***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f239: بیوی کے نفقہ کی شرعی مقدار <Back
سوال

میرے دوست کی ایک لڑکی کی حال میں شادی ہوئی ہے ،لڑکا نیویارک میں مقیم ہے ،اسکی ماہانہ آمدنی ہندوستانی کرنسی میں ایک لاکھ سے زائد ہے،لڑکی سسرال میں ساس اور خسر کے ساتھ رہتی ہے،لڑکا گھر کے تمام اخراجات کھانے،پینے اور لباس وغیرہ کے علاوہ خاص بیوی کے لئے ہر ماہ دوہزار روپئے روانہ کرتا ہے لیکن لڑکی کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی سیلری میں سے بیوی کے لئے صرف دو ہزار روپئے بہت کم ہیں،مفتی صاحب قبلہ!برائے مہربانی یہ بیان فرمائیں کہ شریعت نے بیوی کے اخراجات کے لئے شوہر کی آمدنی میں سے کتنا حصہ مقرر کیا ہے؟بیوی شوہر کی تنخواہ میں کتنے فیصد کی حقدار ہوتی ہے؟

جواب

شریعت اسلامیہ نے شوہر کو اس بات کا پابند کیا ہے کہ وہ بیوی کے لئے رہائش ،خوراک و پوشاک اور دیگرضروریات کی تکمیل کا انتظام کرے، بیوی کے اخراجات کے لئے شوہر کی آمدنی کی کوئی شرح مقرر نہیں کی گئی ، بلکہ زوجین کے مالدار وتنگدست ہونے کے اعتبار سے نفقہ مقرر کیا گیا ،اگر زوجین تنگدست ہیں تو نفقہ اتنی ہی مقدار میں ہوگا جتنی رقم میں عام طور پر تنگدست لوگ گذارکرلیتے ہیں اور اگر زوجین مالدار ہوں تو نفقہ بھی اس قدر ہوگا کہ عموماًدولتمند لوگ جس قدر رقم سے ضروریات کی تکمیل کرلیتے ہیں ۔ جیساکہ فتاوی عالمگیری ج 1 ص547و548 میں ہے واذااراد الفرض والزوج موسریأکل الخبزالحواری واللحم المشوی والمرأۃ معسرۃ اوعلی العکس اختلفوافیہ والصحیح انہ یعتبرحالہما کذا فی الفتاوی الغیاثیۃ وعلیہ الفتوی حتی کان لہا نفقۃ الیسار ان کا نا موسرین ونفقۃ العسار ان کانا معسرین ۔ ۔ ۔ اسلامی قانون میں ایسی لچک اور وسعت رکھی گئی ہے کہ کسی کو تکلیف نہ ہواگر بیوی کیلئے شوہر کی آمدنی کا فیصد مقرر کیا جاتا تو شوہر کی تنخواہ کم ہو یا زیادہ شوہر مقررہ رقم دے کر اپنی ذمہ داری ادا کردیتا ،تنخواہ کم ہونے کی صورت میں بیوی کے لئے مقررہ فیصد کافی نہ ہوتا اور ضروریات کی تکمیل کے سلسلہ میں بیوی کو فکر لاحق ہوجاتی، چنانچہ شریعت اسلامیہ نے مالی ذمہ داری مرد کو دے کر بیوی کی تمام ضروریات کی تکمیل کرنے کی ہدایت دے دی خواہ اس کی آمدنی کم ہو یا زیادہ اس طرح بیوی کو معاشی واقتصادی افکار سے بری اور محفوظ رکھا ۔ آپ کے دوست کی لڑکی کے لئے جب ان کے شوہر تمام اخراجات کے علاوہ ہرماہ دوہزار روپئے بھیج رہے ہیں تو لڑکی کو بارگاہ یزدی میں شکر گذار رہناچاہئیے۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ،  شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com