***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f1526: بانی مسجد کے بیٹے کے لئے تولیت کا حکم <Back
سوال

چند سال پہلے ایک محلہ میں وہاں کے مقامی صاحب نے محلہ میں مسجد تعمیر کروائی اور مسجد کا انتظام ونگرانی بھی کرتے رہے ، موصوف کا انتقال دوسال قبل ہوا، اس کے بعد سے ان کے بڑے صاحبزادے مسجد کے متولی ہیں اورتولیت کے تمام امور انجام دے رہے ہیں ، کچھ لوگوں کا اصرار ہے کہ مسجد کی تولیت محلہ کے صدر کو دی جائے ، وہ بہتر انتظام کریں گے  حالانکہ بانی مسجد کے صاحبزادے جو موجودہ متولی ہیں اُن کے بارے میں بھی رائے عامہ اچھی ہے ، لوگ اُن کی تولیت پر کوئی اعتراض کئے بغیر یہ مذکورہ تجویز پیش کررہے ہیں ، ایسی صورت میں محلہ والوں کو کیا کرنا چاہئے ؟ اور موجودہ متولی کا کیا فرض بنتا ہے ؟ کیا وہ لوگوں کی خواہش پر تولیت سے دست بردار ہوجائیں ؟ شرعی حکم کیا ہوگا ؟

جواب

مسجد تعمیر کروانے والے صاحب کا کوئی رشتہ دار تولیت کی صلاحیت رکھتا ہو اور اُس سے انتظامی امور کی انجام دہی امانت ودیانت کے ساتھ ہوتی ہو تو ایسی صورت میں دوسرے شخص کو تولیت نہیں دی جاسکتی ۔

مذکورہ صورت میں اگر بانی مسجد کے فرزند متولی ہیں اور دیانت کے تقاضوں کو پورا کررہے ہیں تو اُن کو دستبردار ہونے کے لئے کہنا یا کسی اور کو متولی مقرر کرنا ازروئے شریعت درست نہیں ۔

درمختار ، میں ہے :وما دام احد یصلح للتولیۃ من اقارب الواقف لا یجعل المتولی من الاجانب۔(درمختار ، کتاب الوقف )

واللہ اعلم بالصواب – سید ضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com