***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f1586: گھر میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ باجماعت نماز پڑھنے کے سلسلہ میں شرعی ہدایات <Back
سوال

گھر میں ماں‘بیٹے‘بیٹیاں‘دیور‘جیٹھ‘جیٹھانی‘ساس‘سسر‘محرم اور غیر محرم عورتیں ہوں تو کیا اُن میں سے کوئی ایک مرد متشرّع‘امام بن جائے تو مقتدیوں کی صفیں کس طرح ہونگی؟جواب عنایت کرکے ممنون فرمائیں!

جواب

گھر میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ باجماعت نماز پڑھنے کے سلسلہ میں شرعی ہدایات:
        کورونا وائرس کے باعث حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے سبب مسجد نہ جاسکنے کی وجہ سے نمازں سے ہر گز غفلت نہ برتیں؛ بلکہ گھروں میں جماعت کے ساتھ نماز کا اہتمام کریں۔گھر میں رہنے والوں میں جوامامت کے قابل ہیں وہ نماز پڑھائیں باقی اقتداء کریں۔
        گھر میں مرد وخواتین باجماعت نماز پڑھنا چاہیں تو اس کی چند صورتیں ہیں:
        امام کے ساتھ ایک یا ایک سے زائد صرف مرد ہوں تو اس کی دو صورتیں ہیں پہلی صورت: امام کے ساتھ ایک مرد ہو تو وہ امام کی دا  ہنی جانب اس طرح ٹھہرے کہ اس کی ایڑھی امام کی ایڑھی سے پیچھے رہے۔
دوسری صورت:امام کے ساتھ ایک سے زائد مرد ہوں تو ایسی صورت میں امام آگے رہے اور مرد حضرات صف کی شکل میں امام کے پیچھے رہیں۔
        امام کے ساتھ ایک محرم عورت ہو یا ایک سے زائد محرم و غیر محرم عورتیں ہوں تو اس کی ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ سب امام کے پیچھے کھڑی رہیں گی۔
        اگر امام کے ساتھ ایک مرد اور ایک عورت‘یا ایک مرد اور کئی عورتیں‘یا کئی مرد اور ایک عورت‘یا کئی مرد اور کئی عورتیں ہوں تو اس کی
دو(2)صورتیں ہوں گی: پہلی صورت:امام کے ساتھ ایک مرد اور ایک عورت‘یا ایک مرد اور کئی عورتیں ہوں تو مرد‘امام کی د ا  ہنی جانب اس طرح ٹھہرے کہ ُاس کی ایڑھی امام کی ایڑھی سے پیچھے رہے، اورایک یا ایک سے زائد عورتیں ہوں تووہ سب امام کے پیچھے کھڑی رہیں گی۔

دوسری صورت: امام کے ساتھ کئی مرد اور ایک عورت‘یا کئی مرد اور کئی
عورتیں ہوں تو مرد حضرات امام کے پیچھے صف کی شکل میں کھڑے رہیں گے اور عورت ایک ہو تو وہ ان کے پیچھے درمیان میں کھڑی رہے اور کئی عورتیں ہوں تو وہ بھی مردوں کی صف کے پیچھے صف کی شکل میں کھڑی رہیں۔
مرد،عورت اور بچے ہوں تو پہلے مرد کی صف ہوگی،دوسری بچوں کی اور تیسری
خواتین کی صف ہوں گی۔ 

جیساکہ فتاوی عالمگیری میں ہے: إذَا کَانَ مَعَ الْإِمَامِ رَجُلٌ وَاحِدٌ أَوْ صَبِیٌّ یَعْقِلُ الصَّلَاۃَ قَامَ عَنْ یَمِینِہِ وَہُوَ الْمُخْتَارُ ……وَلَوْ وَقَفَ عَلَی یَسَارِہِ جَازَ وَقَدْ
أَسَاءَ……۔وَإِذَا کَانَ مَعَہُ اثْنَانِ قَامَا خَلْفَہُ وَکَذَلِکَ إذَا کَانَ أَحَدُہُمَا صَبِیًّا وَإِنْ کَانَ مَعَہُ رَجُلٌ وَامْرَأَۃٌ أَقَامَ الرَّجُلُ عَنْ یَمِینِہِ وَالْمَرْأَۃُ خَلْفَہُ وَإِنْ کَانَ
رَجُلَانِ وَامْرَأَۃٌ أَقَامَ الرَّجُلَیْنِ خَلْفَہُ وَالْمَرْأَۃُ وَرَاءَہُمَا وَإِنْ کَانَ مَعَہُ رَجُلَانِ وَقَامَ الْإِمَامُ
وَسَطَہُمَا فَصَلَاتُہُمْ جَاءِزَۃٌ.
      ترجمہ: جب امام کے ساتھ ایک شخص ہو یا ایک ایسا لڑکا جو نماز کو سمجھتا ہو تو وہ اس کے داہنی جانب کھڑا رہے یہی مختارہے اور اگر بائیں جانب کھڑا ہو تب بھی نماز ہوجائے گی؛لیکن یہ بہتر نہیں۔اور اگر امام کے ساتھ دو
مقتدی ہوں تو پیچھے کھڑے ہوں، اسی طرح ایک مرد اور ایک لڑکا ہوں تو بھی
پیچھے کھڑے رہیں۔ اور اگر ایک مرد اور ایک عورت ہوں تو مرد داہنی طرف اور
عورت پیچھے کھڑی رہے۔ اگر دومرد اور ایک عورت ہوں تو دونوں مرد پیچھے
کھڑے ہوں اور عورت اُن دومردوں کے پیچھے کھڑی رہے۔ اور اگر امام کے ساتھ
دومرد ہوں اور امام ان دونوں کے درمیان کھڑا ہوتو نماز جائز ہوگی (لیکن
یہ مکروہ تنزیہی ہے)۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الصلوٰۃ، باب الامامۃ، الفصل
الخامس)

واللہ اعلم بالصواب
از:حضرت مولانامفتی سید ضیاء الدین نقشبندی مجددی قادری،شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com