***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f1535: حالتِ نمازمیں بار بار ہوا خارج ہوتو کیا حکم ہے ؟ <Back
سوال

مجھے ایک سوال کرنا ہے کہ مجھے گیاسس کی بیماری ہے‘ جب میں نماز پڑھتا ہوں تو گیاسس بہت آتے ہیں‘ میں روکنے کی کوشش کرتا ہوں‘ اگر پھر بھی خارج ہوجائے تو کیا کرنا چاہئے؟ برائے مہربانی جواب جلد عنایت فرمائیں اس کی وجہ سے نماز میں میرا دھیان نہیں لگ رہا ہے۔

جواب

دین اسلام آسانی والا دین ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی بھی شخص پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا‘ ایسے کام کرنے کے لئے نہیں فرماتا جو بندہ کی طاقت سے باہر ہو، ارشاد حق تعالیٰ ہے: لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا۔ ترجمہ: اللہ تعالیٰ کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا(سورۃ البقرہ ‘ آیت 286 )۔ یقینا ہوا کا خارج ہونا ناقض وضو ہے جب آپ کو گیاسس کی بیماری ہو اس طور پر کہ کسی نماز کے پورے وقت میں اتنی مہلت نہ ملتی ہو کہ آپ فرض نماز اس عذر سے خالی ہوکر ادا کرسکیں تو فقہی اصطلاح میں آپ معذور ہیں‘ شریعت اسلامیہ نے خصوصی رعایت رکھی ہے کہ آپ ہر نماز کے وقت تازہ وضو کرلیں اور اس وضو سے اس وقت میں جتنے چاہے فرائض و نوافل ادا کرسکتے ہیں‘ جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے: المستحاضۃ و من بہ سلس البول او استطلاق البطن او انفلات الریح او رعاف دائم او جرح لا یرقأ یتوضون لوقت کل صلوٰۃ و یصلون بذلک الوضوء فی الوقت ماشاء وا من الفرائض و النوافل ھکذا فی البحر الرائق۔ (فتاویٰ عالمگیری ج1‘ ص 41/40‘ کتاب الطہارۃ‘ الفصل الرابع فی احکام الحیض و النفاس والاستحاضۃ)۔ اللہ کے فضل سے جب آپ کو کسی بھی فرض نماز کے وقت اتنی سہولت مل جائے کہ اس میں آپ بغیر عذر کے فرض نماز بآسانی ادا کرسکتے ہوں تو پھر آپ معذور کے حکم میں نہیں ہوں گے۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com