***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f16: جنبی(ناپاک شخص) کے ماء مستعمل کا حکم <Back
سوال
غسل کے وقت پانی کے چھینٹیں برتن میں گرتے ہیں، کیا قطرات گرنے کے بعد اس پانی سے غسل کرنا درست ہے؟
جواب
جنبی شخص نے اگر اپنے بدن پرسے نجاست حقیقہ کودور کردیا ہوتوجنبی شخص کے غسل کرتے وقت پانی کے جو قطرات اس کے بدن سے مس ہوکرگرتے ہیں وہ دراصل ماء مستعمل ہیں اورماء مستعمل (استعمال شدہ پانی) کا حکم یہ ہے کہ وہ پاک ہے پاک کرنے والا نہیں ۔ اس لئے محض ماء مستعمل سے وضواورغسل درست نہ ہوگا۔ اگر ماء مستعمل ماء مطلق (خالص پانی ) میں مل جائے تو اس سے وضووغسل جائز ہے جبکہ ماء مستعمل ماء مطلق سے زائدنہ ہو، ظاہر ہے کہ غسل کے پانی کے چھنیٹیں جو قطرات کی شکل میں برتن میں گرتے ہیں وہ کم ہوں گے اور برتن کا پانی زیادہ ہوگا اس لئے اس برتن کے پانی سے وضواور غسل صحیح ہے کیوں کہ پانی کے جو قطرات برتن میں گرے ہیں وہ ناپاک نہیں ہیں ، اگر غسل کرنے والے کے بدن پر نجاست حقیقی لگی ہے اور وہ اس کو زائل نہیں کیا اورغسل کے وقت پانی کے قطرات برتن میں گرجائیں تو برتن کا پانی ناپاک ہوگا اور اس پانی سے وضو اورغسل درست نہ ہوگا ۔ درمختار ج 1 ،کتاب الطهارة باب المياه ،ص 134, میں ہے: فَإِنَّ الْمُطْلَقَ أَكْثَرُ مِنْ النِّصْفِ جَازَ التَّطْهِيرُ بِالْكُلِّ وَإِلَّا لَا ۔ ترجمہ : کیوں کہ ماء مطلق اگر آدھے سے زیادہ ہے تو کل پانی سے پاکی حاصل کرنا جائز ہے ورنہ جائز نہیں اور درمختار کے اسی صفحہ پر ہے: الْمَاءُ الْقَلِيلُ إنَّمَا يَخْرُجُ عَنْ كَوْنِهِ مُطَهِّرًا بِاخْتِلَاطِ غَيْرِ الْمُطَهَّرِ بِهِ إذَا كَانَ غَيْرُ الْمُطَهِّرِ غَالِبًا .... وَلَا شَكَّ أَنَّهُ أَقَلُّ مِنْ غَيْرِ الْمُسْتَعْمَلِ فَكَيْفَ يَخْرُجُ بِهِ مِنْ أَنْ يَكُونَ مُطَهِّرًا- واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com