يقف ووصل ان لم يغير المعنٰی ۔۔۔۔۔۔۔ لا تفسد۔ امااذا غير المعني ۔۔۔۔۔۔۔۔ تفسد عند عامۃ علمائنا وهوا الصحيح هکذا فيالخلاصة۔مذکورہ بالا سوال کے مطابق جب امام صاحب نے سورۂ عصر کی آیتالا الذين اٰمنوا و عملوا الصالحات وتواصوابالحقکے بجائے سورہ تین کی آیتالاالذين امنوا و عملوا الصالحات فلهم اجر غير ممنونتلاوت کی تو چونکہ سورہ عصر اور سورہ تین کی دونوں آیتوں میں نیک اور صالحبندوں کا ذکر ہے اور سہواً ایک آیت کے بجائے دوسری آیت پڑھنے سے یہاں معنیمیں تغیر واقع نہیں ہوا لہٰذا نماز فاسد نہیں ہوئی، امام صاحب اور دیگرحضرات کا کہنا کہ نماز دہرانے کی ضرورت نہیں ،درست و صحیح ہے ۔

 واللہ اعلمبالصواب

سیدضیاءالدین عفی عنہ

 شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، ابو الحسناتاسلامک ریسرچ سنٹر ۔

www.ziaislamic.com

حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com