***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f1533: جن دنوں درس نہ دیا جائے ان کی تنخواہ کا حکم <Back
سوال

میں ایک دینی مدرسہ میں بحیثیت مدرس کام کرتا ہوں،تلنگانہ کے مسائل کی وجہ سے کچھ دن ایسے گذرے کہ جس میں طلبہ مدرسہ حاضر نہیں ہوئے جس کی وجہ سے ان دنوں پڑھائی نہیں ہوسکی ،دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ جن دنوں ہم نے درس نہ دیا ان دنوں کی تنخواہ لینا ہمارے لئے کیسا ہے؟ براہ مہربانی جواب عنایت فرمایں۔

جواب

جب واقعۃً اساتذہ اپنے مقررہ اوقات میں مدرسہ پہنچ کر تعلیم وتدریس کے لئے اپنے آپ کو فارغ کرچکے ہوں لیکن طلبہ غیر حاضر ہونے کی وجہ سے درس نہ ہواہو تو یہ اساتذہ کی طرف سے کوتاہی متصور نہیں ہوگی۔ بنابریں ان ایام کی تنخواہ اساتذہ کے حق میں شرعاً جائز ودرست ہے، جیساکہ ردالمحتار کتاب الوقف میں ہے: وفی الحموی سئل المصنف عمن لم یدرس لعدم وجود الطلبۃ فہل یستحق المعلوم أجاب إن فرغ نفسہ للتدریس بأن حضر المدرسۃ المعینۃ لتدریسہ استحق المعلوم- ( ردالمحتار، کتاب الوقف ،ج3،ص416) واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ،شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com