***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f1532: اپنی مصنوعات پرکسی اور کمپنی کا لیبل لگانا <Back
سوال

آج کل استعمال کیا جانے والاسامان کمپنیوںمیں تیارہورہا ہے ،اس سلسلہ مین بعض کمپنیاں غیر معمولی فیمس ہوچکی ہیں اور لوگ کمپنی کی شہرت پر اشیاء خرید رہے ہیں، کمپنی کے نام سے اشیاء کی کوالٹی کا اندازہ لگایا جاتا ہے ،دیکھ نے میں آرہا ہے کہ بعض لوکل کمپنیاں مشہور کمپنی کا نام اور اس کا لیبل اپنے پروڈکٹس (products) پر لگاکر بیچ رہی ہیں، کیا دین اسلام میں یہ عمل جائز ہے؟

جواب

ایک کمپنی کی مصنوعات پرکسی دوسری کمپنی کا لیبل چسپا ں کرنا دھوکہ وفریب ہے جو ازروئے شرع ناجائز وحرام ہے ،کسی مشہور کمپنی کا نام استعمال کرتے ہوئے اپنی مصنوعات پر اس کا لیبل چسپاں کرنا اس بات کی علامت ہے کہ مصنوعات اسی کمپنی کی بنائی ہوئی ہیں، حالانکہ مصنوعات اس کمپنی کی بنائی ہوئی نہیں ہوتیں، اس کا مقصدیہ ہوتا ہے کہ خریدار مشہور کمپنی کا لیبل دیکھ کر خیال کرلے کہ ان پروڈکٹس کا وہی معیار اور وہی کوالٹی ہے جس کمپنی کا لیبل مصنوعات پر چسپاں ہے اور وہ خریداری کے لئے مائل ہوجائے ، جبکہ شریعت اسلامیہ میں یہ نا جائز وحرام ہے ، اس میں دوقسم کا دھوکہ ہے ،(1)ایک تو خرید ار کو دھوکہ دینا ہے کہ پروڈکٹس اس مشہور کمپنی کے ہیں (2)دوسرے غیر شرعی طریقہ پر لیبل والی کمپنی کے حق کا استحصال کرنا ہے یہ بھی ایک قسم کا دھوکہ ہے کہ اپنی مصنوعات پر دوسری کمپنی کا لیبل چسپاں کرلیاجائے،اور شریعت مطہرہ میں دھوکہ وفریب سے متعلق سخت وعید وارد ہوئی ہے، صحیح مسلم شریف میں حدیث پاک ہے : عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال من حمل علینا السلاح فلیس منا ومن غشنا فلیس منا۔ ترجمہ:سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو ہم پر تلوار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں اور جو ہم کو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔ )صحیح مسلم شریف،ج1، کتاب الایمان ،ص70 حدیث نمبر101۔جامع ترمذی شریف ،ج1، ابواب البیوع ، باب ماجاء فی کراھیۃالغش فی البیوع، حدیث نمبر1236﴾ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com