***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f1524: کیا موبائیل ریجارج میں کمی وزیادتی سود ہے ؟ <Back
سوال

موبائیل میں جو ریچارج کروایا جاتاہے اس میں مختلف کمپنیوں کی مختلف اسکیمیں ہوتی ہیں ، فل ٹک ٹائم اسکیم میں جتنے روپئے کا ریچارج کروایا گیا اتنے ہی روپئے کا ٹاک ٹائم کمپنی کی جانب سے دیا جاتا ہے ، لیکن عام طور پر جو ریچارج ہوتا ہے اس میں روپئے کم دئے جاتے ہیں ،جیسے سو(100)روپئے کا ریچارج کروانے پر چھیاسی (86)روپئے کا ٹاک ٹائم دیا جاتاہے ، اسی طرح پچاس (50)روپئے کے اکتالیس (41)روپئے ،تیس (30)روپئے کے تیئیس (23)روپئے ، بیس (20)روپئے کے پندرہ (15)روپئے اور دس (10)روپئے کے سات (7)روپئے ٹاک ٹائم میں دئے جاتے ہیں ، کیا اس طرح روپیوں کی کمی سود میں آتی ہے ؟ جب ہم موبائل میں ریچارج کرواتے ہیں تو جتنے روپئے زیادہ دے رہے ہیں وہ ہم سود دے رہے ہیں ؟ اگر ایساہی ہے تو پھر موبائل ریچارج کے لئے ہمیں کیا طریقہ اختیار کرنا چاہئے ؟ جس سے ہم سود سے بچ سکیں ۔

جواب

موبائیل پر گفتگو کی سہولت حاصل کرنے کے لئے ٹیلی کام کمپنیوں کو جو رقم دی جاتی ہے اور کمپنی کی جانب سے اس رقم سے کم مقدار کا ٹاک ٹائم دیاجاتا ہے یہ شرعاً جائز ہے ، سودی معاملہ نہیں ؛ کیونکہ موبائیل میں ٹاک ٹائم کے حوالہ سے جو روپئے دئے جاتے ہیں اس کی حیثیت کرنسی کی نہیں بلکہ کمپنی کی جانب سے اس امر کا تیقن ہے کہ اس قدر گفتگو کی سہولت حاصل ہے ، نیز ریچارج کروانے کے بعد جو بیالنس (Balance) دیا جاتا ہے اس سے متعلقہ ٹیلی کام کمپنی کے ذریعہ ہی فائدہ حاصل کیا جاتا ہے ، اس سے کسی قسم کی خریداری نہیں کی جاسکتی اور نہ اس ٹاک ٹائم والے روپیوں کو کسی اور جگہ ادائیگی میں دیا جاسکتا ہے ۔

        لہذا سو (100) روپئے کا ریچارج کروانے پر چھیاسی (86) روپئے ٹاک ٹائم دئے جانے کی صورت میں سود نہیں قرار پاتا، سوال میں مذکور دیگر صورتوں کا بھی یہی حکم ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

سیدضیاءالدین عفی عنہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ

بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر

 

حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com