***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f290: خون کی شیشی جیب میں رکھ کر نماز ادا کرناکیساہے؟ <Back
سوال
میں ایک ڈائیگناسٹک سنٹر (Diagnostic Centre) میں کام کرتا ہوں، بسا اوقات ٹسٹ کے لیے دی گئی خون کی شیشی جیب میں رہ جاتی ہے ایک دو مرتبہ ایسا ہوا کہ بلڈ کی شیشی جیب میں ہی تھی میں نادانستہ نماز پڑھنے کے لیے چلا گیا، لیکن شیشی اچھی طرح بند تھی اور خون کا ایک قطرہ بھی میرے لباس یا جسم کو نہیں لگا، کیا خون کی شیشی جیب میں رکھ کر نماز ادا کرنے سے نماز میں کوئی خرابی پیدا ہوتی ہے یا نماز مکروہ ہوجاتی ہے؟ اس سوال کا جواب ضرور دیجئے، مہربانی ہوگی۔
جواب
طہارت شرائط نماز میں اہم ترین شرط ہے دین اسلام میں طہارت و پاکیزگی کی اہمیت اس سے معلوم ہوتی ہے کہ تمام کتب فقہ و فتاوی اور کتب سنن کا آغاز طہارت کے بیان سے ہوتا ہے۔ نماز پڑھنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بدن، لباس اور جائے نماز کو ہر قسم کی نجاست سے پاک و صاف رکھے، اسی طرح نمازی حامل نجاست نہ ہو یعنی کسی قسم کی نجاست ساتھ لئے ہوئے نہ ہو۔ چنانچہ درمختار ج۱باب شروط الصلوۃ مطلب باشرالنبی صلی اللہ علیہ وسلم الاذان بنفسہ میں ص ۲۹۶ پر ہے (طہارۃ بدنہ ) ۔ ۔ ۔ (من حدث) ۔ ۔ ۔ (وخبث ) مانع کذلک (وثوبہ) وکذامایتحرک بحرکتہ اویعد حاملا لہ۔ ترجمہ : (نمازی کیلئے شرط ہے کہ) اس کا بدن اور لباس نجاست سے پاک ہو اور ایسی چیز سے بھی خالی ہو جس کو اٹھانے سے وہ حامل نجاست سمجھا جائے۔ یہ امر محقق ہے کہ خون شریعت اسلامیہ کی رُو سے بھی اور سائنسی تحقیق کے مطابق بھی نجاست و گندگی ہے لیکن خون جب جسم میں جلد کے نیچے رہتا ہے شریعت اسلامیہ اس پر نجاست کا حکم نہیں لگاتی اور جب جلد کی بیرونی سطح پر آکر اپنی جگہ سے تجاوز کرجاتا ہے تو شرعاً نجاست قرار پاتا ہے خواہ وہ جلد پر ہی رہے یا لباس کو لگ جائے یا شیشی و بوتل میں محفوظ رہے۔ بدائع الصنائع ج 1کتاب الطھارۃ باب نواقض الوضوء ص 122 میں ہے فاذا سال عن راس الجرح فقد انتقل عن محلہ فیعطی لہ حکم النجاسۃ۔ خون جسم یا کپڑے پر لگا ہو یا کسی چیز میں محفوظ کرکے جیب وغیرہ میں رکھا گیا ہو اس حالت میں نماز ادا کی جائے تو خون کی مقدار کے اعتبار سے اس کی تین صورتیں ہوتی ہیں۔ (1) اگر خون ایک درہم کی مقدار سے کم ہو تو نماز کراہت تنزیہی کے ساتھ جائز ہوگی۔ سیال و مائع نجاستوں میں ایک درہم کی مقدار ہتھیلی کی گولائی کے برابر ہوتی ہے۔ (2) اگر خون ایک درہم کے برابر ہو تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی اور جو نماز کراہت تحریمی کے ساتھ ادا ہو اس کو دہرانا واجب ہے۔ (3) خون ایک درہم سے زائد ہو تو نماز فاسد ہوگی۔نمازمیں فساد واقع ہوتو وہ قابل شمار ہی نہیں رہتی گویا اس نے پڑھاہی نہیں پھر سے اس کی ادائیگی فرض ہے ۔ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی کتاب الطہارۃباب الانجاس والطھارۃ عنہاص 156/157 میں ہے (وعفی قدر الدرھم ) ۔ ۔ ۔ و مساحۃ فی المائعۃ و ھو قدر مقعر الکف داخل مفاصل الاصابع کما و فقہ الھندوانی و ہوالصحیح فذلک عفو (من) النجاسۃ (المغلظۃ) فلا یعفی عنہا اذا زادت علی الدرھم مع القدرۃ علی الازالۃ۔ اور حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ص 156 میں ہے والمراد عفاعن الفساد بہ والافکراہۃ التحریم باقیۃ اجماعا ان بلغت الدرھم و تنزیھا ان لم تبلغ۔ آپ نے خون کی جو شیشی ساتھ رکھ کر نماز ادا کی تھی اس میں خون کی کتنی مقدار تھی؟ اگر اس میں خون ایک درہم کی مقدار سے کم تھا تو آپ کی نماز کراہت تنزیہی کے ساتھ جائز ہوئی۔ اگر خون کی مقدار ایک درہم کے برابر تھی تو نماز مکروہ تحریمی ہوئی جس کا لوٹاناواجب ہے اور اگر خون کی مقدار ایک درہم سے زیادہ تھی تو آپ کی نماز ہی درست نہیں ہوئی۔ آپ از سر نو نماز ادا کریں اور آئندہ نماز کے لیے مکمل طور پر طہارت و نظافت کا اہتمام کریں۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com