***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f296: کیا نماز تہجد کیلئے سوناشرط ہے؟ <Back
سوال

میں نماز تہجد اداکرنے کا ارادہ رکھتاہوں ، لیکن عموما کہا جاتا ہیکہ تہجد کے لئے سونا ضروری ہے ، کیا سوئے بغیر نماز تہجد ادا کر نا درست نہیں ؟

جواب

تہجد کا وقت عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد سے طلوع فجر تک رہتا ہے ، اگر کوئی اس دوران سوئے بغیر تہجد پڑھ لے تب بھی تہجد ادا ہوجائیگی ، درمختار ج1 ،کتاب الصلوۃ باب الوتروالنوافل ص 506 میں طبرانی سے مرفوع حدیث شریف منقول ہے وروی الطبرانی مرفوعا لابد من صلاۃ بلیل ولوحلب شاۃ ’’وماکا ن بعد صلاۃ العشاء فہومن اللیل ‘‘اورعلامہ شامی فرماتے ہیں ’’وہذا یفید ان ہذہ السنۃ تحصل بالتنفل بعد صلاۃ العشاء قبل النوم ‘‘ لیکن بہتر یہ ہے کہ سوجائے او رآدھی رات کے بعد اٹھ کر نماز تہجد اداکرے ، او رردالمحتار میں اسی صفحہ پر ہے اور در مختارمیں ہے ولوجعلہ أثلاثا فالاوسط افضل ولوانصافا فالاخیر افضل ‘‘ کیونکہ رات میں سونے کے بعد بیدار ہونا نفس کیلئے گراں اوربھاری معلوم ہوتا ہے ، اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’ان ناشئۃ اللیل ہی اشد وطأواقوم قیلا (سور ہ مزمل ۔6)بلا شبہ رات کا قیام نفس کو سختی سے روندتا ہے اور بات ٹھیک نکلتی ہے۔او رعبادات میں ثواب بقدر مشقت دیا جاتا ہے ،لہذا تہجد کیلئے سونا بہتر ہے اگر آپ سوئے بغیر تہجد اداکرلیں تو بھی درست ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com