***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f1578: مشترکہ تجارت میں سفر کے اخراجات کا حکم <Back
سوال

میرا سوال پارٹنرشپ میں تجارت سے متعلق ہے ، دوآدمی پارٹنر شپ میں ایک کاروبار شروع کئے ، کاروبار کے لئے بعض دفعہ شہر کے باہر جانے کی ضرورت ہوتی ہے ، ایسے وقت صرف آنے جانے کا کرایہ تجارتی مال سے لیا جائے گا یا کھانے پینے اور روم لینے کے اخراجات بھی اسی سے لئے جائیں گے؟ کیونکہ دیگر اخراجات کو شامل کرنے کی صورت میں پارٹنر اعتراض کرتا ہے ۔

 

            اس مسئلہ میں شریعت کیا کہتی ہے ؟ ہمارے لئے اسلامی حکم کیا ہے ؟ رہنمائی فرمادیں تو میں آپ کا شکر گزار رہوں گا۔

جواب

جب دوشخص شرکت کے ساتھ تجارت کررہے ہوں اور کوئی ایک پارٹنر مشترکہ تجارت کے سلسلہ میں کسی جگہ جاتا ہو تو حکم شریعت یہ ہے کہ سفر کے اخراجات مشترکہ سرمایہ سے لئے جائیں گے ، اگر تجارت میں نفع ہوتو اخراجات نفع سے نکالے جائیں گے اور اگر نفع نہ ہوتو رأس المال سے نکالے جائیں گے۔

            لہذا مذکورہ صورت میں آمد ورفت کے کرایہ کے ساتھ خوردونوش اور رہائش کے اخراجات ، نیز اس سلسلہ میں جوبھی اخراجات ہوں گے ‘ مشترکہ سرمایہ سے ہی لئے جائیں گے، البتہ سفر کرنے والے پارٹنر کو چاہئے کہ خرچ میں دیانت سے کام ہے۔

            ردالمحتار میں ہے :ما أنفقہ علی نفسہ من کرائہ ونفقتہ وطعامہ وإدامہ من جملۃ رأس المال فی روایۃ الحسن عن أبی حنیفۃ قال محمد وہذا استحسان ، فإن ربح تحسب النفقۃ من الربح وإن لم یربح کانت من رأس المال خانیۃ.

 واللہ اعلم بالصواب –

سیدضیاءالدین عفی عنہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ

بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔

 

www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com