***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f1529: واٹر پلانٹ water plant بزنس کا کیا حکم ہے ؟ <Back
سوال

میں واٹر پلانٹ بزنس کرنا چاہتا ہوں ، کیا یہ جائز ہے ؟ مہربانی فرماکر جواب جلد عنایت فرمائیں ۔

جواب

ہوا اور پانی ہر جاندار کی بنیادی ضرورت ہے اللہ تعالی کا ارشاد ہے : وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ- ترجمہ : اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی (سورۃ الانبیاء -30) انسان غذا کے بغیر دو تین دن تک بھی زندہ رہ سکتا ہے لیکن پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا ، اس لئے شریعت مطہرہ نے تالاب ، نہر ، کنویں وغیرہ کا پانی ہر ایک کے لئے مباح رکھا کسی کو اس سے روکنے کا حق نہیں اور نہ وہ کسی ایک شخص کی ملکیت ہے البتہ جب ان ذخائر سے پانی کو برتن ، مشکیزہ ، ٹینک وغیرہ میں جائز طریقہ سے محفوظ کرلیا جائے تو وہ انسان کی ملکیت قرار پاتا ہے ، اس کو اختیار ہے خواہ مفت دے یا مال کے عوض بیچے ، ازروئے شرع اس کی خرید و فروخت کی جاسکتی ہے اگر پانی جمع کیا ہوا نہیں بلکہ کنویں وغیرہ میں ہے تو کنویں وغیرہ پر آکر پانی لینے والوں کو روکنا شرعا جائز نہیں جیساکہ جامع ترمذی شریف میں حدیث مبارک ہے : عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا یُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ- ترجمہ : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : زائد پانی کو نہ روکا جائے ونیز ردالمحتار ج 4 ،کتاب البیوع، بَابُ الْبَیْعِ الْفَاسِدِ، مطلب صَاحِبُ الْبِئْرِ لَا یَمْلِکُ الْمَاءَ ص 123 ، میں ہے : إ نَّ صَاحِبَ الْبِئْرِ لَا یَمْلِکُ الْمَاءَ وَہَذَا مَا دَامَ فِی الْبِئْرِ ، أَمَّا إذَا أَخْرَجَہُ مِنْہَا بِالِاحْتِیَالِ کَمَا فِی السَّوَانِی فَلَا شَکَّ فِی مِلْکِہِ لَہُ لِحِیَازَتِہِ لَہُ فِی الْکِیزَانِ ثُمَّ صَبَّہُ فِی الْبِرَکِ بَعْدَ حِیَازَتِہِ . علاوہ ازیں منیریل واٹر فلٹر پلانٹ میں کمیکلس وغیرہ کے ذریعہ جراثیم نکالے جاتے ہیں اور پانی صاف کیا جاتا ہے لہذا منیریل واٹر پلانٹ بزنس کرنا جائز ودرست ہے - واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com