***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f309: خطبہ جمعہ کے متعلق ایک اہم مسئلہ <Back
سوال
جمعہ کیلئے خطیب صاحب منبرپر عربی زبان میں نہایت طویل خطبہ دیتے ہیں جس کی وجہ سے جماعت کے مقررہ وقت میں کچھ تاخیر ہوجاتی ہے نتیجۃً نماز کی دونوں رکعتوں میں چھوٹی سورتوں کی تلاوت کرتے ہیں ۔ اس سے متعلق شرعی حکم سے آگاہ فرمائیں ۔
جواب
نماز جمعہ سے پہلے عربی زبان میں جو خطبہ ہوتا ہے وہ جمعہ کیلئے شرط کی حیثیت رکھتا ہے ۔ خطبہ کی منجملہ سنتوں کے یہ ہے کہ خطبہ زیادہ طویل نہ دیا جائے ۔ بلکہ ہر دو خطبے طوال مفصل سورہ حجرات سے سورہ بروج تک میں سے کسی سورہ کے برابر رہیں ‘ خطبہ کو اتنا طویل دینا کہ طوال مفصل سے بڑھ جائے مکروہ ہے ۔ فتاوی عالمگیری ج 1 ص 147 میں ہے ’’ (والرابع عشر ) تخفیف الخطبتین بقدر سورۃ من طوال المفصل و یکرہ التطویل ‘‘ دونوں خطبوں کو طوال مفصل کی کسی سورت کی بقدر رکھنا سنت ہے اس سے دراز کرنا مکروہ ہے ۔ نماز کو دراز کرنا اورخطبہ میں اختصار کرنا آدمی کی سمجھ داری کی علامت ہے ۔ مشکوۃ شریف ص 123 میں حدیث شریف ہے ’’ عن عمار قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول ان طول صلوۃ الرجل و قصر خطبتہ مئنۃ من فقھہ فاطیلوا الصلوۃ و اقصروا الخطبۃ و ان من البیان سحرا رواہ مسلم ‘‘ حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا کہ آدمی کا نماز کو دراز کرنا اور خطبہ کو مختصر کرنا اس کے صاحب فہم و بصیرت ہونے کی علامت ہے‘ لہذا نماز کو دراز کرو اور خطبہ کو مختصر کرو‘ بعض بیان جادو ہوتے ہیں ۔ نماز میں ایک آیت پڑھنا ( چھوٹی ہو یا بڑی ) فرض ہے اور سورہ فاتحہ کے علاوہ تین چھوٹی آیتیں یا ایک بڑی آیت پڑھنا واجب ہے ۔ اتنی مقدار تلاوت کرنے سے نماز ہوجائے گی البتہ جمعہ اور ظہر میں طوال مفصل کی کوئی سورت یا اتنی مقدار کی کسی بھی سورت کی آیتیں پڑھنا افضل و مستحب ہے ۔ فتاوی عالمگیری ج 1 ص 71 میں ہے ’’ و تجب قراء ۃ الفاتحۃ و ضم السورۃ او ما یقوم مقامھا من ثلاث ایات قصار او ایۃ طویلۃ ‘‘ سورہ فاتحہ پڑھنا اور کوئی سورت یا تین چھوٹی آیتیں یا ایک بڑی آیت پڑھنا واجب ہے اور فجر اور ظہر و جمعہ میں طوال مفصل یعنی سورہ حجرات سے سور بروج تک کوئی ایک سورة کے بقدر پڑھنا مستحب ہے ۔شامی ج 1 ص 399 میں ہے ’’ ( طوال المفصل ) من الجحرات الی آخر البروج (فی الفجر و الظھر و ) ‘‘ نصوص بالا کی روشنی میں یہ امر واضح ہوتا ہے کہ خطیب صاحبان کو چاہئے کہ وہ خطبہ، تلاوت کے بالمقابل مختصرپڑھیں ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com