***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f1471: غیر شادی شدہ لڑکوں کے لئے وصیت کا حکم <Back
سوال

ایک صاحب نے اپنے غیر شادی شدہ دولڑکوں کے حق میں وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد میرا مکان ان دولڑکوں حصہ کے میں ہوگا ، میرے دیگر اولاد کواس مکان میں کوئی حق نہیں ہوگا ، میں نے ان کی شادی کرکے ان کا حق ادا کردیا ہے ، اب وہ صاحب کاانتقال ہوچکاہے ، کیادوسرے لڑکوں کیلئے مکان میں حق نہ ہوگا ؟ جبکہ مرحوم نے اپنے ترکہ میں مکان کے سواکچھ نہیں چھوڑا؟

جواب

شریعت اسلامیہ نے ورثہ کے حصے مقررو متعین کردئیے ہیں اور ہر صاحب حق کو اس کا حق عطاکردیا ہے جس میں انسان دخل دینے کامجاز نہیں، ورثہ چونکہ مورث کے انتقال کے بعد بہر طور اسلام کے مقررکردہ نظامِ وراثت کے مطابق اپنے حصے پاتے ہیں اسی لئے ان کے حق میں وصیت کو روانہیں رکھا گیا ہے ۔

 

            جیسا کہ جامع ترمذی شریف میں روایت ہے: عن ابی امامۃ الباہلی رضی اللہ عنہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول فی خطبتہ عام حجۃ الوداع ان اللہ تبارک وتعالی قداعطی کل ذی حق حقہ فلا وصیۃ لوارث۔

 

            ترجمہ : حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حجۃ الوداع کے سال حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے خطبہ میں ارشاد فرماتے ہوئے سنا: بے شک اللہ تعالی نے ہر صاحب حق کو اس کا حق عطا کردیا ہے لہذا کسی وارث کے حق میں کوئی وصیت نہیں ۔ (جامع ترمذی شریف ، ابواب الوصایا ، باب ماجاء لا وصیۃ لوارث ، حدیث نمبر: 2266)

 

            شخص مذکورنے اپنے جن دولڑکوں کے حق میں وصیت کی ہے وہ ازروئے شرع نافذ نہیں ہوگی اور تمام لڑکے شرعاً متروکہ سے اپنا حصۂ وراثت پائیں گے ، وصیت کے باب میں مندرجہ ذیل روایت ہمیشہ پیش نظررہے ، سنن ابن ماجہ میں حدیث پاک ہے: عن أنس بن مالک قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من فر من میراث وارثہ قطع اللہ میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ۔ ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایاحضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے وارث کو میراث سے محروم کردے گا اللہ تعالی بروزقیامت جنت سے اس کا حصہ منقطع فرمادے گا ۔ (سنن ابن ماجہ ،کتاب الوصایا، باب الحیف فی الوصیۃ، حدیث نمبر:2807)

 

            البتہ مرحوم کے دیگر ورثہ اگر آمادہ ہوں تو مذکورہ دولڑکوںکے حق میںوصیت نافذ ہوسکتی ہے ورنہ نہیں ۔

 

            فتاوی عالمگیری میں ہے: ولاتجوزالوصیۃ للوارث عندنا الاان یجیزہا الورثۃ ولواوصی لوارثہ ولاجنبی صح فی حصۃ الاجنبی ویتوقف فی حصۃ الوارث علی اجازۃ الورثۃ ان اجازواجاز وان لم یجیزوابطل ۔ (فتاوی عالمگیری ج 6کتاب الوصایا الباب الاول فی تفسیر ہا وشرط جو ازہا وحکماص 90 )

واللہ اعلم بالصواب – سید ضیاء الدین عفی عنہ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹرwww.ziaislamic.com حیدرآباد،دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com