***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f1536: بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح <Back
سوال

مجھے دو لڑکے ہیں بڑے لڑکے کو شیرخوارگی کے زمانہ میں ایک خاتون نے دودھ پلایا تھا۔ اس خاتون کی ایک لڑکی ہے، ویسے تو اس خاتون سے ایک عرصہ سے جان پہچان اور ملاقات ہے لیکن چند دن پہلے یہ بات سامنے آئی کہ میرے دوسرے لڑکے کے ساتھ اس خاتون کی لڑکی کی نسبت ہوجائے۔ سب چیزیں مناسب ہیں، کیا شرعی اعتبار سے اس رشتہ کی اجازت ہے؟ یا بھائی کی دودھ شریک بہن ہونے کی وجہ سے رشتہ حرام ہوگا؟ جواب کا بے چینی سے انتظار ہے۔ مہربانی فرماکر جواب ضرورشائع فرمائیں۔

جواب

ایام رضاعت میں دودھ پینے سے حرمت رضاعت ثابت ہوتی ہے اور جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہیں وہ رضاعت کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔ البتہ چند رشتوں کا حکم اس سے علحدہ ہے اور ان سے ازدواجی تعلق جائز ہے، منجملہ ان رشتوں کے حقیقی بھائی کی رضاعی بہن ہے، جیسا کہ درمختار برحاشیہ ردالمختار ج2 صفحہ442میں ہے: وتحل اخت اخیہ رضاعا یصح اتصالہ بالمضاف کان یکون لہ اخ نسبی لہ اخت رضاعیۃ۔ لہٰذا آپ کے بڑے لڑکے نے ایام رضاعت میں جس خاتون کا دودھ پیا تھا اس خاتون کی لڑکی کے ساتھ آپ کے دوسرے لڑکے کا نکاح شرعاً جائز ہے۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com