***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f156: مسجد دور ہو تو نماز کہاں ادا کی جائے؟ <Back
سوال
اگر ہم باہر کے ملک جاتے ہیں جیسے UK ‘ US وغیرہ وہاں مسجد دور ہوتی ہے‘ تو کیا گھر پر نماز پڑھ سکتے ہیں اور وہاں حرام کاموں سے بچنے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟
جواب
احادیث شریفہ اور آثار صحابہ کی روشنی میں فقہاء کرام نے جماعت چھوڑنے کے جو اعذار بیان کئے ہیں ان میں مسجد کا دور ہونا مذکور نہیں۔ اگر کسی علاقہ میں مسجد دو رواقع ہے تو جس شخص کا گھر مسجد سے جس قدر دور واقع ہو اس شخص کو اس قدر زیادہ ثواب حاصل ہوگا جامع ترمذی شریف ‘ ج 1‘ میں حدیث پاک ہے عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال الا ادلکم علی ما یحمد اللہ بہ الخطایا و یرفع بہ الدرجات قالوا بلی یا رسول اللہ قال اسباغ الوضوء علی المکارہ و کثرۃ الخطا الی المساجد و انتظار الصلوٰۃ بعد الصلوٰۃ فذلکم الرباط۔ ترجمہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں وہ اعمال نہ بتلاؤں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹاتا ہے اور درجات کو بلند کرتا ہے‘ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مشقتوں کے باوجود کامل وضو کرنا‘ مسجدوں کی جانب زیادہ قدم چلنا اور نمازوں کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا‘ تو یہی دشمن سے حفاظت کے مقامات ہیں۔ اگر مسجد دور ہو تب بھی مسجد جاکر نماز پڑھنا چاہئے‘ جن کا گھر مسجد سے دور ہے‘ مسجد کی طرف اُن کے قدم اتنے ہی زیادہ ہوں گے اور انہیں مزید ثواب حاصل حاصل ہوگا‘ اپنے ضروری امور کو انجام دینے کے بعد فارغ اوقات میں دینی معلومات حاصل کی جائیں‘ قرآن کریم کی تلاوت اور درود شریف کا اہتمام کیا جائے۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com