***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f1534: غیر مسلم کے پاس سے کھانے پینے کی اشیاء خریدنے کا حکم <Back
سوال

ناشتہ میں لوگ اٹلی، دوسا، اپما وڑا وغیرہ کھاتے ہیں، لیکن اکثر اس کے فروخت کرنے والے غیر مسلم ہوتے ہیں، کیا ان کے پاس سے کھانے کی چیزیں خریدنا اور کھانا جائز ہے؟ جواب عنایت فرمائیں-

جواب

غیر مسلم کی دکان سے اٹلی، دوسا، اپما ،وڑا وغیرہ خریدکرنے اور کھانے پینے میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں‘ البتہ غیر مسلم کا ذبیحہ ازروئے شریعت ناجائزوحرام ہے۔ جیساکہ فتاوی ہندیہ میں ہے: ولا بأس بطعام المجوس کلہ إلا الذبیحۃ فإن ذبیحتہم حرام - ( فتاوی ہندیہ، کتاب الکراہیۃ، الباب الرابع عشر فی أہل الذمۃ والأحکام التی تعود إلیہم)۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com