***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f1522: ’’میں اس وقت بھی نبی تھاجبکہ آدم علیہ السلام روح اورجسم کے درمیان تھے‘‘ روایت کی تحقیق <Back
سوال

میں ایک حدیث شریف کا حوالہ معلوم کرنا چاہتاہوں، اکثرعلماء یہ حدیث بیان کرتے ہیں ’’حضورصلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی نبی تھے جبکہ آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے،اس حدیث کا مفہوم کیا ہے ؟

جواب

یہ حدیث شریف جامع ترمذی شریف ،ابواب المناقب ج2ص202 میں موجودہے: عن أبی ہریرۃ قال قالوا یا رسول اللہ متی وجبت لک النبوۃ قال وآدم بین الروح والجسد۔ ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں صحابہ کرام نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کے لئے نبوت کب متحقق ہوئی؟ توحضورصلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشادفرمایا: میں اس وقت بھی نبی تھاجبکہ آدم علیہ السلام روح اورجسم کے درمیان تھے۔محشی بین السطورتحریرفرماتے ہیں: یعنی آپ کی روح اطہرکا جسدمبارک سے تعلق قائم بھی نہیں ہواتھا ،حضورصلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی نبی تھے ،تقدم وسابقیت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے ۔ (جامع ترمذی شریف ،ابواب المناقب ج2ص202،حدیث نمبر: 3968،مسندامام احمد،مسندالبصرین ،حدیث نمبر: 17075،مستدرک علی الصحیحین ،کتاب التفسیر،حدیث نمبر: 4174) حدیث مذکورکے حاشیہ پررقم ہے: ای کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم نبیا وجرت علیہ احکام النبوۃ من ذلک الحین بخلاف الانبیاء السابقین فان الاحکام جرت علیہم بعدالبعثۃ کماقال مولانا الجامی انہ علیہ السلام کان نبیا قبل النشأۃ العنصریۃ۔ ترجمہ:حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اولیت وتقدم کی شان والے نبی ہیں ،اسی عالم سے آپ کی نبوت کے احکام جاری ہیں برخلاف سابقہ انبیاء کرام کے ، ان کے احکام بعثت کے بعد جاری ہوئے جیساکہ حضرت جامی نے بیان کیا کہ جسدعنصری کے ساتھ رونق افروزی سے پہلے بھی آپ نبی تھے۔ واللہ اعلم بالصواب سید ضیاء الدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدرابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر www.ziaislamic.com حیدرآباد ، دکن ،انڈیا

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com