***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f289: مسجد میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کاحکم؟ <Back
سوال
ایک صاحب کومسجد میں آتے ہی سلام کرنے کی عادت ہے کیامسجد میں سلام کرنے پر بعض لوگ اعتراض کرہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ مسجد میں سلام کرنے سے نمازیوں کو خلل ہوتا ہے ،اس طرح مسجد میں آتے ہی سلام کرنا درست ہے یا نہیں ؟
جواب
مسجد میں جب کہ لوگ درس وتدریس ،ذکر وشغل اوراد وظائف اورتلاوت قرآن کریم میں مشغول ہوں یا نماز کے انتظار میں بیٹھے ہوں تو انہیں سلام نہ کیا جائے کیونکہ سلام ملاقات کرنے والوں کا تحفہ او رتحیت ہے او ریہ لوگ مسجد میں مذکورہ اعما ل خیر انجام دینے کیلئے بیٹھے ہیں زائرین سے ملاقات کیلئے تو نہیں بیٹھے ، یہ سلام کا موقع ومحل نہیں ہے ، لہذا ایسے وقت آنے والاشخص انہیں سلام نہ کرے اگر کوئی انہیں سلام کردے توان کے لئے اس کا جواب دینا ضروری نہیں ہے ۔ فتاویٰ عالمگیری ج 5کتاب الکراہیۃ،الباب السابع فی تشمیت العاطس ص 325 میں ہے ’’السلام تحیۃ الزائرین والذین جلسوا فی المسجد للقراء ۃ والتسبیح اولانتظارالصلوٰۃ ماجلسوا فیہ لدخول الزائرین علیہم فلیس ہذا اوان السلام فلایسلم علیہم ولہذا قالوا لو سلم علیہم الداخل وسعہم ان لایجیبوہ۔ البتہ اگر کوئی مذکورہ اعمال مشغول نہ ہواور ملاقات کی صورت پیدا ہو رہی تو آداب مسجدکا لحاظ کرتے ہوئے سلام کیا جاسکتاہے ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com