***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f318: سکونت یا تجارت کیلئے مسجد کے تہ خانہ یا بالاخانہ کی تعمیر <Back
سوال
قدیم مسجد کو شہید کرکے نئی تعمیر کے وقت کمرے یا دکانات کے لئے نیچے تہ خانہ بنانااور اوپر مسجد تعمیر کرنا شرعا کیسا ہے؟جس طرح مسجد کے نیچے تہ خانہ بنایا جارہاہے کیا اسی طرح مسجد کے اوپر بھی تعمیر کی جاسکتی ہے ؟
جواب
جب کسی مقام پر مسجد تعمیرہوچکی ہو تو وہ مقام تحت الثری سے آسمان تک تاقیام قیامت مسجد ہی ہے ‘ تہ خانہ یا بالاخانہ تعمیر کرکے سکونت ‘ تجارت یا کسی غرض کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا جو احکام مسجد کے ہیں وہی احکام تہ خانہ اور بالا خانہ کے ہو نگے درمختار ج1ص 485میں ہے ۔ ’’وکرہ تحریما (الوطؤ فوقہ والبول والتغوط )لانہ مسجد الی عنان السماء ‘‘ رد المحتار میں اسی صفحہ پر ہے ۔ ’’وکذا الی تحت الثری ‘‘ مسجد کے اوپر ہمبستری اوربول وبراز کرنا مکروہ تحریمی ہے کیونکہ یہ نیچے تحت الثری تک اور اوپر آسمان تک مسجد ہی ہے ۔اوردرمختارج3 ص406میں ہے - ’’ لوتمت المسجد یۃ ثم اراد البناء منع ولو قال عنیت ذلک لم یصدق ’’تتارخانیہ ‘‘فاذا کان ھذا فی الواقف فکیف بغیرہ فیجب ھدمہ ولو علی جدار المسجد ‘‘ اگر پہلے مسجد تھی پھر وقف کرنے والے نے تعمیر نو میں کچھ اور بنانے کا ارادہ کیا اور کہا میں نے وقف کرتے وقت یہی ارادہ کیا تھا تو اسکی تصدیق نہیں کی جائیگی لہذا مسجد کے خاص حصہ میں جو تعمیر نو ہوئی اسکو منہدم کرنا واجب ہے اگر چہ وہ مسجد کی دیوار پرہو۔ واللہ اعلم بالصواب– سیدضیاءالدین عفی عنہ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر۔ حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com